
یہ انتہائی دکھ کی بات ھے کہ بعض لوگ دانستہ اور نادانستہ شیعت پر الزام تراشی بہتان باندھتے رھتے ھیں جس کا سرے سے کوئی وجود نھیں ھوتا اور اپنے سے گھڑ کر بغیر تصدیق کے باتیں بھیلا دی جاتی ھیں ان میں سے ایک الزام یہ بھی لگایا جاتا ھے کہ شیعہ فرقہ کے ماننے والے زکوۃ ادا نھیں کرتے جو کہ سراسر غلط اور بے بنیاد ھے ، کافی لوگوں کے سوال کرنے پر میں اس موزوں پر قلم آتھانے پر مجبور ھوا ھوں
آیئے غور کریں کہ شیعیت میں زکوہ کی کتنی اپمیت ھے اور کیا طریقہ کار ھے ، مذہب شیعہ توحید ، عدل خداوندی ، حضرت آدم علیہ السلام سے لیکر خاتم الاانبیاہ محمد مصطفی صلے اللہ وآلہ وسلم تک تمام انبیآ کے بر حق اور منجانب اللہ ھونے پر یقین کامل اور ایمان مکمل ھونے پر یقین رکھتا ھے اور حضرت علی علیہ السلام سے لیکر امام مہدی جو حسن عسکری علیہ السلام کے فرزند ھیں کو وارث قران اور دین اسلام آیات قرانی اور احادیث کی نبوی کی روشنی میں مانتے ھیں اور روز قیامت کے حساب کتاب پر قران اور احادیث نبوی کے مطابق ایمان رکھتے ھیں انھیں اصؤل دین کھتے ھیں اور دس فروغ دین ھیں جن میں سے کسی ایک کا انکار سراسر کفر ھے جو یہ ھیں ، 1 نماز 2 روزہ 3 حج 4 زکوۃ 5 خمس 6 جہاد 7 امر بالمعروف و نہی المنکر 8 خدا رسول ص اور اہل بیت ع ۔س سے محبت ، خدا اور رسول ص ، اور اہل بیت ع ،س سے دشمنوں سے نفرت ، اب کوۃ کی تفصیلات - زکوۃ فروغ دین میں نماز کے بعد سب سے اہم ترین اور واجب ھے اس کا منکر کافر ھے

البتہ زکوۃ کتنی اشیاہ پر ھے شرائط کیا ھونگی ؟ اس کو تعین رسول خدا ص ، کی ان احادیث کی روشنی میں کیا جاتا ھے جو اہل بیت آئمہ کرام جو حضرت علی ع ،س سے لیکر امام مھدی ع ۔ س تک کوئی ایک معصؤم کر دے - زکوۃ کن چیزوں پر واجب ھے ، نو چیزوں پر زکوۃ واجب ھے ، تین طرح کے جانور ، اونٹ ، 2 گائے 3 بھیڑ بکری 4 دنبہ ، چوتھی فصل پر جن کی تفصیل یہ ھے گندم ، جو ، کشمش ، کھجور ، اور نقدی سونا چاندی ، جانوروں کے لئے ایک شرط ھے کہ وہ نصاب کی حد تک ھوں یعنی اونٹ کم از کم پانچ پر ایک بھیڑ زکوۃ ھے ، گائے بھینس کم از کم تیس ہوں تو ایک بچھڑا واجب ہے جو دو سال کا ھو بکری بھیڑ کم از کم چالیس ہوں تو ایک بھیڑ واجب ہے زکوۃ دینے کے لئے ، اس کے لئے بھی یہ شرط ھے کہ وہ ایک سال کی عمر تک کا ھو کسی مال برداری میں کام نا آیا ھو ، فصلات پر زکوۃ کا طریقہ ، ایک شرط یہ ھے کے خود کاشت کی ھو ، یا کاشت میں حصہ ھو
نصاب کی حد تک ھو جو اکیس من فی کلو ھے جس پر بیسواں حصہ زکوۃ ھے اگر بارش یا دریائی پانی کے سیراب ھوئی ھو تو بیسواں حصہ زکوۃ ھے زکوۃ واجب اس وقت ھوتی ھے جب دانے پک جاتے ھیں آیات قرانی کی روشنی میں زکوۃ آٹھ قسم کے لوگوں کو دی جائے گی ، 1 مسکین 2 فقیر 3 یتیم 4 وہ غلام جو غلامی کی سختی میں ھوں ، اس غلام کی آزادی کے لئے ،5 ایسا قرض دار جو اپنے قرضے کی ادائیگی سے عاجز ھو ، 6ایسے غیر مسلم جن کے بارے میں لگتا ھے کہ اسلام کی طرف راغب ھو سکتے ھیں جنھیں مؤلفہ القلوب کہتے ھیں اور فی سبیل اللہ بھی دی جا سکتی ھے جیسے مسجد کی