کہتے هیں ایک دن ملا نصیر الدین ذبح کیۓ هوۓ مرغوں کی کهالیں اتار اتار کر ایک تسلے میں رکه رها تها کہ بلی آئی اور ایک مرغ دانتوں میں دبا کر بهاگ نکلی . ملا کی بیوی نے شور مچایا .

ملا جی فورا کهڑے هوۓ اور چیخ کر بیوی سے کہا ."جاؤ جاؤ قرآن لے کر آؤ . جلدی سے قرآن لے کر آؤ ."
بلی نے جب ملا جی کے منہ سے یہ سنا تو مرغ کو وهیں چهوڑ کر بهاگ نکلی . باقی بلیوں نے پوچها کہ کیا مصیبت آ گئ تھی کہ منہ میں پکڑا شکار بهی وهیں چهوڑ آئ هو . .
بلی بولی "ملا جی قرآن مانگ رهے تهے یقینا ڈهونڈ کر کوئ ایسی آیت نکال لیتے جس کی تاویل میں وہ بلی کے گوشت کو بهی حلال کہہ دیتے اور میں بے موت ماری جاتی . اسی لیۓ جان بچا کے بهاگ آئ هوں . . .
یہ کہانی صرف ملا نصیر الدین کے عہد کی نہیں هر دور کا مفاد پرست ملا اپنی شکم پری کے لیۓ واضع آیات کو بهی من پسند تاویلوں سے مزین کر کے پیش کرتا هے . . کچه ایسا هی منظر گذشتہ شب آٹه بجے سے نو بجے تک کیپیٹل ٹی وی پر ایک ٹاک شو " عوام " میں دیکهنے کو ملا۔ جس کے دو موضوعات بحث میں سے ایک موضوع تها کہ اهل منبر دین کی تبلیغ اور ذکر کے جو بهاری معاوضے مقرر کرتے هیں کیا دین نے اسکی اجازت دی هے ؟ . .
پروگرام کے آغاز میں هی میزبان نے امام زین العابدین ( ع) کا یہ فرمان سنایا " خبردار ! میرے بابا کے ذکر کو کاروبار مت بنانا ."
پروگرام میں خانم طیبہ بخاری . حاجی حنیف طیب صاحب کے علاوہ تین شرکا اور بهی شامل گفتگو رهے . . ان تینوں نے تو تبلیغ دین کی بہاری اجرت کی سخت مذمت کی . حاجی حنیف طیب صاحب نے کہا کہ کوئ اپنی مرضی سے ہدیہ دے تو جائز هے لیکن بهاری معاوضے مانگنا بہرحال جائز نہیں . . لیکن خانم طیبہ بخاری نے ایسی روایات اور احادیث کو بهی ضعیف کہہ کر ماننے سے انکار کر دیا جن میں تبلیغ دین کی اجرت لینے سے روکا گیا هے . . اور تمام وقت بضد رهیں کہ بهاری معاوضہ لینا عین شریعت هے . . اور اس طرح انہوں نے ثابت کر دکهایا کہ ملا نصیر الدین هر عہد کا زندہ جاوید کردار هے . جس کو زندہ رکهنے کے لیۓ زیادہ محنت درکار نہیں هوتی بس ذرا اپنے ضمیر کو تهپک تهپک کر سلانا هوتا هے . . اسکےبعد هر وہ آیت اور روایت جو ملا کے مفاد میں نہ هو وہ کتب مستند میں لکهی هونے کے باوجود ضعیف هو جاتی هے اور انکے مفاد والی روایات کسی بهی کونے کهدرے میں پڑی هوں وہ ملا کی دعاۓ خاص سے کبهی بهی ضعیف نہیں هو پاتیں . .
