|
بزم شیدائے ادب متھراکا 131واں طرحی وتربیتی مشاعرہ
13.09.2013, 03:30am , جمہ (GMT+1)
خوشتررحمٰن خان ، بیورو چیف ،عالمی اخبار بھارت
بزم شیدائے ادب متھراکا 131واں طرحی وتربیتی مشاعرہ اعظمی منزل منوہر پورا، متھرا میں شان و شوکت کے ساتھ منعقد ہوا ۔ مشاعرہ کی صدارت جناب الیاس نوید گنوری صاحب نے کی مہمانِ خصوصی محترم جناب محترم احمد رئیس صدیقی (ایڈیٹر: نادیہ ٹائمس ، دہلی) و محترم احمد علی برقی (آل انڈیا ریڈیو دہلی) ، ولی اﷲ ولی صاحب (آل انڈیا ریڈیو دہلی ) اور ڈاکٹر سہیل اعظمی (اے۔ایم ۔ یو۔ علی گڑھ) ، حاجی ناصر انصاری جلیسری تھے۔ مہمانِ ذی وقار مصداق اعظمی و میکش اعظمی (نمائندہ اخبار انقلاب اعظم گڑھ ) و جناب احمر جلیسری اورجناب دل تاج محلی تھے۔ شمع روشن محترم جناب ڈاکٹر معین انصاری (میڈیکل کالج علی گڑھ) نے کی ۔ مشاعرہ محترم مولانا شمیم بستوی ، محترم خالد فریدی اور محترم ڈاکٹر جلیل حسن کی سر پرستی میں منعقد ہوا۔ مشاعرہ کا آغاز مجاہد مقصود پوری کی نعتِ پاک سے ہوا۔ مشاعرہ میں محترم احمد رئیس صدیقی ، محترم برقی صاحب، واحد نظیر صاحب، ولی اﷲ ولی صاحب، ڈاکٹر سہیل اعظمی صاحب، مصداق اعظمی صاحب، میکش اعظمی صاحب کو بزم کی طرف سے سندِ افتخار دے کر اور ردائے ادب اوڑھا کر گلپوشی کر کے بانئ بزم سعید اعظمی صاحب نے اور معزز لوگوں نے والہانہ استقبال کیا ۔ دیگر حضرات کا بھی گلپوشی کرکے شاندار استقبال کیا گیا ۔ نظامت کے فرائض واحد نظیر صاحب اور بصیر الحسن وفا نقوی نے مشترکہ طور پر انجام دیے۔ مصرعہ طرح ’’ تم کا معلوم ہے رسوائی کہاں تک ہوگی ‘‘ پر شاعروں نے اچھی اچھی غزلیں پیش کیں۔ چنندہ اشعار قارئین کی خدمت میں پیش ہیں۔ ا4156ہہ گیا رات کے سناٹے میں مجھ سے یہ حریف جنگ میداں میں نہیں صرف زباں تک ہوگی ڈاکٹر الیاس نوید گنوری سوچ لو ترکِ تعلق کا نتیجہ پہلے تم کو معلوم ہے رسوائی کہاں تک ہوگی احمد علی برقی اعظمی روز دھتکارتا رہتا ہوں میں اس دنیا کو مہرباں مجھ پہ بھلا یہ بھی کہاں تک ہوگی ڈاکٹر واحد نظیر گلشِ خلد کی تصویر وہاں تک ہوگی خوشبوئے گیسوئے محبوب جہاں تک ہوگی ولی اﷲ ولی روشنی دہر میں اے دوست وہاں تک ہوگی اچھے افکار کی تشہیر جہاں تک ہوگی سعید اعظمی میں بکھر جاؤں گا ٹوٹے ہوئے پھولوں کی طرح داستاں میری زمانے کی زباں تک ہوگی احمر جلیسری دل تو رکھے گا تغزل کا بھرم دنیا میں شاعری تیری اگر عشقِ بتاں تک ہوگی دل تاج محلی جب بھی اندھوں کو نظارے کی ملے گی دعوت دہشتِ بے بصراں دیدہ وراں تک ہوگی مولانا شمیم بستوی تیری ترغیب عبادت تو بجا ہے لیکن کیا عبادت تری محدود اذاں تک ہوگی استاد شفیق بیگ بحر افکار میں کچھ دیر ٹہر کر سوچو گردشِ چرخ کی تقسیم کہاں تک ہوگی ڈاکٹر جاوید وارثی اختر صرف خیموں میں کہاں ہوں گے اُجالے موجود روشنی پھیلی ہوئی نوکِ سناں تک ہوگی بصیر الحسن وفا نقوی وہ بھی یہ کہتے ملے ہم بھی جہاں دیدہ ہیں جن کو توفیقِ سفر گھر سے دکاں تک ہوگی مقصود اکبرآبادی پرتوے حسن کی ہم تاب کہاں لائیں گے ہوش کی بات الگ گنگ زباں تک ہوگی قاری انجم ہاپوڑی اتنی آساں بھی نہیں منزلِ عرفانِ جنوں خار ہی خار کی وادی ہے جہاں تک ہوگی مجیب قاسمی ساز تو مجھ کو گراں بارئ شب سے نہ ڈرا صبح تک ہوگی یہ شب اور کہاں تک ہوگی ساز دہلوی چشمِ آہو سے مماثل ہیں یہ آنکھیں تیری بات ابرو کی ہے اب تیر و کماں تک ہوگی خالد فریدی میں تو پہلے سے ہی بدنامِ زمانہ ہوں اثر اس سے آگے میری رسوائی کہاں تک ہوگی سید اثر ایوبی بجنور پیار کا ہاتھ میری سمت بڑھانے والے تجھ کو معلوم ہے رسوائی کہاں تک ہوگی احسن رمزی فیروز آبادی جب سے پردیس میں پہنچا ہوں یہی سوچے ہوں اور تو اور پریشاں میری ماں تک ہوگی ڈاکٹر راحت کرہلوی ہو کے رہ جائیگی دنیا سے محبت نا پید اور ہوگی بھی کسی کو تو زباں تک ہوگی راغب ککرالوی اس اذیت کی ہمیں حد تو بتائے کوئی دشت و صحرا میں یہ تنہائی کہاں تک ہوگی قنبر جلیسری ہم لہو دے کے بھی مشکوکِ چمن ہیں اب تک اپنی توہینِ وفا اور کہاں تک ہوگی جی۔ ایم۔ بخشی آگرہ شیاں میرا جلاتے ہو جلادو لیکن آنچ شعلوں کی تمہارے بھی مکاں تک ہوگی عالم اعظمی بھیگی پلکوں سے جھٹک دو یہ چمکتے آنسو روشنی ایسے چراغوں سے کہاں تک ہوگی مجاہد مقصود پوری تیری باتوں سے سنا ہے کہ مہک آتی ہے دیکھنا یہ ہے کہ سچائی کہاں تک ہوگی اسلم نایاب فیروز آبادی کوئی آواز یہ سنسد میں اٹھائے کاوش ہم پریشان ہیں مہنگائی کہاں تک ہوگی محمد عمر کاوش اس سے آگے بھی چلی جاؤں گی تیری خاطر حد اگر پیار کی خطرے کے نشاں تک ہوگی خوشبو رام پوری ایک ہلچل سی مچا دی ہے میری آمد نے میری تشہیر اگر کوئے بتاں تک ہوگی مصداق اعظمی یہ سیاست ہے محبت تو نہیں ہے میکش بات جو ہوگی یہاں سود و زیاں تک ہوگی میکش اعظمی آہ و فریاد اگر میری زباں تک ہوگی اُس کی تاثیر یقیناًرگِ جاں تک ہوگی محمد یوسف ہاتف اورنگ آبادی تذکرہ ہوگا اگر تیری جفاؤں کا ندیم تم کو معلوم ہے رسوائی کہاں تک ہوگی رئیس اکبر آبادی زندگی وجہ سفر جانے کہاں تک ہوگی ہوں سفر میں مجھے توفیق جہاں تک ہوگی ڈاکٹر نہا آس
اس کے علاوہ احمد رئیس صدیقی، ڈاکٹر سہیل اعظمی، شفیق فیروز آبادی، ڈاکٹر سرور ما رہروی، مست چترویدی، وسیم اعظمی ظفر فیروز آبادی، سلیم فیرو ز آبادی، ترکش فیروز آبادی، نعیم قریشی، عامر رضا علی گڑھی، ماہر جلیسری وغیرہ نے اپنے اپنے کلام پیش کئے۔ مشاعرہ میں شاعروں کے علاوہ ڈاکٹر یونس قریشی، احسان احمد ایڈوکیٹ، محمد عارف، شمیم الدین شمیم ، محمد انس انصاری، محمد اکمل سعید، محمد طاہر ، خبیب اعظمی، نواب، محمد مدثر،طاہر وغیرہ کی موجودگی قابلِ ذکر رہی ۔ اگلے ماہ کے لئے مصرع طرح ’’اُس نے نظروں سے گرایا تو سنبھلنے نہ دیا ‘‘ (مچلنے، نکلنے)دیا گیا ہے، آخرمیں بزم کے بانی و صدر نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔اگلا مشاعرہ 2؍نومبر 2013ء بروز سنیچر ہوگا۔
|