این جی او یوتھ کونسل فار اینٹی نارکوٹکس(انسداد منشیات کیلیے یوتھ کونسل) کے مطابق لاہور میں تقریباً 40 لاکھ افراد مختلف اقسام منشیات استعمال کرتے ہیں جبکہ پاکستان بھر میں کراچی کے بعد لاہور میں سب سے زیادہ منشیات کا استعمال کیا جاتا ہے۔
ہشیش، ہیروئن، بھنگم ٹرینکولائزر، کوکین اور اوپیم شہر میں ہر جگہ دستیاب ہے اور نجی اور عوامی شعبے میں منشیات کے استعمال کی روک تھام کا پروگرام نہ ہونے کے باعث یہ دھندہ خوب پھل پھول رہا ہے۔
پولیس ریکارڈ کے مطابق لاہور بھر میں 7ہزار سے زائد منشیات کے اڈے چل رہے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ اسے لاہور کے 15 علاقوں میں پشاور سے سپلائی کیا جاتا ہے، ان علاقوں میں شاہدرہ، شفیع آباد، بھٹی چوک، تبی سٹی، لاری اڈہ، ریلوے اسٹیشن، لوئر مال، ہنجروال، ڈیفنس، باغبان پورہ، شالیمار، ہربانس پورہ، نارتھ کنٹونمنٹ، کہنا، نشتر کالونی اور رائیونڈ شہر شامل ہیں۔
بے گھر اور بے روزگار منشیات کے عادی افراد روزانہ 100 روپے کی چرس استعمال کرتے ہیں جبکہ طالنب علم اور اونچے طبقے کی خواتین ہفتے میں 1500 روپے مالیت کی اعلیٰ کوالٹی کی منشیات خریدتی ہیں، نیکو میراثی۔
منشیات کے کاروبار کا آغاز لوئر مال سے ہوا اور پھر یہاں سے یہ مقامی لوگوں اور پھر پورے صوبے میں پھیل گیا۔ داتا دربار اور اس کے اطراف کا علاقے زائرین کو نشانہ بنانے کیلیے منشیات فروشوں کی محفوظ پناہ گاہ ہے کیونکہ ان میں سے اکثر نچلے طبقے سے تعلق رکھتی ہے۔
پولیس ریکارڈ کے مطابق اطراف کے علاقوں سے تعلق رکھنے والے منشیات فرشوں نے چھوٹے پیمانے پر اس کاروبار کا آغاز کیا تھا اور جلد وہ بزنس ٹائیکون بن گئے۔
ان بزنس ٹائیوکن میں گدی سائیں، شہزاد بٹ، ڈاکٹر صدیقی، پرندہ مارلیٹ کا غلام نبی، شیش محل روڈ کے فاروقی بھیا، پیر مکی کے چاند اور نیکو میراثی اور بھٹی گٹ کے نوید شاہ شامل ہیں۔
لوئر مال پولیس اسٹیشن کے ایک سابق اسٹیشن ہاؤس آفیسر(ایس ایچ او) نے بھنگ کے اہم سپلائر سے نیکو مراثی سے میٹنگ طے کی تھی تاہم وہ اپنے گھر نما منشیات کے اڈے پر ملنے میں ہچکچاہٹ محسوس کر رہے تھے اور ان کا اصرار تھا کہ ٹیلیفون پر ہی بات کی جائے۔
نیکو نے بتایا کہ وہ 2 ہزار سے 3 ہزار روپے فی بیس گرام کے مارکیٹ ریٹ پر 10 گرام، 20 گرام، آدھا کلو اور ایک کلو کے پیکٹ فروخت کرتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ گردا جو چرس کی بہتر قسم ہے، کی خواتین اور طالبعلموں میں خاصی مانگ ہےاور یہ اسی منشیات کی ہلکی کوالٹی کے مقابلے میں نسبتاً مہنگا ہوتا ہے۔
منشیات کا ڈیلر اپنے کاروبار کے تحفظ اور قانونی کارروائی سے بچنے کیلیے عام طور پر ماہانہ 10 سے 15 ہزار علاقے کے ایس ایچ او کو دیتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بے گھر اور بے روزگار منشیات کے عادی افراد روزانہ 100 روپے کی چرس استعمال کرتے ہیں جبکہ طالنب علم اور اونچے طبقے کی خواتین ہفتے میں 1500 روپے مالیت کی اعلیٰ کوالٹی کی منشیات خریدتی ہیں۔
چرس قوت خرید میں ہونے کے باعث کافی مقبول ہے اور اس کے ساتھ اس کی مقبولیت کی ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ ہیروئن اور دیگر نشہ آور چیزوں کی نسبت اس کے صحت پر زیادہ منفی اثرات مرتب نہیں ہوتے۔
نیکو نے مزید تفصیلات بتاتے ہوئے ہیروئن کے زیادہ استعمال نہ کرنے کی وجہ صرف مہنگا ہونا ہی نہیں بلکہ اس کی ایک اور بڑی وجہ یہ ہے کہ ہیروئن کا عادی فرد معاشرے میں بھی صحت اور دماغ اعتبار سے پسماندہ شخص کے طور پر جانا جاتا ہے۔
میراثی کے مطابق منشیات کا کاروبار انتہائی منافع بخش ہے تاہم کبھی کبھار یہ پرخطر بھی ہوتا ہے خاص طور پر اس وقت جب ایک نیا ایس ایچ پولیس اسٹیشن کا چارج لیتا ہے اور اپنی ‘ڈیمانڈ’ میں اضافہ کر دیتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ایک منشیات کا ڈیلر اپنے کاروبار کے تحفظ اور قانونی کارروائی سے بچنے کیلیے عام طور پر ماہانہ 10 سے 15 ہزار علاقے کے ایس ایچ او کو دیتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ میں نے اپنے کاروبار کو چلانے کیلیے منشیات کے عادی تین افراد کو روزانہ کی دہاڑی پر بطور ‘‘سیلز مین’’ رکھا ہوا ہے، میں انہیں دہاڑی کے طور پر نقد رقم نہیں دیتا بلکہ اس کی جگہ انہیں روزانہ ان کے کام کے عوض نشہ پورا کرنے کیلیے 5 گرام چرس دے دیتا ہوں۔
نیکو کا کہنا تھا کہ گاہکوں سے عام طور پر یہی لوگ معاملات طے کرتے ہیں، طالب علم اور خواتین اپنے آرڈر ٹیلی فون پر دیتی ہیں جبکہ کم آمدنی والے منشیات کے عادی افراد براہ ان سیلز مین سے رابطہ کرتے ہیں جو عام طور پر اپنے شکار کی تلاش میں داتا دربار اور بھٹی چوک کے گرد چکر لگاتے رہتے ہیں۔
انہوں نے مزید انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ میری ماہانہ آمدنی ڈھائی لاکھ سے چار لاکھ روپے کے درمیان ہے، ہماری زیادہ تر کمائی خواتین اور طالب علموں سے ہوتی کیونکہ یہ زیادہ بھاؤ تاؤ نہیں کرتے۔ عرس کے موقع پر ہمارا پیک سیزن ہوتا ہے اور اس دوران ہماری آمدنی میں دو لاکھ روپے ہفتے کے حساب سے اضافہ ہو جاتا ہے۔
میری روزانہ کی کمائی(انکم) مین بولیوارڈ، گلبرگ یا ڈیفنس جیسے اہم تجارتی علاقوں میں واقع کسی چھوٹے شاپنگ سینٹر کے مالک سے کم نہیں ہے، بدھو۔
ان کا کہنا تھا کہ شیشہ کے کاروبار سے بھنگ کے کاروبار کو کسی حد تک نقصان پہنچا تھا کیونکہ نوجوانوں میں یہ ایک نیا رجحان بن گیا تھا تاہم حال ہی میں لاہور پولیس کی جانب سے شیشہ پارلرز کیخلاف کارروائی کی وجہ سے ہشیش کی مانگ میں پھر اضافہ ہو گیا ہے۔
باغبان پورہ سے تعلق رکھنے والے منشیات کے ایک اور ڈیلر غلام سرور الیاس بدھو نے بتایا کہ میں ابتدا میں انتہا سے زیادہ نشہ کرنے والے افراد اور نوجوانوں کو نشے کے انجیکشن بیچا کرتا تھا لیکن بعد میں شہر میں شیشہ پارلرز کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر میں نے بھی اپنی بزنس اسٹریٹیجی تبدیل کر لی۔
’’اب میں شیشہ کیفے کو براہ راست چرس اور ہیروئن فروخت کرتا ہوں اور میرا ماننا ہے کہ یہ کافی محفوظ کام ہے کیونکہ اس دھندے سے وابستہ تمام افراد انتہائی اثر و رسوخ رکھتے ہیں‘‘۔
بدھو نے بتایا کہ شہر میں 300 سے زائد شیشہ بار کام کر رہے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر پوش علاقوں میں واقع ہیں اور ان میں سے اکثر بارز میں پرائیویٹ کمرے ہیں جہاں نوجوانوں کو ہر طرح کا نشہ فراہم کیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہاں بہت سے منشیات فروش شیشہ کیفے کو براہ راست نارکوٹکس سپلائی کر رہے ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان شیشہ گھروں کے مالکان کی مانگ میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ شیشہ پینے والے آگ میں چلم کا استعمال کرتے ہوئے چرس اور ہیروئن ملاتے ہیں۔
انہوں نے شیشہ بار کے مالکان سے اپنی مزید بزنس ڈیلنگ کے حوالے سے بتانے سے انکار کردیا تاہم انہوں نے اس بات کو تسلیم کیا کہ ان کی روزانہ کی کمائی(انکم) مین بولیوارڈ، گلبرگ یا ڈیفنس جیسے اہم تجارتی علاقوں میں واقع کسی چھوٹے شاپنگ سینٹر کے مالک سے کم نہیں ہے۔