16.10.2026, 04:20am , جمہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
مضامین/تجزیات » ڈاکٹر نگہت نسیم
 

کبھی سوچیں , رحمتیں کب زحمتیں بن جاتیں ہیں ۔از“ ؛ ڈاکٹر نگہت نسیم
21.07.2013, 08:00am , اتوار (GMT+1)

ڈاکٹر نگہت نسیم۔ سڈنی
نماز کی قبولیت پر بحث کرنا کسی کا اختیاری مضمون نہیں ہے ۔ یہ خالص اللہ کے ساتھ انسان کا معاملہ ہے وہ پڑھے یا نہ پڑھے اور جب پڑھے تو کیسے پڑھے ۔۔ جب مضمون اپنا نہ ہو تو اس پر بات چیت کو بھی زاتی سطح پر تنقید  کا باعث اور اچھے برے انسان کی پہچان  پر منطبق نہیں کرنا چاہیئے ۔۔ ہاں نرمی اور شفقت سے تلقین اور یاد ہانی اچھی لگتی ہے ۔۔ اللہ پاک کا حکم بھی ہے اور انسانوں کے سنورنے کا احسن طریقہ بھی یہی ہے ۔

پڑھے یا نہ پڑھے سے مراد یہ ہے کہ ہم کسی کو مار پیٹ سے نماز نہیں پڑھا سکتے ، انہیں صرف تلقین یا یاد دہانی کراوئی جا سکتی ہے ۔ اس میں بھی نرمی اور شفقت کے پہلو کا اہتمام کرنا چاہیئے تاکہ ہماری سختی اس بندے کی اللہ پاک سے دوری کا سبب نہ بن جائے ۔ میرا یمان ہے کہ جو بندہ دن بھر میں ایک نماز بھی پڑھتا ہے وہ انشاللہ ضرور کسی دن پانچ بھی ادا کرے گا اور پھر تمام عمر کرتا رہے گا ۔ جب خدا مایوس نہیں تو انسان کو کیوں ہردم اتنی جلد بازی رہتی ہے کہ سامنے والا نماز کیوں نہیں ادا کر رہا اور اگر ادا کر رہا ہے تو اپنی پسند سے صرف ایک ہی کیوں پڑھ رہا ہے ۔۔۔ ہماری سختی کئی افراد میں اللہ سے دوری کا سبب بن رہی ہے ۔

یہی وہ مقام ہے جہاں عام بے عمل انسان بھی خدائی اختیار سنبھال لیتا ہے اور اپنے قد سے بڑی باتیں کرتا ہے۔ بہت سے معاملات مالک روز جزا نے اپنے اور بندے کے درمیان رکھے ہیں اور ان میں داخل اندازی کا اختیار اپنے انبیا کو بھی نہیں دیا چہ جائیکہ ایک عام انسان۔ نماز کی قبولیت ایک بہت بڑا مقام ہے۔ جہاں آئمہ،اولیا،اوصیا نماز کی قبولیت کے لیئے دعا کرتے ہوں وہاں ایک عام کلمہ گو کی کیا حیثیت ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

"اِنَّ العَبْدَ لَینْصرِفُ وَمَا کُتِبَ لہ الا عشرصلاتہ تسعھا ثمنھا سبعھا سدسھا خمسھا ربعھا ثلثھا نصفھا"
"بے شک بندہ نماز ادا کرتا ہے لیکن اس کے نامہ اعمال میں اس"نماز" کا دسواں، نواں، آٹھواں، ساتواں ، چھٹا، پانچواں، چوتھا، تیسرا یا نصف حصہ لکھا جاتا ہے۔"

امام أبو عبد الرحمن أحمد بن شعيب بن علي الخراساني، النسائي (المتوفى: 303هـ) اپنی کتاب السنن الكبرى ج 1 ص 316 حـ 614 میں بسند حسن روایت فرماتے ہیں :
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، وَهُوَ الْقَطَّانُ قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ الرَّجُلَ لَيُصَلِّي وَلَعَلَّهُ أَنْ لَا يَكُونَ لَهُ مِنْ صَلَاتِهِ إِلَّا عُشْرُهَا، أَوْ تُسْعُهَا، أَوْ ثُمْنُهَا، أَوْ سُبْعُهَا حَتَّى انْتَهَى إِلَى آخِرِ الْعَدَدِ»

