مسلم لیگ ن کے اُمیدوارممنون حسین نے 432ووٹ لے کر ملک کے نئے صدر منتخب ہوگئے ہیں۔چیف الیکشن کمشنر فخرالدین ابراہیم نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاہے کہ پہلی بار جمہوری طریقے سے شفاف الیکشن ہوئے ،الیکشن کمیشن نے شفاف الیکشن کے لیے فوج کو بلایا۔انہوں نے بتایاکہ صدارتی انتخابات کیلئے پارلیمنٹ ہاوٴس اور صوبائی اسمبلیوں میں ووٹنگ ہوئی، جس میں887 افراد نے ووٹ دیا، 9 ووٹ مسترد کر دیئے گئے، 878 ووٹ درست قرار دیئے گئے،ممنون حسین نے 432ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی، جبکہ وجیہہ الدین نے 77 ووٹ حاصل کیے۔چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ میری رائے میں کسی کو الیکشن کا بائیکاٹ نہیں کرنا چاہیے۔
اس سرکاری اعلان کےبعد کچھ حلقے ممنون حسین کو پاکستان کے بارہویں اور کچھ چودہویں صدرکے طور پرلکھ رہے ہیں جو ایک معمہ بن گیا ہے اور اسکی وجہ یہ ہے کہ کچھ لوگ وسیم سجاد کے دوبار قائم مقام صدر ہونے کو صدارتی فہرست میں شامل نہیں کرتے
پاکستان کی 66/ سالہ تاریخ میں ملک کے تمام صدور کا انتخاب سینیٹ، قومی و چاروں صوبائی اسمبلیوں پر مشتمل الیکٹورل کالج کے ذریعے عمل میں نہیں آیا۔ اب تک 6/ صدور سیاسی جماعتوں کے رکن رہے جن میں چار پیپلزپارٹی کے متحرک کارکن رہے۔ اسی طرح ملک میں چار فوجی صدور رہے جن میں سے تین فوجی انقلاب کے ذریعے اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب رہے ان میں ایوب خان (1958)، ضیاء الحق (1977) اور پرویز مشرف (1999) شامل ہیں۔
ملکی تاریخ پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتاہے کہ 1956ء کے آئین کے تحت گورنر جنرل کا منصب ختم کرکے صدر کا عہدہ تخلیق کیا گیا اور اس وقت کے گورنر جنرل اسکندر مرزا ملک کے پہلے صدر بنے۔ 1958ء میں اسکندر مرزا نے آئین معطل کرکے ملک میں پہلا مارشل لاء لگانے کا اعلان کردیا جنرل ایوب خان کو پہلا چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر مقرر کیا گیا جنہوں نے ایک پرامن انقلاب کے ذریعے اسکندر مرزاکو جبری طور پر لندن جلا وطن کردیا اور خود صدر بن گئے جہاں وہ بالآخر 1969ء میں انتقال کرگئے۔ ملکی اور بین الاقوامی دباؤ پر ایوب خان نے 2/ جنوری 1965ء کو صدارتی انتخاب کرایا جس میں ملک بھر سے 80/ ہزار بی ڈی (بنیادی جمہوریت) ارکان نے صدر کے لئے ووٹ دیئے۔ ایوب خان کنونشن مسلم لیگ اور محترمہ فاطمہ جناح متحدہ اپوزیشن کی صدارتی امیدوار تھیں انتخاب میں زبردست دھاندلی کے بعد ایوب خان 64/ فیصد ووٹ کے ساتھ کامیاب قرار دیئے گئے۔
