15.10.2026, 11:23am , جعمرات (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
اعلان و انتخاب آجکا دن
 

یہ عہد اپنے بیٹے کے ساتھ ھے میں اپنے بیٹے کی بیعت کرتا ھوں
07.11.2013, 06:30pm , جعمرات (GMT+1)

سیدہ رافعیہ گیلانی ۔راجن پور
تاریخ اعثم کوفی میں لکھا ھے کہ معاویہ شام میں برگشت کے موقع پر اترا تو اس کو لقوہ ھو گیا اور بستر پر بڑی مشکل سے پھنچا دوسرے دن لوگوں کو پتا چلا تو عیادت کے لئے آنے لگے ، معااویہ نے کہا مصیبتیں دو وجوہات کی وجہ سے آتی ھیں 1 بہ سبب گناہ کہ خدا ان پر عزاب کرتا ھے تاکہ دوسروں کو عبرت ہو اور وہ نصیحت پکڑین اور گناہ نا کریں 2 بہ سبب عنایت خدا تاکہ اس کو ان تکالیف کہ بدلے میں ثواب سے نوازے

 آج اگر میں بیماری میں مبتلا کیا گیا ھوں تو کیا کر سکتا ھوں یہ ایک عضو کی بیماری ھے تو دوسرے عضو تو درست ھیں اگر چند روز بیمار ھوں تو صحت مندی کے ایام بہت زیادہ ھیں جو میں نے گزارے ھیں ، میرا کوئی حق خدا پر نھیں ھے میں نے ایک لمبا عرصہ اقتدار میں گزارہ ھے آج مین ستر سال کا ھوں خدا ان مسلمانوں پر رحمت کرے جو میری عیادت کے لئے آرھے ھیں اور صحت مندی کی دعائیں کر رھے ھیں - جو جماعت اس کے پاس تھی وہ چلی گئی تو وہ تنہا تھا اور رونے لگا مروان نے پوچھا اے امیر کیوں روتے ھیں تو اس نے کہا میں روتا نھیں مگر اس لئے کے میں بہت سے کام کر سکتا تھا لیکن نھیں کیئے لہذا اپنی غلطیوں پر پشیمان ھوں اور حیرت زدہ بھی دوسرا اس لئے بھی کہ یہ بیماری میرے ایک عضو پر ظاہر ھوئی ھے اور دن بدن بڑہ رھی ھے مجھے یہ خوف ھے کہ شاید مصیبت مجھ پر اس لئے آئی ھے کہ میں نے خلافت علی بن ابی طالب سے چالاکی سے چھین لی تھی اور حجر بن عدی اور اس کے ساتھیوں کو قتل کیا یہ سارے عذاب مجھ پر ھو گئے ھیں اور یہ سارے دکھ میں یزید کی محبت میں دیکھ رہا ھوں -

اگر یزید کی محبت نا ھوتی تو میں سیدھے راستہ پر ھوتا اور اپنی رشد کو پہچانتا لیکن یزید کی محبت نے مجھے ایسی حرکتوں باتوں جنگوں پر چڑھایا کہ آج میرے دشن مجھ پر ہنستے ھیں اور دوست روتے ھیں - پھر معاویہ ابواہ سے شام کے مقام پر پہنچا گھر گیا تو بیماری زوروں پر تھی اور پورے چہرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا اور روز رات کو شور شرابے والے خواب دیکھتا تھا اور ڈرتا تھا کبھی کبھی ہزیان بکتا تھا پانی بہت پیتا تھا اس کی پیاس بجھنے کا نام نھیں لیتی تھی ہر لحظہ بعد بے ھوش ھو جاتا تھا - جب ھوش آتا تو یہی بات منہ سے بہ آواز بلند بولتا تھا اے عمرو بن حمق مجھے کیا تھا میں نے تمھاری مخالفت کی ۔ اے فرزند ابی طالب یا علی ،یاعلی ،یا علی ع ، س  ، پھر کہتا اے اللہ اگر مجھے عزاب دیتا ھے تو میں حق دار ھوں اور اگر معاف کر دے تو مہربان ھے تو کریم خدا ھے - معاویہ کی اس حالت میں یزید ایک لحظہ بھی دور نا ھوا اسی دوران معاویہ پر بار بار غشی طاری ھو جاتی تھی ، ایک قریشی عورت وہاں موجود تھی اس عورت نے کہا معاویہ مر گیا ھے تو سن کر معاویہ نے آنکھیں کھولیں اور کہا اگر معاویہ مر گیا ھے تو سخاوت کا پہاڑ غرق ھوا پھر اپنے گلے میں لٹکائے تعویذ کو کھینچا اور دور پھینک دیا 

اس وقت یزید نے کہا تم اب میری بیعت کرو تاکہ لوگ سنیں مصلیحت اسی میں ھے اگر تم نے میری ببیعت نا محکم طور پر نا لی تو خدشہ ھے کہ آل محمد سے دکھ جھیلوں (نعوذ باللہ )- معاویہ یہ باتیں سنتا رہا لیکن خاموش رہا - دوسرے دن بروز بدھ کسی کو بھیجا اور امرا مخلیصین اور معززین اور دوستوں کو بلا بھیجا اور اپنے نگران سے کہا جو بھی آنا چاھے آنے دیا جائے روکنا نھیں لوگ آتے معاویہ کو سلام کرتے اور چلے جاتے لوگ ضحاک بن قیس جو شہر کا پاسبان اور دروغہ تھا کہ پاس آتے اور کھتے ھمارا عظیم امیر مشکل میں ھے اور بیماری سے بچ نھیں سکتا اس کے بعد کون خلیفہ ھو گا کیا یہ مصلحت ھے کہ خلافت اندان بنی امیہ سے باہر چلی جائے اور ابو تراب کی آل کے حوالے ھو جائے ھم تو اس بات پر راضی نہ ھونگے - پھر ضحاک بن قیس کو لوگ کہتے تھے کہ تم امیر کے مخلص اور خاص ساتھی ھو تم امیر کو تلقین کرو کہ وہ یزید کو خلافت ہدیہ کر دے ھم اس بات پر راضی ھیں - ھم سب کی یہی خواہش ھے   ضحاک اور مسلم دونوں امیر کے پاس آئے اور پوچھا طبیعت میں بہتری ھوئی کیا تو اس نے جواب دیا میں نے بہت زیادہ گناہ کئے ھیں اللہ کے عذاب سے ڈرتا ھوں لیکن پھر بھی اس کی رحمت کا امیدوار ھوں ضحاک نے کہا لوگوں نے آپ کی حالت دیکھی ھے اور پریشان ھیں مشکل میں پڑے ھیں اور اختلاف کا خطرہ پیدا ھوگیا ھے ابھی تو آپ زندہ ھیں اگر دنیا سے چلے گئے تو نا معلوم کیا ھو گا - 

پھر مسلم بن عقبہ نے کہا لوگوں کے دل یزید کو خلیفہ بنانے کے لئے تیار ھیں اور تمام اس سے محبت کرتے ھیں اے امیر آج وقت ھے دینا سے جانے کی کوئی بات نا کرو اور یزید کو خلیفہ مقرر کر کے خود اس کی بیعت کرو اور اس کام کو پایہ تکمیل تک پہنچاؤ - معاویہ نے کہا بالکل ٹھیک بات کی ھے تم نے مسلم میرے دل میں برسوں سے یہی خواہش تھی کہ یزید کو خلیفہ بناؤں اور کاش یہ خلافت میرے خاندان میں قیامت تک رھے اور ابو طالب کی اولاد کبھی بھی میری اولاد پر غالب نا ھو لیکن آج بدھ کا دن ھے اور بدھ کے دن کئے گئے کام کا انجام خراب ھوتا ھے یہ کام کل تک کے لئے توقف کر دو مگر ضحاک اور مسلم نے کہا لوگ باہر جمع ھیں اور واپس نھیں جائیں گے جب تک کہ یزید کی بیعت آپ نھیں کرتے ، پھر معاویہ نے کہا لوگوں کو اند بھیجو ضحاک اور مسلم نے ستر معروف آدمی چن کر معاویہ کے پاس اندر بھیجے وہ اند ر آئے اور سلام کیا معاویہ کے فضائل بیان کئے تعریفیں کیں علی بن ابی طالب کی توھیں کی زلت کی خاک منہ میں ڈالتے رھے ،کیوں کہ نفس رسول ص کی توھیں کرنا عزاب الہی کو دعوت دینا ھے لوگوں نے یہ بھی کہا ھمیں علی کی اولاد کی خلافت نھیں چاھئے علی ع،س نے عراق سے شام کے لئے لشکر سے حملہ کیا ھمارے مردوں کو قتل کیا شہروں کو خراب کیا اب اس کے بیٹوں کو ھمارا خلیفہ نھیں بننا چاھیئے ،، یوں معاویہ خوش ھوا اور بہت سے لوگوں نے بکواس کے کلمات کہے پھر معاویہ نے تقریر شروع کی اے لوگو تم جانتے ھو دنیا کی انتہا زوال ھے ہر شخص کی عمر ختم ھونی ھے آج میں زندگی کی آخری سانس لے رہا ھوں لیکن میرا دل اب بھی تمھارے لئے تڑپ رہا ھے تاکہ مین جس کو چاھوں خلیفہ بنا دوں تمام لوگوں نے بلند آواز کہا ھمیں یزید کے علاوہ کوئی خلیفہ نھیں چاھیئے -  

معاویہ نے جب دیکھا تو ضحاک سے کہا یزید کی بیعت کرو ضحاک نے بیعت کی اس کے بعد مسلم نے بیعت کی پھر تمام لوگ باری باری بیعت کرتے رھے پھر معاویہ نے یزید کو خلافت کا لباس پہنایا اس کے سر پر دستار رکھی زرہ پہنائی انگلی میں انگوٹھی پہنائی عثمان کی خون آلود قمیض کو زرہ کے اوپر دالا اپنے باپ کی تلوار حمائل کی اور یزید  باہر آیا مسجد میں گیا منبر پر بیٹھ کر خطبہ دیا زوال تک منبر پر رہا باقی شامیوں سے بیعت لیتا رہا زوال کے وقت باپ کے سرہانے آیا وہ ھوش میں نا تھا آدھی رات کو وہ ہوش میں آیا آنکھ کھولی اور حال پوچھا بیٹا کیا ھوا اس نے کہا میں دیر تک منبر پر رہا ھوں اور لوگوں سے بیعت لی ھے خطبہ دیا ھے لوگ مجھ سے بہت کوش ھیں پھر معاویہ نے ضحاک اور مسل کو کہا میرے سرہانے کاغذ ھے اس کو نکالو میں نے اس پر اپنی وصیت لکھی ھے وہ لوگوں کو سنانا یہ وصیت برائے یزید کے نام سے پڑھی گیئ 

  وصیت برائے یزید ، بسم اللہ الرحمن انرحیم ، یہ عہد اپنے بیٹے کے ساتھ ھے میں اپنے بیٹے کی بیعت کرتا ھوں اور خلافت اس کے  حوالے کرتا ھوں تاکہ یہ عدل و انصاف کی راہ پر چلا سکے خلافت یزید کے حوالے ھے اور وہ اس کا امیر ھے اس نے کہا اہل عدالت و رضا کی سیرت پر چلنا ضروری ھے اور مجرموں کی جرم و جنایت کے مطابق سزا دینا اہل علم و اصلاح کو اچھا سمجھنا اور ان پر احسان کرنا ، دیگر عرب قبائل سے قبیلہ قریش سے خصوصی رعایت کرنا ، اور اپنے دوستوں کو قتل کرنے والے سے دوری اختیار کرنا اور مقتول عثمان کی اولاد سے قرب اختیار کرنا اور ان کو آل ابو تراب سے مقدم رکھنا ، اور بنی امیہ اور بنی آل عبد الشمس کو بنی ہاشم پر مقدم رکھنا ، جس جس پر یہ عہد پرھا جائے یا جس پر یہ بات پہنچے اس پر واجب ھے کہ وہ یزید کو اپنا امیر سمجھ کر اس کی اطاعت کرے اور یزید کی اتباع کو پہشہ بنائے بس مرحبا واھلا اور جو اس عہد کا انکار کرے تو تلوار سے اسے سمجھا دیا جائے تاکہ یزید کی امارت اور خلافت کا اقرار کرے اور اس کا مطیع ر فرما بردار ھو جائے

:دیگر مضامین
(06.11.2013) استقبالِ محرم ۔۔۔۔ سید قمر رضوی کی فکر انگیز تحریر
(06.11.2013) ہلال محرم ۔۔۔۔۔ سید قمر رضوی کی ایک منفرد تحریر
(05.11.2013) ہادی برحق سے آگے بڑھ جانے والوں یا پیچھے رہ جانے والوں کو خوش آمدید۔
(05.11.2013) ہماری دینی اور سیاسی دونوں قیادت بدعنوان ہے
(04.11.2013) بزرگ عالم باعمل سید نیاز حسین ھمدانی کا حجت الاسلام کو استدلالی جواب
(04.11.2013) فیس بک پر موجود کویت کے ایک خطیب کی تحریر۔ ذکر حسین میں ریا کاری جائز ہے
(03.11.2013) مشاعروں کے کاروباری شاعر شعر و ادب کی نتزلی کا سبب
(03.11.2013) حکیم اللہ محسود کون تھا؟ حکیم اللہ محسود کا اصل نام جمشید محسود تھا
(31.10.2013) ہندوستانی مسلمان اور سیاست۔۔۔۔۔۔از۔۔۔۔۔۔مشرف عالم ذوقی
(29.10.2013) ورلڈ اکنامک فورم کی سالانہ صنفی خلا یا ‘جینڈر گیپ رپورٹ’ جاری ہوچکی
(27.10.2013) جنوبی ایشیا میں اقلیتوں کے حقوق پرکانفرنس آئندہ سال ہوگی
(24.10.2013) غالب اسٹڈیز سینٹر ، ابن سینا اکاڈمی، علی گڑھ کے زیر اہتمام کل ہند مشاعرہ
(21.10.2013) ماضی کی معروف گائیکہ زبیدہ خانم کولاہورمیں سپردِخاک کر دیا
(19.10.2013) گوشت کی تقسیم کے بعد مرحلہ آتا ہے مزے مزے کے چٹخارے دار پکوان کھانے اور بنانے کا۔
(16.10.2013) گلہائے مُتبسِم کا مصنف( ڈاکٹر سالم جعفری) اظہار خیال (فرخندہ رضوی)۔
(16.10.2013) ایک اہم سوال ۔ قربانی کے گوشت کی تقسیم کس طرح کرنی چاہئے؟
(12.10.2013) نوبل امن انعام 2013 کے لیئے 259 امیدواروں، 50اداروں کا انتخاب کیا گیا
(10.10.2013) ہفتہ بارہ اکتوبر کو نیو ساؤتھ ویلز سڈنی میں عید کے موقع پر میلہ۔داخلہ فری
(07.10.2013) عالمی یوم معلم ہر سال پانچ اکتوبر کو منایا جاتا ہے _ از ۔۔۔۔۔۔ ارم نقوی
(05.10.2013) گلوکار مسعود رانا کی اس سال ۲۰۱۳ میں اٹھارہویں برسی منائی جارہی ہے۔



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں