16.10.2026, 01:10pm , جمہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
اعلان و انتخاب آجکا دن
 

راولپنڈی سانحہ۔ حکومت پنجاب اس سازش میں شریک ہے؟ سید علی رضا نقوی
20.11.2013, 09:25am , بدھ (GMT+1)

سید علی رضا نقوی
میرا شہر جل اٹها کیوں , جہاں سب هی پنجتنی هیں
 یہ تو لگ رهی هے سازش کسی مار آستیں کی
* * * * * * * * * * * * *  * * * * * * * * * *  * * * * *
راولپنڈی وفاقی دارالحکومت کے پڑوس میں ایک قدیم شہر ,جہاں کے مکینوں کی اکثریت کاتعلق خطہ پوٹهوہار سے هے ۔  تاریخ گواہ ھے کہ خطہ پوٹھوہار کے مکین خواہ ضلع راولپنڈی ، گوجر خان یا آگے چکوال ڈسٹرکٹ سے تعلق رکھتے ھوں ، انکی شروع دن سے روایت ھے کہ ایام عزا کا اور خاص طور پر دس محرم کا احترام و اھتمام سب شیعہ سنی مل جل کر کرتے ھیں ۔ 
 اس شہر میں عزا داری کی تاریچ بھی اس لحاظ سے قدیم ھے کہ قدیمی امام بارگاہ ، کرنل مقبول کی امام بارگاہ ، ابو محمد رضوی کی امام بارگاہ یہ وہ مراکز رھے ھیں جہاں اپنے اپنے عہد کے بہت نامور اور جید علما نے خطاب کیا اور ان کو سننے کے لیۓ ھر مکتبہ فکر کے سامع آتے تھے ۔ ۔ 
کیونکہ 1960 کی دھائ میں اسلام آباد کے آباد ھونے سے اعلی تعلیم یافتہ طبقہ ، سرکاری افسران اور شعرا راولپنڈی اسلام آباد میں آ کر مقیم ھوۓ ۔ ۔ ۔
یہ تمام پس منظر اس لیۓ بیان کیا گیا ھے کہ واضع رھے کہ راولپنڈی شہر کی تاریخ میں کبھی بھی مسلکی اختلاف دیرینہ دشمن داری کی بھینٹ نہیں چڑھا ۔ جیسا کہ پاکستان کے ان پسماندہ علاقوں میں ھوتا ھے جہاں کسی ایک مسلک کی اجارہ داری ھو ۔ بلکہ خطہ پوٹھوہار کے اھل سنت حضرات بھی محرم کی نیازوں ، کونڈے بھرنے اور بہت سے معاملات میں اھل تشیع کے ساتھ برابر کے شریک ھوتے ھیں  ۔ ۔
لیکن اس سال اک عجب سانحہ ھوا ۔ روز عاشورہ جب راولپنڈی شہر کا جلوس عزا اپنے روایتی راستے سے ھوتا ھوا اپنی منزل ( امام بارگاہ کرنل مقبول حسین ) کی جانب رواں تھا  ۔  تو یہ سانحہ پیش آیاi
حسکا لب لباب یہ ھے کہ جمعہ کا خطبہ دیتے ھوۓ جامع مسجد اھل حدیث کے مولوی حبیب اللہ نے لاؤڈ سپیکر پر نازیبا زبان استعمال کی ،باھر سے گذرنے والے شرکاۓ جلوس نے مبینہ طور پر مشتعل ھو کر جوابی فائرنگ کی اور مولوی حبیب اللہ کے ساتھ اور بہت سے نمازیوں کو بھی جان لے لی ۔ ۔ ۔
عقیدے کے لحاظ سے ایک شیعہ ھونے کے باوجود میں شرکاۓ جلوس کے اس رد عمل کی تائید ھر گز نہیں کروں گا ۔ کیونکہ شہادت مولا علی (ع) سے لے کر سانحہ کربلا اور پھر بعد از کربلا بھی سفر شام میں امام زین العابدین(ع) کا کردار ھمیں دشمن سے بھی انسانی برتاؤ کا عکاس دکھائ دیتا ھے ۔ لہذا اس سانحے میں قاتل ھر حال میں ناقابل معافی ھیں ۔ ان کو سزا دی جاۓ لیکن سوال یہ ھے کہ
٭۔  وہ قاتل کہاں گۓ ؟
٭ ۔ کیوں انتظامیہ ، پنجاب پولیس اور خود میڈیا اس سانحے کس اصل حقائق کو قصدا چھپا رھا ھے  ؟
انکی یہ خاموشی دلالت کر رھی ھے کہ یہ سانحہ اچانک رونما نہیں ھوا بلکہ باقاعدہ  طے شدہ سازش کے تحت یہ وقوعہ عمل میں لایا گیا ھے ۔ اگر میڈیا والوں میں انسانیت ھوتی تو پہلے ھی دن جو اس وقت وھاں موجود اھل سنت حضرات کو بہترین عینی شاھد کے طور پر پیش کیا جاتا  ۔ انکے بیان پیش کیۓ جاتے کہ 
٭ ۔  مولوی نے کیا کہا تھا ؟
٭ ۔   انتظامیہ کیوں نہیں آگے بڑھی ؟
٭ ۔   کیا اصل ماتمی جلوس وھاں تک آ گیا تھا 
٭ ۔  یا سیاہ کپڑوں میں دشمن کے ایجنٹ وھاں آۓ تھے ؟
٭ ۔   کتنے نمازی مارے گۓ ؟
٭ ۔   رات گۓ تک پانچ امام بارگاھوں میں آگ لگانے والوں کی خبر کیوں نہیں بتائی گئ ؟ 
٭ ۔ جن قریبی بڑے ھسپتالوں میں متاثرین کو بھیجا جا رھا تھا ، وھاں کے ڈاکٹرز میڈیا پر زخمیوں اور مرنے والوں کی تعداد کیوں نہیں بتا رھے تھے ؟
قارئین محترم ! بہت سے سوال ھیں ، جو آپ کے ذھنوں میں بھی اٹھے ھوں گے  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جن کا جواب ضرور ملتا اگر حکومت پنجاب اس سازش میں شریک نہ ھوتی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔یہ سوال میں اس بنیاد پر کر رھا ھوں کہ مجھے ایک بات سمجھ نہیں آ سکی ۔۔۔۔۔۔
کیسی عجب بات ھے کہ میڈیا پر پہلی بار کربلا گامے شاہ سے براہ راست تعزیوں کے ٹھنڈا کرنے کو کووریج ملی جہاں ملکی سلامتی کی دعاؤں کے ساتھ حکومت پنجاب کے تعاون کے قصیدے بھی سناۓ گۓ ۔۔۔۔ 
حالانکہ جھنگ اور ملتان حساس علاقے تھے وھاں امن رھا ۔
 کیا وھاں کی اھل حدیث کی مساجد میں جمعہ کے خطبے نہیں ھوۓ ؟ یا جلوس عزا نہیں نکلے ؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 لیکن راولپنڈی جہاں اتنا خدشہ نہیں تھا وھاں یہ سانحہ ھوا ۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا اس کی ایک وجہ یہ تو نہیں کہ اس سال الیکشن میں راولپنڈی سے قومی اسمبلی کی دونوں نشستوں پر نواز لیگ کو شکست ھوئ اور عمران خان کی پارٹی کو کامیابی ملی ۔ ۔
ھو سکتا ھے یہ میرا وھم ھو اور سانحے کا ایسا سیاسی پس منظر نہ ھو تاھم یہ حقیقت ھے کہ ھمارے ملک میں سیاسی رنجشوں کا بدلہ  فرقہ واریت کی آگ پھیلا کر بھی لیا جاتا ھے ۔

بہرحال امید ھے کہ بے نظیر قتل کیس کی طرح اس کیس پر بھی پانی اور مٹی ڈال کر عوام کو حسب روایت تشنہ بہ جواب نہیں رکھا جاۓ گا ۔

ادارہ عالمی اخبار کا قلم کار کی تحریر سے اتفاق ضروری نہیں

:دیگر مضامین
(19.11.2013) ضروری ہے کہ اسوقت جوش نہیں ، ہوش سے کام لیجئے ۔از۔۔ سبط علی
(19.11.2013) مکہ مکرمہ میں غسل کعبہ کی روح پرور تقریب، اہم شخصیات کی شرکت
(18.11.2013) کربلا رسوم و روایات کا نام نہیں بقائے انسانیت اور استحکام دین کا نام ہے
(15.11.2013) ڈاکٹر نیاز حسین ھمدانی کی دعوت فکر حسینی کا ایک باب
(12.11.2013) تاریخ بکے ھوۓ مورخین سے بھری پڑی ھے۔۔۔عطیہ زیدی
(11.11.2013) آسٹریلیا میں پہلا بین المذاہب “ یوم حسین “ پاکستان آسٹریلیا ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام
(07.11.2013)  یہ عہد اپنے بیٹے کے ساتھ ھے میں اپنے بیٹے کی بیعت کرتا ھوں
(06.11.2013) استقبالِ محرم ۔۔۔۔ سید قمر رضوی کی فکر انگیز تحریر
(06.11.2013) ہلال محرم ۔۔۔۔۔ سید قمر رضوی کی ایک منفرد تحریر
(05.11.2013) ہادی برحق سے آگے بڑھ جانے والوں یا پیچھے رہ جانے والوں کو خوش آمدید۔
(05.11.2013) ہماری دینی اور سیاسی دونوں قیادت بدعنوان ہے
(04.11.2013) بزرگ عالم باعمل سید نیاز حسین ھمدانی کا حجت الاسلام کو استدلالی جواب
(04.11.2013) فیس بک پر موجود کویت کے ایک خطیب کی تحریر۔ ذکر حسین میں ریا کاری جائز ہے
(03.11.2013) مشاعروں کے کاروباری شاعر شعر و ادب کی نتزلی کا سبب
(03.11.2013) حکیم اللہ محسود کون تھا؟ حکیم اللہ محسود کا اصل نام جمشید محسود تھا
(31.10.2013) ہندوستانی مسلمان اور سیاست۔۔۔۔۔۔از۔۔۔۔۔۔مشرف عالم ذوقی
(29.10.2013) ورلڈ اکنامک فورم کی سالانہ صنفی خلا یا ‘جینڈر گیپ رپورٹ’ جاری ہوچکی
(27.10.2013) جنوبی ایشیا میں اقلیتوں کے حقوق پرکانفرنس آئندہ سال ہوگی
(24.10.2013) غالب اسٹڈیز سینٹر ، ابن سینا اکاڈمی، علی گڑھ کے زیر اہتمام کل ہند مشاعرہ
(21.10.2013) ماضی کی معروف گائیکہ زبیدہ خانم کولاہورمیں سپردِخاک کر دیا



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں