
ہر سال محرم الحرام کے آتے ہی جانے کیوں احباب میں جو تھوڑی بہت محبت مروت بچی رہ جاتی ہے وہ بھی مسلکی کم علمی کی نظر ہو جاتی ہے ۔ سو میں بھی اس کی زد میں ہر سال ہی آ جایا کرتی ہوں ۔ محرام الحرام کی مناسبت سے لکھے گئے مضامین پر میری یہ محنت پورے پانچ برس کی دقیق تحقیق تھی جو میں نے آپ سب سے شئیر کی ۔ ان مضامین کو لکھنے کے لئے ہر مکتبہ فکر کی کئی کتب کا مطالعہ شامل ہے ۔ یہ عطا صرف اور صرف اللہ پاک ہی کی ہے جو انہوں نے مجھے پنجتن پاک کے صدقے عطا فرمائی ۔ اس میں کوئی ایسا مضمون نہیں ہے جو متنازعہ ہو ۔
میں اتحاد البین مسلمین کی داعی ہوں ۔ میں نے ہمیشہ پاک پروردگار سے یہی دعا کی ہے کہ مجھے اس آیت پر عمل کرنے کی توفیق عطا کر ۔۔۔ " اختلافات ختم کرنے کے لئے تم ان باتوں پر اتفاق کر لیا کرو جو تم میں مشترک ہیں " ۔ قران مجید کی اس آیت پر ہر وقت عمل کرنے کی کوشش رہتی ہے ۔
اتنے مطالعہ کے بعد یہی سمجھ آیا کہ نہ شعیہ کافر ہیں اور نہ سنی کافر ہیں ۔ کافر ہونے کے لئے
مندرجہ زیل چار باتوں کا انکاری ہونا ضروری ہے ۔۔
1۔ کلمہ نہ پڑھنے کے ساتھ اس کی وحدانیت کا انکار
2۔ قران مجید کا انکار
3۔ اللہ کے رسول محمد عربی کو آخری نبی ماننے سے انکار
4۔ جزا و سزا کا انکار یعنی عاقبت کا انکار شامل ہے ۔
مجھے بتاہئے جو آج کل ایک دوسرے کوکافر کہنے کی روش پڑ چکی ہے ... اس کی بنیاد کیا یہی احکامات خدا و رسول ہیں ۔۔۔؟ ََ؟ ۔
ہم مسلمانوں میں مسلہ صرف انا ، کم علمی اور سنے سنائے دین پر یقین کرنے کا ہے ۔
دوستو ! علم یقین عطا کرتا ہے ۔ اور صد افسوس جو محمد ص جہالت دور کرنے آئے تھے وہ صحابہ اور اہل بیت کے مقام میں الجھے پڑے ہیں جبکہ یہ بات روشن ہے کہ جنت کے سردار اہل بیت ہیں صحابہ نہیں ۔
پوری اسلامی تاریخ پڑھ کر دیکھ لیجئے تمام صحابہ اکرام اپنے مقام کو پہچانتے تھے تو پھر ہم آپ کون ہیں جو مقام صحابہ کو اتنا بلند کریں کہ اہل بیت سے تجاوز کر جائیں ۔ افسوس اس وقت ہوتا ہے جب کم علم لوگ اہل بیت کی شان صحابہ اکرام رض سے بھی کم کر دیتے ہیں ۔
مسلمانوں کی ایک کثیر تعداد “ حدیث کساء “ کے نام سے بھی واقف نہیں ہے جسکی پہلی راوی خاتون جنت سیدہ فاطمہ الذہرہ ہیں اور یہی حدیث کساء سورت احزاب کی آیت 33 کی نزول کی وجہ ہے جس میں پروردگار نے ارشاد فرمایا ہے کہ " پرورد گار نے یہ ارادہ کر لیا ہے کہ اہل بیت سے “ رجز“ سے دور رکھے اور انہیں پاک و پاکیزہ رکھے ۔
“حدیث کساء “
حدیث کساء (حديث الكساء) حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ایک مشہور حدیث ہے جس کی مستند روایات بے شمار کتابوں میں موجود ہیں۔ یہ حدیث حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے روایت کی ہے اور بے شمار لوگوں نے اسے مزید روایت کیا ہے جن میں حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نمایاں ہیں۔ یہ حدیث صحیح مسلم، صحیح ترمذی، مسند احمد بن حنبل، تفسیر طبری، طبرانی، خصائص نسائی اور دیگر کتابوں میں موجود ہے۔ اس کے علاوہ اسے ابن حبان، حافظ ابن حجر عسقلانی اور ابن تیمیہ وغیرہ نے اپنی کتابوں میں لکھا ہے۔ یہ حدیث قرآن کی ایک آیت کی وجہ نزول بھی بتاتی ہے جسے آیہ تطہیر کہتے ہیں۔
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے حضرت فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا سے روایت کی ہے کہ ایک دن حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی بیٹی حضرت فاطمہ کے گھر تشریف لائے۔ وہ ایک بڑی یمنی چادر اوڑھ کر آرام فرمانے لگے۔حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا نے روایت کی ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا چہرہ چودھویں کے چاند کی طرح نورانی تھا۔ تھوڑی دیر میں نواسہ رسول حضرت حسن بن علی گھر آئے تو انہوں نے اپنی والدہ سے کہا کہ مجھے اپنے نانا رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خوشبو محسوس ہوتی ہے۔
بعد میں انہوں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سلام کیا۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جواب دیا اور انہیں اپنے ساتھ چادر اوڑھا دی۔ کچھ دیر بعد رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دوسرے نواسے حضرت حسین بن علی آئے۔ انہوں نے بھی نانا کی موجودگی محسوس کی سلام کیا اور چادر اوڑھ لی۔ کچھ دیر کے بعد حضرت علی ابن ابوطالب کرم اللہ وجہہ تشریف لائے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سلام کیا جنہوں نے انہیں اپنے ساتھ چادر اوڑھا دی۔ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا فرماتی ہیں کہ میں بھی اجازت لے کر چادر میں داخل ہو گئی۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چادر پکڑی اور دائیں ہاتھ سے آسمان کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ اے خدا یہ ہیں میرے اہل بیت ہیں، یہ میرے خاص لوگ ہیں، ان کا گوشت میرا گوشت اور ان کا خون میرا خون ہے۔
جو انہیں ستائے وہ مجھے ستاتا ہے اور جو انہیں رنجیدہ کرے وہ مجھے رنجیدہ کرتا ہے۔ جو ان سے لڑے میں بھی ان سے لڑوں گا اور جو ان سے صلح کرے میں ان سے صلح کروں گا۔ میں ان کے دشمن کا دشمن اور ان کے دوست کا دوست ہوں کیونکہ وہ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں۔ پس اے خدا تو اپنی عنائتیں اور اپنی برکتیں اور اپنی رحمتیں اور اپنی بخشش اور اپنی خوشنودی میرے لیے اور ان کے لیے قرار دے۔ ان سے رجس کو دور رکھ اور ان کو پاک کر بہت ہی پاک۔
حوالہ جات
1 ۔ حدیث 5595 صحیح مسلم
2۔ مسند احمد بن حنبل۔ حافظ ابو عبداللہ احمد بن محمد بن حنبل شیبانی۔ جلد اول صفحہ 331 مطبوعہ مصر
3۔الخصائص (نسائی) صفحہ 4۔ علامہ ابو عبدالرحمان احمد ابن شعیبون نسائی
4۔ تفسیر طبری جلد 22 صفحہ 5۔مطبوعہ مصر۔ حافظ محمد ابن جریر طبری
5۔ سنن الکبری جلد 2 صفحہ 149۔ حافظ احمد بن حسین بن علی بیہقی
یہ روایت آگے مزید چلتی ہے ۔اس دعا کے بعد قرآن کی ایک آیت نازل ہوئی (سورہ الاحزاب آیت 33) جسے آیت تطہیر کہا جاتا ہے۔ اس روایت کو بے شمار علما نے اس آیت کی تفسیر کے ذیل میں بھی نقل کیا ہے۔ آیت کا ترجمہ ہے کہ خدا نے ارادہ کر لیا ہے کہ آپ لوگوں سے رجس کو دور رکھے اے اہل بیت اور آپ کو پاک و پاکیزہ رکھے۔ یہ روایت صحیح مسلم میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی اسی طرح منقول ہے ۔
( صحیح مسلم حدیث 5595 )
جاری ہے