15.10.2026, 03:11pm , جعمرات (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
اعلان و انتخاب آجکا دن
 

کچہ نہ کرنے سے کچھ کرنا بہتر ہے۔ گھر کے کام کو باقائدہ ورزش نہیں کہا جاسکتا
25.11.2014, 01:02am , منگل (GMT+1)

 اس میشنی دور میں ’وقت کم ہے اور مقابلہ سخت‘۔ ویسے تو یہ کسی ڈرامے کا ڈائلاگ ہے۔ لیکن، آج کی مصروف زندگی کی سچی عکاسی بھی کرتا ہے۔
 
مشینوں نے جہاں زندگی کو آسان بنا دیا ہے وہیں انسانی جسم کی مشین کو ناکارہ کردیا ہے! شاید، اِسی لئے ماہرین کہتے ہیں کہ زندگی کے ہر معاملے میں اپنے جسم کو رواں دواں رکھنے کا بہانا ڈھونڈنا چاہئیے۔
 
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ گھر کی صفائی کرنا، برتن دھونا، کھانا پکانا، سیڑھی چڑھنا اترنا اور باغبانی کرنا ان تمام سرگرمیوں کو صحت مند قرار دیا جا سکتا ہے کیوں کہ کچہ نہ کرنے سے کچھ کرنا بہتر ہے۔ لیکن، برطانیہ میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق، گھر کے کام کو باقائدہ ورزش نہیں کہا جاسکتا، اور یوں ،اس کے وہ فوائد نہیں جو باقائدہ ورزش کے ہیں۔
 
’بی ایم سی پبلک ہیلتھ‘ میں شائع ہونے والی اس رپورٹ کے مطابق، برطانیہ میں شہریوں کو ہر ہفتے150 منٹ درمیانے درجے کی جسمانی سرگرمیوں میں مصروف رہنے کا مشورہ دیا جاتا ہے، جیسے پیدل چلنا، سائکل چلانا یا مختلف کھیلوں میں حصہ لینا۔

لیکن، عوام کا نصف بھی ایسا نہیں کرتا۔ اسی لئے ،ان سے کہا جاتا ہے کہ بیٹھے رہنے سے کوئی بھی جسمانی کام کرنا بہتر ہے۔ لیکن، لوگ گھر کے کاموں کو ورزش کا متبادل سمجھ لیتے ہیں۔

تحقیق میں کہا گیا ہے کہ،  ایسے لوگوں کو یہ سمجھنا چاہیئے کہ باقائدہ ورزش میں انسان کی سانسیں اور دل کی دھڑکنیں معمول سے تیز ہو جاتی ہیں اور جسم کا درجہ حرارت بڑھنے سے پسینہ آتا ہے۔ اور، ان لوگوں کا وزن بھی ان کے قد کی مناسبت سے کم رہتا ہے۔ اور یوں، وہ دائمی امراض سے موٹے لوگوں کے مقابلے میں زیادہ محفوظ رہتے ہیں۔ 
 
 پھیپھڑوں اور سانس کے امراض کے ماہر اور پاکستان چیسٹ سوسائٹی سندھ کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر مرزا سیف اللہ بیگ کا کہنا ہے کہ معمول کے کاموں کو ورزش نہیں کہا جا سکتا۔ انسان کو باقائدہ نیت کر کے ہفتے میں پانچ سے چھ دن ہر روز 20 ورزش کرنی چاہیئے جس میں سانسیں اور دل کی دھڑکن معمول سے تیز ہو جائیں اور اسے ایک طرح کی سرمایہ کاری تصور کیا جانا چاہیئے، مستقبل کے فائدے کے لئے۔
 
وہ لوگ جو پھیپھڑوں کے مختلف امراض میں مبتلا ہیں، مثال کے طور پر دمے کے مریض، وہ بھی باقائدہ ورزش سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ لیکن، انھیں پہلے اپنے معالج سے معائنہ اور مشورہ کر لینا چاہیئے۔ 
 
مختلف سماجی سرگرمیوں کے حوالے مشہور کراچی کلب میں ہیلتھ کلب کے انچارج محمد یوسف نے بتایا ہے کہ اول تو مختلف مشینوں کی وجہ سے گھروں میں کام کا رواج کم یا آسان ہوگیا ہے، دوسرے یہ کہ معمول کے کام میں اگر تبدیلی نہ آئے تو وہ ورزش نہیں۔
 
ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی خاتون گھر میں جھاڑو پوچا کرتیں ہیں تو وہ بس ایک معمول پہ چلتی رہتی ہیں اور ان کے جسم کو کوئی چیلنج نہیں ملتا جو کہ ورزش کے لیے ضروری ہے۔ اگر وہ خاتوں گھر کے کام مختلف انداز سے کرتی ہیں یا کام کے دوران اٹھک بیٹھک یا سیڑھیاں چڑھنے اترنے جیسے کام بھی شامل کر لیتی ہیں، یعنی معمول میں تبدیلی لاتی ہیں، تو اس کا فائدہ ہوگا۔ ورنہ، معمول کا کام انسان کو تھکاتا ضرور ہے، لیکن وہ ورزش کے زمرے میں نہیں آتا۔ اور اسی لئے، اس کے وہ فوائد نہیں جو ورزش کے ہیں۔

:دیگر مضامین
(23.11.2014) ایک عجب کھیل ۔ یہ نہ تو فٹ بال  ہے نا گولف  تو پھر آخر یہ ہے کیا؟
(22.11.2014) ریڈیو پاکستان لاهور کے اسٹیشن ڈائریکٹر سید  رضا کاظمی  ریٹائرڈ هو گئے
(20.11.2014) بھارتی فلمی اداکار سلمان خان کا بہن کے لیے 16 کروڑ روپے کا تحفہ
(19.11.2014) ایک تاریخ ساز شخصیت پر تاریخ ساز کام۔از؛محمداحمد ترازی
(18.11.2014) امریکی تاریخ میں سب سے زیادہ ووٹ لینے والے ملک کے چار صدور
(16.11.2014) پچاس کی دہا ئی میں بہا ولپور صو بہ اپنا وجود رکھتا تھا
(13.11.2014) امریکی ریاست ہوائی کے آتش فشاں سے نکلنے والے لاوا قریبی آبادی میں داخل 
(10.11.2014) پتھروں کے خواص جاننے کے لئے سائنس یا کیمیا ئی علم جاننا بھی ضروری ھے
(05.11.2014) مجلسِ شامِ غریباں ۔چشم گریہ سے چاکٍ ماتم تک.یا حسین ابن علی ..از... نگہت نسیم۔سڈنی
(04.11.2014) چشم گریہ سے چاکٍ ماتم تک.یا حسین ابن علی ۔........از............ نگہت نسیم۔سڈنی
(03.11.2014) چشم گریہ سے چاکٍ ماتم تک.یا حسین ابن علی ۔........از............ نگہت نسیم۔سڈنی
(02.11.2014) چشم گریہ سے چاکٍ ماتم تک.یا حسین ابن علی ۔........از............ نگہت نسیم۔سڈنی
(01.11.2014) چشم گریہ سے چاکٍ ماتم تک.یا حسین ابن علی ۔........از............ نگہت نسیم۔سڈنی
(31.10.2014) چشم گریہ سے چاکٍ ماتم تک.یا حسین ابن علی ۔........از............ نگہت نسیم۔سڈنی
(30.10.2014) چشم گریہ سے چاکٍ ماتم تک.یا حسین ابن علی ۔........از............ نگہت نسیم۔سڈنی
(29.10.2014) چشم گریہ سے چاکٍ ماتم تک.یا حسین ابن علی ۔........از............ نگہت نسیم۔سڈنی
(28.10.2014) چشم گریہ سے چاکٍ ماتم تک.یا حسین ابن علی ۔........از............ نگہت نسیم۔سڈنی
(27.10.2014) چشم گریہ سے چاکٍ ماتم تک.یا حسین ابن علی ۔........از............ نگہت نسیم۔سڈنی
(26.10.2014) چشم گریہ سے چاکٍ ماتم تک.یا حسین ابن علی ۔........از............ نگہت نسیم۔سڈنی
(25.10.2014) معروف ذاکر اہلبیت اور خطیب ملت علامہ نسیم عباس رضوی جہان فانی سے کوچ کر گئے



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں