شکیل اعلی عہدے پر سرکاری افسر تھا اس کی پوسٹنگ جس شہر میں تھی وہاں اس نے کافی جان پہچان بنا لی تھی کیوں کہ تنخواہ کے علاوہ بھی وہ اوپر کی آمدنی پر دل و جان سے یقین رکھتا تھا اور اس طرح سے پیسہ کمانے میں زرا برابر بھی دیر

نھیں کرتا تھا -
ہر جائز ناجائز کام کرنے کی وجہ سے اس کی مقبولیت بہت بڑھ گئی تھی ، شکیل کو ایک روز قریبی شہر میں اپنے سالے کی تیمار داری کے لئے جانا پڑا کیوں کے یہ اس کی بیوی کا حکم تھا پھر دفتر میں کام کی وجہ سے وہاں زیادہ رک بھی نھیں سکتا تھا کہ اگلی صبح اسے پھر دفتر جانا تھا
یوں وہ اپنے سالے کی خیریت دریافت کرنے کے لئے گیا اور دو گھنٹے وہاں رکا اور واپس آگیا۔ جب واپس آرہا تھا تو اس کا ایکسیڈ نٹ ھو گیا اس کو چوٹیں آئیں اس کا پاؤں سیٹ ٹوٹ جانے کی وجہ سے سیٹ میں دب گیا جس وجہ سے پاؤں پر کافی سوجن آگئی تھی - اس کے ڈرائیور کو اس سے بھی زیادہ چوٹیں آئیں تھیں - اس طرح جب وہ اپنے شہر پہنچے تو اس کے ایکسیڈنٹ کی اطلاع جنگل کی آگ کی طرح شہر میں پھیل گئی کیوں کہ وہ سرکاری افسر تھا کوئی معمولی آدمی نھیں تھا
ہزاروں لوگوں کو اس سے کام پڑتا تھا لہذا اس کی خیریت پوچھنے والوں کا بھی جھمگھٹا لگ گیا ، اس کا ڈرائیور غریب آدمی تھا اس کو چوٹ بھی زیادہ آئی تھی لیکن کسی نے اس کی خیریت دریافت نا کی سوائے اس کے اپنے گھر والوں کے - بلکہ ایک دن کی چھٹی کے بعد وہ اپنی ڈیوٹی پر بھی آگیا - جب کہ شکیل ابھی چھٹی پر تھا اور شہر کے لوگ جوق در جوق اس کی خیریت دریافت کرنے آرہے تھے اور ساتھ مٹھائیاں اور پھل فروٹ بھی لا رھے تھے ،
جو شخص بھی پوچھنے آرہا تھا آتے ھی پہلے یہ سوال کرتا ۔صاحب کس طرح سے ایکسیڈنٹ ہوا ۔شکیل بتاتے بتاتے اکتا گیا تھا سب ھی پوری تفصیل سننے پر اصرار کرتے تھے اس کو شروع سے ھی بتانا پڑتا کہ وہ اپنے سالے کی خیریت پوچھنے قریبی شہر جارہا تھا سامنے سے تیز رفتار ٹرک آرہا تھا اس سے اس کی گاڑی ٹکرا گئی تھی بس پھر یہ چوٹ آگئی۔ سب ھی پوچھتے کون سی گاڑی تھی گاڑی کا نقصان کتنا ہوا پھر وہ بتاتا گاڑی میرے دفتر کی وین تھی ، اور اس کا زیادہ نقصان ںھیں ہوا معمولی ڈینٹ پڑے ھیں بس ،
اس طرح آنے والے ساتھ جو چیز بھی کھانے کی چیزیں ساتھ لاتے زیادہ پیار جتاتے ھوئے شکیل کو اپنے ہاتھ سے کھلانے پر بضد ھوتے اور زبردستی اس کے منہ میں ٹھونستے ، یوں میٹھا زیادہ کھانے کی وجہ سے اس کا شوگر لیول بڑھ گیا تھا ، اکثر لوگ مٹھائی یا کیک کے ڈبے میں ہزاروں روپئے کے نوٹ بھی رکھ کر لاتے تھے اور ساتھ ھی یہ بھی کہہ دیتے کے ھمارا کام آپ کے آفس میں پھنسا ھے آپ دفتر میں جاتے ھی برائے مہربانی وہ کروادیں ، یعنی ان کے آنے کا اصل مقصد بھی یہی ھی ھوتا تھا ، ایک معمولی چوٹ کو اس کے ظاہری خیر خواہوں نے مصیبت بنا دیا - ------
اب اس کو پاؤں میں درد ھو رہا تھا اس کی بیوی نے آیئوڈیکس لگا کر پٹی باندھ دی کیوں کہ وہ زیادہ وقت بیٹھا رہتا تھا ، پھر شکیل کی بیوی کے ایک رشتہ دار بھی شکیل کے ایکسیڈنٹ کے بارے میں سن کر خیریت دریافت کرنے آئے ۔ان کا آنا شکیل کے لئے مزید پریشانی کا باعث بنا ۔انھوں نے آتے ھی پوچھا ارے شکیل بھائی یہ کیا آپ نے معمولی پٹی باندھی ھے جب کہ حادثہ کی وجہ سے چوٹ آئی ھے
میرے ایک جاننے والے ھیں ان کو بلاتا ھوں وہ چوٹ دیکھتے ھی بتا دیتے ھیں کی کس طرح کی چوٹ ھے ھڈی ؤغیرہ اگر ٹوٹ گئی ھو تو اس کا بھی علاج کرتے ھیں۔ شکیل منع کرتا رہ گیا لیکن موصوف کب ماننے والے تھے ۔شکیل کی بیوی سے کہا بہن ان کو سمجھا ئیں میں ان کے بھلے کی بات کر رہا ھوں یہ کیوں نھیں مان رھے
بس پھر شکیل کی بیوی نے کہا بھائی صاحب آپ جایئے ان صاحب کو لے آیئے میری زمہ داری ھے یہ علاج کروائیں گے ، اب وہ صاحب فوری گئے اور آئے ہی ساتھ میں ان صاحب کو بھی ساتھ لائے جن کی تعریف میں زمین آسمان ایک کر رھے تھے یوں اس نیم حکیم نے آتے ھی پٹی کھولی اور کہا اوہ ہو یہ تو بہت گہری چوٹ ھے اگر یوں ھی چھوڑ دیا گیا تو چوٹ پک جائے گی اور پاؤں کبھی بھی سیدھا نھیں رکھا جا سکے گا میں زور لگا کر اس موچ کو صحیح کردونگا -
بس پھر شکیل کی بیوی کو کہا بہن جی آپ ان کے ہاتھ پکڑ لیں اور جو ان صاحب کو لے کر آئے تھے ان کو کہا آپ ان کو زور سے پکڑ لیں ھو سکتا ھے یہ درد کی وجہ سے مجھے میرا کام نا کرنے دیں ، بس یوں شکیل دھر لیا گیا اور حکیم صاحب نے زور سے پاؤں کو دبا کر سیدھا کیا جس سے زور سے کڑک کی آواز آئی ان صاحب نے پھر چھوڑ دیا بولے
دیکھا اب پاؤں کی ھڈی اپنی صحیح جگہ پر لگ گئ ھے اس لئے یہ آواز آئی ھے ، جب کہ شکیل درد کی وجہ سے بے ہوش ھو گیا جس کا نیم حکیم صاحب نے یہ جواز گھڑا کے میرے علاج کی وجہ سے ان کو سکون آگیا ھے اور یہ سو گئے ھیں ،----
اگلے دن شکیل کو شدید تکلیف ھوئی اور ھسپتال لے جایا گیا جہاں اس کے پاؤں کا آپریشن ھوا کیوں کے اب ھڈی سچ میں ٹوٹ گئی تھی ، یو خیریت پوچھنے والوں کی وجہ سے وہ شدید تکلیف میں مبتلا ھو گیا ، ادھر آفس سے چھٹیاں ھونے کی وجہ سے اس کے آفیسرز کو بھی پتا چل گیا کہ وہ بیمار ھے لیکن ساتھ ھی یہ پتا چلا کہ وہ آفس کی گاڑی پر اپنے زاتی کام گیا تھا جس کی وجہ سے اس کے آفیسر نے اس کو عارضی طور پر معطل کر دیا اور اس کی انکوآئری کا حکم دیا گیا
اف ان ھمدردیوں نے اس کا کیا حال کر دیا