14.10.2026, 12:15pm , بدھ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
اہم ترین   
ریڈیو پاکستان نے لاہور کے تاریخی ریڈیو اسٹیشن کا ایک اہم اسٹوڈیو اولیں ناشر اعلان قیام پاکستان مصطفیٰ علی ھمٰدانی کے نام سے موسوم کر دیا
یکم نومبر دو ہزار بارہ عالمی اخبار کی چوتھی سالگرہ ہے۔آن لائن اردو اخبارات میں عالمی اخبار سنجیدہ صحافت کا معیار بن چکا ہے
 
رپورٹس/ملٹی میڈیا
 

سترہ رمضان فتح جنگ بدر کا دن، تاریخ اپنے آپ کو دہرانے جا رہی ہے
23.06.2016, 08:10am , جعمرات (GMT+1)

ایس ایچ بنگش

 

ایک مقولہ ہے کہ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے۔۔یہ مقولہ اسلامی روایات کے تحت بھی شائد اپنے آپ کو دہرانی جا رہی ہے۔۔دشمنان اسلام ابوجہل و ابوسفیان اور بنی امیہ کی طرف سے آغاز اسلام پر رسول اللہ ص کے خلاف 17 رمضان کے دن مسلط کردہ جنگ بدر میں اسلام اور رسول اللہ ص کا 313 سپاہیوں کے ہاتھوں دشمنان اسلام کے کئی گنا زیادہ طاقت کو شیر خدا حضرت علی ابن ابی طالب ع کے شجاعت کے طفیل بدترین شکست سے دوچار کیا تھا۔۔۔جنگ بدر کے سپاہیوں کے برابر تعداد یعنی 313 کمانڈروں کے زریعے قرب قیامت سے پہلے اسلام کی ایک اور فتح کا زکر بھی تمام مکاتب فکر کےہاں مشترکہ روایات میں ملتا ہے،،جس کو عالمی نجات دہندہ امام مہدی ع اور آپ کے 313 کمانڈروں کے ہاتھوں سفیانی لشکر(روایات میں سفیانی کو سفیانی اسلئے کہا گیا ہے کہ سفیانی لشکر ابوسفیان کی نسل سے ہوگا)کی مشرق وسطی میں بدترین شکست کا زکر موجود ہیں اور یہ شکست بھی شیرخدا امام علی ابن ابی طالب ع کے پیروکاروں کے ہاتھوں۔۔۔

اگر سوریا یا شام مشرق وسطی میں جاری کشیدگی بالخصوص نواسی رسول ص و جگر گوشی شیرخدا حضرت علی ع کی شیردل بیٹی بی بی زینب سلام اللہ علیہ کے مزار اقدس پر سفیانی لشکر 
تکفیری و وہابی نظریات کے حامل القاعدہ النصرہ و طالبان دہشت گردوں کے حملے کے تناظر میں دیکھا جائے تو انشاللہ بہت جلد ہی جنگ بدر کی فتح ایک بار پھر علی ع کے پیروکاروں کے ہاتھوں امریکہ و اسرائیل کی امامت میں نام نہاد جہادیوں اصل میں سفیانی لشکر یعنی تکفیری و وہابی نظریات کے حامل القاعدہ النصرہ و طالبان دہشت گردوں کے لئے شام قبرستان ثابت ہوگا۔

بقول شاعر

اک علی ع کی دشمنی کیا کیا ستم ڈھا گئی

بدر کی سشمنی چلتے چلتے کربلا تک آگئی

 کربلا میں ابوسفیان کے نواسے یذید لعین نے نواسہ رسول ص امام حسین ع کو یہی کہا تھا کہ میں آپ ع کی عظمت جانتا  ہوں لیکن یہاں اپنے ان اجداد کا بدلہ لینے آیا ہوں جسے آپ ع کے بابا علی ع نے جنگ بدر میں مارا(واصل جہنم کیا تھا)۔۔۔۔ایسا لگتا ہے کہ سفیانی لشکر تکفیری و وہابی نظریات کے حامل القاعدہ النصرہ و طالبان دہشت گردوں کو ایک بار پھر جنگ بدر کی طرح اپنی شکست کا مزہ چکنا ہے اور انشااللہ سوریا یا شام میں بدترین شکست ان کا مقدر بنے گی