افسوس کہ خانم طیبہ کا ذاکرہ اہل بیت (ع) ھونا اور ممتاز سکالر کا لیبل لکا لینا انکی روایتی تنگ نظری اور مفاد پرستی کو نہیں ڈھانپ سکا ۔ اور بارھا یہ دلیل پیش کی کہ اس ملک میں ماڈل گرل ، سنگر اور مارننگ شو کرنے والی بے حیا عورتوں کو اتنا معاوضہ ملتا ھے تو دینی سکالر کر کیوں نہ ملے ؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صد اقسوس ھے خانم کی اتنی محدود سوچ پر ۔۔۔۔۔
کاش کہ انہیں ادراک ھو پاۓ کہ سیدہ النساالعالمین کا ذکر پاک تو هماری فکر کو کشادہ کرتا ہے .اگر خانم صاحبہ نے اس معاشرتی ناهمواری کو دل کی گہرائیوں سے محسوس کیا هوتا تو پیپلز پارٹی کے دور میں ھی جبکہ ان کو درباری ملا کا عہدہ ملا تھا اسی عہد میں وہ خواتین کی نمائندگی کرتے ہوۓ یہ آواز بلند کرتیں کہ محنت کش خواتین اور خواتین اساتذہ کی ماهانہ آمدنی کو بڑهتی ہوئ مہنگائ کے مقابلے میں توازن میں لایا جاۓ .یہ کیسا معاشی عدم توازن هے کہ اسی ملک میں رهتے هوۓ ماڈل اور ایکٹر لاکهوں روپے ماهانہ کماۓ اور شعبہ تعلیم اور تحقیق سے وابستہ خواتین کی ماہانہ آمدنی سے بمشکل ان کی ضروریات پوری هو رهی هو ۔ لیکن مفاد پرست ملا کیا جانے کہ قرآن و اهل بیت (ع) کے ذکر میں وہ آفاقیت کیسے بیان کی جاۓ جو رب العالمین نے قرآن صامت اور قرآن ناطق کی صورت میں هم کو سمجهائ هے . . . لیکن خانم صاحبہ کا اس پروگرام میں اس قدر سیخ پا هونا اور چیخ چیخ کر بولنا هی اس بات کی دلیل هے کہ اس وقت ان کے پاس کوئ معتبر دلیل نہیں تھی ۔ وہ خود اپنےضمیر کی آوازکو بهی جهٹلا رهی تهیں اور محض اونچی آواز اور مصنوعی دهونس سے خود کو سچا ثابت کر رهی تهیں . . پروگرام کے شرکا میں سے کوئ بهی اتنا سیخ پا نہیں تها . . کیونکہ وہ اپنے ضمیر کی آواز نہیں دبا رهے تهے لہذا ان کو اونچا بول کر خود کو عالم کی بجاۓ جاهل ثابت کرنے کی ضرورت هی نہ پیش آئی .
آخو انسان کیوں یہ بھول جاتا ھے کہ ضمیر کی آواز هر ذی شعور انسان کے اندر بے تاب رهتی هے اور هر باضمیر انسان کے لبوں پر ضرور آتی هے خواہ وہ کسی بهی مذہب قوم یا قبیلے سے هو . . خلیل جبران بهی درحقیقت ضمیر کی آواز تها . هر عہد میں یہ آواز ضرور بلند هوتی هے . اور انقلاب لاتی هے . ذاکر کی بے عملی اور ملا کی مفاد پرستی نے اس قوم کو فرقہ واریت میں ایسا الجهایا هے یہ قوم اجتماعی فلاح و بہبود اور دیگر تہذیبی اور تمدنی رشتوں کی اہمیت سے غافل هو کر تباهی کی جانب بڑهتی چلی جا رهی هے . . ملا کا هر فتوی اسکے ذاتی مفاد سے وابستہ هے . آخر کب تک هم مسلک پرستی اور سیاسی پارٹی بازی کی بنیاد پر علماۓ سو کو بهی علماۓ حق کا لیبل لگاتے رهیں گے .۔ ۔ ۔
امام حسین (ع) تو هر باضمیر شخص کے امام هیں . .
پهر سلام یا حسین (ع) کہنے والی قوم بے ضمیروں کو سلام کیوں کرے