کئی ماہ پہلے شاید آخری کالم لکھا تھا اور اسکی ایک وجہ تو یہ ہے کہ میں اگلنے والا نہیں نگلنے والا قلم کار ہوں۔ دوسری بات یہ کہ اس وقت کالم نگاری ایسے ہو چکی ہے جیسے حضرت انسان کی مجبوری بیت الخلا جانے کی ہے اسکی طرح ایک
غالب ترین اکثریت کی مجبوری کالم لکھنا ہو گیا ہے۔ عالمی اخبار کے ایک کارکن کے طور پر یقین کریں ایک دن میں کم از کم دوسو کالم برقی ڈاک سے موصول ہوتے ہیں جن میں سے شاید ایک یا دو قابل اشاعت ہوں۔
کسی کالم میں بہت عرصہ پہلے میں نے لکھا تھا کہ اس انٹرنیٹ کے زمانے میں جس کے پاس ایک سو ڈالر ہیں وہ صحافی ہے۔ ایک سو ڈالر میں کم ترین درجے کی ہوسٹنگ خریدیں اور کٹ پیسٹ کی بدولت بن جائیں صحافی اور لکھیں خود ہی خود کو سینئر ترین صحافی۔ ظلم تو یہ کہ میں نے اس قبیل کے ایسے نمبر دو بھی دیکھے ہیں جو دس نمبریے کام کرتے ہیں اور ابوجہل کے تسلسل کی علامت یہ لوگ صحافی بھی {سھافی ) کی املا میں لکھتے ہیں
بس یہی دو اہم وجوہات ہیں کہ کالم لکھنے سے حتی الوسع گریز کرتا ہوں لیکن عمران خان پر توہین عدالت کے الزام اور عدالت میں پہلی سماعت کی روداد نے جیسے دیوارِ جان کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
نفس رسول، امیر المومنین ،باب شہر علم علی علیہ السلام نے کہا تھا کہ آپ کفر کے معاشرے میں رہ سکتے ہیں لیکن بے عدل معاشرے میں نہیں۔
مجھ جیسے تو ملاؤں کے بقول کافر ملکوں میں رہتے ہیں لیکن اللہ عادل العادلین ان ملکوں کے عدل کے بارے میں جانتا ہے گر اے نفس رسول کیسے کہیں کہ میرے کروڑوں بہن بھائی ایک بے عدل معاشرے میں رہ رہے ہیں۔ جس ملک میں عدل اور عدالت کرپٹ ہو جائے وہاں اور کیا باقی بچ جاتا ہے۔
میں کسی سیاسی جماعت سے متعلق نہیں کیونکہ میرا تحریری فلسفہ یہ ہے کہ تمام سیاست دان ایک ہی ماں کی اولاد ہیں۔ان میں کوئی فرق نہیں۔ لیکن جب عدالت بھی ایک الگ سیاسی جماعت لگنے لگے تو لوگ کہاں سے انصاف کی بھیک مانگیں گے۔ پیپلز پارٹی ہو یا ن لیگ۔ایم کیو ایم ہو یا ق لیگ، تحریک انصاف ہو یا اے این پی یا پھر کوئی بھی سیاسی جماعت۔وطن عزیز پاکستان کی حد تک تو انکا منشور عوام کُشی ہے۔عوام پر ظلم ہے،عوام کو بے وقوف بنانا ہے،عوام کو بنیادی حقوق اور بنیادی سہولتوں سے محروم کرنا ہے۔عوام کو غلام بنا کر رکھنا ہے۔
ایک صحافی کے طور پر میں نے عمران خان۔اعتزاز احسن اور فیصل رضا عابدی سمیت کتنے ہی سیاسی جگادریوں کے گزشتہ دنوں کے بیانات دیکھے اور سنے ہیں لیکن ابھی تک اس مخمسے میں ہوں کہ آخر توہین عدالت کے لیئے سپریم کورٹ نے عمران خان کو ہی کیوں منتخب کیا؟ کیا حکمت عملی ہے اس کے پس منظر میں
دنیا بھر میں کوئی عدالت بھی مادر پدر آزاد نہیں ہوتی۔ عدالت بھی آئین اور قانون کے مطابق چلتی ہے۔ یہ بھی یاد رکھیں کہ عدل اور انصاف دو الگ الگ چیزیں ہیں اور عدل ہوتا نظر آنا چاہیئے۔ جہاں عدالتوں کے متعدد جج خود متنازعے ہو جائیں، غیر قانونی طور پر پلاٹ الاٹ کرانے میں ملوث ہوں، انکی اولادیں غیر قانونی دھندوں میں ملوث ہوں، خود انکے کرداروں پر سوالیہ نشانات ہوں وہاں کسی غریب اور مظلوم کو انصاف کیسے ملے گا۔
رکشے کی ٹکر میں پانچ لوگ مرجانے پر سوو موٹو لینے والی عدالت کو ملک میں شیعہ کُشی نظر نہیں آتی؟ بنیادی سہولتوں کے بغیر مرنے کی طرح جینے والے عام لوگ نظر نہیں آتے؟ تھانوں،تعلیمی اداروں،طبی اداروں اور ملک کے معمر افراد کے ساتھ ہونے والا ناروا سلوک نظر نہیں آتا؟ انکو بس یہ نظر آیا کہ عمران خان نے عدلیہ کے بے شرم لوگوں کے لیئے ایک لفظ شرمناک کیوں استمال کیا۔
اس موضوع پر جتنا بھی لکھا جائے وہ کم ہے لیکن شاعری میں اللہ پاک نے ایسا کمال رکھا ہے کہ دو مصرعوں کے ایک شعر میں یا چار مصرعوں میں آپ سو کالموں اور ایک مکمل کتاب کا موضوع سمیٹ لیتے ہیں۔
بس یہی سوچ کر تمہیدی گفتگو ختم کرتا ہوں اور اس سارے معاملے کو اشعار کی صورت میں اپ تک پہنچاتا ہوں۔ میری سوچ آپ میں سے ایک بڑی اکثریت کی بھی سوچ ہے