.......... عمار بن یاسر رضی اللہ فرماتے ہیں کہ آدمی نماز پڑھ کر چلا جاتا ہے لیکن شاید اسے اسکی ساری نماز میں سے صرف دسواں حصہ (دس فیصد) ثواب ملتا ہے یا نواں حصہ (گیارہ اعشاریہ گیارہ فیصد) یا آٹھواں حصہ (ساڑھے بارہ فیصد) یا ساتواں حصہ (چودہ اعشاریہ اٹھائیس فیصد ) حتى کہ آپ نے آخر عدد تک اسے شمار کیا ( یعنی پچاس فیصد تک )
اور نماز میں رہ جانے والی اس کمی کو نوافل (سنت مؤکدہ وغیر مؤکدہ) پورا کر دیتے ہیں۔

یہ بھی سچ ہے کہ ہم ذ۱تی مفاد کی خاطر قران و حدیت کی غلط تاویل نہیں نکال سکتے بعض لوگ بغیر کسی عذر کے نماز ترک کردیتے ہیں اور پھر کھیل، لغو باتوں، کام کاج اور دیگر مصروفیات میں مشغول رہتے ہیں، جب ان سے کہیں کہ نماز ترک کرنے سے خدا ناراض ہوجاتا ہے اور خدا کا عذاب بھی نازل ہوتا ہے، تو جواب ملتا ہے کہ خدا کی ذات ”غفور رحیم“ بھی ہے اور ہمیں معاف بھی کردے گا، اس لئے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے۔

اللہ تعالیٰ بلاشبہ ”غفور رحیم“ ہیں، لیکن ایسے ”غفور رحیم“ کی نافرمانی جب ڈھٹائی سے کی جائے اور نافرمانی کرنے والے کو اپنی حالت پر شرمندگی بھی نہ ہو تو اس کا قہر بھی نازل ہوسکتا ہے۔ ایک حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ جس شخص نے نمازِ پنج گانہ ادا کی قیامت کے دن اس کے لئے نور بھی ہوگا، اس کے ایمان کا برہان بھی ہوگا اور اس کی نجات بھی ہوگی اور جو ان کی پابندی نہ کرے، نہ اس کے لئے نور ہوگا، نہ اس کے ایمان کی دلیل ہوگی، نہ اس کی نجات ہوگی، اس کا حشر قارون، فرعون، ہامان اور اُبیّ بن خلف کے ساتھ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو اپنے غضب سے پناہ میں رکھے! خلاصہ یہ ہے کہ شیطان کا مکر اور دھوکا ہے کہ تم گناہ کئے جاوٴ، اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہیں، وہ خود ہی بخش دیں گے۔ موٴمن کی شان یہ ہونی چاہئے کہ وہ اَحکامِ الٰہی کی پابندی کرے، گناہوں سے بچتا رہے اور پھر اللہ تعالیٰ کی رحمت و مغفرت کی اُمید بھی رکھے، جیسا کہ ہم دُعائے قنوت میں کہتے ہیں: ”نرجوا رحمتک ونخشٰی عذابک“ (یا اللہ! ہم آپ کی رحمت کے اُمیدوار ہیں اور آپ کے عذاب سے ڈرتے ہیں)۔

مسلہ علم کا نہیں عمل کا ہے۔ اور عمل کے بغیر بڑے سے بڑا علم بھی صفر ہے۔   نماز کی تلقین سے کسی کو اختلاف نہیں ۔۔ اب پانچ وقت کی ازان بھی تلقین ہی تو ہے ۔ لیکن مار پیٹ اور ڈنڈے کے زور پر پڑھوانا ۔۔ پھر جو نماز نہ پڑھے اسے شیطان سمجھ لینا اعتدال کے منافی ہے ۔اسلام کو اسی  شدت پسند روِے نے اس دور میں سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔


یہ بھی تو سوچیئے کہ پانچوں وقت نماز پڑھتے ھوئے کچھ انسان ایسے سارے عمل کرتے ہیں جو منع ہیں، ان کو کیا کہیں گے،ان کی نماز کیا صرف دکھانے کے لیے ھوتی ھے۔۔ ابن انشا مرحوم نے اپنے کسی کالم میں ہندوستان کے سب سے درویش حکمران اورنگ زیب  لکھا تھا کہ “ اورنگ زیب نے نہ تو کبھی کوئی نماز قضا کی اور نہ کوئی بھائی “ ۔ ہمارا ایک مسلہ یہ بھی ہے کہ ہم نماز پڑھ کر یہ سمجھتے ہیں کہ جیسے ہمیں ہر برائی کرنے لا ئینسس مل گیا ہے ، حالانکہ نماز برائی سے روکتی ہے ۔ خشوع و خضوع اور اُسوۂ رسول ص کے مطابق ادا شدہ نماز سے دل میں نور وغنا پیدا ہوتا ہے اور ربّ کائنات کے جاہ و جلال اور اس کی عظمت و کبریائی کی دل میں تخم ریزی ہوتی ہے جو انسان کو صداقت و شرافت، صبر و قناعت، تسلیم و رضا، حلم و بردباری، تواضع و انکساری، عدل وانصاف، وفاشعاری اور احسان مندی جیسے مکارمِ اخلاق سے آراستہ و پیراستہ کرتی ہے۔ جس سے اس کے دل میں سوز و گداز پیدا ہوتا ہے۔ چہرہ منور اور اس کی روح اَفلاکی بلندیوں پر فائز ہوتی ہے، ایسے انسان کے حرکات و سکنات، جلوس وقعود، اور سمع و بصر مشیت ِالٰہی کے مطابق ہوتے ہیں۔