تعمیر میں مدرسہ کی تعمیر میں پل کی تعمیر میں سڑک کی تعمیر میں پانی کی سبیل لگانے میں سرائے مسافر خانہ کی تعمیر میں ، اور ایسے ہی ہر طرح کے کام میں جس سے خلق خدا کی بھلائی ھوتی ہو ، ، پھر اسی طرح زکوۃ نقدی سونا چاندی پر بھی نصاب مقرر ہے سونا چاندی سکہ دار ہوں سونے کی مقدار بیس دینار ہو ، اور چاندی کی مقدار دو سو درہم ہو اور ملکیت میں مکمل سال گزر چکا ہو اور رائج الوقت ہو یعنی وہ سکہ استعمال بھی ہو رہا ہو یعنی کرنسی کے طور پر ، البتہ دیگر فصلات اور مال تجارت پر زکوۃ مستحب ہے واجب نھیں ہے سنت ہے
نوٹوں پر زکوۃ نھیں ہے کیوں کہ یہ ایک قسم کا ضمانت نامہ ھوتا ہے اصل سونا چاندی نھیں جیسا کہ نوٹ پر لکھا جاتا ہے کے حکومت پاکستان کی ضمانت پر جاری ہوا ، ، یہ بات بھی قابل غور اور قابل احتجاج کہہ سکتے ہیں کہ اس بات کو لیکر پاکتان میں کافی اہل سنت اور دیوبندی جن کا اہل تشعیہ مذہب سے کوئی لینا دینا نہیں اور ہی اس کو اچھا سمجھتے ہیں بلکہ کافی تو ان میں سے شعیہ کو کافر بھی کہتے ھیں لیکن جب بنک بیلنس کی بات ہوتی ھے تو شعیہ لکھوا کر نوٹ زکوۃ کی کٹوتی نہیں ہونے دیتے یعنی اپنے مقصد اپنے مفاد اور لالچ کے لئے شیعہ بن جوتے ہیں تاکہ ان کے پیسے سے زکوۃ نا کٹے اور حکومت نا لے ، اس سلسلہ میں شعیہ عالم دین اور حکومت کو بہت چوکنا ہونا ضروری ہے کہ وہ ایسا اقدام کریں کہ شعیہ عالم دین کی تصدیق کے بغیر بنک میں زاتی طور پر کوئی بھی کسی قسم کا شعیہ حلف نامہ نا دے سکے
یہ بہت نقصآن کا باعث ہے خود حکومت پاکستان کے لئے اور مذہب شعیہ کے لئے بھی ۔ اس لئے ارباب اختیار اس بارےکوئی سنجیدہ اور ٹھوس اقدام کریں ، اب آتے ہیں اس بات کی طرف ، کے حکومت کو زکوۃ کیوں نہیں کی جاتی اس کی تفصیل یہ ہے کہ زمانہ حاضر میں ہم کھتے ہیں کے جو اعلم اور مجتہد اعظم ہیں ان کی اجازت سے خود زکوۃ دھندہ مستحق تک پہنچائے ، تاکہ اسے اپنے واجب کی ادائیگی کا کام یقین ہو ، واقعات شاہد ہیں کہ حکومتیں اس زکوۃ کو اپنے مرضی کے مقاصد حاصل کرنے کے لئے استمعال کرتی ھیں جیسا کے پچھلی حکومت نے بے نظیر انکم سپورٹ میں لگا دئے جو کافی اپنے منظور نظر افراد میں ھی تقسیم ھوتے رھے ھیں ھمارے علاقہ میں بھی دیکھنے میں آیا کے کافی کاروباری لوگ جن کے مرد اچھا خاصہ کماتے ھیں ان کو ملتے رہے ہیں
ھمارے ہاں مدرسہ میں عالم حضرات کی مدد اور اجازت سے زکوۃ جمع کرتے ھیں اور پھر مقامی مستحق لوگوں تک پہنچاتے ھیں جس میں سے بیوگان کی مدد کی جاتی ھے اور غریب نادار طلبہ کی کفالت کا انتظام کیا جاتا ھے جو رقم کا صحیح مصرف ہے ، ہم اعلی تعلیم کے لیے بھی طلبہ کی مدد کرتے ہیں یوں بغیر تحقیق کے رقم یوں ہی نھیں بانٹ دی جاتی اس طرح اگر کوئی ھمارے مدارس میں زکوۃ یا امدادی رقم دے تو اس کی نیکی ضائع نھیں جائے گی بلکہ صیحٰ جگہ استعمال ھو گی جس کی وہ تحقیق بھی کر سکتے ھیں
شکریہ بہت سی دعائیں آپ کے لئے آپ بھی دعاؤں میں یاد رکھئے گا مجھے
منجانب موسی رضا جسکانی ، پرنسپل جامعہ امام علی رضا علیہ السلام مرغائی تحصیل و ضلع راجن پور