|
مفاہمت کی سیاست یا منافقت ۔۔از؛ زرقا مفتی ۔لاہور ۔۔۔اشاعت مکرر
24.07.2014, 08:00am , جعمرات (GMT+1)
زرقا مفتی ۔لاہور
یہ تو ہم سب جانتے ہیں کہ ہمارے ملک کی سیاست کے شجر کو مفاد پرستی کا دیمک لگا ہوا ہے سو ایم کیو ایم اور ن لیگ کی مفاہمت پر کسی کو حیرانی نہیں ہونی چاہیئے۔ نواز شریف کے اقتدار سنبھالنے پر ہمیں کوئی خوش فہمی نہیں تھی کہ یہ اصولوں کی سیاست کریں گے۔ اپنے بلند و بانگ انتخابی دعوں کے برعکس وہ ایک روایتی مفاد پرست حکمران ہی ثابت ہو رہے ہیں۔ اقتدار سنبھلانے کے بعد اپنے منظورِ نظر گورنر فائز کرنا غیر ممالک میں پاکستان کے سفیر بدلنا اور افسروں کے تبادلے کرنا اُنکا پسندیدہ عمل ہے۔ کچھ ہی روز میں ملک کے نئے صدر کا انتخاب ہو رہا ہے جس کے لئے اُنہوں نے اپنے ایک ممنون مصاحب کا انتخاب کیا ہے مگر ان کے انتخاب کے لئے ن لیگ کا بھاری مینڈیٹ کچھ ہلکا ثابت ہوا۔ ن لیگ کے صدارتی اُمیدوار کو یہ انتخاب جیتنے کے لئے 354 ووٹ درکار تھے 33 ووٹوں کا خسارہ تھا جسے پورا کرنے کے لئے ایم کیو ایم سے مفاہمت کا عمل شروع کیا گیا۔ ایم کیو ایم کو بھی اسوقت حکومتی حمایت کی اشد ضرورت تھی۔ قائد تحریک کو منی لانڈرنگ اور عمران فاروق قتل کیس کے سلسلے میں شامل تفتیش کیا گیا ہے۔ ایسے میں پاکستانی حکومت کی حمایت اُن کے لئے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ سو ہر دو فریق اپنے مفاد کے لئے مفاہمت پر آمادہ ہوئے ہیں۔ اس منافقت کے لئے گھڑی جانے والی ممکنہ وضاحت تو یہی ہو گی کہ یہ مفاہمت ملک و قوم کے عظیم تر مفاد کو پیش نظر رکھ کر کی گئی حالانکہ اس کے پیچھے بھی وہی خودغرض نظریہ ضرورت کام کر رہا ہے جو روایتی سیاستدانوں کا طرہء امتیاز ہے۔
اس مفاہمت سے نواز شریف نے اپنے بارے میں اُن تمام تجزیہ کاروں کی رائے کو غلط ثابت کر دیا ہے جو یہ کہہ رہے تھے کہ وہ ایک بدلے ہوئے اور بہتر سیاستدان بن چکے ہیں۔ اُن کے پیشَ نظر سب سے اہم کام صرف اپنے اقتدارِ اعلیٰ کا دوام اور استحکام ہے جس کے لئے وہ کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ ایم کیو ایم سے مفاہمت کے عمل نے ثابت کیا کہ وہ اب بھی نوے کی دہائی والے نواز شریف ہیں جو قومی مفاد کو بالائے طاق رکھ کر شخصی اقتدار کو مستحکم کرنا چاہتے ہیں۔ کراچی کے بے بس اور مظلوم عوام ہر روز کراچی کے متحارب گروہوں کی وحشت و بربریت کا نشانہ بنتے ہیں ایسے میں قومی مفاد کا تقاضا یہ تھا کہ کسی بھی متحارب گروہ کے ساتھ مفاہمت سے گریز کیا جائے ۔ مگر روایتی سیاستدان مفاد پرستی کی عینک اُتاریں تو کچھ دیکھ سکیں۔ الجزیرہ نیوز کے اعدادو شمار کے مطابق کراچی دُنیا کا سب سے خطرناک شہر ہے ۔ یہاں ہر قسم کے جُرم کا ارتکاب ہوتا ہے قتل، اغوا برائے تاوان ، بھتہ، زمین جائیداد پر قبضہ معمولی باتیں ہیں۔ دہشت گردی بم دھماکے ٹارگٹ کلنگ نے شہریوں کی زندگی کو موت سے بد تر کر دیا ہے۔ کاروباری طبقہ بھتہ خوروں کے ہاتھوں پریشان ہے نقل مکانی پر آمادہ ہے۔ متوسط طبقہ خوف کی دھند میں جی رہا ہے گھر سے کام یا پڑھائی کے لئے جانے والے روزانہ دُعا ؤں کے سائے میں ایسے رخصت کئے جاتے ہیں جیسے جنگ کے محاذ پر جا رہے ہوں۔