سوریا یا مملکت شام کے دارالخلافے دمشق کے مضافات میں واقعے نواسی رسول ص حضرت بی بی زینب سلام اللہ علیہ کے مزار پر تکفیری و وہابی نظریات کے حامل القاعدہ النصرہ و طالبان دہشت گردوں کے حملے نے اگر ایک طرف قلب اطہر رسول ص و آل رسول ص اہلبیت علیہم سلام کو زخمی کردیا ہے تو دوسری طرف دنیا بھر میں کروڑوں مسلمانوں کے جزبات مجروح کرکے عالمی احتجاج شروع ہو گیا ہے۔ بی بی زینب کے مزار اقدس پر یزید وقت امریکہ کی ایما پر حملہ کرکے دراصل تکفیری و وہابی نظریات کے حامل القاعدہ النصرہ و طالبان دہشت گردوں نے یہ بات ثابت کردی ہے کہ یہی دور حاضر کے ماڈرن یزیدت اور خوارج ہیں، کیونکہ تکفیری و وہابی نظریات کے حامل القاعدہ النصرہ و طالبان دہشت گردوں کا یہی گروہ عراق افغانستان اور پاکستان میں بھی مساجد و مقدس مقامات کو خون کی ہولی میں رنگین کر رہے ہیں اور اسی نظریہ وہابیت نے بیسویں صدی کے آغاز میں برطانوی استعمار آل سعود کی شکل میں مکہ و مدینہ کے مقدس مقامات جنت المعلی اور جنت البقیع میں اہلبیت ع رسول ص و اصحاب رض کے روضے مسمار کرکے یہاں تک کہ روضہ رسول ص کی مسماری کے فتوے دئیے تھے، لیکن عالم اسلام میں متوقع شدید ردعمل اور قادیانیوں کی طرح غیر مسلم قرار دئیے جانے کے ڈر سے آل سعود و وہابیوں نے یہ کام روکے رکھا۔ پاکستان کے جید علما و سکالرز جیسے مفتی سرفراز نعینی اور نورالحق قادری بارہا اس بات کا تذکرہ اپنے لیکچرز و انٹرویو میں کر چکے ہیں کہ آل سعود کو روضہ رسول ص کی تقدس کا کوئی لحاظ نہیں صرف اور صرف حج و رمضان سیزن میں اگر کمائی نہ ہوتی تو آل سعود مکہ و مدینہ کے باقی ماندہ مقامات مقدسہ بھی کب کے مسمار کر چکے ہوتے۔

تکفیری و وہابی نظریات کے حامل القاعدہ النصرہ و طالبان دہشت گردوں کے ہاتھوں بی بی زینب کے مزار اقدس پر حملہ اس وقت ہوا ہے جب تازہ ترین رپورٹوں کے مطابق تحریک طالبان پاکستان یا ٹی ٹی پی کے سینکڑوں دہشت گرد  دمشق میں داخل ہوئے ہیں۔۔۔۔یہ اقدام پاکستان کی سیکورٹی اداروں کی کارکردگی پر ایک سوالیہ نشان اور اگر طالبان کو امریکی اشیرباد کے تحت ریاستی سطح پر دمشق پہنچایا گیا ہے تو یہ بات واضح ہے کہ بی بی زینب کے مزار اقدس پر حملے کی زمہ داری براہ راست ان اداروں کے زمہ داران پر بھی عائد ہوتی ہے۔۔وہی بی بی زینب س جس نے دربار یذید لعین میں یذید کو للکار کر کہا تھا کہ تو چاہے جتنا جتن کرلیں ہم اہلبیت ع محمد و آل محمد ص کی محبت تو دلوں سے ختم نہیں کرسکتا،،،یہی وجہ ہے کہ مزار اقدس پر حملے کے بعد عالمی سطح پر احتجاج جاری ہیں۔۔اور حکیم الامت مفکر پاکستان علامہ محمد اقبال نے اسلام کی بقا کو دو ابواب حسینی ع  و زینبی س کردار میں تقسیم کرکے کیا خوب نقشہ پیش کیا ہے

حدیث عشق دو باب است، کربلا و دمشق

یک حسین ؑ رقم کرد و دیگر زینب س

نواسی رسول ص حضرت بی بی زینب سلام اللہ علیہ کے مزار پر تکفیری و وہابی نظریات کے حامل القاعدہ النصرہ و طالبان دہشت گردوں کے حملے کرنے والے بزدل خوارج کے لئے مولانہ ظفر علیخان کا یہ شعر ہی کافی ہے کہ اب بھی زمانے میں اہلبیت ع کا نام روشن اور اسلام دشمن جگر خوارہ ہندہ و ابوسفیان کی سفیانی نسل یذید لعین اور اس کے اجداد کا نام لعنتوں کا حقدار ہے۔

اب بھی چمک رہا ہے حسین و علی  کا نام

اور خاک اڑ رہی ہے یذید و زیاد کی

سوریا دمشق یا برصیغر کی اصطلاح میں مملکت شام میں گزشتہ دو سالوں سے
جاری شورش دراصل غیر ملکی یلغار کے اندر رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق
پاکستان سمیت 29 ممالک سے القاعدہ و طالبان سے منسلک جنگجو فساد بنام
جہاد کے تحت مشغول ہیں(پاکستان سے دمشق کے لئے فساد بنام جہاد کے لئے ایک
سال پہلے وزیرستان سے جانے والے طالبان و القاعدہ سے وابستہ معروف چیچن
کمانڈر روسلان کیلائیو حلب شام کے مقام پر درجنوں جنگجووں سمیت پہنچ چکے
تھے جس پر برمنگھم سے پاکستانی نژاد برطانوی رکن پارلیمنیٹ خالد محمود نے
چیخ چیخ کر احتجاج بھی کیا کہ پاکستانی اور برطانوی خفیہ ادارے شامی
باغیوں کے لیے ہونے والی بھرتی سے چشم پوشی کر رہے جس کے نتیجے میں
پاکستان اور دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں نوجوانوں کو ضروری
تربیت کے بعد دمشق کے محاذ پر امریکی و اسرائیلی مفادات کے لئے بھجوایا
گیا۔۔۔۔۔ایک سال کی طویل خاموشی کے بعد گزشتہ دنوں ایک بار پھر چونکا
دینے والے میڈیا رپورٹس اور تحریک طالبان پاکستان کے عہدیداروں کی تصدیق
کہ طالبان دمشق میں بشار الاسد حکومت کے خاتمے کے لئے امریکی امامت میں
جہاد کے لئے تازہ دم افرادی قوت بھیج رہی ہیں ایک بار پھر اس موضوع کو
میڈیا کے زریعے بازگشت سنائی دی ہے۔۔۔حالانکہ پاکستانی طالبان کی سوریا
یا شام میں موجودگی کوئی انہونی بات نہیں سوشل میڈیا اور سریا ٹیوب نامی
ایک ویڈیو سائیٹ میں دمشق میں ہلاک ہونے والے پاکستانی طالبان کی لاشوں
کی ویڈیوز گوگل سرچ پر بھی دیکھی جاسکتی ہیں۔۔
حیرت انگیز امر یہ ہے کہ سوریا میں نام نہاد جہاد اصل میں فساد کی تمام
تر نگرانی اور امامت امریکہ بہادر کر رہا ہے کہ جو دہشت گردی کے خلاف نام
نہاد جنگ اور القاعدہ و طالبان  اور کمیائی ہتھیاروں کے بہانے افغانستان
و عراق کو تباہ و برباد کر چکا پے اب یہی امریکہ اپنے ناجائز اولاد
اسرائیل کو استحکام دینے اور سوریا میں اسرائیل مخالف بشار الاسد کی
حکومت کے خاتمے کے لئے القاعدہ اور اس کے زیلی تنظیموں النصرہ اور طالبان
جییسے گروہوں کی سپرستی کرکے اپنے پٹھو عرب ممالک بالخصوص قطر سعودی عرب
اور نیٹو کے پلیٹ فارم کا ناجائز فائدہ لینے والے ترکی کی مدد سے امریکہ
اسلحہ سے لیکر لاجسٹک سپلائی و ڈالرز اور دنیا بھر سے جنگجووں کو جہاد
شام کے لئے بھجوا رہا ہے۔ سوریا یا شام میں  موجود فلسطین کی حامی اور
اسرائیل مخالف بشار الاسد کا واحد جرم یہ ہے کہ بشار الاسد کی حکوم
اسارئیل مخالف گروہوں حماس و حزب اللہ کی طرفدار اور لبنان و غزہ پر
صیہونی جارحیت میں فلسطین کاز کی حمایت میں اہم کردار ادا کرتا رہا ہے
اور اب بھی ادا کر رہا ہے مشرق وسطی میں شام کی جغرافیائی اہمیت سب سے
ذیادہ اسلئے ہے کہ شام کی سرحدیں لبنان عراق ترکی کے علاوہ مقبوضہ فلسطین
جولان یا گولان کی پہاڑیوں پر قابض اسرائیل سے بھی ملتی ہیں۔ امریکہ اور
اسرائیل نے مشرق وسطی کی باقی عرب ریاستوں کو تو اپنی لونڈی بنا دیا ہے
اگر واحد رکاوٹ ہے تو وہ سوریا یا شام ہی ہے امریکہ و اسرائیل  اور یورپی
یونین کی طرف سے جہاد شام کی سرپرستی کا مقصد اگر ایک طرف شام میں
اسرائیل نواز حکموت کا قیام ہے تو دوسری طرف شام پر قبضہ جمانے کی صورت
میں شام سے متصل لبنان میں اسرائیل مخالف مزاحمتی تحریک حزب اللہ اور اس
کے طرفدار غزہ فلسطین میں موجود حماس کے خلاف گھیرا تنگ کرکے اپنے ناپاک
مقاصد حاصل کرنا ہیں۔۔۔یہی وجہ ہے کہ حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصر
اللہ نے اس سازش کا پہلے سے ادراک کرتے ہوئے لبنان کی سرحد سے متصل قوصیر
شہر میں حزب اللہ کے جنگجووں کو شامی فوج کی حمایت میں بھجوا کر لبنان سے
متصل قصویر شہر کو آذاد کرکے امریکی و اسرائیلی جہادیوں 29 ممالک کے
باغیوں کو ایسی شکست دی کہ اسرائیل و امریکہ کو جولائی سن دو ہزار چھ  کی
جنگ یاد دلادی ایسی جنگ جسمیں حزب اللہ نے اسرائیل کو باوجود اس کے
بدترین شکست دی جب وہابی مفتیوں نے اسرائیل کی حمایت اور حزب اللہ کے
خلاف فتوے تک دئیے تھے (یاد رہے حزب اللہ نے یہ جنگ اسرائیل کی طرف سے
فلسطین میں حماس کے گرد گھیرا تنگ کرنے اور حماس کے خلاف مظالم کا بدلہ
لینے کے لئے قبلہ اول کے تحفظ کے لئے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر لڑی اگر
چہ اس وقت بھی مشرق وسطی  بالخصوص آل سعود کے درباری وہابی مفتیوں نے
اسرائیل اور حزب اللہ کی جنگ میں حزب اللہ کی حمایت کو کفر اور حزب اللہ
کے مقابلے میں اسرائیل کی حمایت کا اعلان کیا تھا اور آج بھی یہ سلسلہ
جاری ہے کہ جب آل سعود کے وہابی مفتی اور قطر کا مفتی اعظم قرضاوی اپنے
فتووں اور جمعہ کے خطبات میں چیخ چیخ کر اور اللہ کے واسطے دے کر امریکہ
سے شام یا سوریا میں مجاہدین کے لئے مذید اسلحہ بیجنے کی فریادیں کر رہیں
ہیں اور دوسری طرف نام نہاد مجاہدین کی جنسی پیاس بجھانے کے لئے جہاد
نکاح جیسے فتوے دیکر تیونس مصر و دیگر عرب ممالک سے نوجوان لڑکیاں تک
پہنچا رہے ہیں، اس شرمناک فعل نے تحریک طالبان کی طرف سے وزیرستان و سوات
میں خواتین کی عصمت دری جیسے واقعات سے ایک قدم آگے بڑھ گئیے ہیں۔۔۔
حالانکہ آج تک ان وہابی مفتیوں کا فلسطین کی حمایت اور اسرائیل کے خلاف
ایک فتوی بھی نہیں آیا۔۔۔؟؟ْمذید برآن اسلام کے نام نہاد جان لیوا
مجاہدین القاعدہ و طالبان کا اب تک ایک بھی بندہ بھی اسرائیل مخالف جہاد
فلسطین میں شامل نہیں ہوا اور نہ ہی قبلہ اول کی آزادی کی تحریک میں حصہ
لیا؟ْ؟؟ القاعدہ و طالبان نے اگر حصہ لیا تو صرف اور صرف عراق افغانستان
پاکستان اور اب سوریا یا شام میں امریکی و اسرائیلی مفادات کے لئے پبلک
مقامات مساجد مقدس مقامات پر خودکش حملے کرکے کلمہ گو مسلمانوں کو خون
میں نہلانے کے ساتھ ساتھ مقدس مقامات کی توہین کرکے حتی کہ سوریا یا شام
میں القاعدہ کے زیلی تنظیم النصرہ سے منسلک جہادیوں نے قتل ہونے والے
شامی فوجی کا دل چبا کر دور جہالیت کے ملعونوں ابوجہل ابوسفیان اور ہندہ
کی تاریخ دہرادی جب ابوسفیان کی بیوی اور یذید لعین کی دادی ہندہ نے رسول
اللہ ص کے چچا حضرت حمزہ رض کا کلیجہ چبایا تھا۔۔۔۔اسی طرح القاعدہ کے
زیلی تنظیم النصرہ کے نام نہاد جہادیوں نے سوریا یا شام ہی میں رسول اللہ
ص کے جید صحابی حضرت حجر بن عدی رض کی قبر کشائی کرکے جسد اقدس کی بے
حرمتی کرکے مزار اقدس کو مسمار کردیا۔۔۔۔پاکستان میں اپنے آپ کو صحابہ رض
اور اسلام کے ٹھیکدار کہنے والے سپاہ صحابہ و تحریک طالبان کے دہشت گرد
اس توہین صحابہ رض پر نہ صرف خاموش رہے بلکہ درااصل امریکی امامت میں
جہاد شام میں عملی حصہ لے کر یا اس جہاد کی حمایت کرکے یہاں تک کہ سپاہ
صحابہ نے پاکستان میں شام کے سفارتخانے پر حملے کے بیانات تک جاری کئیئ
دراصل اس جرم میں شریک رہے ہیں۔۔۔۔۔امریکی امامت میں لڑنے والے القاعدہ
کے زیلی تنظیم النصرہ  اور سپاہ صحابہ و تحریک طالبان پاکستان کے ان
جہادیوں کے اس نام نہاد عظیم جہا ۔۔۔۔۔اور جنت جانے کے شوق۔۔۔۔۔۔کو  حکیم
الامت علامہ اقبال نے کئی دہائیاں پہلے بیان کیا تھا۔۔
؎
ناحق کے لئے اٹھے تو شمشیر بھی فتنہ
شمشیر ہی کیا نعرہ تکبیر بھی فتنہ
ایک حوصلہ افزا اور امید کی بات یہ ہے کہ مشرق وسطی میں امریکی و
اسرائیلی مفادات کے لئے فلسطین و قبلہ اول کی آزادی کی دو حامی تنظیمیں
حزب اللہ و حماس عالم اسلام کے دو بازوں کی طرح اگر چہ مختلف مسالک سے
وابستہ ہیں لیکن دونوں بھائیوں کی طرح یہ بات سمجھ چکے ہیں کہ شام یا
سوریا میں جہاد دراصل امریکی و اسرائیلی مفاد کا جہاد ہے اسلئے حزب اللہ
اور حماس کی قیادت نے اس فتنہ کے خلاف مزاحمت کے لئے ایک بار پھر آپسمیں
اتحاد کرلیا ہے۔۔۔جس کا اظہار حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصراللہ نے
