معلوم نہیں یہ تیزی سے گزرتے ہوئے وقت کا اثر ہے یا عمر رواں کی کسی بے رحم نسبت کا نتیجہ ہے کہ اب میں اپنے حال کی بجائے اپنے ماضی میں زیادہ ذہنی سکون اور عافیت محسوس کرتا ہوں ۔ نئے لوگوں سے تعارف سے گریز کے ساتھ ساتھ

کوشش یہی ہوتی ہے کہ کوئی دیرینہ واقف حال مل جائے تو اس کے ساتھ مکالمہ یا گفتگو کی جائے ۔ کوئی بھی میسر نہ ہو تو پھر ماضی کی آوازیں اور باز گشت بہترین ساتھی کا روپ اختیار کر جاتے ہیں ۔ تنہائی اور اکلاپے کا احساس اپنی جگہ لیکن یہ آوازیں کسی حد تک اس احساس کی تلافی اور ازالہ ضرور کرتی ہیں ۔ مجھے اس بات کا بہت زیادہ شدت کے ساتھ احساس اس وقت ہوا جب میں ”وائس آف پاکستان “سے نشر ہونے والا ایک پروگرام سن رہا تھا ۔ یہاں پر یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ ”وائس آف پاکستان“ کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں قائم ایک ریڈیو سٹیشن ہے جس کے بانی میرے انتہائی محترم دوست عادل تیموری ہیں ۔ جس پروگرام کی خوشگوار سماعت کا ابھی میں نے تذکرہ کیا وہ ریڈیو پاکستان لاہور سے نشر ہونے والے دیہاتی بھائیو ں کے پروگرام کی ریکارڈنگ تھی اور اس میں وطن عزیز کے ایک قابل فخر صدا کار نظام دین اپنی آواز اور لوک دانش کا جادو جگا رہے تھے ۔ وہ اس تاریخی واقعہ کو بیان کر رہے تھے جب 13اور 14اگست 1947ءکی درمیانی شب12:01منٹ پر سید مصطفی علی ہمدانی کی با وقار ، دل میں اتر جانے والی اور تاریخی آواز میں یہ اعلان قومی تاریخ کا امر حصہ بن گیا:” پاکستان براڈکاسٹنگ سروس۔ ہم لاہور سے بول رہے ہیں “ ۔
خوش قسمتی سے اب بھی وہ لوگ ہمارے درمیان موجود ہیں جنہوں نے یہ تاریخی اعلان خود سماعت کیا ۔ ایسے احباب بھی میری طرح ماضی کی یادوں اور آوازوں سے عشق میں بدستو ر مبتلا ہیں جنہوں نے وطن عزیز میں صحافت اور نشریات کے شعبوں کو مثالی اور اعلیٰ اقدار سے ہم آہنگ مشاہدہ کیا ۔ نشریات کی دنیا میں سید مصطفی علی ہمدانی اور نظام دین اپنے اپنے شعبوں میں اپنی مثال خود رہے ۔ ہمدانی مرحوم نے ساری زندگی قناعت ، وضع داری اور خوش اخلاقی کے ساتھ بسر کی ۔ ان کے صاحبزادے صفدر علی ہمدانی میرے انتہائی قابل احترام اور قریبی دوست ہیں ۔ ان کے ساتھ دوستی کا سلسلہ 1973ءمیں لاہور میں اس وقت شروع ہوا جب وہ پنجاب یونیورسٹی کے نیو کیمپس میں شعبہ صحافت سے فارغ التحصیل ہو چکے تھے اور میں نے اس شعبہ میں داخلہ حاصل کیا تھا ۔ اپنے شوق اور معاشی ضرورت کے تحت مجھے یونیورسٹی میں حصول تعلیم کے بعد حصول روزگار کا مرحلہ بھی طے کرنا ہوتا تھا جس کے لئے کوپر روڈ پر واقع فضل بلڈنگ میں قائم روزنامہ ”سیاست“ کا دفتر میری منزل ہوا کرتی تھی ۔ یہاں پر جن احباب کے ساتھ تعارف اور رابطہ کا سلسلہ قائم ہوا ،ان کا شمار تو مشکل ہے البتہ اس وقت ذہن میں جو نام فوری طو رپر آ رہے ہیں ان میں اخبار کے ایڈیٹر اثر چوہان ، ڈپٹی ایڈیٹر عاشق جعفری ، ان کے برادران لیاقت چوہان اور ظفر جعفری ، منفرد ریسرچ سکالر اور مصنف ایم ایس ناز، میر افضل ، سید وجیہہ شاہ ، رشید احمد خان ، افتخار مجاز ، بیدار سرمدی اور سلیم بخاری کے نام یاد آ گئے ہیں۔ صفدر علی ہمدانی کے ساتھ دوستانہ قربت اسی دفتر میں بے تکلفی کی حدوں میں داخل ہوئی لیکن اس کے باوجود باہمی احترام بھی برقرار رہا ۔ ان دنوں وہ ابھی ریڈیو پاکستان سے وابستہ نہیں ہوئے تھے حالانکہ اگر وہ اپنے والد (سید مصطفی علی ہمدانی ) کا حوالہ استعمال کرتے تو مولانا کوثر نیازی ایسے جہاندیدہ شخص کے لئے صفدر ہمدانی کو ریڈیو یا ٹی وی کی معقول ملازمت فراہم کرنا کوئی دشوار معاملہ نہ تھا ۔ صفدر ہمدانی عام طور پر ”سیاست“ کے دفتر آ کر عاشق جعفری کے ساتھ گپ شپ کرتا جس میں گاہے میں بھی ”ملوث“ ہو جاتا ۔ مجھے صفدر کی شاعری کا حقیقی علم اس وقت ہوا جب محرم الحرام میں ”سیاست“ کے صفحات پر اس کے سلام اور مرثیے شائع ہونا شروع ہوئے ۔ بعد ازاں اس کی کتاب ”کفن پہ تحریریں “ بھی اشاعت پذیر ہوئی جس میں اس کی نظمیں اور غزلیں شامل تھیں ۔ مجھے آج بھی اعتراف ہے کہ صفدر کی شاعری مجھے چونکا دینے والی شاعری محسوس ہوئی، اس کا اسلوب ، زبان اور لہجہ ، تینوں ہی مختلف بلکہ منفرد رہے ۔ وہ بلا کا ذہین اور حاضر جواب نوجوان تھا جس کی مہذب اور شائستہ گفتگو ہر سامع کو متاثر کرتی تھی ۔ میرے تصور اور خیال کے برعکس اس نے روزنامہ ”سیاست “ میں ملازمت اختیار نہیں کی ۔ ایک دن اچانک وہ آیا اور اس نے دوستوں کو یہ خوشخبری سنائی کہ اس کی تقرری ریڈیو پاکستان میں بطور پروگرام پروڈیوسر ہو گئی ہے اور وہ اسی رات راولپنڈی روانہ ہو رہا ہے جہاں اس کو اپنی نئی ذمہ داریاں سنبھالنے سے پہلے تربیتی مراحل طے کرنا ہوں گے ۔(صفدر ہمدانی کے ساتھ دوستانہ تعلقات کا احاطہ کرنے کے لئے ایک الگ مضمون درکار ہو گا )
اسی طرح عادل تیموری کے ساتھ بھی میری یاد اللہ کا سلسلہ طویل ہے ۔ وہ ریڈیو پاکستان راولپنڈی سے وابستہ رہے اور اپنی آواز کا خوب جادو جگایا ۔ 70ءکے عشرہ میں وہ اس علاقہ کی ایک انتہائی مقبول آواز کے طور پر نشریات کی دنیا میں جانے اور پہچانے جاتے تھے ۔ ملکی حالات نے جب تنزل کی راہ اختیار کی تو وہ خاموشی کے ساتھ کینیڈا چلے گئے ۔ اس نئی سر زمین پر انہوں نے ہمت اور حوصلہ سے کام لیتے ہوئے از سر نو آغاز سفر کیا اور پختہ ارادہ کیا کہ وہ یہاں پر سبز ہلالی پرچم کی توقیر اور وقار میں اضافہ کے لئے اپنی تمام صلاحیتوں اور توانائیوں کو بروئے کار لائیں گے ۔ اول اول تو مشکلات اور حوصلہ شکن حالات درپیش رہے لیکن جلد ہی ان کی محنت اور حوصلہ مندی رنگ لائی جس کے نتیجہ میں انہوں نے ٹورنٹو میں ”وائس آف پاکستان“ کے نام سے 1971ءمیں ایک ریڈیو سٹیشن قائم کیا ۔ ان کا تجربہ اور ہنر مندی ان کا سب سے بڑا ہتھیار ثابت ہوئے جنہیں عادل صاحب نے بے حد ذہانت کے ساتھ استعمال کیا ۔ یہ وہ زمانہ تھا جب دنیا کے کئی ممالک ، خاص طور پر پاکستان کے باشندوں کو کینیڈا جا کر وہاں آباد ہونے کا خیال بہت کم اپنا حامی بناتا تھا۔ کچھ عرصہ کے بعد البتہ یہاں پر جب پاکستانیوں سمیت مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ ہوا تو عادل صاحب نے اپنے ریڈیو سٹیشن سے 1985ءمیں رمضان المبارک کے دوران سحری کے پروگرام بھی شروع کر دئیے ۔ اب اس اسٹیشن کو قائم ہوئے کم و بیش 42برس کا عرصہ گزر چکا ہے اور وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ اس طویل عرصہ میں لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں سامعین نے یہاں سے نشر ہونے والے پروگرام کو سماعت کے بعد پسند کیا ہو گا ۔
عادل تیموری نے اپنے ریڈیو سٹیشن ”وائس آف پاکستان“ کی ایک انفرادیت یوں برقرار رکھی ہے کہ اس ریڈیو سٹیشن سے ریڈیو پاکستان کے بعض پرانے اور یادگار پروگرام نشر مکرر کے طور پر پیش کئے جاتے ہیں ۔ سامعین کے لئے یہ موقع بڑا غنیمت اور مسرت انگیز ہوتا ہے کہ وہ اپنے پسندیدہ صدا کاروں کا فن ایک مرتبہ دوبارہ سماعت کریں اور اس دور کو یاد کریں جب ریڈیو سے نشر ہونے والا ہر پروگرام اپنے تصور سے لے کر ہوا کے دوش پر آنے تک ہر مرحلہ پر ایسی شخصیات کی توجہ اور ہنر مندی کا مرکز رہتا تھا جو اپنی اپنی ذات میں بلاشبہ ایک ادارہ اور مکتب فکر تھے ۔ ریڈیو پاکستان نے آواز کی دنیا کو ایسے ایسے صدا کاروں اور فن کاروں سے متعارف کرایا جن کی آواز کے زیر و بم آج بھی دل و دماغ پر اثر انگیز ہوتے ہیں۔ ریڈیو پاکستان لاہور کے ممتاز صدا کار نظام دین کا شمار بھی ایسے ہی فنکاروں میں رہا ۔ یہ ایک ایسا کردار تھا جو نہ صرف پنجاب کی دیہی زندگی اور ثقافت کی عکاسی کرتا تھا بلکہ جو شہری زندگی کی روشن خیالی اور ترقی پسندی کا آئینہ دار بھی تھا ۔ نظام دین اس کردار کی چلتی پھرتی تصویر تھے اور سچی بات تو یہ ہے کہ وہ جہاں بھی گئے اور انہوں نے ایک بار اپنے منفرد لہجہ اور انداز میں ”السلام علیکم “ کہا تو پھر اس کے بعد ان پر محبت ، عقیدت اور شناسائی کے پھولوں کی گویا بارش ہو گئی ۔ حاضرین ان سے اپنے اپنے انداز میں لیکن بے پناہ والہانہ طور پر عقیدت کا اظہار کرتے اور نظام دین ہر قدم پر نہال دکھائی دیتے ۔
وطن عزیز میں جب ٹی وی نشریات کا آغاز ہوا تو ان میں کام کرنے والے فن کاروں کی کم و بیش تمام تعداد کا تعلق ریڈیو پاکستان سے ہی تھا ۔ اداکاروں اور صدا کاروں نے جب ٹی وی پر اپنے فن کے جوہر دکھائے تو ان کے پیچھے ریڈیو کی تربیت اور

تجربہ ہی کارگر دکھائی دیا ۔ ایسی ہی صورت حال سکرپٹ رائٹر ، شاعروں ، صحافیوں اور منصوبہ سازوں کی رہی ۔ ٹی وی کے ہر بڑے فن کار اور ہنر مند کے ذاتی کوائف پر ایک نظر ڈالنے سے یہ حقیقت اجاگر ہو جاتی ہے کہ اس کا تعلق کسی نہ کسی طور ریڈیو پاکستان سے رہا ہے ۔ اگرچہ آج ریڈیو پاکستان کسی حد تک پیشہ وارانہ تنزل کا شکار دکھائی دیتا ہے اور اسی طرح پی ٹی وی کی حالت پر بھی حالت زار کی سرخی جمائی جا سکتی ہے لیکن سچی بات تو یہ ہے کہ وطن سے ہزاروں میل دور کینیڈا میں عادل تیموری نے حقیقی معنوں میں ”وائس آف پاکستان“ کی صورت میں ریڈیو پاکستان کی عزت اور وقار کو محفوظ اور اجاگر کر رکھا ہے ۔ کینیڈا ہی نہیں بلکہ امریکہ اور یورپ سمیت دنیا کے کئی ممالک میں ”وائس آف پاکستان“ کی نشریات انتہائی دلچسپی اور باقاعدگی کے ساتھ سماعت کی جاتی ہیں جس کا ثبوت سامعین کے مسلسل رد عمل اور تاثرات پر مبنی Feed Backسے بخوبی کیا جا سکتا ہے ۔ گذشتہ روز عادل تیموری صاحب سے میری ٹیلی فون پر بات ہوئی تو انہوں نے یہ نشاندہی کر کے مجھے حیران و ششدر کر دیا کہ وہ پاکستان کی محبت اور عشق میں مبتلا ہو کر بھارتی میڈیا اور شخصیات سے نبرد آزما ہیں لیکن اسلام آباد میں موجود وزارت اطلاعا ت و نشریات کے ذمہ دار حکام ان (عادل تیموری ) سے بے اعتنائی اور اغماض کا رویہ اختیار کئے ہوئے ہیں ۔ اب عادل تیموری صاحب کو کون سمجھا سکتا ہے کہ جس ریڈیو پاکستان کو خیر آباد کہہ کر وہ کینیڈا چلے گئے تھے ، وہ ریڈیو پاکستان اب ان کی اور میری یادوں کا حصہ بن چکا ہے ۔ وہ ہمارا ناقابل فراموش ماضی ہے جس سے آج کل کے حیلہ ساز اور بہانہ ساز سیاسی بزرجمہروں اور شعبدہ بازوں کا کوئی تعلق اور واسطہ نہیں ۔
٭٭٭