میں ایام محرم الحرم میں کربلا میں موجود تھا اور اللہ کے فضل کرم سے تمام واجبات اور محرم الحرم کی مجالس کی شرکت رہی اور پرسہ داری کے لئے خدمت امام عالی مقام میں حاضری دے کر ٢٢ نومبر کو وطن واپس آ چکا ہوں۔
 |
 |
| | شہادت بیمار کربلا۔ مجلس عزا سڑک پر |
|
یوم عاشور شام غریباں کے بعد ایک فون پر کربلا میں پیام موصول ہوا کہ لندن اور گردو نواح کی کچھ تنظمیں اور مومنین مل کر ایک احتجاجی مظاہرہ کر رہے ہیں اور ادارہ جعفریہ میں مزہبی واجبات اور محرم الحرم سے منسوب عزا داری کو ادا نہیں کیا جا سکے گا کیو نکہ انتظامیہ نے پولیس بلا کر اس ادارہ میں صحت اور دیگر انتظامی امور میں اپنی کوتاہی اور نا اہلی کا ایک انوکھا مظاہرہ کیا اور معاملہ کو پولیس کو مطلع کیا کہ جب تک اس مسلہ کوئی ٹھوس حل نہیں نکل سکتا اس ادارہ کو بند رہنا چاہئے۔
زنجیر زن اور ماتمی حضرات ہی عزاداری کی رونق ہیں اگر ان کو ہی صف عزا سے غائب کردیا جائے تو عزاداری کی اصلیت ہی ختم ہو جاتی ہے کیوں کہ مولوی حضرات تو مجلس پڑھ کر کسی دوسری مجلس میں نکل لیتے ہیں کیوں کہ انہوں نے کسی اور جگہ وعدہ کر رکھا ہوتا ہے۔ اور حد تو یہ ہے کہ ایک گھنٹے تک منبر پر عزاداری کا سبق دینے والا مولوی خود عزاداری میں شریک ہی نہیں ہوتا۔ سو میں سے سے شاید ایک ایک منبر نشین دیکھا ہے جو سینے پر ہاتھ بھی رکھے اور نوحے کے الفاظ بھی دوہرائے۔ یہی وہ بے عملی ہے جس نے منبر کا اثر ختم کر دیا ہے
کربلا میں تو ادارہ جعفریہ کا مسلہ یہ سوچ کر ہلکا جانا کہ ہو سکتا ہے کہ کس شخص نے اعتراض کر دیا ہو جس کی بنا پر ادارہ بند کرنا پڑا ۔مگر یہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ یہ تو خاصہ گہرا مسلہ معلوم ہوتا ہے ۔۔۔۔
آئندہ اقساط میں انشااللہ اس بارے میں انتہائی غیر جانبداری سےتحریر کروں گا کہ کہ سب کیوں ہو رہا ہے۔ جب کہ ادارہ کہ سربراہ کا خود کہنا ہے کہ ان صاحب کے سر پر 150 افراد کاخون ہے اور یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں کہ انکا تعلق ایم کیو ایم سے ہے اور ایم کیو ایم کے کاموں سے کون واقف نہیں۔ یہ بات بھی اکثر لوگ جانتے ہیں کہ جس طرح سے یہ صاحب اس ملک میں پلانٹ حاصل کرنے کے ماہر بنے اور پھر چور دروازے سے ادارے کے سربراہ کا عہدہ حاصل کیا اور اب عزاداری میں سب سے بڑا رخنہ بنے ہوئےہیں۔
دس محرم سے اسوقت تک ادارہ جعفریہ کے دروازے بند ہیں۔ عالمی اخبار نے مقامی بزرگوں کے اصرار اور انکی اطلاعات پر مبنی یہ خبر بھی پچیس نومبر کو شائع کی تھی لیکن اسکے بعد سے بھی حالات اسی طرح ہیں۔یہ خبر اس طرح تھی
لندن میں ٹوٹنگ کے علاقے میں لگ بھگ چالیس سال سے قائم اہل تشیح کا عزا خانہ ادارہ جعفریہ جو دس محرم کے بعد سے مسلسل سخت اندرونی خلفشار اور گروہ بندی کا شکار ہے تا دم تحریر بند ہے اور پنجگانہ نماز اور نماز جمعہ سمیت کسی قسم کی کوئی دینی سرگرمی نہیں ہو رہی ۔عالمی اخبار کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق عزا خانے کی انتظامی کمیٹی اور ایک اور گروپ کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے اور کوئی فریق بھی اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہے۔موجودہ انتطامیہ نے گزشتہ دنوں ایک مقامی مسلکی ٹی وی پر اسی سلسلے میں یکطرفہ پروگرام کیا جس میں ہر رخ سے دوسرے فریق کو اس صورت حال کا ذمیدار ٹھہرایا۔ غیر جانبدار حلقوں کا کہنا ہے کہ پروگرام میں دوسرے فریق کی نماٗیندگی بھی ہونی چاہیٗے تھی
معلوم ہوا ہے کہ جمعے کی نماز ایک ایسی جگہ پر ادا کی جا رہی ہے جہاں شراب نوشی کے ساتھ ساتھ رقص ہوتا ہے۔ کیمونٹی کے بزرگ افراد نے اس صورت حال پر حیرت کا اظہار کیا ہے کہ عزاخانے کے پیش امام مولانا نے نماز جمعہ کے لیٗے ایسی جگہ کی اجازت کس طرح دی ہے
یاد رہے کہ یہ کشیدگی یوم عاشور پرتھی اور ہفتہ سولہ نومبر کو ادارہ جعفریہ کے چالیس سالہ قیام کے عرصے میں پہلی مرتبہ امام حسین علیہ السلام کے سوئم کی مجلس عزا منعقد نہیں ہو سکی تھی
اب عزادار عشرہ ثانی کی مجالس ادارہ جعفریہ کے بند دروازے پر بیٹھ کر سردی کے موسم میں سڑک پر کر رہے ہیں۔ اور اسوقت جب میں دکھی دل کے ساتھ یہ سب لکھ رہا ہوں تو علی ابن الحسین بیمار کربلا کی شہادت کی مجلس اور تابوت بھی بند دروازے پر بیٹھ کر ہونے والی مجلس میں برآمد ہوا ہے۔ حسین کے نام پر حسین کے ماننے والوں نے مذہب جعفریہ کو بدنام کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی اور اس ظلم کا ان لوگوں کو یوم حشر جواب دینا ہو گا
اب اس سلسلے میں ایک مینٹنگ ہفتے کو چند مخلص حضرات نے اپنے غریب خانہ پر منعقعد کی ہے ۔۔
اسی حوالے آج کل ایک خط فیس بک خط دیکھا جا رہا ہے ۔۔۔کہ جو کہ نقلی معلوم ہوتا ہے کیوں کہ نہ تو اس پر کسی کے دستخط ثبت ہیں۔ ۔۔۔ کیا عجب علما کی کمیٹی ہے کہ ہر غلط کام میں ملوث یہ کمیٹی قوم کی سربراہی کر رہی ہے۔

عزا خانوں اور عبادت گاہوں کی ہر اک انتظامیہ کا لگ بھگ یہی حال ہے اور میں گزشتہ کئی ماہ سے مولویوں کی دھمکیوں اور مخالفت کے باوجود ایسی صورت حال طشت از بام کر رہا ہوں ۔
ان عزا خانوں کی انتظامیہ میں جب عہدہ پر فائز ہونا ہوتا ہے تو عوام کی مدد سے عہدہ حاصل کر لیا جاتا ہے اور عہدہ مل جانے کے بعد ادارہ کو اپنی ذاتی جائیداد سمجھ لیا جاتا ہے اور عوام پر اس کے دروازے بند کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
ادارہ جعفریہ لندن کا ہی نہیں برطانیہ اور یورپ کا قدیم اور تاریخی عزا خانہ ہے لیکن حیرت کی بات ہے کہ مبینہ طور پر صدر ادارہ یہ بات خود کہتے ہوئے نظر اتے ہیں کہ ان صاحب نے 150 افراد کا قتل کیا ہوا ہے ۔کیا کمال کی بات ہے کہ ایک قاتل جو خود اپنی زبان سے قبول کرتا ہے کہ وہ قاتل ہے اور ایک دینی ادارہ کا رہبر اور سربراہ ہے۔۔۔۔۔
ادارہ جعفریہ کی انتظامیہ نے اپنی ویب سائٹ پر یہ پیغام بھی شائع کیا ہے
Dear brothers and sisters,
Salamunalaykum warahmatullah,
We would like to inform all the momineen that we have sent a letter to all ulama (link on websitewww.idara.org.uk) asking for guidance regarding the Idara-e-Jaaferiya. We hope and pray we will get a response quickly and until we do so, we are afraid we have no other option but to keep the idara closed.
We once again want to assure you that we are doing everything we can to ensure Idara is open as soon as possible. We will continue to keep you updated of all new developments.
26 November at 14:38 nearLondon
Idara e Jaaferiya
In the Name of Allah the Most Beneficient the Most Merciful
The Idara committee is extremely saddened to still have to keep the Idara closed. However, we the committee of Idara-e-jaaferiya are overwhelmed both by the numbers and the depth of support we have received from the community and from outside. We are encouraged by the understanding that the community has shown us regarding us being forced to temporarily close the Idara. We would like to assure you all that we are doing everything possible to create an environment where we can provide azadari in a positive and healthy atmosphere while we are fulfilling our legal responsibilities. As you know that we issued a statement on Wednesday 20th November where we requested those that are hiding behind azadari and zanjeer zani (while they have other agendas) to come forward with the names of the insurance companies that are willing to provide public liability insurance cover for zanjeer zani (self-flagellation using knives) in the place where food is served. Surprise surprise we have heard nothing from those that said there are plenty of insurance companies that provide this cover. Please do not get fooled by the empty words of these people who are causing disharmony. We are currently negotiating with different bodies to see the quickest possible way to reopen Idara. We will be posting further information by latest Tuesday 26th November.
Once again thank you for your support and inshallah together we will make Idara-e-Jaaferiya a place of azadari again.
Idara EC
23 November at 19:32 nearLondon

|
| یہ جنگ اب فیس بک پر پہنچ گئی ہے |
دوسری جانب انتہائی افسوس سے تحریر کرنا پڑتا ہے کہ مرکز اہلبیت اور ادارہ جعفریہ کے سر گرم کارکن اور سربراہان کے دائیں اور بائیں بازو کے لوگ آج کل پولیس کی حراست میں ہیں جس کے اسم گرامی شہر یار محسن اور سید محسن نقوی جن کا تعلق جھنگ اور بھیرہ (پاکستان) سے ہے۔ پولیس سے ملنے والی معلومات کے مطابق یہ دو افراد برطانیہ میں نقلی کاغذات جو کہ مختلف تعلیمی اداروں کے نام سے بنایا کرتے تھے اور ان پر ویزا حاصل کر کے نقلی طلبا کو برطانیہ کا ویزاہ حاصل کر کے بھاری رقوم وصول کیا کرتے تھے
۔دیگر معلومات کے مطابق لوٹن اور لیسٹر میں نقلی کاروباری اداروں کے نام سے بھی کاروبار میں ملوث یہ افراد ٹیکس چوری بھی کیا کرتے تھے ۔آئی ایس او کے سر کردہ ان افراد کی انکوئری جاری ہے یہ ایک پورا نیٹ ورک کام کر رہا ہے اور بہت سے طالب علم اس میں ملوث ہیں اور سہمے ہوئے ہیں کہ اب شاید ان کی باری ہے
حراست میں لیئے گئے اگر ان دونوں نے اپنا منہ مزید کھولا تو یہ تمام افراد بھی اس مقدمے میں دھر لیے جائیں گے۔۔۔۔پولیس نےان کے تمام کمپیوٹر اور دیگر کاغزات اپنے قبضے میں لے لئے ہیں اور چھان بین جاری ہے ۔۔۔۔۔ یہ بات بھی علم میں آئی ہے کہ جنوبی لندن کے ایک ادارہ کے سربراہ کے گھر سے بھی کاغزات برامد ہوئے ہیں اور وہ ان افراد کی مدد کیا کرتے تھے۔ یہ بات بھی علم میں آئی ہے کہ میاں بیوی نے حکومت کو ظاہر کرنے کے لئے علیحدگی اختیار کر رکھی ہے اور پولیس نے بھاری رقم ان افراد کے گھر سے بھی برآمد کی ہے ۔یہ حضرت اس قدیمی بارگاہ کے نائب صدر کے عہدہ پر فائزہیں۔ ۔۔۔۔۔مزید اطلاعات کا انتظار ہے۔۔۔
ذرا ایک اور شاخسانہ بھی سنتے چلیں۔ مشرقی لندن کا ایک عزا خانہ اپنی عمارت بنائے کے لئے کوشانں ہے اور اس سعی کو پوراہ کرنے میں ہر جائز اور ناجائز طریقہ سے رقوم اکٹھا کرنے کے لئے سر توڑ کوشش کر رہا ہے۔۔۔ اور یہ بات بھی سننے
میں آرہی ہے کہ علما اور جن کے وہ مقلد لیں ان کے فتوے موجود ہیں کہ لاٹری یا قرعہ اندازی حرام عمل ہے۔ اور وہ اس کو ہی اختیار کر کے عمارت کی تعمیر کے لئے رقوم جمع کر رہے ہیں۔۔۔۔
کیا اچھا ہوتا کہ یہ سات افراد مالکان ادارہ جو کہ نام نہاد لیڈر ہیں اپنی گرہ سے 50 ہزار پونڈ فی کس ادارہ کے نام کرتے اور ایک خطیر رقم مہیا کرنے میں کامیاب ہو جاتے اور اس کے بعد اگر قوم کے سامنے اپنا دامن پھیلاتے تو قوم کا ان کی مدد کرنے میں خوش بھی ہوتی ۔مگر یہ تو صرف اور صرف عوام کو اپنے مطلب کے لئے استمعال کرنا جانتے ہیں۔۔۔ نہ کہ عوام کی مشکلات میں کمی کرنے میں مدد کرتے ہیں۔۔۔
ہر سال محرم الحرم میں یہ افراد جھاگ کی طرح ابلتے ہوئے نظر آتے ہیں اور جیسے ہی چہلم گزر جاتا ہے یہ سب اپنی اپنی بلوں میں گھس جاتے ہیں ۔۔۔۔ گزشتہ 20 سال سے یہ عمل جاری ہے۔۔۔
ادارہ جعفریہ کی صورت حال اور مزید گرفتاریوں کے حوالےسے مزید جو بھی تفصیل ملے گی اگلی قسط میں شائع کی جائے گی
مجھے آخر میں یہ کہنا ہے کہ یہ ساری معلومات ہمیںمقامی ذرائع اور مقامی افراد سے ہی ملی ہیں اور اگر کسی کو اس سے کوئی اختلاف ہے تو وہ اپنا موقف لکھکر مجھے براہ راست ارسال کر دے میں اسے غیر جانبدارانہ صحافت کے تقاضوں کے تحت اپنی اسی سلسلے وار تفتیشی و تحقیقی رپورٹ میں شائع کر دونگا