اپنے حالیہ تقاریروں میں کھل کر کیا ہے کہ اگرچہ حزب اللہ ہمیشہ سے
اسرائیل و امریکہ کے خلاف براہراست لڑ کر فلسطین کی آزادی کے لئے
برسرپیکار رہی ہے ،،،،لیکن شام یا سوریا میں حزب اللہ کا شامی فوج کی
حمایت اور القاعدہ و طالبان کے تکفیری و خوارج نظریہ کے حامل دہشت گردوں
سے بادل نحواستہ اور تنگ آمد بہ جنگ آمد لڑنا بھی اصل میں ان تنظیموں کے
آقا امریکہ و اسرائیل کو ہی شکست دینا ہے کیونکہ لبنان سرحد سے متصل
قوصیر پر قبضے کے بعد القاعدہ کے زیلی تنظیم النصرہ و طالبان کا اگلا حدف
لبنان و فلسطین میں حزب اللہ و حماس کا ہی خاتمہ کرنا ہے۔۔۔ حزب اللہ کے
سربراہ سید حسن نصراللہ نے امریکی و صیہونی مفادات کے لئے کام کرنے والے
بعض میڈیا رپورٹوں کے منفی پروپیگنڈے کہ شام یا مشرق وسطی میں مسلکی جنگ
ہو رہی ہے  کا کھل کر جواب دیتے ہوئے کہا کہ القاعدہ کے زیلی تنظیم
النصرہ  اور سپاہ صحابہ و تحریک طالبان پاکستان کے تکفیری دہشت گرد شیعہ
سنی دونوں مکاتب فکر کے دشمن ہیں جس کا واضح ثبوت عراق افغانستان و
پاکستان میں انہی دہشت گردوں کے ہاتھوں شیعہ و سنی دونوں مکاتب فکر کے
پیروکاروں پر حملے مساجد مزارات اور جنازے کے نمازوں کے اجتماعات پر حملے
اور پاکستان میں الکشن کے دوران سنی مسلمانوں کا قتل عام واضح دلیل
ہیں۔۔۔سید حسن نصر اللہ نے القاعدہ کے زیلی تنظیم النصرہ  اور سپاہ صحابہ
و تحریک طالبان پاکستان کے دہشت گردوں کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ صحابی
رسول ص حضرت حجر بن عدی رض کے جسد اور مزار کی بے حرمتی کے دلخراش واقعے
کے بعد القاعدہ کے زیلی تنظیم النصرہ  اور وہابی دہشت گردوں سے سوریا یا
شام میں اصحاب رسول ص اور اہلبیت رسول ص کے مقدس مزارات بالخصوص رسول
اللہ ص کی نواسی اور امام حسین ع کی بہین شریکتہ الحسین ع بی بی زینب
سلام اللہ علیہ کے دمشق میں واقع مزار اقدس اور دیگر مقدس مقامات کے دفاع
کے لئے حزب اللہ  کے جوان اپنے خون کے آخری قطرے تک دفاع کریں گے۔
القاعدہ کے زیلی تنظیم النصرہ  اور سپاہ صحابہ و تحریک طالبان پاکستان جو
کہ وہابی و تکفیری آئیڈلوجی کی حامل ہے جو اپنے علاوہ دیگر تمام مسلمانوں
کو کافر کہلوا کر قتل عام کرتی ہے ان درندہ صفت افراد سے انسانوں کا ناحق
خون اور مقدس مقامات کی توہین کوئی انوکھی بات نہیں ۔۔۔دراصل بوڑھے
استعمار یا برطانیہ نے گزشتہ دو سو سال کے دوران اسلام کے نام پر اسلام
کو بدنام کرنے کے لئے دنیا بھر میں تین فتنے یا عقیدے و آئیڈیالوجی پیدا
کرکے اسلام کو بدنام کیا ۔۔۔ان تین فتنوں میں مشرق وسطی میں آل سعود کے
زریعے فتنئہ وہابیت ،ایران یا فارس میں فتنئہ بہایت اور برصیغر پاک و ہند
میں فتنئہ قادینیت یعنی وہابی ،بہائی اور قادیانی فتنے کے زریعے چودہ سو
سال پہلے مکمل ضابطئہ حیات اسلام کو دنیا بھر میں وحشی و بدنما یا پھر
عیاش صورت میں پیش کیا حالانکہ یہ تنیوں فتنے گزشتہ دو سو سال کی پیداورا
ہیں اس موضوع کو صحیح سمجھنے کے لئے قارئین مشہور برطانوی جاسوس ہیمفرے
کے احترافات یا لارنس آف عربیا کا مطالعہ کرسکتے ہیں۔۔۔۔بوڑھے استعمار
برطانیہ کے پیداکردہ ان تین فتنوں بالخصوص فتنہ وہابیت(القاعدہ اور سپاہ
صحابہ و تحریک طالبان پاکستان) کی بعد میں امریکہ و اسرائیل نے کھل کر
حمایت کی اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ سن اسی کی دہائی میں  سی آئی کے
زیر اہتمام روس کے خلاف نان نہاد افغان جہاد کے نام پر امریکی سی آئی اے
اور ضیا حکومت نے القاعد  اور سپاہ صحابہ و تحریک طالبان پاکستان کی
بھرپور حمایت کی جس کا برملا اظہار سابق امریکی وزیر خارجہ کی اس اقرار
جرم والی خطاب میں بھی ملتی ہے جو سوشل میڈیا میں کافی مشہور ہو چکی ہے
کہ ہم یعنی امریکہ نے پاکستان کی مدد سے وہابی طرز فکر اور جہاد کی
سرپرستی کی۔۔۔
http://www.youtube.com/watch?v=J1CW2XuDAQ4

اور یہ سلسلہ اب بھی قطر میں طالبان کے دفتر اور امریکہ طالبان یکجہتی کے
علاوہ شام یا سوریا میں امریکی امامت میں اسرائیلی مفادت کے لئے جہاد شام
میں القاعدہ کے زیلی تنظیم النصرہ  اور سپاہ صحابہ و تحریک طالبان
پاکستان کا جہاد میں سلسلہ لینے کا جاری سلسلہ ہے۔۔۔نہ جانے پاکستان کے
مقتدر ادارے کب تک امریکی ایما پر آستین کے ان سانپ القاعدہ اور سپاہ
صحابہ و تحریک طالبان پاکستان کو جہادی کرائے کے قاتلوں کی صورت میں
افغانستان وزیرستان یا شام و دمشق میں بھیج کر امریکی امامت میں جہاد کا
فریضہ انجام دیتے رہیں گے اس کا فیصلہ تو آنے والا وقت ہی کرے گا۔۔۔لیکن
ایک بات ضرور یاد رہے کہ اللہ کے ہاں دیر ہے لیکن اندھیر نہیں۔۔۔ایک دن
این سفیانی و دجالی نظاموں کا خاتمہ ضرور ہونا ہے اور مسلمانوں کے تمام
مکاتب فکر کے مشترکہ عقیدے کے مطابق منجعی بشریعت امام مہدی ع کا انقلاب
بہت جلد آنے والاہے۔۔بقول علامہ اقبال ؎
دنیا کو ہے اس مہدی برحق کی ضرورت
ہو جس کی نگہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔زلزلہ عالم افکار
؎
بتا رہی ہیں یہ تبدیلیاں زمانے کی
کسی ولی کا یقیننا ظہور ہونا ہے

:دیگر مضامین
(21.06.2016) نواسہ رسول ،داعی امن ،امام حسن ابن علی کی سیرت ایک نمونہ عمل ہے
(18.06.2016) ام المومنین سیدہ خدیجۃالکبریٰ
(16.06.2016) آج 10 رمضان ہے ،آیئے ہم سب مل کر اپنے پروردگار سے دعا کرتے ہیں
(15.06.2016) آج 9 رمضان ہے ،آیئے ہم سب مل کر اپنے پروردگار سے دعا کرتے ہیں
(14.06.2016) رمضان المبارک کا ایک ایک لمحہ بخشش کی خاص ضمانت ہے
(12.06.2016) رمضان مبارک کی چھٹے دن کی دعا ۔ ڈاکٹر نگہت نسیم
(11.06.2016) رمضان مبارک کی پانچویں دن کی دعا ۔ ڈاکٹر نگہت نسیم
(10.06.2016) رمضان مبارک کی چوتھے دن کی دعا ۔ ڈاکٹر نگہت نسیم
(10.06.2016) ماہ رمضان المبارک درحقیقت قلب کا موسم بدلنے کی نوید ہے
(09.06.2016) رمضان مبارک کی تیسرے دن کی دعا ۔ ڈاکٹر نگہت نسیم
(08.06.2016) رمضان مبارک کی دوسرے دن کی دعا ۔ ڈاکٹر نگہت نسیم
(08.06.2016) آج دو رمضان ہے ،آیئے ہم سب مل کر اپنے پروردگار سے دعا کرتے ہیں
(07.06.2016) رمضان مبارک کی پہلے دن کی دعا ۔ ڈاکٹر نگہت نسیم
(07.06.2016) شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيَ أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِّنَ الْهُدَى وَالْفُرْقَانِ
(05.06.2016) بغیر بجلی کے کام کرنے والا ائیرکنڈیشنر خریدنا چایتے ہیں
(03.06.2016) مقام حضرت امام حسین (ع) سنی مآخذ کی روشنی میں
(01.06.2016) تمنائے فاطمہ سقائے سکینہ اَسَدُالْحُسَیْن سیدنا اَبَاالْفَضْلِ الْعَبَّاسْ
(30.05.2016) نابغہ روزگار،استاد مقام شاعر سید عابد علی عابد کی لاہور میں قبر
(27.05.2016) کم سِن لڑکیوں میں بریسٹ کینسر کے بڑھتے خطرات ۔ کشور مصطفیٰ
(26.05.2016) ماں کا دودھ پینے والےبچے ذہین اور دولت مند ہوں گے: رپورٹ



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
بیاد سید عاشور کاظمی  »
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
  بیاد سید عاشور کاظمی   
  مزید ++
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں