14.10.2026, 07:35pm , بدھ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
اہم ترین   
ریڈیو پاکستان نے لاہور کے تاریخی ریڈیو اسٹیشن کا ایک اہم اسٹوڈیو اولیں ناشر اعلان قیام پاکستان مصطفیٰ علی ھمٰدانی کے نام سے موسوم کر دیا
یکم نومبر دو ہزار بارہ عالمی اخبار کی چوتھی سالگرہ ہے۔آن لائن اردو اخبارات میں عالمی اخبار سنجیدہ صحافت کا معیار بن چکا ہے
 
رپورٹس/ملٹی میڈیا
 

بچوں میں جھوٹ بولنے کا رجحان خطرناک حد بڑھ رہا ہے ۔۔ از: ڈاکٹر نگہت نسیم ۔ سڈنی
04.12.2013, 12:20am , بدھ (GMT+1)

نگہت نسیم ۔سڈنی
خواہش  ہونے کے باوجود انسانی نفسیات پر اردو میں ایک یا دو مضامین  کے علاوہ کچھ نہیں لکھ پائی یہی سوچ کر کہ ابھی لکھتی ہوں اور کبھی  یہ کہ انشاللہ وقت ملتے ہی  ضرور لکھونگی ۔ پر آج میری آنکھیں آٹھ سالہ بچی کے والدین سے مل کر نم ہو گئیں ۔ قصہ کچھ یوں ہوا کہ بچی اپنی کسی دوست کے گھر میں رات رہنا چاہتی تھی ۔ ماں نے انکار کیا باپ نے فیصلے کی تائید کی اور دوسرے ہی منٹ بچی نے ٹرپل زیرو پر پولیس کو فون کر دیاکہ اس کے والدین اس پر تشدد کر رہے ہیں اسے بچایا جائے ۔ پولیس نے فورا گھر پہنچ کر ماں باپ کو گرفتار کر لیا اور بچی کو حکومتی حفاظتی ادارے کو سونپ دیا ۔ مکمل تفتیش کے بعد  پتہ یہ چلا کہ بچی کوجھوٹ بولنے کی عادت ہے اور اس نے آئے دن کی لعنت ملامت سے تنگ آ کر اس موقع کا فائدہ اٹھایا اور بغیر نزاکت جانے پولیس کو فون کر دیا ۔۔ اب والدین کو میرے پاس بھیجا گیا ہے کہ میں نفسیاتی تجزیہ کر کے بتا سکوں کہ ان میں Parenting Skills  یعنی والدین ہونے کا ہنر ہے کہ نہیں تاکہ یہ فیصلہ ہو کہ ان کی بچی ان کو واپس کی جائے یا نہیں  ۔۔۔۔ میری آنکھیں والدین کی بیچارگی پر نم ہو گئیں ۔۔ اس کے ساتھ ہی کئی اور والدین بھی یاد آئے جو ڈھکے چھپے لفظوں میں بچوں کی عادات کا زکر کرتے رہتے ہیں ۔ شاید اسی آرزدگی نے مجھ سے یہ مضمون لکھوایا ہے ۔ 

بچے جب پیدا ہوتے ہیں ۔ انہیں نہ اپنے دین کاپتہ ہوتا ہے اور نہ ہی تہذیب کا اور نہ ہی اخلاقی اقدار کا ۔ انہیں یہ بھی پتہ نہیں ہوتا کہ وہ کس معاشرے کا حصہ بننے جارہے ہیں ۔ وہ امیر ہیں کہ غریب ۔ ان کے ماں باپ اچھے ہیں یا برے ، کم علم ہیں کہ عالم فاضل ۔ وہ حیرانگی سے ادھر ادھر دیکھتے ہیں  ۔ انہیں جو جو نظر آتا ہے ، جو کچھ سنائی دیتا ہے وہ ان کے دماغ پر پرنٹ ہوتا جاتا ہے ۔ سو بچہ اپنی پیدائیش کے پہلے لمحے سے سیکھنا شروع کر دیتا ہے ۔ انہیں سچ جھوٹ میں یا اچھے برے کی کوئی تمیز نہیں ہوتی ۔ وہ جس ماحول کا حصہ ہوتے ہیں وہی انہیں نارمل اور جینے کا درست انداز لگنا شروع ہو جاتا ہے ۔۔ ریسرچ یہ کہتی ہے کہ اگر بچہ نیک اور صلح جو والدین کا ہو پر اس کی  پرورش زبان و اخلاق کے برے والدین کے ساتھ ہو تو بچہ بھی برے اخلاق اور زبان کا ہو گا بلکہ وہ ان سے بھی دوچار ہاتھ آگے ہی ہو گا ۔ سو بچے کے ابتدائی چار سال اس کی زندگی کے قیمتی ترین سال ہوتے ہیں جب غیر محسوس طریقے سے ان کے  ماحول کے مطابق  ان میں اچھے برے کی بنیادیں رکھیں جا رہی ہوتی ہیں ۔ 

