سب سے پہلے تو اپنے قارئین سے دست بستہ معذرت کہ انکی خدمت میں طویل عرصے کے بعد حاضری ہو رہی ہے۔ بات وہی ہے کہ ۔۔۔۔ہوئی تاخیر تو کچھ باعث تاخیر بھی تھی۔۔۔۔۔ زندگی کے اور صحت کے مسائل تو اپنی جگہ لیکن خاندان میں چند اموات نے خاص طور امریکہ میں مقیم بڑے بھائی کی موت نے اس طرف آنے ہی نہیں دیا۔ اسی موقع سے فائدہ اٹھا کر ان تمام احباب و دوستوں اور کرم فرماؤں کا شکریہ ادا کر دوں کہ جنہوں نے میرے برادر کلاں سید سرفراز حسین ترمذی کی موت پر گھر آ کر،فون،ای میل اور دیگر ذرائع سے تعزیت کی۔ میں ،میری اہلیہ اور تمام اہل خاندان آپ کے ممنون ہیں اور دعا گو ہیں
اسی غیر حاضری کے دوران کچھ کرم فرما فون کر کے اور کچھ لوگ دینی اور دابی محفلوں کے دوران یہ استفسار کرتے رہے کہ ہم نے تحقیقی بلکہ تفتیشی رپورٹوں کا یہ سلسلہ کیوں بند کر دیا جو اپنی جگہ پر ایک بڑا جہاد ہے اور جس کے ذریعے عام آدمی کو وہ انکشافات اور معلومات ملتی ہیں جو افراد کے لیئے حاصل کرنا ممکن نہیں
میں نے ایسے تمام احباب کی یہ غلط فہمی دور کی ہے اور آج اپنے قارئین کی خدمت میں بھی یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ہم نے یہ بیڑہ کسی مفاد کے بغیر اور ملا مافیا کی دشمنی میں مول لیکر اٹھایا ہے اور جب اللہ پاک اور محمد و آل محمد کی مدد اور اعانت حاصل ہے اس مشن کو جاری رکھیں گے چاہے کتنی ہی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے
اس غیر حاضری کے عرصے کے دوران اتنی تعداد میں موضوعات جمع ہو گئے ہیں کہ ایک مکمل ضخیم کتاب شائع کی جا سکتی ہے۔ کوشش کرونگا کہ اگلی چند اقساط میں ان اسلام دشمن اور عوام دشمن دین فروشوں کے کارنامے آپکے سامنے رکھے جائیں
آج کی گفتگو کا آغاز ایک ایسی خبر سے جسکے لیئے کسی تبصرے یا تجزیے کی ضرورت نہیں بلکہ یہ خبر خود ہی اپنا تعارف بھی ہے اور تفصیل بھی
متعدی امراض کی طرح بڑھتے ہوئے امراض کے حلقے میں دینی امراض میں بھی اضافہ ہو رہا ہے اور جھولا چھاپ مولویوں کی بھر مار ہوتی ہوئی نظر آ رہی ہے ایک طرف پرچون کی دوکان کی طرح مساجد اور دنیی بیماریوں ، جھولا چھاپ ملامافیا نئی نئی بیماریوں کو قصبہ قصبہ گاوں گاوں اور شہر شہر پھیلانے میں مصروف ہیں جن میں ملت اور قوم میں افرتفری ، گروپ بندی کے علاوہ عید پر چاند کا مسلہ بھی ایک ایسا ناسور بن چکا ہے کہ ان کی اپنی کہی ہوئی بات پر کوئی شخص یقین کرنے کو تیار نہیں اور یہ صرف اور صرف پیسے کے بل بوتے پر کیا جا رہا ہے ۔
ایک مسجد کے کارکنان اس ملا فیا کا ساتھ کمیشن وصول پا کر کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اور مسلکی ٹیلی ویژن کے مالکان خود ساختہ انٹرویو میں یہ کہتے ہوے نظر آتے ہیں کہ ان سے زیادہ امید نہ کی جائے جو پروگرام دکھا رہے ہیں اس پر اکتفا کیا

جائے کیوں کہ جو اعلان چاند کے حوالے سے کیا گیا ہے اس سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے وہ چند زمہ دار افراد ہی کرتے ہیں اورہم تو صرف اطلاع پہنچانے کا کردار ادا کر رہے ہیں۔
گزشتہ کئی سالوں سے جانے کہاں کہاں سے مسلمانوں میں کچھ نا مناسب جدید فقیر ہر گھر میں نظر آتے ہیں اور وہ زریعہ ٹیلی ویژن کا ہے اور انہیں بہت اہتمام سے محراب و منبر اور ٹیلی ویژن پر سر عام کیا جارہا ہے چاہے ان کو کسی حد سے گزرنا پڑے
اس کی ایک مثال آپ رمضان میں دیکھ چکے ہیں کہ بعد افطاری ہر اسلامی اور غیر اسلامی بنگالی یا اردو، انگریزی زبان کی نشریات کے مسلکی ٹیلی ویژن پر چندہ مانگے کی عادت کچھ اس طرح سے جاری رہی کہ ایسا محسوس ہوا تمام عالم اسلام فقیر اور محتاج ہے اوراگر ان کی مدد نہیں کریں گے تو اسلامی دنیا تباہ ہو جائے گی۔ کسی بھی مسلک کا ٹی وی ہو کم از کم برطانیہ کی حد تک میں یہ جانتا ہوں کہ ان کے کرتا دھرتا بظاہر روتے نظر آتے ہیں کہ انکے پاس چینل چلانے کو پیسہ نہیں لیکن جب اپنے بچوں کی شادی کا وقت آتا ہے تو یہ ہی لوگ تیس تیس لوگوں کی بارات لیکر ہوائی جہاز کے ذریعے پاکستان اور بھارت جاتے ہیں۔ کوئی ہے جو ان سے پوچھے کہ یہ پیسہ کہاں سے آتا ہے؟
آئے اب دیکھتے ہیں عید کا چاند
برطانیہ اور خاص طور پر لندن میں تو حد ہی ہو گئی اس مرتبہ۔ عید صحیح معنوں میں مزاق بن گئی اور مقامی گورے اس پر ہنستے ہیں کہ اس جدید ترین عہد میں بھی مسلمان چاند کی روئیت میں الجھا ہوا ہے۔ اس بار یورپ میں بھی اور برطانیہ میں بھی کچھ افراد نے جمعرات اور کچھ نے جمعہ کو عید منانے کا فیصلہ کیا بلکہ یہاں تک کہ کچھ نے ہفتہ کو عید منائی ۔ تمام سال تو ان مسلمانوں کو اسلامی کلنیڈر دیکھنے کی زحمت گوارہ نہیں ہوتی صرف رمضان اور شوال کے چاند پر ہمشیہ جھگڑا ڈالتے ہوئے نظر اتے ہیں امسال بھی کچھ ایسا ہی نظر آیا ہے۔
مشرقی لندن میں بھی کچھ مذہبی اداروں نے نماز عید کا اعلان جو کہ پیام کے ذریعے اطلاع دی گئی اورجس کو پڑھ کر اپنے دینی اور مذہبی ٹھکیدار اور ملامافیا کی علمی میدان میں اس جاہلانا حرکت پر افسوس بھی ہوا اور ہنسی بھی آئی۔ کہ ایک جمعہ اور ہفتہ کو اعلان عید کر رہا ہے اور کچھ نے تو یہا ں تک حد کی کہ اعلان عید تو اپنے ادارے میں کر دیا اور نماز عید نہیں پڑھائی بلکہ خود روزہ سے تھے ۔۔اور ان کے مقلدین جو تمام رمضان ان کے خطبات سننے میں مشغول رہے ۔ ۔ مگر جب شوال کا چاند دیکھنے کا وقت آیا تو ان کا راستہ دوسرا تھا۔۔۔۔اس طرح عید کا مزا بھی کرکرا رہا۔ نہ جانے کس نے کس روز عید کی اسی طرح رمضان کی مخصوص شبوں کو بھی مشکوک قرار دیا گیا۔ خدا جانے س کے اعمال درست ہیں اور کس کے نہیں ۔ کچھ نے تو ایک دن پہلے روزہ اختیار کیا اور کچھ نے ایک روز بعد روزہ کی صحت کو قرار دیا۔ ۔۔۔۔
ایک ہی مسجد میں دو دن عید کی نماز۔ کیا دونوں عیدیں درست ہو سکتی ہیں؟
مسلکی ٹیلی ویژن ایک بار پھر لیٹروں کی زد میں ۔۔۔۔۔
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق لندن میں قایم ایک مسلکی ٹیلی ویژن کو ایک بار پھر ایک مخلص اور انتھنک اور محنتی کار کن نے لوٹ لیا اور رقم لے کر غائب ہو گیا۔ معلوم ہوا ہے کہ ان کارکن نے اپنے پنجے اس نجی ٹیلی ویژن کے حسابی کتابی شعبہ پر جمائے اور اس کے ہر کاغزات اپنے قبضے میں لئے۔ اس سے پہلے مالکان کو وہ بلیک میل کر کے بیس ہزار پونڈ وصول کر چکا ہے اور اس بار اس کا طریقہ مختلف تھا
اس بار اس نے مالکان کی زوجہ کی نور نظر ہو کر ان کو دھوکہ دیا اور ان کے محبان اور عطیات دینے والوں کو اپنا اکاونٹ نمبر دے کر اس سے پیسے وصول کرتا رہے۔ گزشتہ رمضان میں مغربی لندن کی ایک خاتون نے ١٠٠ پونڈ کا عطیہ بطور ایصال ثواب ہدیہ مجلس نشر کرنے کے لئے دیا تھا مگر ان کے کریڈٹ کارڈ سے150 پونڈ دوبار وصول کر لئے گئے۔ خاتون نے مختلف بار شکایت بھی کی مگر ان کی نہ سنی گئی ۔آخر کار مالک سے شکایت کی گئی تو ان کو کہا گیا کہ آپ کی رقم واپس کر دی جائے گی کیونکہ رقم غلطی سے دوبار لی گئی ہے ۔
رقم تو واپس نہیں کی گئی مگر اندرون خانہ انکوئری جاری رہی۔ آخر کار یہ کارکن مختلف خرد برد میں ملوث پایا گیا اور جس چالاکی اور عیاری سے اس کارکن نے اس مسلکی ٹیلی ویژن کے مالکان کی بے قاعدگی کا پردہ فاش کر دیا۔ یہ کارکن کئی ہزار پونڈ کی رقم خرد برد کے رو پوش ہو گیا۔۔۔۔۔
آج کی قسط کا اختتام بھی آغاز کی طرح کرتا ہوں کسی تبصرے اور تجزیے کے بغیر اس تحریر کو ملاحظہ کیجئے
اگلی قسط میں انشا اللہ مزید کچھ اور انکشافت آپ کے لئے لے کر حاضر ہوں گا ۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے۔۔۔۔۔
مجھےہمیشہ کی طرح آخر میں یہ کہنا ہے کہ یہ ساری معلومات ہمیں مقامی ذرائع اور مقامی افراد سے ہی ملی ہیں اور اگر کسی کو اس سے کوئی اختلاف ہے تو وہ اپنا موقف لکھکر مجھے براہ راست ارسال کر دے میں اسے غیر جانبدارانہ صحافت کے تقاضوں کے تحت اپنی اسی سلسلے وار تفتیشی و تحقیقی رپورٹ میں شائع کر دونگا