یوم عاشور کے موقع پر راولپنڈی میں جو سانحہ رونما ہوا وہ ہر اعتبار سے قابل افسوس رہا ۔ بعض غیر ذمہ دار اور انتہا پسند عناصر نے اس فضاءکو مکدر اور سوگوار کر دیا جو فرقہ واریت کے اعتبار سے ہم آہنگی اور افہام و تفہیم کی تصویر تصور کی جاتی تھی۔ ہر سال کی طرح اس مرتبہ بھی تعزئیے اور ذوالجناح کے جلوس بر آمد ہوئے لیکن راولپنڈی میں راجہ بازار کا علاقہ دیکھتے ہی دیکھتے آتشزدگی اور ہنگامہ آرائی کا ایسا منظر پیش کرنے لگا جس پر ہر محب وطن اور حساس مسلمان کا دل خون کے آنسو رونے لگا۔ یہ ہنگامہ آرائی دیکھتے ہی دیکھتے اتنی شدت اختیار کر گئی کہ انتظامیہ کو فوج طلب کرنا پڑی اور کرفیو کا نفاذ کرنا پڑا جس کے بعد حالات معمول پر آنا شروع ہو گئے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ ایسے عالم میں نشانہ بے گناہ اور بے قصور افراد ہی بنتے ہیں۔یہاں یہ نشاندہی کرنے کی ضرورت نہیں ہے کہ اس افسوسناک واقعہ کے نتیجہ میں وطن عزیز کی جگ ہنسائی ہوئی اور اسلام دشمن عناصر کو ایک مرتبہ پھر یہ پروپیگنڈہ کرنے کا موقع ہاتھ آ گیا کہ پاکستان میں مذہبی انتہا پسندی اپنے عروج پر ہے ۔
یہ امر انتہائی قابل اطمینان اور قابل تحسین ہے کہ عوام کی طرف سے ان واقعات پر جو رد عمل ظاہر کیا گیا وہ فرقہ واریت کی بنیاد پر نہیں بلکہ حب الوطنی کی بنیاد پر مشاہدہ کیا گیا ۔ ہر مکتب فکر کے افراد نے افسوسناک واقعہ رونما ہونے کے باوجود مذہبی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی پر ہی زور دیا ۔ اگرچہ امن و امان کو برقرار رکھنے کی ذمہ داری صوبائی حکومت کے باب میں تصور کی جاتی ہے لیکن اس واقعہ کے بعد وفاقی حکومت نے بھی غیر معمولی انداز میں متحرک اور اثر انگیز کردار ادا کیا ۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ سانحہ راولپنڈی کی تحقیقات کے لئے عدالتی کمیشن اور حقائق جاننے کے لئے پنجاب حکومت نے کمیٹی قائم کر دی۔ وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے دسویں محرم کے موقع پر مذہبی گروپوں میں تصادم کے حوالے سے حقائق تک پہنچنے کے لئے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی قائم کر دی ہے۔ انہوںنے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی وزیراعظم نواز شریف اور اپنے قریبی رفقاءکے مشورے سے قائم کی ہے ۔ کمیٹی سات روز کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔ کمیٹی کے چیئرمین نجم سعید ہوں گے جبکہ اس میں سیکرٹری پراسیکیوشن ندیم کیانی اور ایڈیشنل آئی جی محمد شفیق شامل ہوں گے۔ میاں شہباز شریف نے ہدایت کی ہے کہ کمیٹی اس واقعہ کی تہہ تک پہنچے اس کی ابتداءکیسے ہوئی ؟ انتظامیہ اور پولیس کا کیا کردار تھا اور وہ کیوں خاموش تماشائی بنی رہی؟ وزیراعلیٰ میاں شہباز شریف نے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان سے بھی صلاح و مشورہ کیا اور حالات پر قابو پانے کے لئے اقدامات کا جائزہ لیا گیا ۔ وزیراعظم نواز شریف چاہتے ہیں کہ اس المناک واقعہ کی تحقیقات شفاف انداز میں ہوں اور اصل مجرموں کی بجائے بے گناہوں کو پکڑ کر خانہ پری نہ کی جائے ۔ ادھر پنجاب حکومت کی درخواست پر لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عمر عطاءبندیال نے پنجاب حکومت کی درخواست پر راولپنڈی میں دو گروپوں کے درمیان تصادم کی تحقیقات کے لئے کمیشن تشکیل دیدیا ہے جس کی سربراہی جسٹس مامون رشید کریں گے۔
دریں اثناءراولپنڈی میںممتاز علماءکرام کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے کہا کہ سانحہ راولپنڈی کے مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچا کر د م لیں گے۔ راولپنڈی کے واقعہ کی تحقیقات ہائی کورٹ کے جج سے کروانے کا حکومت نے پہلے ہی فیصلہ کیا ہے اور تحقیقات کے دوران کسی قسم کی انتظامی کمزوری اور کوتاہی کے مرتکب افراد کو ہر گز معاف نہیں کیا جائے گا۔ سانحہ کی مختلف پہلوﺅں سے تحقیق اور املاک کو پہنچنے والے نقصانات کا اندازہ لگانے کے لئے ایک کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔ علماءوسیع تر قومی مفاد میں مسجد اور ممبر کے پلیٹ فارم سے امن و آشتی مذہبی رواداری اور ہم آہنگی کا پیغام دیں اور امن و استحکام کے حوالے سے اپنا کردار ادا کریں ۔ حکومت کے ساتھ ساتھ امن و آتشی ، بھائی چارے اور مذہبی ہم آہنگی کی فضاءقائم کرنے کی ذمہ داری علماءکرام پر بھی عائد ہوتی ہے۔ وفد میں مولانا سمیع الحق ، مولانا حنیف جالندھری، مولانا اشرف علی ،مولانا زاہد محمود قاسمی، مولانا عبدالخبیر آزاد، مولانا قاری عبدالرشید، عبدالمجید ہزاروی، مولانا حافظ محمد صدیق، مولانا عتیق الرحمن، مولانا فضل الرحمن خلیل، مولانا حبیب الرحمن، مولانا یوسف شاہ، مولانا گوہر رحمن، مولانا محمد اویس، مولانا قاری سردار علی سمیت جید علماءکرام وفد میں شامل تھے جبکہ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان ، صوبائی وزیر قانون رانا ثناءاللہ بھی اس موقع پر موجود تھے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ علماءحکومت سے تعاون کرتے ہوئے اپنی اجتماعی بصیرت کو بروئے کار لا کر لوگوں کو اتحاد و یگانگت اور امن کا پیغام دیں۔ پاکستان میں سنی شیعہ، اہل حدیث، بریلوی تمام مکاتب فکر کے لوگ آباد ہیں حتیٰ کہ عیسائی سکھ ہندو اور دیگر اقلیتیں بھی آباد ہیں ہم نے سب کو ساتھ لے کر امن اور اتحاد سے ملک میں رہنا ہے۔ انہوںنے کہا کہ دنیا کے دیگر ممالک بالخصوص اسلامی ممالک میں ایسے واقعات ہوتے اور سب ایک ضابطہ اخلاق کے تحت اپنے اپنے ملک کی ترقی کے عمل میں شریک ہیں۔ انہوں نے وفد کو جلد از جلد عدالتی تحقیقات کی تکمیل اور ملزموں کو قانون کے تحت کیفر کردار تک پہنچانے کا بھی یقین دلایا۔ وزیراعلیٰ نے زخمیوں کو علاج معالجے کی بہترین سہولتیں فراہم کرنے کے سلسلے میں سیکرٹری صحت کو بھی احکامات جاری کئے۔ انہوں نے نماز کی ادائیگی اور مدرسہ تعلیم القرآن کے طلباءکو اپنی تعلیم جاری رکھنے کے سلسلے میں عارضی طور پر متبادل جگہ فراہم کرنے کے سلسلے میں بھی متعلقہ حکام کو ہدایات دیں۔ اس موقع پر علماءنے یقین دہانی کرائی کہ نماز جنازہ کے دوران ہر صورت میں امن و امان قائم رکھا جائے گا ۔
ادھر جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے ایک بیان میں کہا کہ عوام اشتعال میں نہ آئیں اور نہ ہی افواہوں پر ردعمل ظاہر کریں۔ حکومت نے ملزمان اور ذمہ داران کو منظر عام پر لانے اور کیفر کردار تک پہنچانے کے لئے جو یقین دہانیاں کرائی ہیں ان پر عملدرآمد کا انتظار کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ راولپنڈی میں افسوسناک واقعہ کی وجہ سے پوری قوم سوگوار ہے ۔ انصاف کی فراہمی پہلی ترجیح ہونی چاہیے اور سانحہ راولپنڈی کے متاثرین کو فوری طور پر معاوضہ دیا جائے ۔ کراچی میں مفتی اعظم پاکستان اور دارالعلوم کراچی کے نائب صدر مفتی رفیع عثمانی نے مطالبہ کیا ہے کہ سانحہ راولپنڈی میں ملوث افراد کو گرفتار کیا جائے اور مذکورہ واقعہ کے ذمہ داروں کو سرعام پھانسی دے کر عبرت کا نشان بنا دیا جائے۔ مذکورہ سانحہ سوچا سمجھا منصوبہ تھا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ شہداءکے لواحقین کو معاوضہ ادا کیا جائے۔ مدرسے کے نقصان کا ازالہ کیا جائے۔ یہ سانحہ سنی شیعہ فسادات کرانے کی سازش ہے جسے سب مل کر ناکام بنا دیں۔
کون نہیں جانتا کہ بین الاقوامی سطح پر وطن عزیز کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کو پامال کرنے کے لئے سازشوں کا سلسلہ جاری ہے ۔ اس کا اندازہ یوں کیا جا سکتا ہے کہ خود گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے دو ٹوک اور واضح الفاظ میں انکشاف کیا کہ حالیہ فرقہ وارانہ بد امنی کے واقعات کے پیچھے غیر ملکی ہاتھ کار فرما ہے ۔ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ ملک کی مشرقی اور مغربی سرحدوں پر اشتعال انگیز کارروائیوں کاسلسلہ گاہے ماہے تیز ہو جاتا ہے ۔ پاک فوج انتہائی تحمل اور بر د باری کا ثبوت دیتے ہوئے اس صور تحال سے نبرد آزماءہے ۔ کراچی میں امن و امان کی صورت حال کو خراب کرنے کے لئے جو عناصر متحرک ہیںان کے چہرے ا ب تیزی سے عوام کے سامنے بے نقاب ہو رہے ہیں ۔ وفاقی حکومت کی کوشش ہے کہ امن و امان کی صورت حال کو بہتر بنایا جائے تا کہ غیر ملکی سرمایہ کاری کی راہ ہموار ہو اور یوں معاشی ترقی کا پہیہ گردش میں رہے ۔ اس تناظر میں ضرورت اس امر کی ہے کہ عوام جوش کی بجائے ہوش سے کام لیں اور اس وقت کا انتظار کریں جب مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو بھڑکانے اور اشتعال دلانے والے اپنے انجام کو پہنچیں گے ۔