مشاعروں کے کاروباری شاعر شعر و ادب کی نتزلی کا سبب ہیں ۔ مشاعروں میں اردو زبان سے ناواقف حضرات کی شمولیت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ہم اردوداں لوگ ہی اردو کے سپاہیوں کا حوصلہ پست کرنے میں سرگرم ہیں۔ مذکورہ بات بزم
اردو کے پندرہویں طرحی مشاعرہ میں صدارتی خطبہ پیش کرتے ہوئے مشہور شاعر، ادیب و صحافی مستؔ حفیظ رحمانی نے کہی۔انہوں نے کہا کہ اب اردو زبان و ادب کی حفاظت کا ذمہ اردو تنظیموں کا ہی۔ جن کے دم سے ہی نئے قلم کاروں کی حوصلہ افزائی ہو رہی ہے اور شعریت کو تقویت بھی مل رہی ہی۔ لیکن کچھ نام نہاد اردو دوست اردو کو فروغ دینے کے نام پر ایسے اشخاص کو مشاعروں میں پیش کر رہے ہیں جن کا اردو سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں ہی۔ مستؔ حفیظ رحمانی نے کہا کہ بزم اردو نے ہمیشہ اس بات کی کوشش کی ہے کہ ادبی محفلوں میں انہی حضرات کی شمولیت کو یقینی بنایا جائے جو حقیقی طور پر اردو سے محبت بھی کرتے ہیں اور اردو کی خدمت بھی۔ اس موقع پر گزشتہ ماہ کی بہترین غزل کے لئے کھیری کے ممتاز شاعر شہرت ؔ انصاری کو غزل ایوارڈ سے بھی سرفراز کیا گیا۔ انہیں یہ ایوارڈ کشکول فقریروں کا سمندر کی طرح ہے مصرع پر بہترین غزل کے لئے بزم اردو نے پیش کیا ہی۔
مشاعرہ کے آغاز میں بزم اردو کے ممبر اور بزرگ شاعر بدرؔ سیتاپوری و صدر مشاعرہ مستؔ حفیظ رحمانی کی سالگرہ بھی منائی گئی۔ مسلم جونئیر ہائی اسکول کے مینیجر حاجی محمد سلیم انصاری نے دونوں شعراء کو شال اوڑھا کر انہیں اعزاز دیا اور تمام شرکاء کو مٹھائی تقسیم کی گئی۔ اپنے تاثرات پیش کرتے ہوئے حاجی محمد سلیم انصاری نے کہا بزم اردو جس طرح شعر وادب کی شمع روشن کئے ہوئے ہے وہ قابل ستائش اور لائق صد احترام ہی۔ کیوں کہ بزم اردو نہ صرف ادبی محفلوں کے ذیعہ عوام کو بیدار کرنے کا کام کر رہی ہے بلکہ نئے قلمکاروں اور بزرگ شاعروں ادیبوں کو بھی عزت بخش رہی ہی۔
بزم اردو نے جس طرح غزل ایوارڈ کے ذریعہ شعراء کی حوصلہ افزائی کا بیڑا اُٹھایا ہے اسے کسی طور فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ مشاعرہ کنوینر خوشترؔ رحمانی نے اعلان کیا کہ بزم اردو کا آئندہ سولہواں طرحی مشاعرہ یکم دسمبر ۳۱۰۲ کو منعقد کیا جائے گاجس کا مصرع طرح ہمارے ساتھ محبت کا ایک لمحہ تھا منتخب کیا گیا ہے جسمیں لمحہ، پہلا، قصہ وغیرہ کا استعمال قافیہ کے طور پر کیا جانا ہی۔ آج کا مشاعرہ آنکھیں کسی کی یاد میں پرنم ہیں دوستو مصرع طرح پر منعقد ہوا جس میں مستؔ حفیظ رحمانی ، ضیا رحمانی،تنویرؔ پھول (نیو یارک امریکہ) ڈاکٹر عزیزؔ خیرآبادی، عمرانؔ انواروی، شہرتؔ انصاری،سلیم اخترؔ، اشتیاق علی صبا، سید ہ نفیس بانو شمع دہلوی، ڈاکٹر اخلاق احمد اخلاق، منظرؔ یٰسین، ڈاکٹر عرشی ؔپہانوی، قادرؔ لکھیم پوری، رضوانؔ خان، خوشترؔ رحمانی،ملک زادہ جاویدؔ، بدرؔ سیتاپوری، عارف محمد عارفؔ، منصور محورؔ، ارمانؔ انواروی، نفیسؔ سیتاپوری، نعیمؔ بسیتوی، عمرانؔ سیتاپوری، علیمؔ ساحل، حکمت ؔشاہ آبادی، درویشؔ سندیلوی، محفوظؔ ؔرحمانی، ڈاکٹر زبیرؔ صدیقی، نواب ؔشاہ آبادی، ریحانہ عاطفؔ نے اپنا طرحی کلام پیش کیا۔ مشاعرہ کی کامیاب نظامت نوجوان و خوشگلو شاعر رضوان خان نے بحسن و خوبی انجام دی۔ مشاعرہ کو کامیاب بنانے میں سلیم اخترؔ و عارف محمد عارفؔ نے سرکردہ رول ادا کیا۔مشاعرہ گاہ میں کثیر تعداد میں معزز شہری و سامعین موجود رہے ۔ مشاعرہ میں پسند کئے گئے اشعار ہیں۔