نواز شریف کی پہلی ترجیح کراچی میں امن کی بحالی ہوتی تو ہم کہتے کہہ وہ وہ بدل گئے ہیں۔ مگر اُنہوں نے ایک ایسی جماعت سے مفاہمت کی ہے جو کراچی میں ہونے واے خطرناک جرائم میں ملوث ہے ۔ واقفانَ حال کہتے ہیں کہ نواز شریف اپنی مخالفت کرنے والے کو معاف نہیں کرتے۔ کراچی کی عوام نے ن لیگ کو ووٹ نہیں سو کراچی کے عوام بھی شاید اسی زمرے میں شامل ہو چکے ہیں کیونکہ وفاقی وزیرِ داخلہ تو یہ کہہ کر بری الذمہ ہو گئے کہ امن امان برقرار رکھنا صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ ملکی سیاست میں نمبر گیم سے استفادہ کرنے والی جماعتوں میں سر فہرست ایم کیو ایم کا نام آتا ہے ۔ حکومت بناتے وقت اعتماد کا ووٹ لیتے وقت یا قانون سازی کے وقت جب کسی حکمران کو ووٹوں کے خسارے کا سامنا ہوا اُس نے ایم کیو ایم ہی کا ہاتھ تھاما ۔ حکومت وقت سے مفاہمت ایم کیو ایم کی بھی ضرورت رہی ہے۔ حکومت کی بیساکھی بن کر ایم کیو ایم اپنے جائز ناجائز دھندے جاری رکھتی ہے اور ان دھندوں کے طفیل کراچی پر اجارہ داری بھی قائم رہتی ہے۔ ایم کیو ایم کی سیاسی بیساکھی کے طفیل ہی عشرت العباد ایک ریکارڈ مدت سے گورنر سندھ کے عہدے پر فائز ہیں اور آئندہ بھی رہ سکتے ہیں۔ حکومت کی بیساکھی بن کر کراچی میں ممکنہ آپریشن کلین اپ کی زد میں آنے والے کارکنوں کی جان بخشی بھی آسان ہوگی اور کراچی بھی یرغمال بنا رہے گا۔
اس مفاہمت کے ضمنی فیوض و برکات اور بھی ہیں مثلا ایم کیو ایم اورن لیگ اپنی حریف جماعت تحریک ِ انصاف کے خلاف یکسو ہو کر کام کر سکتے ہیں۔ کراچی کے عوام نے حالیہ انتخابات میں تحریک انصاف کو قبولیت کی سند بخشی تھی مستقبل میں اس خطرے سے نبرد آزما ہونے کے لئے ایم کیو ایم کسی سہارے کی ضرورت تھی اور ن لیگ کا سہارا اس وقت سب سے قوی ہے۔
منافقت یا مفاہمت کے اس مکروہ عمل پر عوام کیا سوچتے ہیں؟ اس کی کسے فکر ہے عوام کے دل کی بھڑاس سماجی رابطے کی ویب سا ئیٹس پر دیکھی اور سُنی جا سکتی ہے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ترقی نے جہاں کسی بات کو راز رکھنا مشکل کر دیا ہے وہیں ماضی میں کہی سُنی گئی باتوں کو بھی محفوظ کر لیا ہے ۔ پہلے تو ہمارے سیاستدان عوام کی کمزور یاداشت کا فائدہ اُٹھا لیترے تھے مگر اب یہ ممکن نہیں رہا۔ سماجی رابطے کی ویب سائیٹس پر ایم کیو ایم اور ن لیگ کی مخاصمت پر مبنی کئی ویڈیوز موجود ہیں۔ ان دو جماعتوں کے راہنما مفاہمت کے پھولوں کے ہار ایک دوسرے کے گلے میں ڈال رہے ہیں مگر عوام تو ان کی سابقہ لڑائیوں کی ویڈیوز سے محظوظ ہو رہےہیں ایسی درجنوں ویڈیوز نیٹ پر گردش کر رہی ہیں۔
کہاں تو ایک دوسرے کو قتل کی دھمکیاں دی جاتی ہیں ایک دوسرے کی پگڑیاں سرِ عام اُچھالی جاتی ہیں پھر سیاسی مفاد کے لئے ماضی تلخیاں فراموش کر دی جاتی ہیں اورخنجر بردار ہاتھوں میں گلابوں کے ہار تھما دئیے جاتے ہیں۔
ماضی کی ان تلخیوں کا خمیازہ بھگتنے والے عوام کسی کو یاد نہیں رہتے۔ کراچی کے عوام امن اور سلامتی کے خواہاں ہیں اس مفاہمت سے اُن کی دیرینہ خواہش حسرت میں بدلتی نظر آتی ہے۔ کراچی کی فریاد ایوانِ اقتدار تک نہیں پہنچی کیونکہ وہاں کی موٹی بے حس دیواروں میں ایسا کوئی روزن نہیں جہاں سے فریادی نالوں کو رسائی مل سکے ۔ ایوان اقتدار کے باہر کوئی زنجیرِ عدل بھی آویزاں نہیں جسے کھینچ کر حکمرانوں کو اپنی دادرسی پر مجبور کیا جاسکے۔ کراچی والو تمہیں اگلے پانچ سال بھی یرغمالیوں کی طرح بسر کرنے ہونگے کیونکہ تمہارا نجات دہندہ کوئی نہیں۔
|