' چپ چپیتے آنکھیں میچے پل صراط کا سفر"
نہ جانے سحر صدیقی نے کس موڈ میں میرے پیج پرمنیر نیازی کی تصویر کے نیچے لکھ دیا ھے'منیر نیازی کو یاد کرنے کا شکریہ۔۔۔
میں نے ریڈیو پاکستان کے لئے کئ سال صدا کاری کی ھے۔اور منیر نیازی مرحوم کا شمار بھی ریڈیو پاکستان کے ان بابوں میں ھوتا ھے جن کو میں کہا کرتی تھی" ریڈیو پاکستان کے نورانی بابے" اچھا ھوا سحرصدیقی تم نے یہ لکھا۔۔اور مجھے ان سے

جڑی یادیں شیئر کرنا یاد دلا دیا۔۔۔۔
آو ان کی با توں کا سٹائل تمیں بتاؤں
ایک خوبصورت غزل کہنے والا شاعر جو بہت ھی کالےرنگ کا تھا۔ نام نھیں لونگی اسکی غزل سن کر نیازی صاحب بولے۔۔ " یار میں تے سوھنا آدمی آن ، سوھنے شعر کہنا واں توں ایڈا کالا ھو کے ایڈے سوھنے شعر کیویں کہہ لینا ایں؟"
ایک دفعہ میں بیمار پڑ گئی مجھے کئ ھفتوں کے بعد نیازی صاحب ملے بولے" تمیں کیا ھوا" جی کچھ نھیں میں نے جواب دیا
نہیں کچھ تو ضرور ھوا ھے تم تو آنکھوں سے ھنسا کرتی تھیں آج تمہاری آنکھوں کی وولٹج ھی ماند پڑگئی ھے
ایک دفعہ میں پاک ٹی ھاؤس میں ظہیر کاشمیری مرحوم کی باتیں سننے میں اسقد ر گم تھی کہ منیر نیازی صاحب میرے پاس سے گزرے جنہیں میں نے نہ دیکھا، اگلے روز ریڈیو پاکستان مل گئے میں نے سلام کیا تو کہنے لگے کل تم اس سنہری بچھو(ظہیر کاشمیری( کی باتیں سننے میں اسقرر گم تھیں ۔۔۔۔ ۔۔
میری یادوں کی زنبیل میں کئی نور کی مٹی میں گندھے بابے ھیں جن کی یادوں سے میرا من مہک جاتا ھے۔ اب کبھی اخلاق احمد دھلوی صاحب کی یادیں آپ تک پہنچاؤں گی
ماضی کے ٹی وی اور ریڈیو ڈراموں کے نامور ہیرو ریحان اظہر نے میری فیس بک کی پوسٹ میں اپنے کومنٹ میں کچھ صدا کاروں کے نام لئیے جن میں نعیم سارنگ کا نام بھی تھا
جیسے دیئے سے دیا جلتا ھے ناایسے یادوں سے کئی یادوں کے چراغ روشن ھو جاتے ھیں۔
واقعہ کچھ ایسے ھے کہ ٹاؤن شپ میں کوئ چرچ تھا جہاں ایک امریکی گورا مسٹر وائلڈر بائیبل کو ڈراموں کی صورت میں ریکارڈ کرواتا تھا اور یہ ڈرامے سیشلز میں فیبا (فار ایسٹرن براڈکاسنگ پروگرام میں نشر ھوتے۔ مسٹر وائلڈر پر جانے کیسے
 |
| لاہور ریڈیو کی ایک پارنی تصویر |
ھمارا رعب پڑ گیا کہ انہوں نے طے کیا کہ کیریکڑ کے حساب سے میں ریڈیو کے صداکار منتخب کروں ۔۔ سو نعیم سارنگ جنکی آواز زرا بھاری سی تھی میں نے فرعون کے کردار کے لیے منتخب کر لیئے
ان دنوں میں نے موٹر بایئک نئی نئی چلانا سیکھی تھی۔ میں مرد فنکاروں کو بھی رائیڈ دے دیتی مگر ان کومیری بائیک پر بیٹھنےکی عورتوں کی طرح سےاجازت تھی۔۔۔ جیسے ھمارے ھاں عورتیں بیٹھتی اور ایکسی ڈنٹ کروا لیتی ھیں ۔
ھمیں ٹاؤن شپ ریکاڈنگ کے لئے جانا تھا۔ نعیم بھائ بھی ھماری ھونڈا پر بیٹھ گئے، شام کا وقت ھا جب ھم ریڈیو پاکستان سے ماڈل ٹاؤن موڑ پر پہنچے تو نعیم سارنگ نے کہا "ارے عصمت تم تو موٹر سائکل اچھی چلا لیتی ھو"۔ میں نے کہا "نعیم بھائ آپ برسات کے موسم کے یہ پتنگے دیکھ رھے ھیں نااور ھمارے پاس عینک بھی نھیں اصل میں ھم آنکھیں میچ کر چلا رھے ہیں!
نعیم سارنگ بولے، 'زرا رکنا مجھے سگرٹ لینا ھے۔ میں رکی تو وہ چھلانگ لگاکر اترے
انکا رنگ پیلا پڑا ھوا تھا- غصےسے کہنے لگے "تم جاؤ مرو، ایک توتم تیز چلاتی ھو اوپر سے آنکھیں میچ کر۔ ارے بھاڑ میں جائے تمہاری ریکارڈنگ ۔جاو جاؤ میں خود ھی پہنچ جاؤں گا"
آج جب کبھی یہ واقعہ یاد آتا ھے تو نعیم سارنگ کا خوف زدہ چہرہ اور غصے بھرا لہجہ یاد کر کے میں سوچتی ھوں عصمت طاھرہ نے زندگی کا ھرخطرناک سفر کیسے آنکھیں میچ کرطےکر لیا؟ دو ننھے منے بچوں کو دوپٹے کے ساتھ اپنی کمر سے باندھ کر ڈے کئیر سنٹر پہنچانا کیوںکہ موٹر بائیک پر بیٹھتے ھی کمبخت دونوں سو جاتےتھے۔ گجرات سے جی ایف سی فین کی پبلسٹی اور فیصل اباد سے داؤد ٹیکسٹائیل والوں کی پبلسٹی میں نے ھونڈا پر ھی جی ٹی روڈ کے سفر طے کرکے حاصل کی۔
دوستو آپ ھی بتایئے اگر آنکھیں نہ میچتی تو زندگی کی شاہراھیں پُل صراط سے کم مشکل تونہ تھیں جن کا سفر مجھے سونپا گیا اور میں نے یوں چپ چپیتے طے کر لیا۔۔۔۔