|
اعتراف ۔۔۔ ہماری ناکامی ہمارے دوہرے معیار ہیں۔از؛ ڈاکر نگہت نسیم
06.08.2013, 07:15am , منگل (GMT+1)
ڈاکٹر نگہت نسیم۔ سڈنی
اعتراف بھی عطائے پروردگار ہے اور یہ وصف بھی وہ بینا انسان کو یا پھر آئینہ صفت کو دیتا ہے ۔ میرے خیال میں اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو وہ کوئی عام انسان نہیں نہایت غیر معمولی انمول انسان ہی ہوگا ۔انسان جتنا بلندی پر جاتا ہےاس کو زمین پر ہر چیز چھوٹی نظر آتی ہے ۔ زمینی حقائق وہ ہی جان سکتا ہے جو زمین پر رہتا ہے اور بیان بھی وہ ہی کرسکتا ہے ۔
آپ اچھی طرح جانتے ہیں یہاں پر کتنے ہی لوگ ہیں جو بلندیوں پر رہتے ہیں ۔مجھے اعتراف ہے کہ میں کئی رخ سے کمزور ترین انسان ہوں پر اپنی غلطیوں کا اعتراف کرنے کی کوشش ضرور کرتی ہوں چاہے مجھے کتنا ہی عرصہ لگے ۔ ہمیشہ اللہ سے دعا کرتی ہوں کہ مجھے توفیق دے کہ میں اوروں کو معاف کر سکوں کیونکہ مجھے معلوم ہے کہ اس کی ایما کے بغیر مجھے یہ کشادگی نہیں مل سکتی ۔ اگر اپنی خامیاں نظر آنے لگیں تو سمجھیئے کہ ہم میں ایمان موجود ہے۔
انسانی نفسیات کے مطالعے نے اسی کیفیت کو بڑے اچھے طریقے سے بیان کیا ہے کہ انسان کو جب اپنا ادراک ہوتا ہے یعنی غلط راہ کا علم ہوتا ہے تو وہ 5 حالتوں میں ہوتا ہے ۔ یہ ہماری (ڈاکٹر) زمہ داری ہوتی ہے کہ ہم اپنے مریض کو اس کی سمجھ کے مطابق صلاح دیں اور ان کا علاج کریں ۔۔۔ وہ حالتیں ہیں
1۔ precontemplation (اپنی غلطیوں کا علم نہ ہونا) 2 contemplation (اپنی غلطیوں کا علم ہونا لیکن اعتراف نہ کرنا ) 3.prepration ( اپنی غلطیوں کا اعتراف کرنا اور انہیں سدھارنے کی تیاری کرنا ) 4. action ( اپنئ غلطیوں کو سدھارنا ) 5. relapse ( دوبارہ انہی غلطیوں میں مبتلا ہو جانا یعنی جہاں سے چلے تھے وہی پہنچ جانا )
میں یہ نہیں کہنا چاہتی کہ آپ سب لوگ کہاں کھڑے ہیں کیونکہ یہ میرا منصب نہیں ہے ۔۔۔ بتانے کا مقصد صرف یہ تھا کہ آپ خود جانئے کہ آپ کہاں کھڑے ہیں ۔۔۔ صرف اعتراف کی سیڑھی پر ہی یا خود کو سدھارنے کی سیڑھی پر چڑھنا چاہتے ہیں ۔۔۔ یا پہلی سیڑھی پر ہی ہیں ۔۔
مجھ یوں لگتا ہے جیسے اس ماہر نفسیات نے یہ علم اللہ پاک کے فرمان سے لیا ہوگا ۔۔۔ اللہ کریم جو سب سے جلد معاف کرنے والا اور بار بار توبہ کرنے والے کو محبوب رکھتا ہے ۔ انسان کو صیحیح سمت چلنے میں مدد دیتا ہے ۔ اس انگریز ماہر نفسیات نے اللہ کے حکم کے مطابق اور اسی کے دیئے ہوئے علم کو استعمال کرتے ہوئے ہمیں یہ ہدایت کی ہے کہ مریض جتنی بار بھی لڑکھڑائے اورچاہے کتنی ہی بار واپس اپنی غلطی دہرائے پھر بھی اسے اتنی ہی محبت اور توجہ سے دوبارہ درست سمت بتانی ہے اور اس کی ہمت بندھانی ہے ۔۔
آج کوئی بھی اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر مجھے بتائے کہ کسی نے کسی کو کتنی بار زمین پر سے گرے ہوئے کو اٹھایا ہے ۔ کتنی بار اس کی غلطی کو معاف کر کے پہلے سبق سے شروعات کی ہیں ۔ باتیں کرنا ، اعتراف کرنا کتنا آسان سا کام ہے ۔ میرے نزدیک تویہ کام عادتا سا ہے ۔ بلکہ یہ تو ایسا ہی ہے جیسے کسی پادری کے سامنے “ confession box” میں کھڑے ہو کر اپنے غلطیوں کا اعتراف کر لیا جائے ۔
ہم بھی تو یہی کرتے ہیں پانچوں وقت اپنے اللہ سے اپنے گناہوں کے اعتراف میں رٹے رٹائے جملے بول کر اٹھ جاتے ہیں ۔ اور اب تو کھلم کھلا اپنی بشری کمزوریوں اور غلطیوں کا ایک دوسرے سے اعتراف کرنے کو “ مہان“ سمجھا جانے لگا ہے یعنی آج اپنی غلطیوں کا اعتراف “ فیشن “ بن چکا ہے ( حوالے کے لئے ٹی وی شوز ، انٹرویوز ، مذاکرے اور دینی پروگرامز دیکھئے ) ۔
مزہ تو جب ہے نہ کوئی اپنی غلطی کو سدھارنے کا بھی بتائے کہ “ مجھ میں یہ غلطی تھی (اعتراف) اور میں نے اپنی غلطی ایسے سدھاری (عمل) “ تب میں سمجھونگی کہ ہاں یہ دنیا کا سب سے بہادر انسان ہے جس نے اعتراف بھی کیا اور اس غلطی کو سدھارا بھی ۔۔۔ کبھی سوچیں کہ اللہ کو کیاپڑی تھی کہ نبی ، آئمہ اور ولی بھیجتا ۔۔ قران پاک نازل فرماتا ۔۔ اگر اسے اعتراف ہی محبوب ہوتا تو وہ عمل کی بات کبھی نہ کہتا ۔۔
میں سوچتی ہوں کہ اللہ کریم کے“ فضل “ سے جتنا فیض انگریزوں نے اٹھایا ہے آج کے مسلمانوں میں سے کسی نے نہیں اٹھایا ۔ یقین جانئے ہماری ناکامی ہمارے دوہرے معیار ہیں ۔
|