سچ بات تو یہ ہے کہ نماز اللہ اور بندے کا معاملہ ہے البتہ نرمی ،شفقت اور انکساری و عاجزی سے ایک مسلمان دوسرے سے درخواست جبکہ والدین اپنے اولاد کو حکم ضرور دے سکتے ہیں۔نماز دل کا سکون اور بخشش کا بہترین زریعہ ہے ۔لیکن اسلام میں سب سے پہلے محبت کا برتائو اور سلوک کا حکم دیاگیا ہے ۔کیونکہ زرا سی سختی اور غلط رویئے کی وجہ سے بدگمان ہوکر نماز سے اور بھی دور ہو جائے گا۔اورہمارے جذبات کو بھی ٹھیس پہنچے گی ۔ہم سب کو اپنی اپنی قبر میں اپنا اپنا جواب دینا ہے اس لیئے کیوں نا اپنی اپنی قبر کی فکر کریں۔دوسرے کو بھی نیکی کا احساس اور تلقین ضرور کریں لیکن گردن پر چھری رکھ کر نہیں اپنے عمل اور کردار سے۔  روز محشرلاریب نماز کی پرسش ہو گی لیکن فقط اور فقط نماز کی نہیں ہو گی اور بھی ہزارہا چیزوں کے ساتھ شدت پسندی کی  پرسش بھی ہو گی۔

یہ ابلیس جسے ہم شیطان کہتے ہیں یہ اللہ پاک کا مقرب ترین فرشتہ تھا اور ملک الملکوت تھا یعنی فرشتوں کا استاد۔ سب سے پڑھا لکھا۔ عبادت گزار بھی اسی حد کا تھا جس حد کا ملک الملکوت تھا۔ لیکن آپ نے دیکھا کہ اللہ پاک نے رزیل کر کے تا وقت معلوم تک کے لیئے راندہ درگاہ کر دیا۔  نماز کوئی ورزش یا عادت نہیں ہے۔ نماز تو اپنے اللہ پاک کے سامنے حاضر ہونا ہے۔

اس بات سے انکار کرنا بھی کفر ہے کہ نماز نہیں پڑھنی چاہیئے اور نہ اس کی تلقین کرنی چاہیئے  بلکہ اس کالم کا بنیادی مقصد یہہ ہے کہ  نماز انسان اور اللہ پاک کے درمیان معاملہ ہے ۔ کسی کو حق نہیں پہنچتا کہ کسی کو نیچا دکھانے کے لئے یا اسے خود سے کمتر سمجھتے ہوئے کسی سے یہ پوچھے کہ اس نے دن بھر میں کتنی نمازیں پڑھیں اور کس طرح ادا کیں یعنی ہاتھ کھول کر پڑھیں یا ہاتھ باندھ کر ، رکوع سجود کتنے ہوئے  بلکہ نمازیوں کوبے نمازیوں  کے ساتھ  اور بھی زیادہ نرمی اور شفقت کے ساتھ عملی نماز بن کر رہنا چاہیئے تاکہ انہیں روح اسلام سمجھنے اور عمل کرنے کی ترغیب ملے ۔

میں اکثرسوچتی ہوں کہ جب ہمارا ایمان ہے کہ نماز برائیوں سے روکتی ہے تو ہر قبیح  برائیاں کرنے والا انسان اگر پانچ وقت کا نمازی بھی ہے تو اسے برا کیوں نہیں سمجھا جاتا ، اس کے کردار پر“  شیطان “ کا ٹھپہ کیوں نہیں لگایا جاتا ِ؟  ۔

صد افسوس کہ  آج مسلمان خود کش حملے کے خوف سے کسی  مسلمان ملک میں  نماز پڑھنے کے لیئے نہیں جا سکتا۔ مسلمانوں کے دو بڑے مسلک شیعہ سنی تو کیا خود اپنے مسالک میں بٹے ہوئے مسلمان ایک دوسرے کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے۔

دوستو ! مسلہ قیام نماز اور روح نماز کا ہے۔ مسلمان میں سے روح اسلام غائب ہو گئی اسی طرح روح نماز رخصت ہو چکی ہے ۔ آج کا نمازی نماز پڑھتے ہوئے جوتے کی فکر میں ہوتا ہے کہ آتے وقت جہاں اتار کر مسجد میں داخل ہوا تھا جانے وہاں سے ملے کہ نہ ملے ؟

حافظ شیرازی فرماتے ہیں۔۔۔۔
می خور که صد گناه ز اغیار در حجاب
بهتر ز طاعتی که به روی و ریا کنند


یعنی در پردہ سو گناہوں سے میکشی بہتر ہے اور بیکار ہے وہ زہد کہ جو ریاکاری ہو۔۔۔۔۔۔

اللہ پاک ہم سب کو عبادات کی روح سمجھنے کی توفیق عطا کرے اور رویوں میں عاجزی اور انکساری عطا فرمائے ۔۔الہی آمین

:دیگر مضامین
(19.07.2013) مینڈیلا ڈے ہو سکتا ہے تو ایدھی ڈے کیوں نہیں ۔از؛ ڈاکٹڑ نگہت نسیم
(07.07.2013) سحر کچھ تو سکوں پایا ہے اپنی قبر میں آ کر۔ از۔ڈاکٹر نگہت نسیم
(25.06.2013)  اندھے بہرے اور گونگے پاکستان کی جمہوری تہذیب ۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم ۔سڈنی
(08.03.2013) زرداری کی سرداری بھی بیزاری ہے۔ از۔ ڈاکٹرنگہت نسیم۔اشاعت مکرر
(13.01.2013) کوئٹہ پاکستان اور اس کی گندی سیاست کی سولی پر۔ از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم
(03.01.2013)  یہ ہمارے مسیحا ہیں یا غنڈے ۔۔۔۔۔ از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم ۔سڈنی
(27.11.2012) عجب ہے کہ مسلمان ہی مسلمان کو کافر کہتا ہے ۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم
(19.11.2012) ایک مقام حیرت یہ بھی ہے کہ تاریخ کو کس نے بدلا۔؟ از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم
(01.11.2012)  عالمی اخبار کا چار سال میں چالیس سال کا سفر ۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم ۔سڈنی
(11.10.2012) طالبانی نظام کاقانون ۔۔کوئی گل مکئی نہ کھلے ۔۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم ۔سڈنی
(27.09.2012) ستایئس ستمبر۔۔۔ پاکستان میں سیاحت کا عالمی دن ؟ از۔ڈاکٹر نگہت نسیم
(19.06.2012) سب اچھا ہے ۔راوی چین ہی چین لکھتا ہے ۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم۔قند مکرر
(03.05.2012) لیاری میں مفادات کا کیسا سفاک تماشا ہو رہا ہے ۔از؛ ڈاکٹڑ نگہت نسیم ۔سڈنی
(15.03.2012) اپنے اپنے غم کی گٹھڑیاں .......۔۔از.ڈاکٹر نگہت نسیم ۔سڈنی
(17.02.2012) خوف اور ہراس “ کی یہ تحریریں از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم ۔اشاعت مکرر
(12.02.2012) قرآن کہتا ہے کہ تمہاری تباہی دراصل تمہاری بے حسی ہے ۔ از“ ڈاکٹر نگہت نسیم ۔سڈنی
(06.02.2012) بلوچستان میں ہرروز نیا جنازہ ، نیا سوگ اور نیاماتم ۔از“ ڈاکٹر نگہت نسیم۔سڈنی
(25.12.2011) آج قائد اعظم ھم میں نہیں ھیں اور ھم ان جیسے نہیں ھیں۔از۔نگہت نسیم
(14.11.2011) امریکی مسلمانوں کے دشمن نہیں اور اسکی ضرورت بھی نہیں ۔از۔نگہت نسیم۔اشاعت مکرر
(11.11.2011) دل بہت اداس ہے معصوم زین ڈاکٹر کی غفلت کا شکار بن گیا ۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم ۔سڈنی



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
شمس جیلانی  »
صفدر ھمٰدانی  »
ماہ پارہ صفدر  »
ڈاکٹر نگہت نسیم  »
زرقا مفتی  »
سیدہ زائرہ عابدی۰بجو  »
محمد احمد ترازی  »
محمد عظیم اعظم  »
عالم آرا  »
سیدہ رافیعہ گیلانی  »
شاہین اشرف علی  »
اظہرالحق نسیم  »
فرخندہ رضوی  »
ڈاکٹر فاخرہ نورین  »
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں