15.10.2026, 03:48pm , جعمرات (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
مضامین/تجزیات » ڈاکٹر نگہت نسیم
 

ایک دوسرے کوکافر کہنے کی روش آخر کب تک؟ دوسری قسط ۔از؛ڈاکٹر نگہت نسیم ۔سڈنی
28.11.2013, 06:40am , جعمرات (GMT+1)

نگہت نسیم ۔سڈنی

پہلی قسط میں گفتگو حدیث کساء پر ختم ہوئی تھی جسے دو درجن سے زائد اہل سنت کی مستند کتابوں میں نقل کیا گیا ہے اور یہ وہی حدیث اور آیت ہے جو اہل بیت کی نشاندہی کرتی ہے۔

 زرا سوچئے  تو سیدنا عمر فاروق رض نے اپنے بیٹے سے  کیا کہتے ہیں جب وہ سیدناحسین کے ساتھ کھیل رہے تھے اور سیدنا حسین نے  ان کے بیٹے کو  غلام کا بیٹا کہہ دیا تھا  ۔۔ حضرت عمر فاروق رض بیٹے سے فرماتے ہیں بیٹا  دوڑ کر جاؤ سیدنا حسین سے لکھوا لاؤ کہ تم غلام کے بیٹے  ہو  تا کہ روز حشر ہماری شفاعت کے لئے سند رہے  ۔ 
سبحان اللہ ۔۔۔۔  

 تمام صحابہ اکرام رض ،  مقام علی بھی جانتے تھے کہ مقام غدیر پر حضرت علی بن طالب کو امامت ملنے پر سب سے پہلی مبارکباد  حضرت ابو بکر صدیق رض  اور حضرت عمر فاروق رض نے دی اور  فرمایا کہ " اے  علی ابن طالب مبارک ہو آج سے آپ میرے اور کل مو منین کے مولا ہو گئے " ۔

ایک اور مقام پر حضرت عمر رض فرماتے ہیں کہ “ اگر علی نہ ہوتے تو میں ہلاک ہو جاتا “ ۔ اس کی وجہ یہ تھی حضرت عمر رض نے کئی  فیصلے حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے مشاورت کے بعد تبدیل کئے تھے جو کہ روبہ عمل ہوجاتے تو حضرت عمر  رض  ہلاک ہو جاتے۔

 حضرت عائیشہ صدیقہ رض سے روایت ہے کہ حضرت  ابو بکر صدیق رض جب بھی کسی محفل میں حضرت علی کو پاتے تو انہیں ٹکٹکی باندھ کر دیکھاکرتے تھے ۔ ایک دن انہوں نے اپنے بابا سے پوچھا کہ آپ علی کو ایسے کیوں دیکھتے ہیں تو حضرت ابو بکر صدیق رض نے فرمایا کہ کیا آپ نے  حضور اکرم صلہ اللہ علیہ واآلہ وسلم کو یہ کہتے نہیں سنا کہ حضرت علی کے چہرے کو دیکھنا عبادت ہے۔

جب حضرت عمر رض اور سیدنا حضرت ابو بکر صدیق  جیسے  جید صحابہ نے مقام علی علیہ السلام کو پہچانا تو ہم کون ہیں جومقام علی کو ان سے کم کریں یا حضور اکرم پرنور کی فرمان کے بعد بھی  انہیں اہل بیت میں شامل نہ کریں  ۔ 

سچ تو یہ ہے کہ لوگ امامت اور خلافت کا فرق جاننا ہی نہیں چاہتے ۔۔۔۔ ۔ خلافت تو دنیاوی عہدہ تھا جو سب کوباری باری ملتا رہا حتی کہ یزید تک کو ملا  ۔ اب یہ الگ بات ہے کہ امیر معاویہ اور یزید نے اسلامی طرز حکومت ختم کر کے بادشاہت یعنی ملوکیت کی بنیاد رکھ کر عالم اسلام کا تشخص  کو مجروع کیا ۔ اور اسی یزید پلید نے پورے عرب پر حکمرانی کے لئے غیر اسلامی اور غیر شرعی احکامات جاری کئے جس کی سند پانے کے لئے اور انہیں دین میں راسخ کرنے سیدنا حسین علیہ السلام سے بیعت چاہی اور کربلا میں اس کے حکم سے ہونے والے ظلم و ستم کی کہانی اسلامی تاریخ کا سیاہ باب ہیں ۔ سیدنا حسین نے انہی شرائظ  کو بچانے کی کوشش کی تھی جس کی بنیاد پر لوگ مسلمان اور کافر کہلائے  جا سکتے تھے ۔ 

امامت رسول کریم ص کی طرف سے عطا تھی کہ ان کے بعد کسی رسول کو نہیں آنا تھا اس لئے اللہ پاک نے ہدایت کے لئے امام کی پوسٹ بنا دی اور حضرت علی علیہ السلام کو اللہ پاک نے چنا اور رسول کریم سے حج سے واپسی پر  مقام غدیر پر اعلان کروایا اور یوںمولا علی علیہ السلام  مومنوں کے پہلے امام بنا دیئے گئے ۔ 

 معزز احباب  !
 علم دلیل عطا کرتا ہے ۔

 کشادہ زہن سے کوئی تو سوچے کہ جو محمد عربی پوری عمر کفار و مشرکین کے درمیان  رہے  ۔ انہیں وہ مسلمان کرتے رہے ۔ پر انہیں کبھی کافر کہہ کر نہیں پکارا ۔ آج ہم اس دھڑلے سے  ایک دوسرے کو کافر کہہ دیتے ہیں جیسے کوئی بات ہی نہ ہو ۔ ہمارے اباؤ اجداد ایک  ایک ہی ہیں ۔ ہمیں ان سب کی عزت اور احترام کرنا ہو گا پر اس احترام میں ہر ایک کو ان کا الگ مقام  دینا ہو گا جو قران اور  حضور اکرم کی سنت سے ثابت ہے ۔ اب علم کا دروازہ علی علیہ السلام ہیں تو صرف علی ہیں اس کی چھت اور دیواریں کوئی نہیں ہیں کہ نبی کریم نے خود کو علم کا شہر  کہا ہے گھر نہیں جس کی کھڑکیاں دروازیں ہوں ۔ شہر کے گرد فصیل ہوتی ہے اور ایک دروازہ بس اور کچھ نہیں ہوتا ۔۔۔ 
قران میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تمام بیویاں  ام المونین یعنی امت کی مائیں ہیں تو وہ تمام مسلمانوں کی مائیں ہیں اور حکم خداوندی ہے کہ  ان کی عزت ہر حال میں کرنی ہے تو ہر حال میں کرنی ہے ۔ 

کسی کے عقائد اور مقلدین کو گالی دینا بہت آسان کام ہے پر یہ ایک بد ترین گناہ ہے ۔ ان سے ناجائز جنگ بھی جائز نہیں جب تک وہ آپ مسلمان مخالفت  اور اسلام دشمنی پر نہ اتر آئیں ۔اس اسلام دشمنی میں بھی مسلمان پر امن مذاکرات فرض ہیں جو سیدنا حسین علیہ السلام کربلا میں شہید ہونے سے پہلے تک  یزیدی فوج سے اپنا تعارف کروا کر یہ حجت تمام کرتے رہے  تاکہ جنگ نہ ہو کیونکہ ان کے نانا کا دین  امن اور سلامتی کا دین تھا ۔   

 اللہ پاک قران پاک میں ارشاد فرماتے ہیں " تم کسی کے جھوٹے خدا کو برا نہ کہو کہ وہ پلٹ کر تمہارے سچے  خدا کو برا نہ کہہ دے " ۔۔ قران و حدیث میں کافر وہ ہے جو مندرجہ بالاچار احکمات میں سے  کسی ایک بھی حکم سے  انکار کرے  ۔۔۔۔۔۔ اللہ کریم ہمیں سمجھ اور اس سمجھ کو درست میں استعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ الہی آمین 


