گزشتہ چوتھی قسط میں بات یہاں تک پہنچی تھی کہ ‘‘ لندن روانگی سے قبل صبح کا, رات کے کھانے کی طرح کا ناشتہ بھی جو ہم نے کیا تو وہ انہیں میاں جاوید کے گھر پر تھا‘‘۔میاں صاحب سے رات گئے تک گفتگو کا سلسلہ
جاری رہا۔ اسی دوران میں نے سوچا کیوں نہ ان سے یہاں کے پاکستانیوں اور اس تنظیم کے بارے میں بنیادی معلومات ہی حاصل کر لوں۔ بس یہی سوچ کر سب سے پہلے تو میں نے ان سے سویڈن اور سٹاک ہولم میں پاکستانیوں کی تعداد اور انکی مصروفیات کے بارے میں پوچھا تو اب جیسے صرف ایک
میاں جاوید کی بجائے جعفر مغل اور رحمت علی بھی اپنے اپنے حصے کی معلومات دینے لگے اور اچھی بات یہ تھی کہ کوئی بھی معلومات یہ تینوں دوست آپس میں گفتگو کر کے پہلے مصدقہ بناتے تھے اور پھر میں نکات کی صورت میں اسے ٹائپ کر لیتا تھا۔
میاں جاوید بتا رہے تھے سویڈن میں کوئی نو ہزار پاکستانی ہیں اور سب سے زیادہ پاکستانی سٹاک ہولم میں ہیں۔
سٹاک ہولم کی آبادی کوئی 25 لاکھ ہے اور اسی سٹاک ہولم میں پاکستانی کوئی چار ہزار کے قریب ہیں۔ ایک خوش آئیند بات یہ ہے کہ اب پاکستان سے ہائر ایجوکیشن یعنی اعلیٰ تعلیم کے لیئے بڑی تعداد میں طلبا آ رہے ہیں اور اس سلسلے کا اہتمام پاکستان کے سابق وفاقی وزیر
ڈاکٹر عطا الرحمٰن نے سویڈش حکومت کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت کیا تھا کیونکہ اس ملک میں ابھی بھی ہائر ایجوکیشن فری ہے۔
یہ بھی حیرت کی بات ہی ہے کہ اب جبکہ برطانیہ جیسے فلاحی ملک میں یونیورسٹی کی اعلیٰ تعلیم مفت نہیں رہی اور یہاں کی شہریت رکھنے والوں کو بھی فیس کی بڑی رقم ادا کرنا پڑتی ہے تو ایسے میں سویڈن میں ابھی بھی بنیادی تعلیم تو مفت ہے ہی لیکن اعلیٰ تعلیم بھی مفت ہے جسکا خرچ حکومت برداشت کرتی ہے۔
میاں جاوید کی بات کو تقویت دیتے ہوئے جعفر مغل اور نوید بٹ نے اس امر کی تصدیق کی کہ سویڈن کی ہر بڑی یونیورسٹی میں کوئی نہ کوئی پاکستانی طالب علم حصول تعلیم میں مصروف ہے ۔
مجھے اس بات کے جاننے کی خواہش تھی کہ سویڈن میں اہل پاکستان کی آمد کب شروع ہوئی۔ میں نے یہ سوال میاں جاوید سے کیا تو پہلے ان تمام دوستوں رحمت علی،جعفر مغل اور نوید بٹ نےآپس میں مشاورت کی اور پھر ان سب کے ترجمان کے طور پر میاں جاوید ، نوید بٹ کے بیڈ نما صوفے پر ذرا سنبھل کر بیٹھے اور کہنے لگے کہ
‘‘سویڈن میں پاکستانیوں کی آمد کا سلسلہ 69 میں شروع ہوا اور ان آنے والوں میں ماسکو میں تعلیم حاصل کرنے والے پاکستانی افراد تھے ۔یہ لوگ یہاں کام کرنے کی خاطر آئے تھے کیونکہ جو قانون آج بھی موجود ہے وہی اسوقت بھی نافذ تھا اور اسی قانون کے تحت تعطیلات کے دوران طلبا دوسرے ممالک سے یہاں آ کر کام کر سکتے تھے اسوقت یہ ویزہ تین ماہ
کی مدت کا ہوا کرتا تھا۔

اسی دوران زیادہ تر ماسکو سے آنے والے کئی طلبا نے یہاں شادیاں کر لیں اور یہیں مقیم ہو گئے۔ ان میں سے کچھ لوگ آج بھی حیات ہیں۔ جن میں
خواجہ شاہد،دین چوہدری،اشتیاق احمد،قیوم وائین۔امتیاز بشیر وغیرہ شامل ہیں۔
ناروے اور ڈنمارک میں جس طرح اہل گجرات کی اکثریت ہے یہاں سویڈن میں اس طرح نہیں ہے بلکہ پاکستان کے متعدد شہروں سے آنے والے لوگ مقیم ہیں۔ زیادہ تر پاکستانی نوکری پیشہ ہیں اور کچھ کے اپنے ذاتی کاروبار بھی ہیں۔ پاکستانی برادری یہان سویڈن میں دوسرے ممالک کی نسبت زیادہ قانون کا احترام کرنے والی اور مقامی لوگوں میں مقبول ہے‘‘۔
میں نے خود بھی یہاں سٹاک ہولم میں اپنے قیام کے دوران یہ اندازہ کیا کہ مقامی لوگ پاکستان
یوں کو زیادہ تر عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور پاکستانی جوکاروبار کرتے ہیں یا پھر سرکاری نوکریوں میں ہیں انہوں نے اپنے اپنے علاقوں میں بہت اچھا تاثر قائم کر رکھا ہے ورنہ ایسے کتنے ہی ملک ہیں جہاں رہنے والے پاکستانیوں نے انفرادی طور پر اپنے ساتھ ملک
کے تاثر کو بھی داغدار کیا ہے۔
میاں جاوید بتا رہے تے کہ سویڈن میں یہاں کے نظام تعلیم میں نویں جماعت تک کی تعلیم سیکنڈری کہلاتی ہے اور اسکے بعد کے تین سال کی تعلیم کو جمنازیم کہا جاتا ہے جو دراصل کالج کی تعلیم ہے جس کے بعد اعلیٰ تعلیم حاصل کی جاتی ہے۔پاکستانی بچوں کی بہت بڑی تعداد حصول علم کی طرف راغب ہے جسکی وجہ سے مقامی سوسائیٹی میں پاکستانی برادری کا نام اچھے طور پر لیا جاتا ہے۔ بھارتی اور بنگلہ دیشیوں کی تعداد ابھی بھی اس ملک میں پاکستانیوں سے کم ہے۔
بیرون ملک پاکستانی سفارتخانوں کی کارکردگی اور پاکستانیوں سے سفارت خانوں کے عملے کا سلوک ایک طویل عرصے سے ایک سوالیہ نشان رہا ہے اور میں نے خود بھی اس بات کا مشاہدہ کیا ہے کہ جس طرح پاکستانی حکومتوں کا اپنے عوام کے ساتھ حاکمانہ رویہ رہا ہے اسی کی ایک بڑی واضع جھلک بیرونی ممالک میں اکثر پاکستانی سفارتخانوں میں بھی نظر آتی ہے۔ یہاں لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن کے حالات سے میں بخوبی واقف ہوں جو کسی
طرح بھی کوئی مثالی نہیں ہیں۔ یہاں بھی لوگ آج صرف قطب الدین عزیز اور کسی حد تک ڈاکٹر ملیحہ لودھی کی خدمات کو یاد کرتے ہیں ورنہ زیادہ تر سفیر جیسے اپنی مدت ملازمت پوری کر کے چلے گئے۔اسی تاثر کے پیش نظر میں نے ان احباب سے سویڈن میں پاکستانی سفارتخانے،اسکی کارکردگی اور پاکستانیوں کے ساتھ اسکے عملے کے سلوک کے علاوہ کسی ایک ایسے سفیر پاکستان کے بارے میں جاننا چاہا کہ جسے یہاں سے چلے جانے کے باوجود آج بھی اہل پاکستان یاد کرتے ہوں۔
میرے اس سوال پر کمرے میں کچھ دیر کے لیئے خاموشی ہوئی۔ ظاہر ہے سوال ہی ایسا تھا۔مجھے تو یہ معلومات لیکر شائع کر دینی ہیں لیکن ان احباب کو تو یہیں رہنا ہے اور ظاہر ہے کہ پاکستانی سفارتخانے سے ان کا سابقہ بھی پڑنا ہے ۔
کچھ دیر کی خاموشی اور سکوت اس طرح ٹوٹا کہ ان چاروں احباب میاں جاوید،رحمت علی،جعفر مغل اور نوید بٹ نے اتفاق رائے سے ایک سفیر کا نام لیا اور سب نے متفقہ طور پر بتایا کہ ان سفیر موصوف سے پہلے یا بعد میں کوئی ایسا سفیر نہیں آیا جو سویڈن کے مقامی لوگوں میں اورخود پاکستانیوں میں اپنا اتنا اچھا تاثر قائم کر کے گیا ہو۔اس سفیر کا نام ان دوستوں نے شاہد کمال بتایا۔ ہے نا یہ بات کمال کی کہ سفیر شاید کمال کو آج کو سویڈن کے پاکستانی کمالِ محبت سے کمال حد تک یاد کرتے ہوئے کمال کا سفیر بتاتے ہیں۔(جاری ہے)