مساجد اور عزاخانوں میں انتظامی کمیٹیوں نے بے خوفی اور دھونس دھاندلی کا ایسا بازار گرم کر رکھا ہے کہ ایک عام مسلم و مومن جیسے یرغمال بن چکا ہے۔ لندن کے قدیم عزاخانے ادارہ جعفریہ کا مسلہ تا دم تحریر تصفیہ طلب ہے اور نہ ہی کسی کو

عبادت کی اجازت ہے،نہ ہی کوئی دینی سرگرمی ہو سکتی ہے، نہ ہی عزاداری کی جا سکتی ہے اور نہ ہو مرنے والوں کے لیئے غسل میت ،کفنانے اور نماز جنازہ ادا کرنے کی اجازت ہے جسکی وجہ سے مقامی شیعہ برادری ذہنی طور پر جیسے ماؤف ہو چکی ہے۔
انتظامیہ اس معاملے کو حل کرنے کے لیئے مولوی حضرات کی طرف دیکھ رہی ہے اور ان سے مدد کی خواہاں ہے لیکن عام لوگوں کو اس پر حیرت ہے کہ اس مقامی مسلے کو حل کروانے کے لیئے ٹوٹنگ اور گردونواح میں کوئی ایک بھی ایسا فرد موجود نہیں جو عزا خانے کی بندش ختم کروا سکے کہ انتظامی کمیٹی نے مولوی حضرات کی ایک تنظیم سے خط وکتابت جاری رکھی ہوئی ہے جسکا تازہ ترین خط اس طرح سے جاری ہوا ہے
President
Majlis Ulama-E Shia (Europe)
11-13 Edgeley Road
London
SW4 6EH
27th November 2013
Re: Idara-e-Jaaferiya (Tooting) closure
Dear Hujjatul Islam AlMuslimeenSayyid Ali Raza Rizvi,
Salamunalaykumwarahmatullah.
Thank you for your prompt response to our letter on 25 November.
We, like you, want to see the reopening of Idara-e-Jaaferiya as soon as possible, which is why we asked for your guidance regarding the two options summarised in our previous letter. The two options are again outlined here for your reference:
1. Since there is no possibility of obtaining public liability insurance for zanjeer zani, then zanjeer zani will continue to be banned within the Idara premises and therefore those seeking to practise it should find alternative arrangements. Trying to force the executive to break the law and refuse their responsibilities to the Charity Commission and others is unacceptable.
2. Idara accepts that the act of zanjeerzani is an essential practice, and the committee should therefore break their commitment to act within the law and allow it to take place within the Idara at risk of the centre’s closure, and all other consequences associated with it.
Your response of 26 November does not address the question of which of these options to choose.
As mentioned previously, we have not come across a single company willing to provide public liability insurance for the practice of zanjeer zani (self-flagellation with knives) within a public space where food is present. The executive committee has been recently re-elected by members of the mosque, and therefore the responsibility of securing insurance and all related legal matters falls to us, not to others. On another note we are somewhat saddened that you feel it is appropriate for others to be in negotiations with us when we are the elected representatives of the community. The other side has no elected representatives. I am not sure who you are suggesting will represent the other side since a lot of the people that are supposedly supporting this are not even members of the Idara-e-Jaaferiya. Instead of facing all the problems outlined we have invited those determined to practise zanjeer zani to identify a company that would provide such insurance, and if they are able to, we would be more than happy to approach them. Until now nobody has come forward with any suggestion.
As you will know, suggesting that Idara allow members to practise zanjeer zani on the basis that they will be personally liable is not possible. If any members decide to do as such, it will nullify our insurance policy for all Idara’s activities, which will force another closure, potentially long-term. Public liability insurance is compulsory for any organisation holding public events, and to hold any such events without it is unlawful. An analogy can be made to you, if you were to allow your son to drive your car without insurance. Both you and your son would be prosecuted for this, and your insurance policy would be null and void. It could then impact your ability to secure future insurance.
An alternative to this, as again mentioned in our previous letter, would be to allow a third party to make other arrangements and face the consequences if they wish. For example, the Majlis-e-Ulema, or others, could book an alternative venue for the purpose of practising zanjeer zani, if they see fit.
