کبھی ایک گھر کبھی دوسرے گھر،دیواروں پرچاک اور کوئلے سے لکیریں لگاتے سب ایک دوسرے کے آگے پیچھے بھاگتے شور مچاتے ساری گرمی کی دوپہر یونہی گزار دیتے ۔محلے کی بڑی بوڑھیاں لاکھ گالیاں دیتی رہتیں۔سب ان کی پرواہ کیے بغیر کبھی ماسی مختاراں کے کبھی تائی حمیداںؔ کے گھر کی دیواریں پھلانگتے ادھر اُدھر پُھدکتے پھرتے ۔۔آخر گرمی کی ساری چھٹیاں بچے گزارتے بھی توکیسے ۔یہ بچوں کے مشعلے تھے۔۔یہ اس محلے کی واحد گلی تھی جو بہت بڑی تو نا تھی مگر آگے سے بند تھی ۔ایک ہی راستہ اندر آنے کا اور باہر جانے کا بھی وہی تھا ۔یوں تو ایک ہی بڑی برادری کے لوگ بستے تھے۔مگر ان میں تین گھر دوسری برادری والوں کے بھی تھے۔جو بہت پرانے رہنے والے تھے۔لگتا تھا ایک ہی خاندان کے ہوں۔سب کے دُکھ سُکھ سانجے۔ایسے ہی دو گھر اور تھے جس کی دوستی کے چرچے بچے اور بڑے برابر تسبی کے دانوں کی طرح پڑھتے۔ایک گھر تو فضل حق ؔ کا تھا ،جو نہایت شریف آدمی۔اقبال بانو ؔ سے اُس کی دوسری شادی تھی ۔دو بیٹیاں پہلی بیوی سے تھیں ۔اولادِ نرینہ سے محروم تھے۔ سُنا ہے دوسری شادی
اُن کی والدہ نے زبردستی کروائی تھی مگر بدقسمتی کہ اقبال بانو ؔ سے بھی ایک ہی بیٹی پیدا ہوئی۔پھر تو اُس نے اللہ کی رضا سمجھ کر مان لیا کہ اگر نصیبوں میں نہیں تو دس شادیاں اور بھی کر لوں تو اس نعمت سے محروم رہونگا ۔پھر زیادہ وقت عبادت میں گزارنے لگا ۔وقت اپنی رفتار سے ہی گزرتا ہی گیا۔دیکھتے ہی دیکھتے بُشرہ ؔ بھی جوان ہو گئی۔دو بیٹیوں کے گھر تو پہلی بیوی کی زندگی میں ہی بسا چکے تھے۔اَب تو بس بشرہؔ کے لیے فکر مند تھے دونوں میاں بیوی ۔کیونکہ پچھلی عمر کی اولاد تھی اور عمرتھی کہ گزرتی ہی جا رہی تھی اور اوپر سے بیماریوں نے کچھ نا چھوڑا ۔اسی غم سے چارپائی پر جا لگا۔محلے والے اتنے اچھے تھے کہ روز رات شام کی نماز کے بعد فضل حق ؔ کے پاس کچھ دیر کے لیے آ بیٹھتے اور اردگرد کی خبروں سے اُس کی دلجوئی کرتے ۔اسے ہمیشہ معیوسی کے اندھیرے سے نکلنے کو کہتے ۔ان سب میں آگے اس کا دوست فقیر اللہ ؔ ہوتا ۔ہمیشہ کہتا فضل حق ؔ یار تو گھبراتا کیوں ہے۔جس خدا نے پیدا کیا ہے وہ راستے بھی خود ہی بناتا جائے گا ۔تُم بس فکر کرنا چھوڑ دو۔تمھاری بیٹی ہماری بھی تو کچھ لگتی ہے۔ایسے میں فضل حق ؔ ہلکی سی مسکراہٹ لبوں پر بکھرائے ،حقے کا لمبا سا ایک کش لیتا اور ہلکے سے دھواں چھوڑ دیتا۔ ایسے کچھ حوصلوں سے فضل حق ؔ کچھ کچھ ٹھیک ہونے لگا پھر ایک دن آہستہ آہستہ چلتا چلتا مسجدتک بھی آگیا۔جب مسجد میں داخل ہوا تو سب دوستوں کے چہرے خوشی سے کھل اُٹھے۔جن دوستوں نے اُس کی صحت یابی کے لیے دعائیں کی تھیں۔
ارے آؤ آؤ فضل بھائی بہت دنوں سے ہم سب تو مسکرانا ہی بھول چکے تھے۔آج سب کے کھلتے چہرے دیکھ کر لگتا ہے ان سب کی دعائیں رنگ لائی ہیں۔فضل حق ؔ کی آنکھوں میں کچھ ستارے چمکنے لگے ۔سب کے مسکراتے چہرے دیکھتے ہوئے سوچنے لگا ۔کیا یہ سب میرے اپنے ہیں ۔رشتوں کی محبتیں ایسی ہوتی ہیں ۔جو ایک دوسرے کے چہرے کی شکنوں میں خوشی و غمی کی روش دیکھ لیتی ہیں ایسا سوچتے ہی شکرانے کے نفل ادا کرنے کے لیے جانماز پر سر بسجود ہو گیا۔دعا لبوں پر مچلنے لگی۔
اے میرے اللہ ایسی محبتیں ہمیشہ قائم رکھنا ۔۔۔عصر کی نماز پڑھ کر گھر لوٹتے وقت آج اُسے ا پنے اُٹھتے قدموں میں دعاؤں کی لاٹھی صاف سنائی دی ۔
فضل حقؔ گھر داخل ہوا تو اقبال بانو ؔ کھانا گرم کرنے لگی۔اور بُشرہ ؔ اپنے بابا کا حُقہ تازہ کرنے لگی۔۔ بچی تو بے مثال تھی فضل حق ؔ کی ۔سارا محلہ تعریف کرتے نہ تھکتا ۔۔ابھی فضل حق ؔ نے کھانا شروع ہی کیا کہ دروازے پر فقیر اللہ کی آواز سنائی دی ۔۔۔یہاں اس محلے میں کسی کو بھی دروازے پر کُنٹی لگانے کی عادت نہیں تھی ۔ارے بھائی فضل گھر ہی ہو۔اُس کی عادت تھی اندر آنے سے پہلے وہ دروازے پہ صدا لگاتا۔آ جا یار ۔موقع پر آیا ہے حقہ بھی تازہ اور کھانا بھی گرم ۔فقیر اللہ ؔ اپنا گلہ صاف کرتے اندر داخل ہوا ۔بُشرہ ؔ جو اپنے بابا کے آگے حقہ رکھ رہی تھی چچا جان سلام ۔سر پر اپنا ڈوپٹہ ٹھیک کرتے مسکراتے بولی
فقیر اللہ ؔ بھی اُس کے سر پر ہاتھ پھیرتا دعائیں دینے لگا اور فصل حق ؔ کی پاس ہی چارپائی پر بیٹھ گیا۔کچھ موسم بدلنے کا تذکرہ ، کچھ حالاتِ حاضرہ پر دونوں ہی باتیں کرنے لگے ۔
باتوں باتوں میں فقیر اللہؔ اصل مقصد کی طرف آیا ۔جس کے لیے وہ دراصل آیا تھا ۔آج میرے یار ایک اہم سوال لے کر آیا ہوں تمھارے پاس ۔اُمید ہے برھم رکھ لے گا ۔اُس کا چہرہ دیکھتے ہوئے بولا ۔چل بول تو سہی ۔۔میں اس قابل ہوں بھی یا نہیں۔۔ وہ اُس کا منہ دیکھتے ہوئے بولا۔سب جانتے ہیں ہم اچھے دوست ہیں ،
اس میں کوئی شک تو نہیں ۔۔وہ بے ساختہ بول اُٹھا ۔مگر میرا مطلب کچھ اور ہے ۔اس سے پہلے کے فضل حق ؔ پھر درمیان میں روک دے ۔ایک ہی سانس میں بولتا گیا ۔اب میں ایک اور رشتے میں تجھے باندھنا چاہتا ہوں ۔اُس نے فوراََ اپنا مدعا بیان کر دیا ۔فصل حق کچھ اُس کی بات سمجھتے اور کچھ نا سمجھتے اُس کا منہ دیکھنے لگا ۔حقے کی نال ہونٹوں میں دبائے حیرت سے فقیر اللہ ؔ کے جملے کو سمجھنے کی کوشش ابھی کر ہی رہا تھا کہ فقیر اللہ ؔ اُس کے تجسس کو ختم کرتے بول اُٹھا ۔ارے کملے ۔۔ میں ضیأ اللہ ؔ سے تمھاری بیٹی کو بیاہ کر لے جانا چاہتا ہوں مجھے بس ہاں چاہیے ۔۔۔بس ہاں وہ حکمانہ انداز میں بولا ۔۔۔۔۔
دونوں کو معلوم تھا ۔اُس کا بیٹااور فضل کی بیٹی ایک ساتھ ہی پلے بڑھے تھے۔جسطرح ضیأاللہ ؔ کی قسمیں سارا محلہ کھاتا تھا اِسی طرح بشرہ ؔ کی پارسائی بھی سب کے سامنے آئینہ تھی ۔پھر بھلا فصل حقؔ کیسے انکار کرتا ۔دونوں نے ایک دوسرے کی خوشی کا احترام کیا۔
فقیر اللہؔ خوشی خوشی گھر لوٹ آیا ۔۔گھر داخل ہوتے ہی اپنی بیوی کو خوشخبری سنا دی۔اُس کی بیوی تو تھی ایسی کہ ناں کالفظ تو سیکھا ہی نہیں تھا۔خاوند کی بات کی تائید کر دی۔مگر کہیں اس کے دل میں بار بار ایک خلش اپنا سَر اٹھا رہی تھی۔کہ پتہ نہیں ضیأ اللہ ؔ بھی راضی ہوگا یا نہیں ۔دونوں ہی اپنی طرف سے مطمین تو ہو گے۔ایسے ہی کچھ دن گزر گے ۔۔۔۔
ایک شام گرمی کا زور کچھ کم ہوا اور نجمہ بی بی ؔ نل سے پانی بھر بھر کر صحن ٹھنڈا کرنے کی کوشش میں تھی۔اس کا پرانا اور روز کا معمول تھا یہ صحن ٹھنڈا کر کے پھر سب کی چارپائیاں بچھاتی۔ابھی وہ چارپائی بچھا رہی تھی کہ اتنے میں ضیأ اللہ ؔ گھر میں داخل ہوا ۔ماں کو کام کرتادیکھ کر اسکا ہاتھ بٹانے لگا ۔چادر بچھا چکا تو بولا ۔اماں ؔ لا تو بابا کا حقہ بھی تازہ کر دؤں۔اماں ؔ آپ کھانا گرم کرو ابا جان ؔ مسجد سے آتے ہی ہوں گے ۔ساتھ ہی اتنے میں دروازہ کھلنے کی آواز آئی ۔ادھر دیکھتے لو ۔۔ ابا تو آچکے ۔فقیر اللہؔ اندر داخل ہوتے ہی صحن میں بچھی چارپائی پر براجمان ہو گیا ۔دونوں کا معمول تھا ایک دوسرے کا انتظار کئے بغیر کھانا نہیں کھاتے تھے۔پھر دونوں باپ بیٹے نے کھانا کھایا ۔
فقیراللہؔ تو موقع کی تلاش میں تھا کہ کس طرح بیٹے سے بات کرے اور اور اپنی بات بتائے کہ اس نے بشرہ ؔ سے اُس کی شادی کی حامی بھر لی ہے ۔ویسے تو اُسے اپنے بیٹے کی سعادت مندی پر مکمل بھروسہ تھا مگر اندر ہی اندر ایک فکر یہ ستائے جا رہی تھی کہ کیا سوچے کا میری ہی زندگی کا
فیصلہ کرتے وقت مجھ سے پوچھا بھی نہیں۔بینأ پوچھے ہی اتنا بڑا فیصلہ خود ہی کر لیا۔پہلے تو اپنے بیٹے سے بات کرتے اُسے کسی بہانے کی ضرورت نہیں پڑتی تھی۔یا پھر کبھی اس سے پہلے اتنا بڑا فیصلہ کیا ہی نہیں تھا ۔عجیب کشمکش تھی۔ضیأ اللہ ؔ کی عادت تھی جب اُس کا باباؔ کھانا کھا لیتا تو اُس کی ٹانگیں دبانے لگتا ۔اُس کا بابا ؔ ساتھ ساتھ حقے کے کش لگاتا جاتا اور سارے دن کی رو داد پر تبصرہ بھی ۔آج فقیراللہ ؔ نے موقع دیکھا تو فضل حق ؔ کے گھر کا ذکر چھیڑ دیا۔ارے بیٹا کبھی کبھی چچا کے پاس بھی ہو آیا کرو۔خریت معلوم ہو جاتی ہے ۔ہاں اباؔ کل جاؤں گا ۔بہت دن سے جانے کا وقت ہی نہیں ملا ۔پھر باتوں ہی باتوں میں پوچھ بیٹھا ۔ابا ؔ چچا فضل بیٹی کی شادی کیوں نہیں دیتا ۔پریشان جو رہتا ہے اُس کے لیے ۔
ہاں میں بھی چاہتا ہوں اُس کی اس سلسلے میں اسکا ہاتھ بٹایا جائے۔وہ کن اکھیوں سے بیٹے کو دیکھتے ہوئے بولا ۔شاید اُس کے چہرے سے کچھ پڑھ سکے ۔مگر بیٹے کو عام سی بات کرتے ہوئے پایا تو بات کا سلسہ جاری رکھا ۔۔۔ اب اُس کی صحت بھی ایسی ہی رہتی ہے۔کوئی بیٹا بھی تو نہیں اُسکا جو خیال رکھے گا ۔بات کرتے کرتے ساتھ ہی کن اکھیوں سے ضیأ اللہ کو دیکھے جاتا ۔ بات ابھی ختم ہوئی ہی کہ وہ جھٹ بول اُٹھا ۔۔کیسی بات کرتے ہو بابا ؔ ۔۔۔میں جیسے تمھارا بیٹا ہوں اُس طرح چچا کا بھی تو ہوں ۔وہ جانتا تھا کہ اسکے بابا اور چچا کی کتنی گہری دوستی ہے۔بچپن سے دونوں گھروں کے چرچے سنتا اور دیکھتا آرہا تھا ۔
اس کی بات سن کر فقر اللہ ؔ کو کچھ حوصلہ سا ہوا ۔اور فوراََ بول اُٹھا ۔اُسے لگا کہ اس نے ذرا سی دیر بھی کر دی تو کہیں اُ س کا بیٹا مُکر ہی نا جائے۔تو بس بیٹا ؔ میں نے ایک فیصلہ کیا ہے تمھاری شادی بشرہ ؔ سے کرنے کا ۔فضل حق ؔ کو ایک بیٹا اور ہمیں بشرہ ؔ میں ایک بیٹی مل جائے گی ۔اپنی بات مکمل کر کے بولا ۔تمھیں کو ئی اعتراز تو نہیں ؟
یہ سننا تھا کہ ضیأ اللہ ؔ چونک اُٹھا ۔نہیں بابا ؔ ۔۔میں ایسا بیٹا نہیں اصل والا بیٹا بننا چاہتا ہوںَ
ٰیعنی بشرہ ؔ کا بھائی جواُس کے بیاہ پر سب کام کرے۔اور اُسے ڈولی میں بیٹھا کر رخصت کرے میں نے تو کبھی اُسے دوسری نظر سے دیکھا ہی نہیں۔وہ سب سچائی سے بولتا ہی گیا ۔
مگر اُس کا باپ توسُن ہو کر رہ گیا۔اُس کے اور بیٹے کے خیالات کتنے مختلف تھے۔لفظوں کی کڑواہٹ نے زبان کا ذائقہ ہی بدل دیا یہ بھی تو سچ ہے ہم رشتے بناتیوقت یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ ایسے رشتے کیوں نا بنانے کا سوچیں جو کبھی کبھی خدا کی طرف سے نہیں ملتے اَب تو فقیراللہ ؔ کے پاس اُس کی بات کا جواب نا تھا ۔
کتنی بڑی غلطی کر بیٹھا تھا فضل حق ؔ سے وعدہ کر کے ۔وہ کیسے ٹوٹتے دیکھ سکتا تھا ۔بیٹا تو ٹانگیں دبانے کے بعد اپنی چارپائی پر سونے کو جا لیٹا مگر اُس کی آنکھیں تو ابھی تک کھلی تھیں ۔کیسے اپنے دوست کا سامنا کر پائے گا ۔شرمندگی سے اُس کا جسم کانپ اُٹھا ۔وہ رات بھر یہی دعا کرتا رہا کوئی اس بات کا حل نکل آئے یا پھر کبھی اپنے دوست کا سامنا نہ کر پائے۔۔۔پھر ایسا ہی ہوا ۔موذن فجر کی آذان کب کی دے چکا ۔مگر فقیر اللہ ؔ اپنی چارپائی سے ہلا تک نہیں تھاجب کے وہ تو آذان سے پہلے اُٹھنے کا عادی تھا ۔نجمہ بی بی ؔ کی جب سے شادی ہوئی تھی آج پہلی بار ایسا ہوا۔وہ تو پریشان ہی ہو اُ ٹھی اور آوازیں دینے لگی۔میاں جی ۔۔میاں جی ۔۔ اُٹھ جائیں ۔۔آذان کب کی ہو چکیَ
فقیر اللہ ؔ کا کوئی جواب نا پا کر گھبرا کر بیٹے کو اٹھا دیا ۔ضیأ اللہ ؔ بھی ایک دَم چارپائی سے اُچھل پڑااسکا بابا ؔ تو وقت کا پاپند مانا جاتا تھا ۔پھر اُس کی چارپائی کے قریب جا کر آواز دی ۔چہرے سے چادر ہٹائی تو فقیر اللہ ؔ دینا سے بے نیاز بہت مٹھی نیند سو چکا تھا ۔وہ تو اپنے دوست کا سامنا نہیں کرنا چاہتا تھا ۔ بس بیٹے کو ایک کشمکش میں چھوڑ گیا ۔
ضیأ اللہ ؔ کو سمجھ ہی نا آئی یہ سب کیوں اور کیسے ہو گیا۔گھر خاموش ویران ویران سا لگنے لگا ۔اپنے باباؔ کی موت کے بعد تو خاموش ہی ہو کر رہ گیا۔اس کی تو اپنے بابا ؔ سے بہت اچھی دوستی تھی۔کچھ وقت ایسے ہی پَر لگائے اُڑتا گیا ۔یادوں کے دریچوں سے کبھی کبھی کچھ سوال جھانکنے لگتے
ایک دن ایسے ہی خاموش سی بیٹھی اپنی ماں سے پوچھ بیٹھا ۔۔اماں ایک بات تو بتا ؟ ہاں کہو بیٹا ۔وہ ساتھ ساتھ چاول تھالی میں ڈالتی جا رہی تھی۔
سمجھ نہیں آتی بابا ؔ تو اچھے بھلے تھے پھر یہ سب کیسے ہو گیا ۔وہ نل کھولے ساتھ ساتھ ہاتھ دھوتے بولتا ہی جا رہا تھا ۔ ماں جو اصل بات کئی ماہ سے اندر ہی اندر سنبھالے بیٹھی اور موقع کیتلاش میں تھی ۔یاد ہے تجھے اُس رات تمھارے باباؔ نے بشرہؔ کی بات کی تھی۔ہاں ۔۔ یاد ہے وہ تولیے سے ہاتھ پونچھتے پونچھتے رُک گیاماں بھی ٹھہر کر ۔تو تمھاری رائے سننے کے بعد میاں جی ؔ نے تُجھ سے کچھ کہا ہی نہیں پھر۔ہاں ایسا ہی ہوا ۔۔وہ حیرت سے منہ کھولے دیکھتا ہوا بولا ۔۔دراصل وہ فضل حق ؔ بھائی کو زبان دے کر آئے تھے ۔تمھاری اور بشرہ ؔ کی شادی کی ضیأ اللہ ؔ یہ سُن کر ہکا بکا رہ گیا ۔اُسے لگا جیسے وہ اپنے باپ کا قاتل ہو۔اپنی سانس گُھٹتی محسوس ہونے لگی۔کچھ دیر اپنی سانسوں کو درست کرنے کے بعد بولا ۔اماں ؔ وہ مجھے صاف کہتے توکیا میں انکار کرتا ؟ بیٹا کچھ باتیں اَن کہی سمجھ لینی چاہیں ۔تُم تو جانتے ہو انہوں نے کبھی وعدہ خلافی کی ہی نہیں تھی۔انہیں لگا فضل حق ؔ بھائی سے کیا عہد توڑنا پڑے گا ۔بس یہی بات دل پر لے لی۔ ضیأ اللہ ؔ اپنی کم سمجھی پر بے اختیار رو پڑا ۔۔ ماں ؔ ۔۔ بابا ؔ کو مُجھ پر بھروسہ نہیں تھا کیا؟
ایسا نہیں بیٹا ۔شاید وہ تم پر اپناحکم صارد کرنا نہیں چاہتے تھے۔۔تو ٹھیک آج میں چاہونگا میرے باباؔ کا و عدہ ایفا ہو ۔وہ فخر سے بولا
نجمہ بی بی ؔ بے اختیار بیٹے کا چہرہ دیوانگی سے چومنے لگی۔اُسے فضا ؤں میں فقیر اللہؔ کا مسکراتا چہرہ دیکھائی دینے لگا۔جیسے کہہ رہا ہو ۔نجمہ بی بی ؔ دیکھا میرے بیٹے نے میرے لفظوں کو رنجیروں سے باندھ دیا ہے ۔یہ وعدوں کی زنجیریں ہمیشہ مضبوط رہیں گی ۔۔
پھر دو آنسو پلکوں پہ شکرانے کے نکلے ۔کچھ بیٹے کی فرمابرداری میں اور کچھ فقیراللہؔ کے وعدہ ایفاأ ہونے کی خوشی میں ۔