خدایا کرم گستری کر ہماری
ترا فیضِ رحمت ہے ہر سمت جاری
نہیں کوئی شے تیری قدرت سے باہر
ہیں شاہ و گدا تیرے در کے بھکاری
ہے فصلِ خزاں آج اپنا مقدر
ہر اک سمت چلتی ہے بادِ بہاری
نہیں کوئی پُرسانِ حال اب ہمارا
ہے ملت پہ ہر وقت اک خوف طاری
جو مغلوب تھے آج ہم پر ہیں غالب
ہے منجدھار میں آج کشتی ہماری
خدایا ہمیں اُن سے محفوظ رکھنا
نیا جال لائے پرانے شکاری
ہماری زمیں تنگ ہے اب ہمیں پر
ہے اب اوج پر دورِ سرمایہ داری
ہے ارضِ فلسطین پر قتل و غارت
سبھی کر رہے ہیں وہاں آہ و زاری
نئی بستیاں اب وہاں بس رہی ہیں
مقدس جہاں سرزمیں تھی ہماری
کوئی کام لیتا ہے میزائلوں سے
کوئی کررہا ہے فقط سنگباری
مسلط ہیں مشرق پہ اقوام مغرب
ملے گی ہمیں اُن سے کب رستگاری
عطا کر ہمیں زورِ بازوئے حیدر
سلامت رہے جذبۂ جاں نثاری
رہیں دین و دنیا میں اب سرخروہم
دعا تجھ سے ہے یہ بصد انکساری
ہمیں اور آئندہ نسلوں کو یارب
میسر رہے تیری طاعت گذاری
ہیں ہم اجنبی اُس گلستاں میں برقیؔ
کی خونِ جگر سے جہاں آبیاری