احساس غم نہیں ہے مگر ہم ہیں دوستو
ہم جیسے لوگ شہر میں اب کم ہیں دوستو
گم ہوکے دیکھئے تو کبھی اپنی ذات میں
کتنے جہان فکر میں عالم ہیں دوستو
مستؔ حفیظ رحمانی
بھولے پرانے غم تو نئے غم ہیں دوستو
تنہائیوں کا دشت ہے اعر ہم ہیں دوستتو
تنویرؔ پھول (نیویارک امریکہ)
آنکھوں کا احترام بھی لازم ہے اب مجھی
یہ بھی خیال یار میں پرنم ہیں دوستو
سیدہ نفیس بانو شمع
کچھ تو ہوائیں کی برہم ہیں دوستو
کچھ آس کے چراغ بھی مدھم ہیں دوستو
ڈاکٹر عزیزؔ خیرآبادی
عمرانؔ غمگساروں میں شامل ہے اپنا نام
دکھ درد میں ہمیں تو فراہم ہیں دوستو
عمرانؔ انواروی
مشہور ہے جہاں میں اگر وہ ہوا کری
شہرتؔ میں ہم بھی اس سے کوئی کم ہیں دوستو
شہرتؔ انصاری
اتری نہیں ہے دھوپ ابھی تک زمین پر
پیڑوں پہ قطرے صورت شبنم ہیں دوستو
ملک زادہ جاویدؔ
بھوکے پڑوسیوں پہ نظر ڈالتا ہے کون
اپنی ضرورتیں ہی مقدم ہیں دوستو
ڈاکٹر عرشیؔ پہانوی
تعداد میں اگر چہ بہت کم ہیں دوستو
چھائے ہوئے جہاں پہ مگر ہم ہیں دوستو
اشتیاق علی صباؔ
کل بھی مرے خلاف تھی حالات کی ہوا
اب مزاج وقت کے برہم ہیں دوستو
سلیم اخترؔ
رضوانؔ اب بھی ملتے ہیں سچے اور اچھے لوگ
یہ اور بات ہے کہ ذرا کم ہیں دوستو
رضوانؔ خان
شاید قریب آہی گیا آستان یار
دیوانگئی شوق میں سر خم ہیں دوستو
خوشترؔ رحمانی
سچ بات ہم نے کہ دی سر بزم ایک دن
کچھ لوگ ہم سے اس لئے برہم ہیں دوستو
ریحانہ عاطفؔ
دنیا میں گھوم آئیں گے ملیں گے کہیں نہیں
جیسے ہمارے ملک کے موسم ہیں دوستو
قادرؔ لکھیم پوری
جو کام آئے اپنے مصیبت کے دور میں
محسن وہی ہمارے ہیں ہمدم ہیں دوستو
بدرؔ سیتاپوری
جن کو نہ راس آئیں مری حق بیانیاں
کل بھی خفا تھے آج بھی برہم ہیں دوستو
عارف محمد عارفؔ
تنہا روی تو کبر و انا کی دلیل ہی
ہے لطف زیست اسی میں جو باہم ہیں دوستو
حکمتؔ شاہ آبادی
فرط خوشی سے زلف غزل کو سنوارنی
بزم ادب میں آئے ہوئے ہم ہیں دوستو
درویشؔ سندیلوی
اشعار جن کے اصل میں کنڈم ہیں دوستو
اس دور کے وہ شاعر اعظم ہیں دوستو
محفوظؔ رحمانی
چہرہ ہے گرد گرد دریدہ لباس ہی
کہنے کو ہم بھی صاحب عالم ہیں دوستو
عمرانؔ سیتاپوری
دشمن تو سب ہمارے منظم ہیں دوستو
ٹکڑوں میں جانے کتنے بنٹے ہم ہیں دوستو
منصور محورؔ
آباد کیسے ہوں گی بھلا اپنی بستیاں
مسجد سے دور آپ ہیں اور ہم ہیں دوستو
علیم ساحلؔ
ہر شخص چاہتا ہے فقت موسم بہار
گو زندگی میں اور بھی موسم ہیں دوستو
ڈاکٹر زبیرؔ صدیقی
آسان اتنا ہے نہیں چاہت کا بھولنا
آنکھیں کسی کی یاد میں پرنم ہیں دوستو
نوابؔ شاہ آبادی
کہنے کو اس زمانے میں انساں تو ہیں بہت
اب اہل درد اہل وفا کم ہیں دوستو
نعیمؔ بسیتوی
ڈاکو لٹیرے چور اچکے حرام خور
خود کو سمجھ رہے ہیں کہ رستم ہیں دوستو
ارمانؔ انواروی