جرمنی سے پاکستان کے لیئے پی آئی اے کی پروازوں کی بندش کے خلاف احتجاجی مظاہرہ تئیس اگست بروز جمعہ قونصلیٹ جنرل آف پاکستان فرینکفرٹ کے دفتر ک سامنے دوپہر ساڑھے تین بجے ہوا جسمیں تمام مکاتیب فکر کے پاکستانیوں اور انکی متعدد تنظیموں نے شرکت کی۔ بڑی تعداد میں پاکستانی اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھائے ہوئے تھے جن پر پی آئی اے کی پاکستان کے لیئے پروازوں کی بندش کے خلاف احتجاجی نعرے درج تھے اور اس فیصلے کی سخت مذمت کی گئی تھی
جرمنی کی لگ بھگ تمام تنظیمات کے عہدیداروں کے ساتھ ساتھ پنجابی ادبی سنگت جرمنی ، پاک یورو جرنلسٹس فورم اورفن و ادب سوسائٹی کے عہدیداروں نے بھی تمام ہم وطنوں سے اس مظاہرے میں شرکت کی درخواست کی تھی جسکا خاطر خواہ اثر دیکھنے میں آیا
مظاہرے کے اختتام پر نمائیندوں نے قونصل جنرل امتیاز اے قاضی کو اس ضمن میں ایک یاداشت پیش کی اور مطالبہ کیا کہ حکومت کو اپنا فیصلہ بدلنے پر مجبور کیا جائے کہ اس سے ایک طرف پاکستانیوں کو بے پناہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا اور دوسری طرف قومی ایرلائن کو کثیر سرمائے کا نقصان اٹھانا پڑے گا اور مسابقت کے اس دور میں ایسے فیصلے کی سمجھ کسی کو بھی نہیں آ رہی
جناب امتیاز اے قاضی نے ہم وطنوں کو یقین دلایا کہ اس مسلے کے حل کے لیئے وہ اپنی مقدور بھر کوشش کریں گے اور احتجاج کرنے والوں کے جزبات حکومت تک پہنچا دیئے جائیں گے
یاداشت پیش کرنے کے موقع پر دو سیاسی جماعتوں کے حامیوں کے درمیان تلخ کلامی کے مناظر بھی دیکھے گئے جبکہ یہ بات بھی نوٹ کی گئی کہ دنیا بھر میں کسی بھی احتجاج کے موقع پر بازؤں پر سیاہ پٹیاں باندھی جاتی ہیں جبکہ ان احتجاج کرنے والوں نے سفید رنگ کی پٹیاں پہن رکھی تھیں
قونصل جنرل کو پیش کی جانے والی قرارداد بھی قومی زبان اردو کی بجائے انگریزی میں تحریر کی گئی تھی