تیس جولائی کو پاکستان کے آئین کے مطابق قومی اسمبلی، سینیٹ اور چاروں صوبائی اسمبلیاں نے ملک کے 14ویں صدر کا انتخاب کیا۔ اس سے قبل پاکستان کے جو صدور گزرے ہیں ان میں سے سب آئینی طریقے سے منتخب نہیں ہوئے تھے، جب کہ پانچ صدور فوجی تھےاور وسیم سجاد دو مرتبہ ملک کے عبوری صدر منتخب ہوئے۔
پاکستان کے پہلے صدر میجر جنرل سکندر مرزا تھے جو 23 مارچ 1956 سے 27 اکتوبر 1958 تک اس عہدے پر فائز رہے۔ اس سے قبل وہ پاکستان کے آخری گورنر جنرل بھی رہ چکے تھے۔ 1956 میں جب پاکستان کا پہلا آئین منظور کیا گیا تو اس میں گورنر جنرل کا عہدہ ختم کر کے صدارت کا منصب تخلیق کیا گیا، جس کا انتخاب الیکٹرل کالج کے ذریعے ہونا تھا۔
تاہم صرف دو سال بعد ہی سکندر مرزا جس آئین کے تحت صدر بنے تھے، انھوں نے اسی آئین کو معطل کر کے مارشل لا نافذ کر دیا اور جنرل ایوب خان کو چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر مقرر کر دیا۔ یہ پاکستان کی تاریخ کا پہلا مارشل لا تھا۔
27 اکتوبر 1958 کو سکندر مرزا نے ایوب خان سے اختلافات کی بنا پر استعفیٰ پیش کر دیا اور جنرل ایوب خان نے صدر کا منصب سنبھال لیا۔
ایوب خان کو الیکٹرل کالج نے منتخب نہیں کیا تھا بلکہ انھوں نے یہ ساغر خود بڑھ کے اٹھایا تھا۔ تاہم اپنے عہدے کو قانونی چھتری فراہم کرنے کے لیے انھوں نے 1960 میں ریفرینڈم منعقد کروایا، جس میں انھیں بھاری حمایت فراہم ہو گئی۔
ایوب خان گیارہ سال کے لگ بھگ صدارت کے عہدے پر براجمان رہے۔ اس دوران ایک اور آئین منظور کیا گیا جس میں ان کی صدارت کی توثیق کی گئی۔ جب کہ اسی دوران انھوں نے محترمہ فاطمہ جناح سے انتخابات میں بھی کامیابی حاصل کی۔
ان انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کے بعد ایوب کی حکومت کے خلاف عوامی ناپسندیدگی جس رفتار سے بڑھتی گئی، اسی رفتار سے ایک شعلہ بیان سیاست دان یعنی ذوالفقار علی بھٹو کا ستارہ بلند ہوتا گیا۔ بالآخر 25 مارچ 1969 کو ایوب خان نے اپنا عہدہ جنرل آغا محمد یحییٰ خان کے سپرد کر کے بن باس لے لیا۔
یحییٰ خان کو پاکستان سیاسی تاریخ کا سب سے رنگین و سنگین کردار کہا جائے تو بے جا نہیں ہو گا۔ انھوں نے پاکستان میں دوسری بار مارشل لا نافذ کیا۔ انھیں بڑے پیمانے پر مشرقی پاکستان کی علیٰحدگی کا ذمے دار سمجھا جاتا ہے۔ ان کے شراب و شباب کے رسیا ہونے کے قصے بھی مشہور ہیں، تاہم ان کے نامۂ اعمال میں یہ نیکی ضرور لکھی ہوئی ہے کہ انھوں نے 1971 میں ملک کی تاریخ کے سب سے صاف و شفاف انتخابات منعقد کروائے۔
تاہم بھارت سے بدترین شکست اور ملک کے دولخت ہونے پر رائے عامہ ان کے اس قدر غیر موافق ہو گئی کہ ان کا مزید اپنے عہدے پر برقرار رہنا ناممکن ہو گیا۔ چناں چہ وہ 20 دسمبر 1971 کو عنانِ اقتدار ذوالفقار علی بھٹو کو سونپ کر چلتے بنے۔
ذوالفقار علی بھٹو کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ پاکستان کے وزیرِ خارجہ، وزیرِ اعظم اور چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کے ساتھ ساتھ ڈیڑھ برس تک ملک کے صدر بھی رہے ہیں۔ 1971 میں ان کی جماعت نے مغربی پاکستان میں واضح برتری حاصل کی تھی، جس کے باعث وہ 1973 میں وزیرِاعظم منتخب ہو گئے۔
بھٹو کے دورِ وزارتِ عظمیٰ میں ملک کے صدر چودھری فضل الٰہی چوہدری تھے۔ 1973 کے آئین کے تحت ملک کو پارلیمانی جمہوریت بنا دیا گیا تھا جس میں اختیارات کا طرہ منتخب پارلیمان اور وزیرِاعظم کے سروں پر سجا دیا گیا، جس کے بعد صدر کا عہدہ فائلوں پر دستخط کرنے اور تقریبات میں فیتہ کاٹنے تک سمٹ کر رہ گیا۔ بعض ستم ظریفوں نے صدارت اسی بے توقیری کے پیشِ نظر ایوانِ صدارت کی دیواروں پر لکھ دیا تھا، ’چودھری فضل الٰہی کو رہا کرو۔‘
بھٹو نے وہی غلطی کی جو ان سے قبل سکندر مرزا اور جنرل ایوب خان کر چکے تھے، یعنی فوج کے سربراہ کا ناعاقبت اندیشانہ چناؤ۔ اس کا خمیازہ انھیں یوں بھگتنا پڑا کہ جنرل ضیاالحق 1977 میں انھیں معزول کر کے ملک کے تیسرے چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بن گئے۔ چودھری فضل الٰہی نے کچھ عرصہ ساتھ نبھایا لیکن تابکے؟ آخر 14 ستمبر 1978 کو وہ سبک دوش ہو گئے، جس کے دو دن بعد جنرل ضیاالحق نے صدرِ پاکستان کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا۔
اس مدتِ صدارت کو توسیع دینے کے لیے جنرل ایوب کی مانند جنرل ضیا کو بھی ریفرینڈم کی بیساکھیوں کی ضرورت پڑی۔ چناں چہ 1984 میں انھوں نے وہ بے حد متنازع ریفرینڈم منعقد کروایا جس میں وہ 95 فیصد ووٹ لے کر سرخ رو ہوئے۔
اگلے برس ضیاالحق نے غیرجماعتی انتخابات منعقد کروائے۔ نومنتخب اسمبلی نے نہ صرف ضیاالحق کے تمام سابقہ اقدامات کی توثیق کر دی بلکہ آٹھویں ترمیم بھی منظور کر دی جس کی بدنامِ زمانہ 58- 2B شق کے تحت صدر کو اسمبلی کو تحلیل کرنے کا اختیار حاصل ہو گیا۔
اب صدر محض چودھری فضل الٰہی نہ رہا بلکہ اس کے سامنے وزیرِاعظم اور پارلیمان ربر سٹیمپ بن کر رہ گئے۔
17 اگست 1988 کو گیارہ برس کے بعد صدر ضیاالحق کے اقتدار کا سورج اس وقت غروب ہوا جب ان کا طیارہ بہاولپور کے قریب فضا میں پھٹ کر تباہ ہو گیا۔
1973 کے آئین کے تحت صدر کی غیرموجودگی میں سینیٹ کا چیئرمین صدر بن جاتا ہے۔ اس وقت سینیٹ کے چیئرمین غلام اسحٰق خان تھے، چناںچہ وہ ملک کے پانچویں صدر بن گئے۔ اسکے بعد وسییم سجادد جولائی ترانوے سے نومبر تنوے تک در رہے اور ان کےبعد نویں صدر فاروق لغاری بنے
دسویں صدر بھی وسیم سجاد تھے جبکہ گیارہویں رفیق تارڑ اور بارہویں جنرل پرویز مشرف تھے جنکے بعد تیرہویں آصف زرداری صدر بنے اس طرح ملک کے چودہویں صدر اب ممنون حسین ہیں