We are not in conflict with anyone, while it is in fact others who have been using brute force (when members of the executive committee were taken hostage overnight on Friday 15 November by those trying to force our resignations – evidence of which can be sent to you – and coerce us into lifting the ban on practising zanjeer zani) and antagonistic rhetoric to endanger the harmony of the community. As a result, there is no choice but for Idara-e-Jaaferyia to remain closed, and so we urgently, again, seek your counsel as to which of the above two options we should choose in order to conclude this matter swiftly.
Your brother in Islam,
Mohamed Raza
President of Idara
اسی ادارہ جعفریہ لندن میں زنجیر زنی کے مسئلے پرایک شیعہ عزادار کو70 ہزار پونڈ ہرجانے کا سامنا ہے اور دوسری طرف مختلف اداروں میں درجنوں افراد کو عبادت کرنے کی اجازت نہ دینےاور داخلہ پر پابندی کا سلسلہ ایک وبا کی صورت اختیار کر رہا ہے
زنجیر زنی کے مسئلے پرایک شیعہ عزادار کو70 ہزار پونڈ ہرجانے کی خبر جنگ میں شائع ہوئی ہے جسے کسی کتر بیونت کے بغیر من و عن شائع کیا جا رہا ہے
لندن( رپورٹ: مرتضیٰ علی شاہ) ادارہ جعفریہ ٹوٹنگ کی کمیٹی کی جانب سے ایک برطانوی مسلمان 60 سالہ مبارک علی کشمیری کوزنجیر زنی کے مسئلے پر رائل کورٹس آف جسٹس کوئنز بینج ڈویژن کے سامنے لے جائے جانے اور اس کے خلاف

عبوری حکم امتناع حاصل کرلینے کے سبب اب70 ہزار پونڈ ہرجانے کاسامنا ہے، عدالت کے حکم کے تحت مبارک علی کشمیری کو ادارہ جعفریہ مسجد اور کمیونٹی سینٹر ٹوٹنگ لندن کو ہرجانے کے طورپر 45 ہزار پونڈ اور اپنے وکلاکو 25 ہزار پونڈ ادا کرنا ہوں گے، مبارک کشمیری کے خلاف ابتدائی شکایت یہ درج کرائی گئی تھی کہ اس کے مبینہ رویئے کی بنیاد پر رکنیت منسوخ کئے جانے کے باوجود کمیٹی کوجسے ثابت کرنا ہے وہ ادارے میں بلااجازت داخل ہورہا ہے ۔ تنازع پر عدالتی کارروائی چند ماہ قبل اس وقت شروع ہوئی جب ادارہ جعفریہ کی کمیٹی کے ارکان نے مبارک علی کشمیری کو جو مسجد کے قیام کے بعد سے ہی گزشتہ 30 سال سے امام بارگاہ میں شریک ہوتا رہا ہے زنجیر زنی سے روکنے کی کوشش کی۔ مبارک علی کشمیری نے الزام لگایا ہے کہ ادارے کی کمیٹی عوامی ذمہ داری ، انشورنس اور صحت کو نقصان پہنچنے کے بہانے زنجیر زنی پر پابندی عاید کرانے کی کوشش کررہی ہے ۔ ادارہ جعفریہ میں 1980 سے زنجیر زنی کی جارہی ہے اور ان برسوں کے دوران یاسابقہ ایگزیکٹو کمیٹی کے دور میں کبھی بھی انشورنس یا صحت کو نقصان کے حوالے سے کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوا، وہ امام بارگاہ کے اندر اس پر مکمل پابندی عائد کرنا چاہتے ہیں اور ایک چھوٹا خیمہ فراہم کرنے کی کوشش کررہے ہیں جہاں وہ جانتے ہیں کہ زنجیر کو اچھالنا ممکن نہیں ہوسکتا، اس طرح وہ زنجیرزنی کو روکنے کی حوصلہ افزائی کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ وہ انتہائی ہوشیاری کے یہ عذر پیش کرکے کہ کم عمر بچے بھی موجود ہوتے ہیں اور یہ ان کیلئے تکلیف دہ بات ہوگی، لیکن اس کے معنی یہ ہوئے کہ اگر وہ یہ کہتے ہیں کہ بچے موجود ہوتے ہیں تو وہ اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کررہے ہیں۔ زنجیر زنی ہمیشہ ادارے کے قواعد وضوابط کے مطابق کی جاتی ہے جو وہ بتانے سے قاصر ہیں۔ انھوں نے الزام لگایا کہ وہ ان لوگوں کے خلاف جو اپنے مذہبی جذبے کے مطابق زنجیر زنی کرنا چاہتے ہیں پولیس کواستعمال کرنا چاہتے ہیں وہ مجھے گڑبڑ ،تشدد اور غلیظ زبان استعمال کرنے کے جھوٹے الزامات لگاکر نشانہ بنارہے ہیں۔مبارک کشمیری نے کہا کہ ادارہ عطیات کی صورت میں رقم جمع کرتا ہے اس لئے وہ بھاری قانونی اخراجات برداشت کرسکتا ہے لیکن اس کے پاس بھاری قانونی اخراجات کی ادائیگی کاکوئی ذریعہ نہیں ہے۔ میں نے صرف اپنے عقیدے پرعمل کی آزادی کادفاع کرنے کی کوشش کی تھی اور عبادت کرنے کی جگہ پر گیاتھا،میں جہاں کا رکن اور انھیں نمایاں عطیات دیاکرتاتھا۔ لیکن مجھے دوسروں کوخاموش کرنے کیلئے مثال بنادیاگیا ہے مجھ پر اہل بیعت کی پیروی کرنے پر حملہ کیاگیا ہے ۔دی نیوز نے جو عدالتی کاغذات دیکھے ہیں اس میں ادارے نے عدالت سے مبارک کشمیری کے خلاف حکم امتناع کی واضح انداز میں استدعا کی ہے اور لکھا ہے کہ حکم امتناع کے تحفظ کے بغیر مزید گڑبڑ ،توتومیں میں اور جھگڑا ہوگا۔ عدالتی کاغذات میں لکھا گیا ہے کہ یہ بات ذہن میں رکھی جائے کہ پولیس نے اس معاملے میں مداخلت سے انکار کردیا ہے جس کے بعد اگر حکم امتناع نہیں دیاجاتا تو زنجیر زنی کی کوشش کی جائے گی اور زنجیر زنی روکنے کی کوشش کی صورت میں جھگڑا ہوگا اور مسجد کی عوامی ذمہ داری کے لئے انشورنس نہیں ہوگی۔ ادارے کی کمیٹی نے عدالت کوبتایا ہے کہ عمارت کی انشورنس کرنے والی انشورنس کمپنی زنجیر زنی کو کور کرنے کیلئے تیار نہیں ہے۔ مبارک کشمیری کاکہنا ہے کہ جج قانون کے مطابق فیصلہ دے رہے ہیں اور شیعہ حقائق ار دلائل پر کوئی توجہ نہیں دی گئی، مبارک کشمیری نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے حالیہ برسوں کے دوران کئی مواقع پر اپنی رکنیت کی تجدید کرانے کوشش کی لیکن جان بوجھ کر ایسا نہیں کیاگیا انھوں نے الزام لگایا کہ ان کے خلاف قانونی کارروائی نہ صرف یہ کہ ذاتی دشمنی کی بنیاد پر کی گئی ہے بلکہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس کا بنیادی مقصد شیعہ عقائد کے حقائق کو بے مزا کرنا ہے۔ انھوں نے کہا کہ براہ راست زنجیر زنی پر حملہ کرنے کے بجائے انھوں نے عدالت کے ذریہ انفرادی طورپر حملہ کرنے اور اسے پابندی کے احکام حاصل کرنے کاراستہ اختیار کیاہے۔یہ انتہائی مشکوک امر ہے کیونکہ یہ بنیادی طورپر لوگوں کی عبادت کے بنیادی حق پر حملہ ہے۔ ادارہ کوئی پرائیوٹ ممبر کلب نہیں ہے، اور اس کے دروازے دیگر مذہبی اداروں کی طرح ہر ایک کیلئے کھلے ہوئے ہیں ادارہ ہمیشہ ہرمذہب کے لوگوں کاکھلے دل سے خیرمقدم کرتا رہاہے،ایک ایسے ملک میں جو اجتماعیت اورہمہ جہتی پر فخر کرتا ہے انتہائی نامناسب ہے،مساجد کمیونٹی ویلفیئر ،لوگوں کو تعلیم دینے ، معلومات فراہم کرنے اور لوگوں کوبااختیار بنانے کی آئیڈیل جگہ ہوتی ہیں،ادارہ شیعہ اسلام کاایک خاص نکتہ نظر مسلط کرنے کرکے ایک 60 سالہ شخص کو عدالت میں لے جاکر اسے انتہائی مشکلات میں مبتلا کررہا ہے اور دوسری مساجد کیلئے ایک غلط مثال قائم کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ نیوز نے ادارے سے اس پر تبصرے کیلئے رجوع کیااور ایک ہفتہ انتظار کیا لیکن ادارے نے رجوع نہیں کیا۔
