15.10.2026, 10:09am , جعمرات (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
اعلان و انتخاب آجکا دن
 

سلام یا حسین (ع) کہنے والی قوم بے ضمیروں کو سلام کیوں کرے
01.12.2013, 01:42am , اتوار (GMT+1)

سید علی رضا نقوی
کہتے هیں ایک دن ملا نصیر الدین ذبح کیۓ هوۓ مرغوں کی کهالیں اتار اتار کر ایک تسلے میں رکه رها تها کہ بلی آئی اور ایک مرغ دانتوں میں دبا کر بهاگ نکلی . ملا کی بیوی نے شور مچایا . 
ملا جی فورا کهڑے هوۓ اور چیخ کر بیوی سے کہا ."جاؤ جاؤ قرآن لے کر آؤ . جلدی سے قرآن لے کر آؤ ."

 بلی نے جب ملا جی کے منہ سے یہ سنا تو مرغ کو وهیں چهوڑ کر بهاگ نکلی . باقی بلیوں نے  پوچها کہ کیا مصیبت آ گئ تھی کہ منہ میں پکڑا شکار بهی وهیں چهوڑ آئ هو . . 
بلی بولی "ملا جی قرآن مانگ رهے تهے یقینا ڈهونڈ کر کوئ ایسی آیت نکال لیتے جس کی تاویل میں وہ بلی کے گوشت کو بهی حلال کہہ دیتے اور میں بے موت ماری جاتی . اسی لیۓ جان بچا کے بهاگ آئ هوں . . .

 یہ کہانی صرف ملا نصیر الدین کے عہد کی نہیں هر دور کا مفاد پرست ملا اپنی شکم پری کے لیۓ واضع آیات کو بهی من پسند تاویلوں سے مزین کر کے پیش کرتا هے . . کچه ایسا هی منظر گذشتہ شب آٹه بجے سے نو بجے تک کیپیٹل ٹی وی پر ایک ٹاک شو " عوام " میں دیکهنے کو ملا۔ جس کے دو موضوعات بحث میں سے ایک موضوع تها کہ اهل منبر دین کی تبلیغ اور ذکر کے جو بهاری معاوضے مقرر کرتے هیں کیا دین نے اسکی اجازت دی هے ؟ . . 

پروگرام کے آغاز میں هی میزبان نے امام زین العابدین ( ع) کا  یہ فرمان سنایا " خبردار ! میرے بابا کے ذکر کو کاروبار مت بنانا ."

 پروگرام میں خانم طیبہ بخاری . حاجی حنیف طیب صاحب کے علاوہ  تین شرکا اور بهی شامل گفتگو رهے . . ان تینوں نے تو تبلیغ دین کی بہاری اجرت کی سخت مذمت کی . حاجی  حنیف طیب صاحب نے کہا کہ کوئ  اپنی مرضی سے ہدیہ دے تو جائز هے لیکن بهاری معاوضے مانگنا بہرحال جائز نہیں . . لیکن خانم طیبہ بخاری نے ایسی روایات اور احادیث کو بهی ضعیف کہہ کر ماننے سے انکار کر دیا جن میں تبلیغ دین کی اجرت لینے سے روکا گیا هے . . اور تمام وقت بضد رهیں کہ بهاری معاوضہ لینا عین شریعت هے . . اور اس طرح انہوں نے ثابت کر دکهایا کہ ملا نصیر الدین هر عہد کا زندہ جاوید کردار هے . جس کو زندہ رکهنے کے لیۓ زیادہ محنت درکار نہیں هوتی بس ذرا اپنے ضمیر کو تهپک تهپک کر سلانا هوتا هے . . اسکےبعد هر وہ آیت اور روایت  جو ملا کے مفاد میں نہ هو وہ کتب مستند میں لکهی هونے کے باوجود ضعیف هو جاتی هے اور انکے مفاد والی روایات کسی بهی کونے کهدرے میں پڑی هوں وہ ملا کی دعاۓ خاص سے کبهی بهی ضعیف نہیں هو پاتیں . .

افسوس کہ خانم طیبہ کا ذاکرہ اہل بیت (ع) ھونا اور ممتاز سکالر کا لیبل لکا لینا انکی روایتی تنگ نظری اور مفاد پرستی کو نہیں ڈھانپ سکا ۔ اور بارھا یہ دلیل پیش کی کہ اس ملک میں ماڈل گرل ، سنگر اور مارننگ شو کرنے والی بے حیا عورتوں کو اتنا معاوضہ ملتا ھے تو دینی سکالر کر کیوں نہ ملے ؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 صد اقسوس ھے خانم کی اتنی  محدود سوچ پر ۔۔۔۔۔

کاش کہ انہیں ادراک ھو پاۓ کہ سیدہ النساالعالمین کا ذکر پاک تو هماری فکر کو کشادہ کرتا ہے .اگر خانم صاحبہ نے اس معاشرتی ناهمواری کو دل کی گہرائیوں سے محسوس کیا هوتا تو پیپلز پارٹی کے دور میں ھی جبکہ ان کو درباری ملا کا عہدہ ملا تھا اسی عہد میں وہ خواتین کی نمائندگی کرتے ہوۓ یہ آواز بلند کرتیں کہ محنت کش خواتین اور خواتین اساتذہ کی ماهانہ آمدنی کو  بڑهتی ہوئ مہنگائ کے مقابلے میں توازن میں لایا جاۓ .یہ کیسا معاشی عدم توازن هے کہ اسی ملک میں رهتے هوۓ ماڈل اور ایکٹر لاکهوں روپے ماهانہ کماۓ اور شعبہ تعلیم اور تحقیق سے وابستہ خواتین کی ماہانہ آمدنی سے بمشکل ان کی ضروریات پوری هو رهی هو ۔ لیکن مفاد پرست ملا کیا جانے کہ قرآن و اهل بیت (ع) کے ذکر میں وہ آفاقیت کیسے بیان کی جاۓ جو رب العالمین نے قرآن صامت اور قرآن ناطق کی صورت میں هم کو سمجهائ هے . . . لیکن خانم صاحبہ کا اس پروگرام میں اس قدر سیخ پا هونا اور چیخ چیخ کر بولنا هی اس بات کی دلیل هے کہ اس وقت ان کے پاس کوئ معتبر دلیل نہیں تھی ۔ وہ خود اپنےضمیر کی آوازکو بهی جهٹلا رهی تهیں اور محض اونچی آواز اور مصنوعی دهونس سے خود کو سچا ثابت کر رهی تهیں . . پروگرام کے شرکا میں سے کوئ بهی اتنا سیخ پا نہیں تها . . کیونکہ وہ اپنے ضمیر کی آواز نہیں دبا رهے تهے لہذا ان کو اونچا بول کر خود کو عالم کی بجاۓ جاهل ثابت کرنے کی ضرورت هی نہ پیش آئی .

   آخو انسان کیوں یہ بھول جاتا ھے کہ  ضمیر کی آواز هر ذی شعور انسان کے اندر بے تاب رهتی هے اور هر باضمیر انسان کے لبوں پر ضرور آتی هے خواہ وہ کسی بهی مذہب  قوم یا قبیلے سے هو . . خلیل جبران بهی درحقیقت ضمیر کی آواز تها . هر عہد میں یہ آواز ضرور بلند هوتی هے . اور انقلاب لاتی هے . ذاکر کی بے عملی اور ملا کی مفاد پرستی نے اس قوم کو فرقہ واریت میں ایسا الجهایا هے یہ قوم اجتماعی فلاح و بہبود اور دیگر تہذیبی اور تمدنی رشتوں کی اہمیت سے غافل هو کر تباهی کی جانب بڑهتی چلی جا رهی هے . . ملا کا هر فتوی اسکے ذاتی مفاد سے وابستہ هے . آخر کب تک هم مسلک پرستی اور سیاسی پارٹی بازی کی بنیاد پر علماۓ سو کو بهی علماۓ حق کا لیبل لگاتے رهیں گے .۔ ۔ ۔ 
 امام حسین (ع) تو هر باضمیر شخص کے امام هیں . .
 پهر سلام یا حسین (ع) کہنے والی قوم بے ضمیروں کو سلام کیوں کرے 

:دیگر مضامین
(30.11.2013) پاک فوج کے نئے سربراہ جنرل راحیل شریف کی زندگی پر ایک نظر
(28.11.2013)  برطانیہ کے سر فرینک والٹر میسروی پاک فوج کے پہلے سربراہ تھے
(27.11.2013) رثائی شعری حلقے کے ممتاز شاعر رضا قیصر زیدی کی رِحلت
(26.11.2013) الجزائری خاتون سیاستدان ساتویں مرتبہ سیاسی جماعت کی سربراہ منتخب
(21.11.2013) دنیا بھر میں ٹیلی ویژن کا عالمی دن 21 نومبر کو منایا جا رہا ہے
(20.11.2013) راولپنڈی سانحہ۔ حکومت پنجاب اس سازش میں شریک ہے؟ سید علی رضا نقوی
(19.11.2013) ضروری ہے کہ اسوقت جوش نہیں ، ہوش سے کام لیجئے ۔از۔۔ سبط علی
(19.11.2013) مکہ مکرمہ میں غسل کعبہ کی روح پرور تقریب، اہم شخصیات کی شرکت
(18.11.2013) کربلا رسوم و روایات کا نام نہیں بقائے انسانیت اور استحکام دین کا نام ہے
(15.11.2013) ڈاکٹر نیاز حسین ھمدانی کی دعوت فکر حسینی کا ایک باب
(12.11.2013) تاریخ بکے ھوۓ مورخین سے بھری پڑی ھے۔۔۔عطیہ زیدی
(11.11.2013) آسٹریلیا میں پہلا بین المذاہب “ یوم حسین “ پاکستان آسٹریلیا ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام
(07.11.2013)  یہ عہد اپنے بیٹے کے ساتھ ھے میں اپنے بیٹے کی بیعت کرتا ھوں
(06.11.2013) استقبالِ محرم ۔۔۔۔ سید قمر رضوی کی فکر انگیز تحریر
(06.11.2013) ہلال محرم ۔۔۔۔۔ سید قمر رضوی کی ایک منفرد تحریر
(05.11.2013) ہادی برحق سے آگے بڑھ جانے والوں یا پیچھے رہ جانے والوں کو خوش آمدید۔
(05.11.2013) ہماری دینی اور سیاسی دونوں قیادت بدعنوان ہے
(04.11.2013) بزرگ عالم باعمل سید نیاز حسین ھمدانی کا حجت الاسلام کو استدلالی جواب
(04.11.2013) فیس بک پر موجود کویت کے ایک خطیب کی تحریر۔ ذکر حسین میں ریا کاری جائز ہے
(03.11.2013) مشاعروں کے کاروباری شاعر شعر و ادب کی نتزلی کا سبب



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں