|
احتجاج ایک خرافات ? ۔۔۔۔۔ از ......؛ ڈاکٹر نگہت نسیم ۔ سڈنی
17.09.2013, 04:10am , منگل (GMT+1)
ڈاکٹر نگہت نسیم۔ سڈنی
 مجھے رشک آتا ہے ایسے لوگوں پر
جن کے لئے واقعی راوی ہر وقت چین ہی چین لکھتا ہے .. جب بھی ان سے ملیں تو
وہ دل کھول کر ہنس رہے ہوتے ہیں .. غلطی سے جو کہہ بیٹھوں کہ پاکستان کے
لئے دعا کریں کہ اللہ خیر رکھے .. تو
ایسے لوگ بڑی بےفکر آسودہ سی مسکراہٹ چہرے پر سجا کر کہتے ہیں کہ " قصور
خو دپاکستانیوں کا ہے ... دعا کی کیاضرورت ہے ... آپ آسٹریلیا کے خوبصورت
شہر سڈنی میں رہتی ہیں آپ کو کس نے کہاں ہے کہ مڑ مڑ کر پاکستان اور اس میں
رہنے والوں کو دیکھیں .. پھر بڑے فخر سے گویا ہوتے ہیں کہ انہوں نے تو
ایک عرصہ سے نہ تو خبرنامہ دیکھاو ور نہ ہی اخبار پڑھی .. فون تو ویسے
بھی بیکار دریافت ہے ... یہاں فون لگایا وہاں ( پاکستان) سے رونا گانا
شروع .. ارے بہن یہاں (سڈنی) اچھا وقت گزارنے آئیں ہیں کہ رونے دھونے ...
میں رشک سے دیکھتی رہ جاتی ہوں ... ان کے نزدیک احتجاج ایک خرافات سے کم
نہیں ... فیس بک پر آتی ہوں ... کم و بیش سارے شاعر غزل پیٹ رہے
ہیں .. ان کا محبوب انہیں مل رہا ہے .. یا بچھڑ رہا ہے ... ان کی بلا سے
پاکستان تو کیا کسی اور ملک میں بھی کوئی قیامت آچکی ہے کہ نہیں .. ان کی
دنیا .. ان کااوڑھنا بچھونا " یہی چین اور سکھ " ہے جو اوپر والے نے کسی
خاص راوی سے کہہ کر ان کی قسمت میں لکھوایا ہے کہ ان کے لئے صرف یہی
بنسری بجائیں یعنی احتجاج صرف محبوب سے ہوگا .. باقی ان کی زندگی میں کوئی
احتجاج ہے ہی نہیں ... گھبرا کر میلز دیکھتی ہوں .. تو وہاں بھی
سب کو یہ فکر ہے کہ فلاں فرقے کو فلاں پر برتری ہے .. فلانی چیز میں
جیلیٹن ہے سو وہ حرام ہے .. اور اگر یہ آیا ت پڑھ لیں تو ساری عمر کے گناہ
بخش دیئے جائیں گے ... اللہ اللہ خیر صلا... ... یا پھر اپنے بھائی راشد
اشرف (محبت بھری معذرت )اتوار بازار سے کتابیں خریدنے گئے ہوتے ہیں ۔ پھر
اس کے بعد ان کتابوں کی تفصیل اور اس کی مد میں اپنی خواری بھی میل میں
درج زیل ہوتی ہے ۔۔۔ راوی چین چین ہی لکھ رہاہوتا ہے ۔۔ یقین
جانیئے کبھی کوئی ملکی ، غیر ملکی ناگہانی واقعہ ، ہڑتال ، ٹارگٹ کلنگ ،
سرچ وارنٹ ، طوفان بادوباراں الغرض دنیا کی کوئی بھی صورت حال "پڑھے لکھے
طبقے" کواحتجاج پر مائل نہیں کر پاتی ۔ پاکستان فون کرتی ہوں تو
... بڑے سکون کی آواز آتی ہے کہ “ کیا کریں جینا تو ہے نا “ ... احتجاج کر
کے وقت ہی ضائع ہوتا ہے .. سکون سے گھر بیٹھے ہیں .. باہر ہڑتال ہے ..
مرنا تھوڑی ہے احتجاج کر کے ... میں نے دبی دبی آواز میں کہا کہ احتجاج
کرکے تو دیکھئے تو شاید کوئی راہ نکلے .. ارے راہ نکلے ..دوسری طرف سے
پھنکارتی ہوئی آواز آتی ہے .. کاش کہ امریکہ ہی پاکستان میں آجائے کم از
کم وہاں کا ویزہ تو نہیں لینا پڑے گا ..اور سکون علحیدہ .. ویسے تم سناؤ
آسڑیلیا کے ویزے پاکستانیوں کے لئے کچھ نرم ہوئے کہ نہیں ... آخر تم لوگ
احتجاج کیوں نہیں کرتے کہ انڈیا کو دھڑا دھڑ ویزے اور پاکستانیوں کو ایک
انڈہ بھی نہیں ... اوہ ! اور .. میں جب ... نوکری پر جاتی ہوں تو
سب مجھ سے اظہار افسوس کرتے ہوئے کہتے ہیں ... پاکستان کے حالات اچھے نہیں
ہیں .. تم لوگ کچھ کرتے کیوں نہیں ہو .. میرا مطلب ہے احتجاج ... پھر دونوں
کانوں کو ہاتھ لگا کر کہتے ہیں ۔۔ او مائی گوڈ پاکستان ... میں تو کبھی نہ
جاؤں ... کبھی نہ رہوں .. پتہ نہیں تم چھٹیاں کیسے گزارنے ہر سال چلی جاتی
ہو ۔۔ ؟ ہاں .. آج مجھے چیخ چیخ کر احتجاج کرنا ہے .. کہ .. آخر
اللہ پاک نے مجھے بے حس کیوں نہیں بنایا ... آج بے حس ہوتی تو میرے لئے بھی
راوی چین چین ہی لکھ رہا ہوتا ... میں بھی ہنس مسکرا رہی ہوتی ... محبوب
قدموں میں بٹھا چکی ہوتی ۔۔۔۔دولت اور جائیداد بنانے کی ریس میں سب سے آگے
جانے کی کوئی نہ کوئی ترکیب لڑا رہی ہوتی .. شئیرز مارکیٹ کے بھاؤ جاننے کے
لئے اپنے پیاروں کے فون کاٹ دیتی ... اور اپنی نوکری پر اپنے ساتھیوں کے
سامنے کندھے اچکا کر کہتی " who cares " .... پاکستان کی پاکستانی جانیں
۔۔۔۔۔
|