|
پاکستان میں جرائم کا سد باب کرنا ضروری ھے۔۔۔از۔۔۔سیدہ رافیعہ گیلانی
04.10.2013, 04:02am , جمہ (GMT+1)
سیدہ رافیعہ گیلانی
سزا او جزا کا عمل انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کا عمل ھے جہاں نیکی کا صلہ خوبصورتی اور اچھائی کی مثال بن جاتا ھے وہاں پر برائی پر ملنے والی سزا اصلاح اور انصاف کی علامت بن کر معاشرے میں پروان چڑھتی پیچید گیوں کو رفع کرنے کا سبب بن جاتی ھے -
انسان جرم کیوں کرتا ھے ایسا کون سا عنصر ھے ھوتا ھے جو انسان کو جرم کرنے سے روکتا ھے اس کا جواب یہی ھوگا کہ جرم کرنے کے بعد سزا کا خوف جرم کرنے سے انسان کو روک سکتا ھے -
یہ بہت بڑا المیہ ھے کہ پاکستانی معاشرے میں مجرم کو سزا دلوانا یا دینا بہت مشکل ھے ، اسی وجہ سے ملک بد امنی کا شکار ھو رہا ھے ، چند لوگوں یا گروھوں نے درندگی کا بازار گرم کر رکھا ھے اور کڑوڑوں پاکستانیوں کو یرغمال بنا رکھا ھے ، بازار سکول رہائشی علاقے مساجد عبادت گاھوں تک پر حملے ھو رھے ھیں کوئی بھی محفوظ نھیں گھروں میں گھس کر مارا جارہا ھے ۔
لگتا ھے جیسے قانون نافظ کرنے والے کمزور ھیں اور مجرم طاقتور ھیں ، اعداد و شمار کے مطابق ملک میں آٹھ ہزار کے قریب سزائے موت کے مجر م قید ھیں جن کے لئے موت کی سزا کا حکم نامہ جاری ھو چکا ھے بس عمل درآمد ھونا ھے اور ان میں سے قیدی کئ کئی سالوں سے جیل میں ھیں ، انصاف کے نا قائم ھونے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ھے کے فیصلوں میں کافی وقت ضائع کر دیا جاتا ھے جب کہ سنگین نوعیت کے جرائم کرنے والے مجرموں کے مقد مات جلد نبمٹانے کی کوشش کی جائے خظر ناک مجرموں کو زیادہ عرصہ تک مقدمات میں لٹکائے رکھنا کسی طرح بھی مناسب نھیں
پھر پاکستان کو اسلامی ریاست بتانے والے ، قاتلوں سے کس طرح ھمدردی کا سلوک روا رکھ سکتے ھیں جب کہ اسلام تو ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کا قاتل کہتا ھے ادھر تو ایسے ایسے قاتل بھی سر عام دندناتے پھرتے ھیں جن کے سر پر کئی بے گناھوں کا خون ثابت ھو چکا ھے اور کئی تو ایسے ھیں جو خود بھی اقرار کرتے ھیں کے کتنوں کو وہ مار چکے ھیں اور کافی اور لوگوں کو بھی مارنے کا ارادہ رکھتے ھیں
کیا کوئی بھی ملک اس طرح کے قاتلوں کو رعایت دینے کا متحمل ھو سکتا ھے جب کہ کسی ایک آدمی کے قاتل کو بھی چھوٹ دینا گویا اس قاتل کو اس بات کی چھوٹ دینا ھے وہ آزاد ھو کر مزید انسانی جانوں سے کھیلے اور معاشرے کو تباہی اور بربادی سے دوچار کرے -
سننے میں یہ بھی آیا ھے کی حکومت کو ٹی ٹی پی کی طرف سے دھمکی دی گئی ھے کے اس کے چار ساتھیوں کو جنھیں پھانسی کی سزا سنائی گئی ھے اگر نا رہا کیا گیا تو وہ حکومت کے خلاف کاروائیاں کریں گے
اب سوال یہ ھے کہ کیا اس طرح کی دھمکیوں سے حکومت مرعوب ھو کر ان کو چھوڑ دے گی ؟ اس سے پہلے بھی ڈیرہ اسماعیل خان جیل کا واقع سب کے سامنے ھے کس طرح ڈھائی سو کے قریب مجرم جیل توڑ کر فرار ھوئے اور انتظامیہ کچھ بھی نا کر سکی ۔ یہ انتہائی تشویشناک صورتحال ھے حکمرانوں کو خواب غفلت سے باہر آنا ھو گا اور سنجیدگی سے اس بارے میں کوئی عمل کرنا ھو گا اس میں خوا ہ فوج ھی کو کیوں نا ساتھ ملا کر کام کرنا پڑے
مگر ملکی سلامتی کے لئے بڑے پیمانے پر اس پر کام کرنے کی ضرورت ھے ، ورنہ جب مظلوم لوگ بھی قانون کو بے بس غیر موثر جان کر خود بدلہ لینے پر آتر آئے اور قانون ہاتھ میں لینے لگے تو ملک کو کسی باہر کے دشمن کی ضرورت نھیں رھے گی ، ، خدا اس دن سے بچائے ملک عزیز کو ، اللہ رحم کرے مظلوم کی حالت پر ظالم جلد اپنے انجام کو پہنچیں، آمین
|