نو عمری میں داد شجاعت دے کر حب الوطنی کی عظیم مثال قائم کر کے نشان حیدر کا اعزاز پانے والے راشد منہاس شہید کی یہ بیالیسویں برسی ہے اور انکی برسی ہر سال بیس اگسے کو منائی جاتی ہے۔
مادر وطن کے بہادر سپوت اور پاک فضائیہ کے پائلٹ آفیسرراشد منہاس شہید سترہ فروری انیس سو اکیاون کو کراچی میں پیدا ہوئے۔ راشد منہاس کا تعلق راجپوت گھرانے سے تھا۔ جامعہ کراچی سے ملٹری اینڈ ایوی ایشن ہسٹری میں ماسٹرز کرنے والے راشد منہاس نے انیس سو اکہتر کے اوائل میں پاک فضائیہ میں پائلٹ آفیسر شمولیت اختیار کی۔
بیس اگست انیس سواکہترکو جب راشد منہاس اپنی تیسری سولو فلائیٹ لے رہے تھےتوان کاانسٹرکٹراسکوارڈن لیڈرمطیع الرحمان بھی طیارے میں سوار ہوگیا۔ وہ طیارے کو اڑا کر بھارت لے جانا چاہتا تھا ۔۔ راشدمنہاس اور غدار مطیع الرحمان کے درمیان جھڑپ شروع ہوگئی۔ لیکن بیس سالہ راشد منہاس نے دشمن کواس کے ناپاک و مذموم مقصد میں کامیاب نہ ہونے دیا ۔۔اور انڈین بارڈر سے بتیس کلو میٹرکے فاصلے پرجہاز کا رخ پاک سر زمین کی جانب موڑ کر غداروطن کے عزائم کو خاک میں ملاتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔
اپنی بے مثال قربانی سے قوم کا سر فخر سے بلند کرنے والے راشد منہاس کے اس لازوال کارنامے کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے انہیں پاک فوج کے سب سے بڑے اعزاز نشان حیدر سے نوازا۔