گزشتہ قسط میں سر زمین حجاز کو جانے والے کے ساتھ دھوکہ دہی کی اطلاع ملی ضمیر نے ملامت شروع کی یہ ایک مقدس سفر پر جانے والوں سے دھوکہ دہی کیا جائزہہے مگر ذہن اب تک منتشر ہے کہ ان افراد کے ضمیر کیوں مردہ ہو چکے ہیں لندن کے معروف سفری دلال جس کے ہمراہ چند خواتین بھی شامل ہیں سر زمین حجاز پر جانے والوں کو کس طرح لوٹتے ہیں۔۔۔۔
معلومات کے مطابق ان حجاج کے پاسپور ٹ کسی لائنس یافتہ سفری دلال کو دیے تھے مگر ان پر سفر جواز کی اجازات مطلقہ ملک نے حاصل نہ کر سکے اور مسافران حجاز کو یہ کہتے رہے کہ سفری جواز کی اجازت مل چکی ہے
لندن کے معروف سفر دلال سید ابرار حسین شاہ اور مانچشٹر کے مولانا اصغر یزدانی جو ایک مسلکی ٹیلی ویژن سے بھی مسلنک ہیں ان ہر دو افراد کے قافلہ میں 70اور 150افراد شامل تھے جن کو سفری جواز کی اجازت نہیں ملی اور ظلم کی بات تو یہ ہے کہ مسافران سے جو پیسے لئے گئے تھے وہ بھی واپس نہیں کئے گئے کیوں کہ ان کی ان افراد کے مطابق مسافران کے لئے ہوٹل اور ہوائی ٹکٹ جو کہ نا قابل واپسی ہیں خریدے جا چکے ہیں جبکہ کہ ان مسافران کو سفری جواز کی اجازت نہیں ملی تو یہ ہوائی ٹکٹ اور ہوٹل کیوں منتخب کئے گئے ۔۔۔۔ اور مسافران کو کہا گیا کہ یہ ناقابل واپسی رقم ہے۔۔۔۔۔۔
دوسری جانب لندن سے باہر ایک سفری دلال کو جو پاسپورٹ دے گئے تھے ان کو جب واپس کیا گیا تو وہ تمام کے تمام پاسپورٹ مخدوش حالت میں تھے جو کو پولیس نے اپنے قبضے میں لیا ہے ان میں تو بعص افراد ایسے تھے جو پہلی بار اس سفر پر جا رہے تھے ۔۔
کافی کوشش کے بعد بھی ان پاسپورٹ کی تصاویر نہیں مل سکی بہر حال جن مسافران کو اس مشکل کا سامنہ کرنا پڑا ان سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ جو پاسپورٹ واپس کئے گئے ہیں ان پر سعودیہ کے سفارت کاروں سے رابطہ کے بعد معلوم ہوا ہے کہ ان مسافران کے لئے کوئی سفر ی جواز کے اجازت نامے کے لئے درخواست ہی نہیں پیش گی گئی ۔۔۔۔
ایک اہم بات اور توجہ طلب ہے کہ ان سفری دلالوں کے پاس حجاج کو سفر حجاز پر لے جانے کے لئے کوئی اجازت نامہ (لائینس ) ہی نہیں ہے نوٹنگھم میں کوئی سفری دلال ہے جو ان کی مدد کرتا ہے۔۔۔۔ معلومات کے مطابق معلوم ہوا کہ ان کو پوری رقم ادا نہیں گی گئی جس کہ وجہ سے کہ سب ڈرامہ رچایا گیا ۔۔۔ اور مسافران حجاز اپنے سفر کو مکمل نہ کر سکے بلکہ کچھ افراد تو ہوائی اڈے سے ہی واپس ہوئے۔۔۔ یاد رہے کہ یہ عمل پہلی بار نہیں بلکہ تیسری بار ہوا ہے۔۔
بہت کوشش کی گئی مگر چند مسافران کے نام سامنے آئے ہیں اور ان مسافران سے 3200اور 3400پونڈ کی رقم وصول کی گئی ہے ۔۔۔ جو نا قابل واپسی ہے ۔۔۔۔
رزق تو اللہ نے فراہم کرنا ہے مگر محنت آپ نے خود کرنی ہے۔۔ مسلمانو آنکھیں کھولو اور اس قسم کے افراد کو معاشرے سے سامنے لاو تاکہ آنے والے برسوں میں عمل دوبارہ نہ ہو سکے ۔۔۔ بلکہ مسافران حجاز کو چاہئے کہ اس قسم کے افراد سے بچنے کے لئے اچھی طرح ان کے بارے میں معلومات کر لیں تاکہ اس قسم کی پریشانی سے بچا جا سکے۔۔۔۔
سعودی حکومت نے سفر حجاز پر جانے والوں میں کچھ کمی کی تھی کیوں کہ وہاں پر جو تعمراتی کام جاری ہیں ان کی وجہ سے حجاج کو کسی قسم کی دقت نہ ہو اور ہو سکتا ہے کہ اس وجہ سے بھی ویزا جاری نہ ہو سکا ہو مگر حج پر جانے والے افراد ایسے بھی شامل تھے جو بہلے کئی بار اس فریضہ کو ادا کر چکے ہیں۔۔۔
مگر ان افراد نے برطانیہ کے پاسپورٹ کے بجائے پاکستانی پاسپورٹ ویزا کے لئے پیش کئے تھے ۔۔۔ جبکہ اس نیک سفر پر جانے والوں کے لئے یہ قانون موجود ہے کہ گزشتہ پانچ سال میں جنہوں نے اس فریضہ کو ادا کیا ہے ان کو سفری جواز کا اجازت نامہ نہیں ملے گا ۔۔۔۔۔ مگر حکومت کو دھوکہ دینا تو شاید ان کی نظر میں درست ہو مگر اللہ کو کیا جواب دیں گے جو کسی اور کا حق ہے ،ہو سکتا ہے کہ کوئی مسافر پہلی بار جانا چاہتا ہو اور ان کی وجہ سے نہ جا سکا ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔
مجھےہمیشہ کی طرح آخر میں یہ کہنا ہے کہ یہ ساری معلومات ہمیں مقامی ذرائع اور مقامی افراد سے ہی ملی ہیں اور اگر کسی کو اس سے کوئی اختلاف ہے تو وہ اپنا موقف لکھکر مجھے براہ راست ارسال کر دے میں اسے غیر جانبدارانہ صحافت کے تقاضوں کے تحت اپنی اسی سلسلے وار تفتیشی و تحقیقی رپورٹ میں شائع کر دونگا