
مشاعرے تفریح کا ذریعہ نہیں ہیں بلکہ مشاعروں کے ذریعہ سماج کو درس ملتا ہے اور اس کا جو اثر عوام پر ہوتا ہے اسکا کوئی جواب نہیں ہی۔ اچھے اشعار اچحے معاشرے کی تخلیق کا ذریعہ ہوا کرتے ہیں۔ مذکورہ بات بزم ارود کے تیرہویں مشاعرے کی صدارت کرتے ہوئے مشہور شاعر و صحافی مستؔ حیفیظ رحمانی نے کہی۔ انہوں نے کہا کہ مشاعروں کا چلن جس تیزی کے ساتھ دنیا بھر میں پھیل رہا ہے اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اردو بولنی، لکھنی، سمجھنے اور پڑھنے والوں کی تعدا تیزی سے بڑھ رہی ہی۔غور طلب ہے بزم اردو کے اس مشاعرہ کو امریکہ میں پنج ریڈیو یو ایس اے سے الماس شبی نے براہراست نشر کیا۔مشاعرے کی نظامت خوشتر رحمانی نے کی۔ اس موقع پر گزشتہ ماہ کی بہترین غزل کے لئے گونڈہ کے شاعر قمر گونڈوی کوتتلی کو پھولوں پہ مچلتے دیکھا ہے غزل ایوارڈ سے نوازا گیا۔مشاعرے میں مرزا شارق لاہرپوری نے مہمان خصوصی کے طور پر شرکت کی جبکہ مہمان اعزازی کی شکل میں دہلی سے علی احمد برقی اعظمی نے اسکائپ پر انٹر نیٹ سے شرکت کی اور کلام پیش کیا۔انٹر نیٹ کے ذریعہ سیدھے طور پر امریکہ سے نشر ہو رہے مشاعرے سے شعراء کی دلچسی دیکھنے لائق رہی۔ خوشتر رحمانی نے بتایا کہ پنج ریڈیو یو ایس اے کی اناؤنسر الماس شبی نے اس مشاعرہ کو بہت پسند کیا اور بزم اردو کے تمام مشاعروں کو اسی طرح براہراست نشر کرنے کا وعدہ بھی کیا ہی۔ خوشتر رحمانی کے مطابق بہت جلد ہندوسات نے مختلف اضلاع میں موجود شعراء سے رابطہ کرکے انٹرنیٹ کے ذریعہ اسکائپ کا استعامل کرتے ہوئے مشاعرہ منعقد کیا جائے گا۔ آج کے مشاعرہ میں مست حفیظ رحمانی، قمر گونڈوی، مرزا شارق لاہرپوری، ضیا رحمانی ، احمد علی برقی اعظمی، تنویر پھول(نیویارک امریکہ) مسعود حساس (کویت) ممتاز نازا(ممبئی) سیدہ نفیس بانو شمع(دہلی) سلیم اختر، حیدر علوی، ڈاکٹر زبیر صدیقی ، رضوان خان، خوشتر رحمانی، محفوظ رحمانی، عارف محمد عارف، بدر سیتاپوری، علیم ساحل، سلیم صدیقی، ڈاکٹر عزیز خیرآبادی، ریحانہ عاطف خیرآبادی، اقبال اکرم وارثی، انوار سیتاپوری، شمشیر عالم صاحب پوری، حکمت شاہ آبادی، شہرت انصاری، خورشید شاہ آبادی، شفاعت خیرآبادی، گلشن خیرآبادی، وویک مصرا راز خیرآبادی، راجیندر رنچک،ڈاکٹر اخلاق احمد اخلاق ، نعیم بسیتوی اور نفیس سیتاپوری نے اپنا کلام پیش کیا۔مشاعرہ کنوینر خوشتر رحمانی نے اعلان کیا کہ بزم اردو کا آئندہ مشاعرہ چھ اکتوبر کو اس وقت منعقد کیا جائے گا جسکا مصرع طرح ہوگا کشکول فقیروں کا سمندر کی طرح ہے قافیہ سکندر، گھر ار اکبر وغیرہ کے ساتھ ردیف کی طرح ہے استعمال کی جانی ہی۔ مشاعرے میں پسند کئے گئے اشعار اس طرح ہیں۔
دِلوں کو فتح کرتا جا رہا ہی
وہ جو خود سے گزرتا جا رہا ہی
مست حفیظ رحمانی
کتاب زیست کا ہوں حرف آخر
یہ دِل تسلیم کرتا جا رہا ہی
قمر گونڈوی
الٰہی لاج رکھ لے میرے گھر کی
غم دنیا ٹھہرتا جا رہا ہی
شارق لاہرپوری
سلیقہ سیکھ کر اڑنے کا مجھ سی
مرے ہی پر کترتا جا رہا ہی
احمد علی برقی اعظمی
حدوں کی بات جو کرتا ہے اکثر
وہی حد سے گزرتا جا رہا ہی
مسعود حساس (کویت)
نہ رکتا ہے کبھی یہ طائر وقت
سدا پرواز کرتا جا رہا ہی
تنویر پھول (نیویارک امریکہ)
یہ مجھ میں کون ہے جو چپکے چپکی
جنوں کے پر کترتا جا رہا ہی
ممتاز نازا (ممبئی)
مجھے مٹی سے اب پتھر بنا دی
کھلونا یہ بکھرتا جا رہا ہی
سیدہ نفیس بانو شمع (دہلوی)
شجر اندر سے مرتا جا رہا ہی
مگر منظر سنورتا جا رہا ہی
حیدر علوی
کوئی دکھتا نہیں ہے دینے والا
مگر کاسہ ہے بھرتا جا رہا ہی
سلیم اختر
دل اس کو یاد کرتا جا رہا ہی
ہر اک لمحہ سنورتا جا رہا ہی
رضوان خان
محبت درد مندی اور شرافت
ہر اک احساس مرتا جا رہا ہی
خوشتر رحمانی
خدا جانے ہے کس کا ہاتھ اس پر
بکھر کر وہ سنورتا جا رہا ہی
محفوظ رحمانی
چمن میں کیوں نہ ہو برپا قیامت
محافظ گل کترتا جا رہا ہی
عارف محمد عارف
کرم یہ کون کرتا جا رہا ہی
مرا ہر زخم بھرتا جا رہا ہی
اقبال اکرم وارثی
لکھا ہے فی امان اللہ جس پر
سفینہ وہ ابھرتا جا رہا ہی
ڈاکٹر زبیر صدیقی
رہ حق میں فنا ہونے کا مطلب
بکھر کر وہ سنورتا جا رہا ہی
شہرت انصاری
بہت اچھا ہے وہ راہوں کے کانٹی
مرے دامن میں بھرتا جا رہا ہی
انوار سیتاپوری
جو صدیوں میں سنور پایا تھا عالم
وہ سیرازہ بکھرتا جا رہا ہی
شمشیر عالم صاحب پوری
جو تجھ کو یاد کرتا جا رہا ہی
وہ ہر غم سے ابھرتا جا رہا ہی
ڈاکٹر عزیز خیرآبادی
اِسے لفظوں میں اپنے قید کر لی
یہ جو لمحہ گزرتا جا رہا ہی
ریحانہ عاطف خیرآبادی
دکھا کر بدر وہ سارا تماشہ
ہمیں آگاہ کرتا جا رہا ہی
بدر سیتاپوری
دلوں میں زخم بھرتا جا رہا ہی
جو لمحہ بھی گزرتا جا رہا ہی
حکمت شاہ آبادی
وہ حد کو پار کرتا جا رہا ہی
مرے دل میں اترتا جا رہا ہی
علیم ساحل لاہرپوری
اچھلتا تھا بہت مغرور دریا
سمندر میں اترتا جا رہا ہی
ڈاکٹر اخلاق احمد اخلاق
کسی کو کیوں پکاریں جب ہماری
مدد اللہ کرتا جا رہا ہی
خورشید شاہ آبادی
زمیں سے کر کے اب پرواز انساں
ستاروں پر اترتا جا رہا ہی
وویک مصرا راز خیرآبادی
جو علم و فن پہ مرتا جا رہا ہی
بڑا وہ کام کرتا جا رہا ہی
رنچک خیرآبادی
وہ میرے دل سے جتنا کھیلتا ہی
میرے دل میں اترتا جا رہا ہی
نفیس خان
کوئی دل میں ترتا جا رہا ہی
رخ ہستی سنورتا جا رہا ہی
گلشن خیرآبادی
بسیرا جب سے اس کا ہو گیا ہی
نگر دل کا سنورتا جا رہا ہی
یٰسین سیتاپوری
نگاہوں میں وہ بھرتا جا رہا ہی
مرے دل میں اترتا جا رہا ہی
شفاعت خیرآبادی
بزم اردو کا کامیاب ترین مشاعرہ دس بجیء سح شروع ہوا جو کہ دوپہر بعد تک چلتا رہا رہا۔ مشاعرہ میں بڑی تعداد میں شہر موجود رہے جنہوں نے شعراء کو داد و تحسین سے نوازا۔ مشاعرہ کیریڈیو پر براہ راست نشریاتعوام کی دلچسپی کا باعث رہی۔ بزم اردو نے پنج ریڈیو یو ایس اے اور اناؤنسر الماس شبی کا شکریی ادا کرتے ہوئے کہا کہ مشاعروں کیمقبولیت میں انٹر نیٹ اور اس سے وابستہ لوگوں کی قربانی قابل ستائش ہی۔ مشاعرہ کو کامیاب بنانے میں مسلم جونئیر ہائی اسکول کے منیجر حاجی محمد سلیم انصاری، عبد القیوم انصاری، قمر لحق خاں، ابوذر نعمان خان، آفاق حسین کے نام قابل ذکر ہیں