فرینکفرٹ میں یوم آزادی پاکستان کی مناسبت سے خصوصی تقریب اور مشاعرہ ہفتہ اکیس ستمبر کی سہ پہر منعقد ہوا جس میں بڑی تعداد میں شعرا اور خواتین و حضرات سامعین نے شرکت کی
اس تقریب کا اہتمام فن وادب سوسائٹی، پنجابی ادبی سنگت اور پاک یورو جرنلٹس فورم نے کیا تھا اور اسمیں جرمنی کے مقامی شعرا کے علاوہ لندن،پاکستان اور سعودی عرب سے آئے شعرا نے بھی شرکت کی۔
نظامت کے فرائض فن و ادب سوسائٹی کے سربراہ سید ارشاد ہاشمی نے سرانجام دیئے جبکہ تقریب کی صدارت فرینکفرٹ میں پاکستان کے قونصل جنرل امتیاز اے قاضی نے کی اور مہمان خصویصی عالمی اخبار کے مدیر اعلیٰ،پاک یورو جرنلسٹس فورم کے چیئرمین،شاعر اور دانشور صفدر ھمدانی تھے
تقریب دو حسوں پر مشتمل تھی جسکا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا اور یہ سعادت جناب آفتاب حسین کو ملی جسکے بعد نعت رسول مقبول محمد شبیرکھوکھر نے پیش کی جسکے بعد طاہرہ رباب اورحاضرین نے مل کر پاکستان کا قومی ترانہ پیش کیا پیش کیا جسکے احترام میں سبکو لوگ بادب کھڑے رہے
چودہ اگست کے حوالے سے جرمن زبان میں تاریخِ پاکستان کے عنوان سے ہونہار طالب علم محمد علی نے اپنا مضمون پیش کیا
تقریب میں اولیں ناشر اعلان قیام پاکستان مرحوم مصطفیٰ علی ھمدانی کا چودہ اگست کی رات کا لاہور ریڈیو سے پہلا اعلان آزادی بھی سنوایا گیا۔ان تاریخی لمحات کی یاد گارآواز جس نے دنیا کی ریڈائی لہروں میں پاکستان کےنام کا اضافہ کیااور پاکستان کے بانیوں میں اپنا نام امر کر دیا یعنی محترم مرحوم مصطفیٰ علی ہمدانی کی اپنی آواز میں ’’ پاکستان براڈکاسٹنگ سروس۔طلوع صبح آزادی ۔۔۔ کے الفاظ اور اس وقت کے مختصر حالات کی آڈیو سامعین کو سنائی گئی جس کے اختتام پر ہال تالیوں سے گونج اٹھا
...................................
.
جناب عرفان خان نے قیام پاکستان کے حوالے سے سیر حاصل مقالہ پیش کیا جس میں متعدد نزاعی نکات کو بنیاد بنایا گیا جنکا جواب صدر محفل رینکفرٹ میں پاکستان کے قونصل جنرل امتیاز اے قاضی نے نہایت مدلل طور پر اپنی تقریر میں دیا۔ اکثریتی احباب کا خیال تھا کہ پاکستان کی یوم آزادی کی تقریب کے حوالے سے ایسے متنازعے نکات پیش نہیں کیئے جانے چاہیئے تھے
پروگرام کے دوسرے حصّے یعنی مشاعرہ میں مسعود احمد مسعود، طفیل خلش اورسلیم کاوش مہمانان اعزازی تھے
تقریب کے اس حصے میں مندرجہ ذیل شعراء کرام نے اپنا کلام پیش کیا
جناب صفدر ھمدانی ، طفیل خلش ۔مسعود احمد مسعود ۔ سلیم کاوش ۔ طاہرہ رباب ۔ شریف خالد ۔ رضوان احمد رضوان ،محمد نواز ۔ راشد ملک رامش۔سلیم بھٹی ۔ بصرہ احمد ۔ آفتاب حسین ۔ عبد ا لرؤف ۔ اسحاق اطہر ۔ بشارت احمدبشارت ۔ محمد اشرف اور شفیق مراد ۔
جرمنی کے مقبول شاعر راشد ملک رامش کی پیش کردہ خوبصورت غزل
جرمنی کے مقبول شاعر راشد ملک رامش کی پیش کردہ خوبصورت غزل
جن میں رہنا تھا مجھے وہ دائرے بنتا رہا
زندگی کیسے بسر ہو ضابطے بنتا رہا
خوبصورت مشغلے میں کٹ رہی تھی زندگی
نیند جب دشمن ہوئی تو رتجگے بنتا رہا
سب تمہاری مے نواز آنکھوں میں تھے ڈوبے ہوئے
میں کہ تم سے گفتگو کے قافیے بنتا رہا
پیار کے رشتے نہ ٹوٹیں دوستوں کے درمیاں
دنیاداری کے ہمیشہ رابطے بنتا رہا
وہ پھلے پھولے دُعا دیتا رہا اُس شخص کو
جو مری بربادیوں کے مشورے بنتا رہا
دوستوں نے دُکھ دیئے رامشؔ تو میں خاموش تھا
صبر کا دامن نہ چھوڑا حوصلے بنتا رہا
دنیا بھر میں نوے فیصد سے زیادہ پاکستانی تقاریب کا طرہ امتئیاز تاخیر بلکہ بہت زیادہ تاخیر سے شروع ہونا ہے اور اس مناسبت سے یہ تقریب بھی اس سے مبرا نہیں تھی اور ہال کو مقررہ وقت پر خالی کرنے کی وجہ سے آخری شعرا اور مقررین کو چند منٹوں میں ہی اپنا کلام اور گفتگو ختم کرنا پڑی
تقریب کے اختتام پر مہمانوں کی تواضع مفرحات سے کی گئی