ہر سال محرم الحرام کی چاند رات كو وقت کا بوڑھا مسافر عالم بشریت کے کہنہ کندھوں پر کھڑے ہوکر تہذیب کی بلندیوں سے حضرت انساں کی پستیوں کو دیکھتا ہے۔
وہ دیکھتا ہے کہ "کنتم خیر امۃ" میں سے بھٹکا ہوا اک کارواں اپنے دانتوں سے اپنے ہاتھوں کو کاٹ رہا ہے اور کہہ رہا ہے "یا لیتنی کنت ترابا" آسمان پر ہلال کی ننھی سی لو پھڑپھڑاتی ہے اور عہد اسلام کا سالِ نو بیتے لمحوں کا عصا لے کر جہنم کی راکھ کو ٹٹولتا ہے کہ کہیں سے "ھل من مزید" کی صدا آئے، مگر اب تو جہنم سیر ہوچکی ہے، داروغہ برزخ نے جہنم کے سارے دروازے بند کر دیئے ہیں، مگر ایک دروازہ کھلا ہے، وہ ایک دروازہ جس کے اوپر لکھا ہے،
خوش آمدید:
ہادی برحق سے آگے بڑھ جانے والوں یا پیچھے رہ جانے والوں کو خوش آمدید۔
زمین پر آج کی شب کہیں بھی خوش آمدید یا خوشی کا کوئی سراغ نہیں ملتا، خاندان نور کے ستارے ایک ایک کرکے لق و دق صحرا میں ایک کہکشاں بنانے والے ہیں۔ ایک ایسی کہکشاں جو ہادی برحق کے گرد ہالہ بنا دے۔ ابھی تو کہکشاں بنی نہیں، ابھی تو شبِ ماہتاب کے مسافر اترے نہیں، مگر ریت کے جھلسے ہوئے ٹیلوں کے عقب میں ایک ناگن پھنکار رہی ہے۔ وہی ناگن جس نے چند سال پہلے احد میں کسی رضی الله کے جگر کو چبایا تھا، وہ ناگن پھن پھیلائے بیٹھی ہے اور ہلال محرم كو ديکھ كر اس كی رال ٹپك رہی ہے۔
لیلائے شب نے اس ناگن کے ڈر کے مارے غم کی چادر تان لی ہے اور ستارے ایک دوسرے کو خاموشی سے دیکھ رہے ہیں، جب ناگن پھنکارتی ہے تو ریت کے ذرے اڑھ کر ستاروں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں، گویا زبان حال سے کہہ رہے ہوں۔۔۔ قافلے والو یہاں پڑاو نہ ڈالنا، آج کی شب تو موسم اچھا ہے، کل نجانے کیا ہوگا۔۔۔