پیدائیش سے چار برس کے بچے اور جھوٹ کی عادت 

پیدائیش سے  تین برس کی عمر تک  کے بچے اور ان کی ضرورتیں  بڑوں کے رحم و کرم پر ہوتی ہیں ۔ وہ بخوبی سمجھ رہیں ہوتے ہیں کہ اپنے کھانے کا بندوبست ، سرد گرم کا خیال ، اپنی جسمانی اور جذباتی تحفظ  کے لیئے وہ ماں باپ کے محتاج  ہیں یا وہ ہستیاں جو انہیں پال رہے ہوتی ہیں  ۔ بچہ اپنی سیکورٹی  کے لئے  اپنے ماں باپ اور ساتھ رہنے والوں کو ان کی آوازوں اور لہجوں سے پہچانتا ہے ۔ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ کب وہ کس بات پرخوش ہوتے ہیں اور کب خفا ہو سکتے ہیں  ۔ بچے اس عمر میں ماں باپ کے درشت لہجے اور ہلکی سی مار سے بچنے کے لیئے جھوٹ بولنا شروع کر دیتے ہیں ۔ مثال کے طور پر  جیسے یہ گلاس میں نے نہیں توڑا ۔۔ یہ بسکٹ میں نے زمین پر نہیں گرایا ۔۔۔ یا میں نے پانی زمین پر نہیں پھینکا ۔۔۔ یہ بظاہربے ضرر سے جھوٹ معصوم بچوں کو سرزش اور مار سے نہ صرف بچانے میں مدد کرتے ہیں بلکہ انہیں یہ بھی باور کراتے ہیں کہ وہ اس طرح سے آگے چل کر بھی اسی طرح اپنے کئے سے انکار کر کے  ہر طرح کی سرزش سے بچ سکتے ہیں ۔ 

حل 
 گھر میں رہنے والوں کی زمیداری ہے کہ بچے کے ارد گرد پر سکون ماحول رکھا جائے اور آپس میں اور ان  کے ساتھ جھوٹ قطعا نہ بولا جائے ۔ اور اگر ان سے غلطی ہو جائے تو مارنے کی بجائے  صرف پیار اور شفقت سے  سمجھایا جائے اور بتایا جائے کہ آپ کو معلوم ہے کہ بچے سے غلطی ہوئی ہے اور اس نے سزا سے بچنے کے لیئے جھوٹ بولا ہے ، تاکہ بچوں کا کا ڈر اور خوف  ختم ہو جائے اور انہیں یقین ہو جائے کہ سچ کہنے پر والدین انہیں چھوڑ کر  نہیں جائیں گے اور نہ ہی کوئی ان کے ساتھ انتقامی کاروائی ( اونچی آواز میں ڈانٹنا ، گالم گلوچ )  کریں گے بلکہ ان کی عزت میں اور اضافہ ہوگا ۔