:دیگر مضامین
(25.11.2013) ایک دوسرے کوکافر کہنے کی روش آخر کب تک؟پہلی قسط ۔از؛ڈاکٹر نگہت نسیم ۔سڈنی
(15.11.2013) میرا سلام لیجئے ۔۔ حسین ابن علی ۔۔۔ ڈاکٹرنگہت نسیم ۔سڈنی
(14.11.2013) کربلا اسلام کی پائیندگی کا نام ہے ۔۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم۔ سڈنی
(18.10.2013) اسلام علم کی نشانی اور مسلمانوں کی اکثریت جہالت کی نمائیندہ ؟ از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم
(17.09.2013) احتجاج ایک خرافات ? ۔۔۔۔۔ از ......؛ ڈاکٹر نگہت نسیم ۔ سڈنی
(15.09.2013) ہمارا بے حس اور مردہ معاشرہ زندہ باد ۔۔۔۔۔از؛۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر نگہت نسیم ۔سڈنی
(28.08.2013) شام پر حملہ ہوا ہی چاہتا ہے ۔۔۔ از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم ۔سڈنی
(15.08.2013) قومی دنوں پر توہین اعزازات کا سلسلہ بند ہونا چاہیئے۔۔۔از۔۔۔۔۔۔نگہت نسیم
(14.08.2013) ۔اشاعت مکرر۔۔صبح کا ستارہ اور خوشحال پاکستان ۔...از۔.. ڈاکٹر نگہت نسیم
(06.08.2013) اعتراف ۔۔۔ ہماری ناکامی ہمارے دوہرے معیار ہیں۔از؛ ڈاکر نگہت نسیم
(21.07.2013) ہم میں اور یزید وقت میں کوئی زیادہ فرق نہیں ۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم
(21.07.2013) کبھی سوچیں , رحمتیں کب زحمتیں بن جاتیں ہیں ۔از“ ؛ ڈاکٹر نگہت نسیم
(19.07.2013) مینڈیلا ڈے ہو سکتا ہے تو ایدھی ڈے کیوں نہیں ۔از؛ ڈاکٹڑ نگہت نسیم
(07.07.2013) سحر کچھ تو سکوں پایا ہے اپنی قبر میں آ کر۔ از۔ڈاکٹر نگہت نسیم
(25.06.2013)  اندھے بہرے اور گونگے پاکستان کی جمہوری تہذیب ۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم ۔سڈنی
(08.03.2013) زرداری کی سرداری بھی بیزاری ہے۔ از۔ ڈاکٹرنگہت نسیم۔اشاعت مکرر
(13.01.2013) کوئٹہ پاکستان اور اس کی گندی سیاست کی سولی پر۔ از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم
(03.01.2013)  یہ ہمارے مسیحا ہیں یا غنڈے ۔۔۔۔۔ از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم ۔سڈنی
(27.11.2012) عجب ہے کہ مسلمان ہی مسلمان کو کافر کہتا ہے ۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم
(19.11.2012) ایک مقام حیرت یہ بھی ہے کہ تاریخ کو کس نے بدلا۔؟ از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
شمس جیلانی  »
صفدر ھمٰدانی  »
ماہ پارہ صفدر  »
ڈاکٹر نگہت نسیم  »
زرقا مفتی  »
سیدہ زائرہ عابدی۰بجو  »
محمد احمد ترازی  »
محمد عظیم اعظم  »
عالم آرا  »
سیدہ رافیعہ گیلانی  »
شاہین اشرف علی  »
اظہرالحق نسیم  »
فرخندہ رضوی  »
ڈاکٹر فاخرہ نورین  »
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں