پہلی قسط میں گفتگو حدیث کساء پر ختم ہوئی تھی جسے دو درجن سے زائد اہل سنت کی مستند کتابوں میں نقل کیا گیا ہے اور یہ وہی حدیث اور آیت ہے جو اہل بیت کی نشاندہی کرتی ہے۔
زرا سوچئے تو سیدنا عمر فاروق رض نے اپنے بیٹے سے کیا کہتے ہیں جب وہ سیدناحسین کے ساتھ کھیل رہے تھے اور سیدنا حسین نے ان کے بیٹے کو غلام کا بیٹا کہہ دیا تھا ۔۔ حضرت عمر فاروق رض بیٹے سے فرماتے ہیں بیٹا دوڑ کر جاؤ سیدنا حسین سے لکھوا لاؤ کہ تم غلام کے بیٹے ہو تا کہ روز حشر ہماری شفاعت کے لئے سند رہے ۔
سبحان اللہ ۔۔۔۔
تمام صحابہ اکرام رض ، مقام علی بھی جانتے تھے کہ مقام غدیر پر حضرت علی بن طالب کو امامت ملنے پر سب سے پہلی مبارکباد حضرت ابو بکر صدیق رض اور حضرت عمر فاروق رض نے دی اور فرمایا کہ " اے علی ابن طالب مبارک ہو آج سے آپ میرے اور کل مو منین کے مولا ہو گئے " ۔
ایک اور مقام پر حضرت عمر رض فرماتے ہیں کہ “ اگر علی نہ ہوتے تو میں ہلاک ہو جاتا “ ۔ اس کی وجہ یہ تھی حضرت عمر رض نے کئی فیصلے حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے مشاورت کے بعد تبدیل کئے تھے جو کہ روبہ عمل ہوجاتے تو حضرت عمر رض ہلاک ہو جاتے۔
حضرت عائیشہ صدیقہ رض سے روایت ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق رض جب بھی کسی محفل میں حضرت علی کو پاتے تو انہیں ٹکٹکی باندھ کر دیکھاکرتے تھے ۔ ایک دن انہوں نے اپنے بابا سے پوچھا کہ آپ علی کو ایسے کیوں دیکھتے ہیں تو حضرت ابو بکر صدیق رض نے فرمایا کہ کیا آپ نے حضور اکرم صلہ اللہ علیہ واآلہ وسلم کو یہ کہتے نہیں سنا کہ حضرت علی کے چہرے کو دیکھنا عبادت ہے۔
جب حضرت عمر رض اور سیدنا حضرت ابو بکر صدیق جیسے جید صحابہ نے مقام علی علیہ السلام کو پہچانا تو ہم کون ہیں جومقام علی کو ان سے کم کریں یا حضور اکرم پرنور کی فرمان کے بعد بھی انہیں اہل بیت میں شامل نہ کریں ۔
سچ تو یہ ہے کہ لوگ امامت اور خلافت کا فرق جاننا ہی نہیں چاہتے ۔۔۔۔ ۔ خلافت تو دنیاوی عہدہ تھا جو سب کوباری باری ملتا رہا حتی کہ یزید تک کو ملا ۔ اب یہ الگ بات ہے کہ امیر معاویہ اور یزید نے اسلامی طرز حکومت ختم کر کے بادشاہت یعنی ملوکیت کی بنیاد رکھ کر عالم اسلام کا تشخص کو مجروع کیا ۔ اور اسی یزید پلید نے پورے عرب پر حکمرانی کے لئے غیر اسلامی اور غیر شرعی احکامات جاری کئے جس کی سند پانے کے لئے اور انہیں دین میں راسخ کرنے سیدنا حسین علیہ السلام سے بیعت چاہی اور کربلا میں اس کے حکم سے ہونے والے ظلم و ستم کی کہانی اسلامی تاریخ کا سیاہ باب ہیں ۔ سیدنا حسین نے انہی شرائظ کو بچانے کی کوشش کی تھی جس کی بنیاد پر لوگ مسلمان اور کافر کہلائے جا سکتے تھے ۔
امامت رسول کریم ص کی طرف سے عطا تھی کہ ان کے بعد کسی رسول کو نہیں آنا تھا اس لئے اللہ پاک نے ہدایت کے لئے امام کی پوسٹ بنا دی اور حضرت علی علیہ السلام کو اللہ پاک نے چنا اور رسول کریم سے حج سے واپسی پر مقام غدیر پر اعلان کروایا اور یوںمولا علی علیہ السلام مومنوں کے پہلے امام بنا دیئے گئے ۔
معزز احباب !
علم دلیل عطا کرتا ہے ۔
کشادہ زہن سے کوئی تو سوچے کہ جو محمد عربی پوری عمر کفار و مشرکین کے درمیان رہے ۔ انہیں وہ مسلمان کرتے رہے ۔ پر انہیں کبھی کافر کہہ کر نہیں پکارا ۔ آج ہم اس دھڑلے سے ایک دوسرے کو کافر کہہ دیتے ہیں جیسے کوئی بات ہی نہ ہو ۔ ہمارے اباؤ اجداد ایک ایک ہی ہیں ۔ ہمیں ان سب کی عزت اور احترام کرنا ہو گا پر اس احترام میں ہر ایک کو ان کا الگ مقام دینا ہو گا جو قران اور حضور اکرم کی سنت سے ثابت ہے ۔ اب علم کا دروازہ علی علیہ السلام ہیں تو صرف علی ہیں اس کی چھت اور دیواریں کوئی نہیں ہیں کہ نبی کریم نے خود کو علم کا شہر کہا ہے گھر نہیں جس کی کھڑکیاں دروازیں ہوں ۔ شہر کے گرد فصیل ہوتی ہے اور ایک دروازہ بس اور کچھ نہیں ہوتا ۔۔۔
قران میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تمام بیویاں ام المونین یعنی امت کی مائیں ہیں تو وہ تمام مسلمانوں کی مائیں ہیں اور حکم خداوندی ہے کہ ان کی عزت ہر حال میں کرنی ہے تو ہر حال میں کرنی ہے ۔
کسی کے عقائد اور مقلدین کو گالی دینا بہت آسان کام ہے پر یہ ایک بد ترین گناہ ہے ۔ ان سے ناجائز جنگ بھی جائز نہیں جب تک وہ آپ مسلمان مخالفت اور اسلام دشمنی پر نہ اتر آئیں ۔اس اسلام دشمنی میں بھی مسلمان پر امن مذاکرات فرض ہیں جو سیدنا حسین علیہ السلام کربلا میں شہید ہونے سے پہلے تک یزیدی فوج سے اپنا تعارف کروا کر یہ حجت تمام کرتے رہے تاکہ جنگ نہ ہو کیونکہ ان کے نانا کا دین امن اور سلامتی کا دین تھا ۔
اللہ پاک قران پاک میں ارشاد فرماتے ہیں " تم کسی کے جھوٹے خدا کو برا نہ کہو کہ وہ پلٹ کر تمہارے سچے خدا کو برا نہ کہہ دے " ۔۔ قران و حدیث میں کافر وہ ہے جو مندرجہ بالاچار احکمات میں سے کسی ایک بھی حکم سے انکار کرے ۔۔۔۔۔۔ اللہ کریم ہمیں سمجھ اور اس سمجھ کو درست میں استعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ الہی آمین