
شعاع فاطمہ گرلس کالج ہندوستان کےثقافتی شہر لکھنئو میں غریب بچوں ، خاص طور سے غریب لڑکیوں کے لئے ایک تعلیم گاہ ہے۔ اس کی بنیاد اردو کے مشہور نقاد پروفیسر شارب ردولوی اور پروفیسر شمیم نکہت نے اپنی پیاری بیٹی شعاع فاطمہ کے
نام پر رکھی تھی جس کا بیس برس کی عمر میں انتقال ہو گیا تھا۔ اب اس کالج میں ایک ہزارغریب گھرانوں کے بچے پڑھتے ہیں اور اپنے والدین کے نام روشن کر رہے ہیں۔
یو پی بورڈ کے ہائی اسکول اور انٹر میڈیٹ کے امتحانات میں اس سال بھی اس کالج کا نتیجہ سو فیصدی رہا ہے اور کئی بچوں نےڈسٹنکشن حاصل کئے ہیں جس کی شہر کے سبھی اخبارات نے تعریف کی ہے۔
شعاع فاطمہ گرلس کالج لکھنئو کے بچوں کی بنائی ہوئی تصویروں کی نمائش 8 جولائی سے 30 اگست تک جرمنی کی راجدھانی برلن میں خواتین کے ایک مرکز میں لوگوں کی دلچسپی کا مرکزتھی ۔ جسے بہت پسںد کیا گیا ۔۔
بروز بدھ 28 اگست کو خواتین کے مرکز ویمینس ٹریف لچثن برگ میں چلڈرن چیریٹیبل سوسائٹی برلن کےاشتراک سےاس نمائش کی اختتامی تقریب کی گئی جس میں بہت سے لوگوں نے شرکث کی اور شعاع فاطمہ کالج کے بچوں کے ہنر کو سراہا۔ ۔

خواتین کے مرکز کی سربراہ مسز سمر لاٹے نے مہمانوں کا استقبال کرتے ہوئےبتایا کہ وہاں آنے والے سب لوگوں نے تصویروں کو بہت پسند کیا ہے۔
چلڈرن چیریٹیبل سوسائٹی کے صدر عارف نقوی نے شعاع کالج کی سرگرمیوں پر
روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ
اس کالج میں غریب گھرانوں کے بچے پڑھتے ہیں لیکن امتحانا ت میں بہترین نتائج حاصل کرتےہیں۔
جس کا سبب بچوں کی لگن اور محنت اور کالج کے مینیجمنٹ، ٹیچرس اور والدین کے بیچ اچھا تعاون ہے۔۔
برلن لچٹن برگ کی میونسپلٹی کی نوجوانوں اور خواتین کے امور کی انچارج ڈاکٹر اوبر مایر نے اپنی تقریر میں کہا کہ

انھیں حیرت ہے کہ بچوں نے کتنی خوبصورتی کے ساتھ سماجی زندگی کے مختلف پہلوئوں کوپیش کیا ہے۔ ان تصویروں میں بچوں کی خور اعتمادی اور پڑھائی میں خوشی جھلکتی ہے۔
اس موقع پر شعاع کالج کی تعمیر، کلاس رومس میں پڑھائی ، سالانہ جلسے میں کلچرل پروگرام اور کالج کی آرٹس اینڈ
کرافٹ نمائش کے بارے میں ایک فلم دکھائی گئی۔ اس کے بعد کئی لوگوں نے تصویروں کی تعریف کرتے ہوئےسوالات کئے اور مبارک بادیں دیں۔
گلوکار میتالی مکھرجی نے اپنی خوبصورت آواز میں رابندر ناتھ ٹیگور اور نذرالاسلام کے گیت بنگالی زبان میں اورعارف نقوی کا لکھا ایک گیت اردو میں پیش کیا۔