پنجابی زبان کے معروف شاعر، اردو زبان و ادب کے حمایتی اور سماجی کارکن سردار گیان سنگھ پدمؔ کا مختصر علالت کے بعد یہاں ۸۵؍ برس کی عمر میں انتقال ہو گیا۔ انکی آخری رسومات ہزاروں سوگوار شہریوں کی موجودگی میں بابا گوپال داس کے شمشان گھاٹ درگا پوروہ میں ادا کی گئیں۔ گیان سنگھ پدمؔ پنجاب سے آکر سیتاپور میں آباد ہو گئے تھے اور ڈھلائی کا کارخانہ چلاکر روزی روٹی کماتے تھے وہ اپنی ایمانداری اور محنت کی وجہ سے عوام اور بازار میں خاصہ مقبول تھے۔
سردار گیان سنگھ پدم پنجابی زبان میں شاعری کرتے تھے لیکن سیتاپور کی ادبی فضا نے ان پر ایسا اثر کیا کہ وہ پنجابی کے ساتھ ساتھ اردو زبان میں بھی شعر گوئی کرنے لگے اور بزم اردو سیتاپور کی ممبر شپ اختیار کر لی اور پنجابی کے ساتھ ساتھ اردو زبان میں بھی شعر کہنے لگے۔ سردار گیان سنگھ پدمؔ نے تا حیات اردو کی حمایت کی۔ انہوں نے تقریباً پانچ سو خطوط لکھ کر اتر پردیش کی حکومت سے اردو زبان کو دوسری سرکاری زبان بنانے کا مطالبہ بھی کیا۔ وہ ادبی اور سماجی محفلوں میں براربر شریک ہوتے تھے۔
خوش مزاج ہونے کے ساتھ ساتھ شاعری کے ذریعہ وہ لوگوں کے دلوں میں گھر کر گئے تھے انکی شاعری کو ایک بڑ ا طبقہ پسند کرتا تھا۔ سردار گیان سنگھ پدمؔ کے انتقال پر بزم اردو سیتاپور کا ایک تعزیتی جلسہ اردو ہال میں شاعر و صحافی مستؔ حفیظ رحمانی کی صدارت میں منعقد کیا گیا جسمیں مرحوم پدمؔ جی کی ادبی و شعری خدمات کا اعتراف کرے ہوئے انہیں خراج عقیدت پیش کی گئی اور انکی موت کو اس دور کا ایک اہم نقصان قرار دیا گیا۔ پدمؔ جی کے پسماندگان سے اظہار ہمدردی کرنے کے بعد جلسہ کا اختتام ہوا۔ اس موقع پر مستؔ حفیظ رحمانی، اشتیاق علی صباؔ ، بابو صادق علی، سلیم اخترؔ ، رضوان ؔ خان، منظر یٰسین، خوشترؔ رحمانی، بدرؔ سیتاپوری، عارف محمد عارفؔ ، عمرانؔ سیتاپوری، محفوظؔ رحمانی، ریاض الحسن ، آفاق حسین اور وصی الحق انصاری نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے پدمؔ جی کو ایک نیک دل انسان اور اردو زبان کا سچا حمایتی قرار دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سیتاپور 13اگست ( نمائندہ) بزم اردو سیتاپور کا سلسہ وار ماہانہ مشاعرہ ۱۸؍ اگست کو صبح دس بجے عید ملن کی شکل میں قومی اردو کونسل برائے فروغ اردو زبان کے ذریعہ جا رہے کمپیوٹر سینٹر کے ہال میں مسلم جونئیر ہائی اسکول میں منعقد کیا جائے گا۔
اس بات کی اطلاع مشاعرہ کنوینر خوشترؔ رحمانی نے دی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ماہ کے مشاعرہ میں کئے گئے اعلان کے مطابق رمجان اور عید کے مد نظراس بار کا پروگرام غیر طرحی ہوگا۔ مشاعرہ کی صدارت بزم اردو کے صدر مستؔ حفیظ رحمانی کریں گے۔ خوشترؔ رحمانی نے یہ بھی بتایا کے جولائی ماہ میں منقعدہ مشاعرہ میں شامل ہوئے شعراء کے کلام کا تجزیہ کیا جا رہا ہے اور جلد ہی بہترین غزل کے ایوارڈ کا اعلان کر دیا جائے گا۔ یہ ایوارڈ ستمبر ماہ میں ہونے والے طرحی مشاعرہ میں بزم اردو کے ضابطہ کے مطابق دیا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ ایوارڈ کے لئے جن شعراء کا کلام موصول ہوا ہے ان میں نیویارک امریکہ سے تنویر پھول کے علاوہ قادرؔ لکھیم پوری، ڈاکٹر زبیرؔ صدیقی، ڈاکٹر ثمرؔ سنبھلی، گلشنؔ خیرآبادی، شفاعتؔ خیرآبادی، ضیاء الدین ضیاؔ ، محور کھیروی، ڈاکٹر اخلاق احمد اخلاقؔ ، ڈاکٹر عزیز خیرآبادی، علیمؔ ساحل، طارقؔ کاظمی، قمرؔ گونڈوی، مجازؔ سلطانپوری، حکمتؔ شاہ آبادی، شہرتؔ انصاری وغیرہ کے درمیان ہے۔ غورطلب ہے کہ بزم اردو کے اس مقابلہ جاتی مشاعرہ میں بزم کا کوئی بھی ممبر یا عہدے دار مقابلی میں شامل نہیں کیا جاتا ہے۔
مشاعرہ کنوینر خوشترؔ رحمانی نے بتایا کہ ستمبر میں ہونے والے مشاعرہ کی تاریخ، مصرع طرح اور مدعو کئے جانے والے شعراء کا اعلان ۱۸؍ اگست کے مشاعرہ میں کیا جائے گا۔
خوشترؔ رحمانی، موبائل نمبر