میرا شہر جل اٹها کیوں , جہاں سب هی پنجتنی هیں
یہ تو لگ رهی هے سازش کسی مار آستیں کی
* * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * *
راولپنڈی وفاقی دارالحکومت کے پڑوس میں ایک قدیم شہر ,جہاں کے مکینوں کی اکثریت کاتعلق خطہ پوٹهوہار سے هے ۔ تاریخ گواہ ھے کہ خطہ پوٹھوہار کے مکین خواہ ضلع راولپنڈی ، گوجر خان یا آگے چکوال ڈسٹرکٹ سے تعلق رکھتے ھوں ، انکی شروع دن سے روایت ھے کہ ایام عزا کا اور خاص طور پر دس محرم کا احترام و اھتمام سب شیعہ سنی مل جل کر کرتے ھیں ۔
اس شہر میں عزا داری کی تاریچ بھی اس لحاظ سے قدیم ھے کہ قدیمی امام بارگاہ ، کرنل مقبول کی امام بارگاہ ، ابو محمد رضوی کی امام بارگاہ یہ وہ مراکز رھے ھیں جہاں اپنے اپنے عہد کے بہت نامور اور جید علما نے خطاب کیا اور ان کو سننے کے لیۓ ھر مکتبہ فکر کے سامع آتے تھے ۔ ۔
کیونکہ 1960 کی دھائ میں اسلام آباد کے آباد ھونے سے اعلی تعلیم یافتہ طبقہ ، سرکاری افسران اور شعرا راولپنڈی اسلام آباد میں آ کر مقیم ھوۓ ۔ ۔ ۔
یہ تمام پس منظر اس لیۓ بیان کیا گیا ھے کہ واضع رھے کہ راولپنڈی شہر کی تاریخ میں کبھی بھی مسلکی اختلاف دیرینہ دشمن داری کی بھینٹ نہیں چڑھا ۔ جیسا کہ پاکستان کے ان پسماندہ علاقوں میں ھوتا ھے جہاں کسی ایک مسلک کی اجارہ داری ھو ۔ بلکہ خطہ پوٹھوہار کے اھل سنت حضرات بھی محرم کی نیازوں ، کونڈے بھرنے اور بہت سے معاملات میں اھل تشیع کے ساتھ برابر کے شریک ھوتے ھیں ۔ ۔
لیکن اس سال اک عجب سانحہ ھوا ۔ روز عاشورہ جب راولپنڈی شہر کا جلوس عزا اپنے روایتی راستے سے ھوتا ھوا اپنی منزل ( امام بارگاہ کرنل مقبول حسین ) کی جانب رواں تھا ۔ تو یہ سانحہ پیش آیاi
حسکا لب لباب یہ ھے کہ جمعہ کا خطبہ دیتے ھوۓ جامع مسجد اھل حدیث کے مولوی حبیب اللہ نے لاؤڈ سپیکر پر نازیبا زبان استعمال کی ،باھر سے گذرنے والے شرکاۓ جلوس نے مبینہ طور پر مشتعل ھو کر جوابی فائرنگ کی اور مولوی حبیب اللہ کے ساتھ اور بہت سے نمازیوں کو بھی جان لے لی ۔ ۔ ۔
عقیدے کے لحاظ سے ایک شیعہ ھونے کے باوجود میں شرکاۓ جلوس کے اس رد عمل کی تائید ھر گز نہیں کروں گا ۔ کیونکہ شہادت مولا علی (ع) سے لے کر سانحہ کربلا اور پھر بعد از کربلا بھی سفر شام میں امام زین العابدین(ع) کا کردار ھمیں دشمن سے بھی انسانی برتاؤ کا عکاس دکھائ دیتا ھے ۔ لہذا اس سانحے میں قاتل ھر حال میں ناقابل معافی ھیں ۔ ان کو سزا دی جاۓ لیکن سوال یہ ھے کہ
٭۔ وہ قاتل کہاں گۓ ؟
٭ ۔ کیوں انتظامیہ ، پنجاب پولیس اور خود میڈیا اس سانحے کس اصل حقائق کو قصدا چھپا رھا ھے ؟
انکی یہ خاموشی دلالت کر رھی ھے کہ یہ سانحہ اچانک رونما نہیں ھوا بلکہ باقاعدہ طے شدہ سازش کے تحت یہ وقوعہ عمل میں لایا گیا ھے ۔ اگر میڈیا والوں میں انسانیت ھوتی تو پہلے ھی دن جو اس وقت وھاں موجود اھل سنت حضرات کو بہترین عینی شاھد کے طور پر پیش کیا جاتا ۔ انکے بیان پیش کیۓ جاتے کہ
٭ ۔ مولوی نے کیا کہا تھا ؟
٭ ۔ انتظامیہ کیوں نہیں آگے بڑھی ؟
٭ ۔ کیا اصل ماتمی جلوس وھاں تک آ گیا تھا
٭ ۔ یا سیاہ کپڑوں میں دشمن کے ایجنٹ وھاں آۓ تھے ؟
٭ ۔ کتنے نمازی مارے گۓ ؟
٭ ۔ رات گۓ تک پانچ امام بارگاھوں میں آگ لگانے والوں کی خبر کیوں نہیں بتائی گئ ؟
٭ ۔ جن قریبی بڑے ھسپتالوں میں متاثرین کو بھیجا جا رھا تھا ، وھاں کے ڈاکٹرز میڈیا پر زخمیوں اور مرنے والوں کی تعداد کیوں نہیں بتا رھے تھے ؟
قارئین محترم ! بہت سے سوال ھیں ، جو آپ کے ذھنوں میں بھی اٹھے ھوں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جن کا جواب ضرور ملتا اگر حکومت پنجاب اس سازش میں شریک نہ ھوتی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔یہ سوال میں اس بنیاد پر کر رھا ھوں کہ مجھے ایک بات سمجھ نہیں آ سکی ۔۔۔۔۔۔
کیسی عجب بات ھے کہ میڈیا پر پہلی بار کربلا گامے شاہ سے براہ راست تعزیوں کے ٹھنڈا کرنے کو کووریج ملی جہاں ملکی سلامتی کی دعاؤں کے ساتھ حکومت پنجاب کے تعاون کے قصیدے بھی سناۓ گۓ ۔۔۔۔
حالانکہ جھنگ اور ملتان حساس علاقے تھے وھاں امن رھا ۔
کیا وھاں کی اھل حدیث کی مساجد میں جمعہ کے خطبے نہیں ھوۓ ؟ یا جلوس عزا نہیں نکلے ؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لیکن راولپنڈی جہاں اتنا خدشہ نہیں تھا وھاں یہ سانحہ ھوا ۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا اس کی ایک وجہ یہ تو نہیں کہ اس سال الیکشن میں راولپنڈی سے قومی اسمبلی کی دونوں نشستوں پر نواز لیگ کو شکست ھوئ اور عمران خان کی پارٹی کو کامیابی ملی ۔ ۔
ھو سکتا ھے یہ میرا وھم ھو اور سانحے کا ایسا سیاسی پس منظر نہ ھو تاھم یہ حقیقت ھے کہ ھمارے ملک میں سیاسی رنجشوں کا بدلہ فرقہ واریت کی آگ پھیلا کر بھی لیا جاتا ھے ۔
بہرحال امید ھے کہ بے نظیر قتل کیس کی طرح اس کیس پر بھی پانی اور مٹی ڈال کر عوام کو حسب روایت تشنہ بہ جواب نہیں رکھا جاۓ گا ۔
ادارہ عالمی اخبار کا قلم کار کی تحریر سے اتفاق ضروری نہیں