شاعری دلوں کو جوڑتی ہے آپسی رشتے مضبوط کرتی ہے جس سے ملک و قوم کی سا لمیت قائم رہتی ہے۔ مشاعرے زبان و ادب کو فروغ دینے کا مؤثر ذریعہ بھی ہیں اور آپسی دلجوئی کا راستہ بھی۔ مذکورہ خیالات کا اظہار بزم اُردو کے سلسلہ وار
سترہویں مشاعرے کی صدارت کرتے ہوئے مست حفیظ رحمانی نے کیا۔
انہوں نے کہا اُردو نے ہمیشہ سے ہندوستان کی تہذیب کو زندہ رکھا ہے۔ جہاں جہاں اُردو کے دیوانے موجود ہیں وہاں وہاں آج بھی ہماری وراثت مضبوطی کے ساتھ اپنے پیر جمائے ہوئے اتحاد کی مثال قائم رکھنے میں کامیاب ہے۔ اس موقع پر ضلع بارہ بنکی کے ممتاز شاعر و ناظم مشاعرہ عمران انواروی کو گزشتہ ماہ آنکھیں کسی کی یاد یں پرنم ہیں دوستو مصرع طرح پر پیش کی گئی بہترین غزل کے لئے اراکین بزم اُردو اور صدر مست حفیظ رحمانی نے غزل ایوارڈ سے بھی نوازا ۔ غزل ایوارڈ حاصل کرتے ہوئے عمران انواروی نے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا کہ بزم اُردو اودھ علاقہ کی سب سے بڑی اور معتبر تنظیم ہے۔ اس بزم کے ذریعہ حاصل ہونے والا ایوارڈ میری زندگی کا سب سے قیمتی ایوارڈ ہے بزم اردو کی کاوشوں کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔ اُردو زبان و ادب کی بے لوث خدمت کے لئے بزم اُردو کی بے مثال تاریخ ہے جسے کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔
بزم اردو کے اس پروگرام میں مشاعرہ کے بعد تعزیتی جلسہ میں مشہور و معروف شاعر معراج فیض آبادی کے انتقال پر رنج و غم کا اظہار کیا گیا۔ مقررین نے معراج فیض آبادی کو ایک با وقار اور معتبر شاعر تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ ان کی رحلت سے ادب کا ایک بڑا نقصان ہو گیا ہے جو کہ مشاعروں میں ادب کی شمع روشن رکھنے کے ساتھ ساتھ قومی یکجہتی کی بھی مثال تھے۔
اس کے علاوہ شاعر زبیر صدیقی کی اہلیہ اورسماجی کارکن سرتاج احمد شانو کی والدہ کے اچانک انتقال کر جانے پر بھی افسوس کا اظہاراور سبھی مرحومین کے لئے دعائے مغفرت کی گئی۔ مشاعرہ میں جن شعراء نے اپنا طرحی کام پیش کیا ان میں مست حفیظ رحمانی، عمران انواروی، مرزا شارق لاہرپوری، تنویر پھول (نیویارک) ، سلیم اختر ، منظر یٰسین، رضوان خان، ڈاکٹر اخلاق احمداخلاق، صبا بارہ بنکوی، یونس پینتے پوری ، علیم ساحل ، ڈاکٹر افضل لاہر پوری، بدر سیتاپوری، شہرت انصاری، داکٹر اظہر خیرآبادی، نعیم ؔ بسیتوی، محفوظ رحمانی،نفیس سیتاپوری، ارمان انواروی وغیرہ نے اپنا طرحی کلام پیش کیا۔ مشاعرہ کی کامیاب نظامت بزم اُردو کے جنرل سکریٹری رضوانؔ خان نے بحسن و خوبی انجام دی۔ مشاعرہ کنوینر خوشتر رحمانی نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ ماہ طرحی مشاعرہ منعقد نہیں کیا جائے گا کیونکہ بزم اُردو آئندہ ماہ اپنے قیام ک۴۳ واں یوم تاسیس منائے گی اور اس موقع پر ایک عظیم الشان کل ہند مشاعرہ منعقد کیا جائے گا۔ مشاعرہ میں ان تمام شعراء کو شامل کئے جانے کا فیصلہ لیا گیا ہے جن کو بزم اُردو نے غزل ایوارڈ سے سرفراز کیا ہے۔ آج کے طرحی مشاعرہ میں پسند کئے گئے اشعار اس طرح ہیں۔
اُداس چہرہ ہے اب کل جو ہنستا رہتا تھا
زمانہ گذرا ہمارا بھی اک زمانہ تھا
یہ اور بات نہ ہونٹوں کو ہو سکی جنبش
تمہارے ساتھ مجھے بھی تو مسکرانا تھا
مست حفیظ رحمانی
سی سے روشنی راہوں میں آج ہے عمرانؔ
وہ ایک اشک ندامت کبھی جو چھلکا تھا
عمران انواروی
وہ جب دماغ پہ غالب تھا دل میں بستا تھا
تو عرش و فرش و فضا میں مرا علاقہ تھا
مرزا شارق لاہرپوری
عجب طرح کا ہوا فیصلہ عدالت میں
سزا ملی ہے کسے اور قصور کس کا تھا
صبا بارہ بنکوی
وہ میرے دل میں ہے اب تک چراغ سا روشن
جو ایک اشک تری آنکھ سے چرایا تھاسلیم اختر
تمام ساز جہاں بج رہے تھے نفرت کے
ہمیں وہاں بھی محبت کے گیت گانا تھا
منظر یٰسین
مجھے قبول کہ میرا وجود تنکا تھا
مگر میں ڈوبتے انسان کا سہارا تھا
ڈاکٹر اخلاق احمد اخلاق
ہمارے حلقۂ احباب میں وہ آج بھی ہے
ہمارے ساتھ جو بچپن میں خوب کھیلا تھا
رضوان خان
اُسی کی یاد میں ہم نے بتا دی زیست اپنی
ہمارے ساتھ محبت کا ایک لمحہ تھا
تنویر پھول
سزا ملی ہے ہمیں بس قصور اتنا تھا
نظر اُٹھا کے انہیں ایک بار دیکھا تھا
یونس پینتے پوری
کسی کے حسن کی تابش کا کھیل ہے ورنہ
ثمر کو عرض ہنر کا کہاں سلیقہ تھا
ڈاکٹر ثمر سنبھلی
وہ شاعری میں بھی کرتب نئے دکھاتا تھا
کسی کا شعر ہو اپنا اُسے بتاتا تھا
قادر لکھیم پوری
زمیں پہ ہی نہیں جس کا فلک پہ چرچا تھا
لباس تن پہ ابوبکر کچھ ایسا تھا
علیم ساحلؔ
بھلانے سے بھی نہ بھولا ہوں آج تک حکمتؔ
سجا کے پیار میں جو رکھا وہ پیار پہلا تھا
حکمت شاہ آبادی
میں کوئی پھول نہ پتھر نہ کوئی شعلہ تھا
بدل بدل کے نظر آپ ہی نے دیکھا تھا
ڈاکٹر افضل لاہرپوری
مرے خلوص نے تبدیل کر دیا اُس کو
لچک کے ملنے لگا جو بہت اکڑتا تھا
شہرت انصاری
لہو لگا کے شہیدوں میں ہو گیا شامل
وہ جس کے د، میں کوئی جوش تھا نہ جذبہ تھا
بدر سیتاپوری
ہر ایک لب کا تبسم جو بن کے رہتا تھا
محبتوں کے چمن میں اُسی کا چرچا تھا
ڈاکٹر اظہرؔ خیرآبادی
کھلی جو آنکھ تو دیکھا دھواں دھواں منظر
ہمیں بھی رات کو سپنا سہانا آیا تھا
ڈاکٹر زبیر صدیقی
بہت ہی پیار سے تم نے کبھی ہتھیلی پر
ہمارے نام کے ساتھ اپنا نام لکھا تھا
درویش سندیلوی
کسی کو بھی نہیں معلوم کیوں میں پیاسا تھا
یہ اور بات مری دسترس میں دریا تھا
عمران سیتاپوری
تمام لوگوں کو جوڑے ہوئے جو رکھتا تھا
ہمارے گاؤں کی چوپال کا وہ حقہ تھا
محفوظ رحمانی
رقیب مجھ سے اسی بات سے گریزاں ہیں
مرے قریب سے ہو کر کبھی وہ گذرا تھا
نفیس سیتاپوری
جو میرے پاس محبت کا ایک لمحہ تھا
رہ حیات میں لے کر اُسی کو نکلا تھا
نعیم بسیتوی
وہ بدتمیز تھا لچّہ تھا اور لفنگا تھا
امیرزادوں میں اُس کا شمار ہوتا تھا
ارمان انواروی
میں اس کی پشت پہ کس طرح وار کر دیتا
مجھے پرانے اُصولوں نے باندھ رکھا تھا