پاکستان فلم انڈسٹری میں پلے بیک سنگنگ پر تین عشروں تک حکمرانی کرنے والے مقبول ترین گلوکار مسعود رانا کی اس سال ۲۰۱۳ میں اٹھارہویں برسی منائی جارہی ہے۔
انیس سو اڑتیس کو میر پور خاص میں پیدا ہونے والے مسعود رانا نے پلے بیک سنگنگ کا آغاز فلم انقلاب سے کیا۔وہ اردو اور پنجابی دونوں زبانوں میں کمال مہارت کے ساتھ گاتے تھے۔
ریڈیو پاکستان سے گلوکاری کا آغاز کرنیوالے مسعود رانا نے اصل شہرت پلے بیک سنگنگ سے حاصل کی۔
اونچے سروں میں گانے کی وجہ سے مسعود رانا کو فلموں کے ٹائٹل سانگز اور تھیم سانگز کے لیے ترجیح دی جاتی تھی۔ مسعود رانا کو پاکستان کا محمد رفیع بھی کہا جاتا تھا۔
انیس سو پچانوے میں اپنے انتقال کے وقت تک وہ پاکستان کے مصروف ترین گلوکار رہے۔کئی سالوں تک گلوکاری کے شعبے میں راج کرنیوالے مسعود رانا کی خوبصورت آواز کو ان کے مداح آج بھی نہیں بھلا پائے۔
شرارت کے نغمے ”اے دل تجھے اب ان سے یہ کیسی شکایت ہے“ سے ہوا۔ اس فلم کے موسیقار دیبو بھٹا چاریہ، فلم ساز اقبال شہزاد اور ہدایت کار رفیق رضوی تھے اور یہ 26 جولائی 1963ءکو ریلیز ہوئی تھی۔ اگلے برس بابا جی اے چشتی نے اپنی فلم ڈاچی میں مسعود رانا سے مشہور نغمہ تانگے والا خیر منگدا گوایا۔ اس نغمے سے مسعود رانا کی مقبولیت میں مزید اضافہ ہوا۔
اس کے بعد ہمراہی، آگ کا دریا، دل میرا دھڑکن تیری، دامن اور چنگاری، بھریا میلہ، رشتہ ہے پیار کا، احساس، دلاں دے سودے، آنسو، بھرجائی، اج دا مہینوال، عشق نچاوے گلی گلی، تقدیر، مجاہد، چراغ کہاں روشنی کہاں، دل لگی، بہارو پھول برساﺅ، بنجارن اور ایسی ہی لاتعداد فلموں میں انہوں نے اپنی گائیکی کا جادو جگایا اور متعدد اعزازات حاصل کئے۔مسعود رانا نے دو فلموں میں اداکاری کے جوہر بھی دکھائے ان فلموں کے نام شاہی فقیر اور دو مٹیاراں تھے۔
مسعود رانا نے کئی ملی نغمات بھی گائے جن میں میاں بشیر احمد کا لکھا ہوا نغمہ ملت کا پاسباں ہے محمد علی جناح سرفہرست ہے۔مسعود رانا کا انتقال 4 اکتوبر 1995ءکو ہوا۔وہ لاہور میں کریم بلاک، علامہ اقبال ٹاﺅن کے قبرستان میں آسودہ خاک ہیں