آج کے ملاں کا پیٹ بھرا لیکن دماغ خالی ہے۔ منبروں اور مسجدوں پر قبضہ کرنے والے خود تو پجارو میں گھومتے ہیں لیکن عالم دین بلکہ حقیقی عالم دین آج بھی عسرت کی زندگی بسر کر رہا ہے
اپنے مقاصد کے لیئے خود ساختہ اھادیث کا سہارا لیکر شر پھیلانے والے یہ لوگ آخرت سے بے خبر ہیں اور مسلمانوں میں تفریق اور ناامیدی پھیلا رہے ہیں
فکر سے عاری یہ لوگ قرآن کی بنیادی فکر سے بھی محروم ہیں
خدائے متعال اپنے کلام پاک کی بہت سی آیتوں میں ،انسان کوغوروفکر،اورتدبر کی ترغیب اور تشویق فرماتا ہے اور اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ آسمانوں ،زمین اور ان میں موجود گوناگون مخلوق کی خلقت کے بارے میں غورو فکر کریں
بالخصوص انسان کی خلقت کے بارے میں غور و فکر سے کام لیںگزشتہ ملتوں اور امتوں کی تاریخ ،آثار ،رسو مات ،عادات اور طور طریقوں،جو حقیقت میں مختلف علوم وفنون انسانی ہیں ،مطالعہ کی تاکید کرتا ہے اور ان مطالعات کے ذریعہ اپنی حقیقی سعادت حاصل کریں۔اور جان لینا چاہئے کہ فنی نظریات اور علمی مسائل کی چھان بین کرنا اس دنیا کی چند روزہ محدود زندگی کی فلاح وبہبود کے لئے نہیں ہے بلکہ علمی مطالعات کی بنیاد پر جاودانی حیات کی سعادت وآسائش حاصل کر نے ہونا چاہئے ۔