چار برس سے آٹھ  برس تک کے بچے اور جھوٹ کی عادت

یہ وہ عمر ہوتی جب بچے اپنی تصواراتی دنیا بنا رہے ہوتے ہیں ۔ ان کے لیئے تصور اور حقیقت میں کبھی کبھی فرق کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے ۔ کھیل بھی وہ تصوراتی ہی کھیلنا پسند کرتے  ہیں اور مزے کی بات یہ ہے کہ ماں باپ اور دیگر گھر والے بھی خؤش ہو ہو کر ایک دوسرے کو بتا رہیں ہوتے ہیں کہ آج ان کے بچے نے کونسا کھیل کھیلا ۔ مثلا کوئی بچہ اپنی ساتھ والی کرسی پر اپنے تصوراتی دوست کے لیئے کرسی خالی رکھنے کی ضد کرے گا بلکہ اس کی پلیٹ بھی رکھوائے گا ۔ گھر والے اس کی ضد اور جھگڑے سے بچنے کے لیئے ویسا ہی کریں گے جیسا بچہ چاہتا ہے۔ اس میں والدین کا قصور یہ ہوتا ہے کہ وہ بھی انہیں تسوراتی دنیا میں لے چلتے ہیں  جیسے انہیں کہیں  کہ پریاں آتی ہیں ۔۔ جن بھوت سے ڈرایا جاتا ہے ۔ اور انہیں خود سے جوڑ جوڑ کر جھوٹی کہانیاں سنائیں جاتی ہیں جس سےبچہ یہ سمجھتا ہے کہ جھوٹ بولنا  درست ہے ۔ لہذا وہ بڑی آسانی سے اپنی آسانی کے لیئے اپنے سے گھڑ کر والدین کو ہی کہانی سنا دیتے ہیں ۔ جیسے اسکول میں اپنی غلطی کسی اور کے سر پر رکھ دینی ، کبھی ہوم ورک نہ کیا ہو تو اسکول نہ جانے کے لیئے جھوٹ بولنا کہ سر یا پیٹ میں درد ہے یا بخار ہے یا فلاں نے مجھے مارا ہے اور فلاں نے گالی دی ۔۔ ٹیچر اچھی نہیں ہے ۔۔ ٹیچر کو کہنا کہ اس کی ماں  باپ ظالم ہیں اور اس کا بلکل خیال نہیں رکھتے ۔

حل 
ماں باپ کو چاہیئے کہ وہ ان کے تصواراتی  کھیل کا حصہ ضرور بنیں لیکن انہیں یہ بھی بتاتے جائیں کہ یہ صرف کھیل ہے اور حقیقی دنیا میں پریاں ، بھوت نہیں ہوتے ۔ ہو سکے تو حقیقی کہانیاں ہی سنائیں ۔۔ کارٹون ، فلم بھی یہی بت اکر دیکھائی جایئ کہ یہ حقیقی دنیا کا حصہ نہیں ہیں بلکہ تعلیم حاسل کرنے کا زریعہ ہیں ۔۔ انہیں بتایئے کہ بخار کا تھرما میٹر پر آنا ضروری ہے اور سر، پیٹ درد کی وجہ معلوم ہونی چاہیئے ۔ ماں باپ اور دیگر گھر والوں کا بچے کے ساتھ دوستانہ سلوک اسے حقیقی دنیا میں لے آئے گا اور یوں تصوراتی دنیا اور جھوٹ سے نکل آئے گا ۔ کیونکہ  بچے جن کو ابھی  سچ اور جھوٹ کی اتنی پہچان نہیں  ہوتی وہ بھی اتنا ضرور جانتے ہیں کہ اگر وہ جھوٹ بولیں گے تو وہ بڑوں کی مار سے بچ جائیں گے اور انہیں کوئی کچھ نہ کہے گا۔ لہذا ان کی غلطیوں اور جھوٹ پر انہیں سزا دینے کی بجائے  محبت اور توجہ سے اچھے برے میں  تمیز سکھاتے رہیئے ۔ اخلاق اپنے عمل سے سکھایئے ۔

آٹھ  برس سے 10 برس تک کے بچے اور جھوٹ کی عادت 

یہ وہ عمر ہوتی ہے جب بچے جان چکے ہوتے ہیں کہ سچ اور جھوٹ میں کیا فرق ہے اور ان کے اثرات کیا کیا ہوتے ہیں ۔ گھر والوں اور اسکول میں ٹیچرز  سے کتنا سچ بولیں گے تو چلے گا یا کتنا جھوٹ بولیں گے تو سوالات اور مار سے بچ جائیں گے ۔ اس کے ساتھ ساتھ انہیں ایک دم سے احساس ہوتا ہے کہ وہ بڑے ہو گئے ہیں اور زمیدار بھی سو وہ اپنے فیصلے خود کرنا چاہتے ہیں اور اپنے کئے ہر کام  کی شاباشی لینے کے لیئے کہ وہ اپنے گھر والوں سے اور ٹیچرز سے اکثر جھوٹ بولنا شروع کر دیتے ہیں ۔ مزید یہ کہ خود کو برتر ثابت کرنے  کے لیئے گروپ بنا لیتے ہیں اور یوں سزا یا سرزش سے بچنے کے لئے  ایک دوسرے کے جھوٹ کو بھی سچ ثابت کرنے کی کوشش میں جھوٹ بولنا شروع کر دیتے ہیں ۔ مثلا  کسی بچے نے ہوم ورک کیا ہی نہیں ہوتا اور ٹیچر سے کہدے کہ کاپی گھر پر رہ گئی ہے اور گھر میں آ کر کہدے کہ کسی بچے نے اس کی وہی کاپی  پھاڑ دی ہے ۔۔ ۔ دوسروے بچوں کا مذاق اڑانا پھر  اس سے مکر جانا ۔ گھر میں کہنا کہ کسی بچے کی زیادتی کی وجہ سے  اسے دوسرے سیکشن میں ڈالا جا رہا  ہے جبکہ وہ کم نمبروں کے آنے کی وجہ سے اس سیکشن میں سزا کے طور پر جا رہا ہوتا ہے ۔ اسی طرح سے ہوم ورک نہ کرنے کی وجہ ٹیچر کو بتانا کہ گھر میں کوئی بیمار تھا اور وہ تیمارداری کرتے رہے وغیرہ

حل 
جب بھی والدین کو  بچوں کے  جھوٹ کا علم ہو جائے ان پر گہری نظر رکھنے کی ضرورت ہے ۔۔ بچوں  کے جھوٹ کی وجہ سے اپنے تعلقات کسی سے خراب مت کیجئے ۔ ان کے دوستوں سے  ملیئے ۔  دوستوں کے والدین سے ملیئے ۔۔ دیکھئے ان کا تعلق کس کلاس سے ہے ۔ ان کو اپنے بچے کے بارے کیا کیا معلومات ہیں ۔ آیا ان کے بچے پڑھائی میں دلچسپی رکھتے بھی ہیں کہ نہیں ۔ پابندی سے  اسکول میٹنگز میں جایا کریں اور بچے کی بابت ہر شکایت کو سیریس ہو کر ڈسکس کریں ۔ بچوں سے بات چیت قطعا بند نہ کریں بلکہ ان سے پوچھیں کہ انہیں جھوٹ بولنے کی ضرورت کیوں پیش آئی ۔  مار پیٹ اور سزا سے پریز کیجئے تاکہ انہیں سچ بولتے ہوئے کبھی ڈر نہ لگے ۔ انہیں صرف یہ بتایئے کہ ان کاجھوٹ انہیں کتنا رسوا کر سکتا ہے اور انہیں ان کے موجودہ مقام سے برے طریقے سے  نیچے کسیے  گرا سکتا ہے ۔ والدین کو اپنے بچوں سے جھوٹ نہیں بولنا چاہیئے اور نہ ہی اپنی سہولت کی خاطر ان سے جھوٹ بلوانا چاہیئے ۔ بچوں کو یقین ہونا چاہیئے کہ والدین کو ان پر اعتماد ہے اور وہ ان کے ہر اچھے اور برے میں ان کے ساتھ ہونگے ۔ جہاں تک ممکن ہو اپنے اور بچوں کے درمیان اعتماد ،اعتبار اور آپس کی دوستی کو بحال رکھنے کی ہر ممکن کوشش کیجئے ۔ 

دس  برس سے 18 برس تک کے بچے اور جھوٹ کی عادت 

اس عمر کے بچوں کو  معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنی خوشی سے ، اپنی زمیداری پر جھوٹ بول رہے ہیں ۔ ایسے بچے کبھی دوستوں میں شو آف کرنے کے لیئے ، کبھی اپنے سے امیر اور خوبصورت بچوں میں فٹ ہونے کے لیئے، کبھی  ٹی وی ، فلم سے متاثر ہو کر تو کبھی نیٹ اور سیل فون کے بے جا استعمال سے فینٹسی دنیا کاحصہ ہو جاتے ہیں ،   اور کبھی ماں باپ کی  ڈانٹ ، غصے اور مار سے بچنےکے لیے جھوٹ بول دیتے ہیں کہ ہم نے یہ کام نہیں ‌کیا یا الزام کسی دوسرے پر لگا دیتےہیں ۔ اگر بحث کریں گے تو یہ آپکی مثالیں دینا شروع کر دیں گے کہ آپ نے بھی فلاں فلاں وقت جھوٹ بولا تھا ۔ ایسے بچے بہت جوش اور قوت سے والدین اور ٹیچرز   کی نا فرمانی کرنے سے گریز نہیں کرتے اور اپنی آزادی کے لیئے گھر بھی چھوڑ دیتے ہیں ، ڈرگس لینا شروع کر دیتے ہیں ، اپنا غصہ نکالنے اور دوسروں کی توجہ حاصل کرنے کے لئے  خود کو ہی ازیت دینا  شروع  کردیتے ہیں  جیسے بلیڈ سے کلائیوں پر خراشیں ڈالنا ، سگریٹ سے جسم پر نشان ڈالنا وغیرہ یا پھر ایسے بچے  کلاس میں ہی  نہیں آتے جس سے ان کے گریڈز بھی گرنے لگتے ہیں ۔ ایسے  بچوں کو اس عمر میں یہ لگتا ہے جیسے زندگی صرف دوستوں کے ساتھ  موج مستی کرنا ہے اور اس  کے لئے جھوٹ سچ سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ انہیں اس سے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ان کے لئے  والدین اور ٹیچرز کے تحفظات  کیا ہیں ۔ ان کے نزدیک آزادی ، دوستی اور موجیں کرنا  ان کا حق ہے اور والدین کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ پوچھ گچھ کریں ۔ ان کا حق ہے کہ والدین انہیں آزادی دیں اور ان کی ہر جائز اور ناجائز خواہشات کوپورا کریں  ۔۔ اور ان کے جھوٹ کو  چیلنج نہ کیا جائے  ۔یعنی ان سے کوئی سرزش نہ کی جائے اور نہ نصیحت سنائی جائے ۔

حل 
ایسے بچوں کو ان کی غلطیاں  بتانا، اخلاقی اونچ نیچ سمجھانا ، ان کو ان کی  مالی اور سماجی حثیت سے آگاہ کرنا ، انہیں اسٹیٹس کے مسائل سے آزاد کروانا ، جھوٹ کی بدنامی سے آگاہ کرنا ، فیشن کی حد مقرر کرنا اور اس کی  بھیڑچال سے بچانا ،  ڈرگس ، سیکس  کے بارے میں معلومات دینا سب کچھ والدین اور ٹیچرز کی زمیداری ہے ۔ اس عمر کے بچوں پر  مار پیٹ ہر گز نہ کی جائے بلکہ انہیں اعتماد اور شفقت سے سمجھایا جائے کہ وہ آپ کے لیئے کتنے اہم ہیں ۔ اور ان کا پڑھالکھا ہونا ، زہنی اور جسمانی صحتمند ہونا خود ان کے لیئے کتناضروری ہے ۔ سمجھانے کے دوران تقابل کے طور پر اپناکردار یا کسی اور کا کردار بلکل مثال نہ کریں اور نہ ہی اپنی ہارڈ شپ کا زکر کریں ۔ صرف بچے کو سنیں اور انہی کی بات کریں   ۔ پھر ان کے ساتھ اس بنیاد پر اچھا بننے کے  مثبت معاہدے کریں کہ  اگر وہ عہد توڑیں گے تو ان سے فلاں فلاں سہلوت واپس لے لی جائے گی ۔ اسی معاہدے میں دوستوں کا حلقہ بدلنے کے لئے رہائیش کی تبدیلی یا اسکول بدل جانے کی بات بھی شامل کریں  ۔۔ لیکن جو بھی کریں بچوں کوبتا کر  کیجئے  تاکہ وہ زہنی طور پر تیار رہیں ورنہ وہ اور زیادہ شدت سے  احتجاجی رویہ اپنا لیں گے جسے کنٹرول کرنا  مشکل ہو جائے گا ۔

ان ساری باتوں کے باوجود بھی بچے اگر مستقل جھوٹ بولتے رہیں اور توجہ پانے کے لیئے اپنے احتجاجی رویئے اور عمل سے خود کو اور ارد گرد کے لوگوں کونقصان پہنچاتے رہیں تو سائیکاٹرسٹ سے ملاقات ضروری  ہے ۔ تاکہ بچوں میں زہنی امراض کا پتہ لگایا جا سکے جن میں خاص طور پر conduct disorder or pathological lying, Opposional Defient Disorder کی تشخیص ہو سکے ۔  

بچوں کی شخصیت 18 برس کی عمر تک  سنواری جا سکتی ہے ۔ اس لیئے  انہیں اچھا انسان بننے  میں ان کی مدد کیجئے ۔ آپ بچوں کو اپنا وقت دیجئے ، ان سے دوستی کیجئے وہ آپ سے کبھی جھوٹ نہیں بولیں گے اور نہ ہی آپ کو کسی کے سامنے شرمندہ ہونے دیں گے ۔

ڈاکٹر نگہت نسیم 
سڈنی 


:دیگر مضامین
(01.12.2013) دور حاضرکی عبادت گاہوں کے سربراہان وقائدین کا کردار۔38ویں قسط ۔ سید اکمل حسین
(28.11.2013)  دبئی کو 2020ء میں منعقد ہونے والی عالمی نمائش کا میزبان منتخب کر لیا گیا
(27.11.2013) خانہ کعبہ کا آہنی قفل سنہری تالے میں تبدیل، کلید "سدانہ" کے سپرد
(20.11.2013) بیس نومبر فیض احمد فیض کی انتسویں برسی ہے۔ عالمی اخبار ملٹی میڈیا
(19.11.2013) دنیا میں ہو معروف سدا اپنے ہنر میں ۔۔ از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم ۔سڈنی
(19.11.2013) سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں طوفانی بارش کے بعد سڑکیں زیرآب
(18.11.2013) اسلامی و ہجری سال 1435کاآغاز ہو چکا . محرم الحرام۔
(17.11.2013) یوم عاشور پر راولپنڈی کا سانحہ، چند حقائق!۔۔۔از۔۔۔۔۔۔۔قمر رضوی
(15.11.2013) عشرہ محرم میں سید اکمل حسین روزانہ مرثیہ تحت اللفظ پیش کرتے ہیں۔
(13.11.2013) شبر کا ماہ رو تھا جلالت میں لاجواب۔بندش و آواز۔اصغر کاظمی
(13.11.2013) عشرہ محرم میں سید اکمل حسین روزانہ مرثیہ تحت اللفظ پیش کرتے ہیں۔
(12.11.2013) عشرہ محرم میں سید اکمل حسین روزانہ مرثیہ تحت اللفظ پیش کرتے ہیں۔مرثیہ حُرعلیہ السلام
(10.11.2013) صرف رات کو ایک مجلس کر کے حسین علیہ السلام پر احسان کیا ۔از۔اکمل سید
(09.11.2013) رحیم یار خان میں تعمیر کردہ باب علی علیہ السلام شیخ صاحب کی محبت علی کا ثبوت
(08.11.2013) عالمی اخبار لندن کے بیورو چیف سید اکمل حسین کی جمعے کے روز کربلائے معلیٰ روانگی
(07.11.2013) نوحہ ۔ اے کربلا بتا علی اصغرؑ کہاں گیا ۔ آواز: سیّد علی اصغر کاظمی
(06.11.2013) ‎ سات نومبر استاد اور دانشور پروفیسر کرارحسین کی چودھویں برسی ہے
(05.11.2013) اسلامی و ہجری سال کاآغاز پیغام محرم الحرام۔ ۔۔۔ ایس ایچ بنگش
(04.11.2013)  پاکستان میں محرم کا چاند نظر نہیں آیا۔ یکم محرم چھ نومبر۔لندن میں پانچ نومبر
(04.11.2013) بلتستان میں اسد عاشورہ اگست کے مہینے میں منایا جاتا ہے۔ ایک تحقیق



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
بیاد سید عاشور کاظمی  »
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
  بیاد سید عاشور کاظمی   
  مزید ++
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں