شوال کا چاند نظر آتے ہیں زہن میں جو اہم تاریخ ذہن میں آتی ہے وہ آٹھ شوال انہدم جنت البقیح یعنی اسلام کے پیامبر اکرم حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دختر واحد کے ساتھ ان چارآئمہ امام حسن علیہ السلام ، امام زین العابدین علیہ السلام ، امام محمد باقر علیہ اسلام ، امام جعفر صادق علیہ السلام کے مزارات کو مسمار کرنے کا جو جرم آل سعود نے کیا وہ رہتی دنیا یک اس غم کی یاد رہے گا اور ہر محمد و آل محمد کے چاہنے والے کا دل اس کا غم ١٩٢٥ سے بھرا ہے اور جب بھی آٹھ شوال آتی ہے یہ غم اسی طرح تازہ ہو جاتا ہے اور ہر فرد قوم اور ملت جو آل محمد کا چاہنے والا ہے اس غم کو اپنے اپنے طریقے سے مناتا ہوا نظر آتا ہے۔
اتوار اٹھارہ ستمبر بارہ بجے کر تیس منٹ پر آل سعود کے سفارت کار کے دفتر کے سامنے ایک محمد و آل محمد کے چاہنے والوں نے کیثر تعداد میں شریک ہو کر آل سعود سے بیزرای کا اظہار کیا اور پر زور احتجاج کیا جس میں مجلس علمائے شیعہ یورپ کےکسی رکن نے شرکت نہیں کی جب کہ ان کو شرکت کی دعوت بھی دی گئی تھی ایک اطلاع کے مطابق مختلف افراد اور تنظیموں کی جانب سے اس جلوس عزا میں رخنہ ڈالنے کی کوشش بھی کی۔ جسکی منتظمین اور شرکا نے شدید مذمت کی اور بہت مشکل سے فیڈریشن اور آل یو کے ماتمی کور کو اس جلوس نکالنے کی اجازت ملی احتجاجی مظاہرہ مقررہ وقت پر شروع ہوا اور شام چار بجے تک جاری رہا
مختلف ذاکرین محمد و آل مھمد اور علما نے اس پروگرام میں تقاریر میں پر زور احتجاج کیا معروف عالم دین آیت اللہ حسن رضا غدیری نے مستند علما کی جانب سے شرکت کی
اور کہا کہ وہ مستند علما کی جانب سے پرآل سعود سے پرزور احتجاج کرتے ہیں اور انہوں نے رمضان میں آیت اللہ بشیر نجفی اور آیت اللہ سیستانی کے پیام بھی مومنین کو دیے اور سخت الفاظ مین مذمت کرتے ہوئے سعودی حکومت سے ہر دو علما کی جانب سے مطالبہ بھی کیا کہ جلد از جلد ان مسمار شدہ مزارت پر روضوں کی تعمیر کی جاے اور شعائر اللہ کی ختم نہ کیا جائے۔
ان کے علاوہ ہاشم رضا غدیری ، ناصر جعفری ، مولانا سید سبطین کاظمی مولانا خاور کاظمی ، اور حافظ تصدق حسین کے فرزند ارجمند معروف خطیب منتظر مہدی نے تقاریر کیں اور محمد و آل محمد کے دشمنان سے بھر پور بیزاری کا اعلان کیا اور حکومت آل سعود سے پر زور احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ روضہ ہائے حرم رسول کی بےحرمتی بند کی جائے اور جتنا جلد ہو سکے ان پر روضے تعمیر کئے جائیں ۔ اس سلسلے میں احتجاجی طور پر سعودی سفارت کار کو ایک اپیل جو انگریزی زبان میں تھی پیش کی گئی ۔
دوران تقاریر تمام مقررین نے فضائل اور مصائب کا تزکرہ کیا اور سامین نے بلند آواز سے گریہ و زاری کی اور ان مظالم کو بند کرنے کا مطالبہ کیا۔
ماتمی حضرات نے اپنے حصے کا چراغ قبر زہرا پر سینہ کوبی کر کے روشن کیا یہ سینہ کوبی تقربیا دو گھنٹے تک جاررہی جس میں سینہ کوبی کے لئے لندن کے علاوہ سلاؤ ، لوٹن ، نارتھ ہمپٹن اور برمنگھم اور دیگر علاقوں کے ماتمی خاص طور پر تشریف لائے ، سینہ کوبی کے بعد زیارت پڑھی گئی اور پھر مومنین کو نذر امام عالی مقام پیش کی گئی۔ ۔۔ سبیل امام عالی مقام کا انتظام بھی کیا گیا تھا جس میں امام کے نام پر جوس دودھ اور پانی کا انتظام کیا گیا تھا۔