تازہ ترین اطاعات کے مطابق مزید 40 عزادارن حسین کو ادارہ جعفریہ میں نماز اور مجالس کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، اکثر عزادار یہ کہتے نظر اتے ہیں کہ یوں لگتا ہے جیسے ادارہ جعفریہ میں انتظامی کمیٹی ے روپ میں یزیدی ٹولا برسر اقتدرا ہے کیا ان کے خلاف کوئی آواز بلند کرنے والا نہیں
ہم خود کو مولا امام زمانہ کا سپاہی کتہے ہیں لیکن امام کے نام پر امام کے ماننے والوں سے اس سلوک کو کیا نام دیا جائے۔ ادارہ جس سیاسی چپقلش کی سازش میں ملوث کیا جا رہا ہے اس کے خلاف آواز بلند کریں۔ اور وہ ممبران جو ادارہ کو پاقاعدہ فنڈ مہیا کرتے ہیں ان کا فرض بنتا ہے کہ وہ اس پر اپنی آواز بلند کریں اور مطالبہ کریں کہ محمد رضا اور اس کے 3 عدد حواری اپنی عہدہ سے مستفی ہوں ۔تا کہ عبادت گزار اپنی عبادت کو احسن طریقے سے ادا کر سکیں۔۔ یہ لوگ کس معجزے کے منتظر ہیں اور اس معاملے کو چیرٹی کمیشن میں کیوں نہیں لے جاتے؟
نارتھ ہمپٹن کے فعال عزادار ناصر عباس جعفری نے ٹیلی فون پر اطلاع کی کہ گزشتہ رپورٹ ان کی نظر سے گزری اور مختلف حضرات کو ارسال بھی کی جس میں ادارہ جعفریہ کے صدر کے بارے میں جو اطلاعات فراہم کی گئی ہیں ان کے بارے میں کراچی سے سید حیدر عباس ممبر قومی اسملی اور ایم کیو ایم کے سیاسی لیڈر کا کہنا ہے کہ محمد رضا ایک محلے کی کمیٹی کے جنرل سکیرٹری تھے نہ کہ ایم کیو ایم کے اور لڑائی جھگڑے کے ماہر۔ یہ صاحب محلے کی گلیوں میں خوب لڑتےجھگڑتے ہوئے نظر آتے تھے اور محلے کے چند معزز افراد نے اس شخص سے تنگ آ کر پویس کو اطلاع بھی کی ہوئی تھی اس کے بعد یہ حضرت اچانک غائب ہو گئے اور معلوم ہوا کہ لندن پہنچ چکے ہیں۔ اور الطاف حسین کی گود میں پیٹھنے کی کوشش میں ہیں ۔ جناب حیدر عباس کے مطابق ان کا ایم کیو ایم سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ یہ ایم کیو ایم کے نام کو استمعال کر رہے ہیں تاکہ کہ ان کا سیاسی پس منظر دنیا کے سامنے آ جائے۔۔۔۔۔۔۔۔
اور اب ایک اور تکلیف دہ موضوع ۔
مساجد و عزا خانوں میں مختلف افراد کے داخلے پر غیر اعلانیہ پابندی کا سلسلہ ایک وبا کی صورت اختیار کر رہا ہے، جہاں کہیں کسی فکر وشعور کے حامل فرد نے انتظامی کمیٹی کے ساتھ کسی بات پر اختلاف کیا یا پھر تنخواہ دار پیش امام کے ساتھ کسی بات پراختلاف ہوا اسے چند افراد نے بند کمرے میں بیٹھ کے غیر اعلانیہ طور پر بین کرنے کا فیصلہ کر لیا
لندن کے ایک بزرگ عزادار جناب اشتیاق زیدی کے انتقال پر انکی نماز جنازہ کے لیئے دو دسمبر بروز پیر لندن کے ایک عزا خانے حسینی اسلامک مشن آئزل ورتھ میں جانا ہوا جہاں چند ایسےانکشافات کا سامنا ہوا کہ مساجد و عزا خانوں میں بڑھتے
ہوئے اس رجحان پر تشویش بھی ہوئی ، اسکی تفصیل بعد میں اپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں
ایک لمحے کے لیئے دوبارہ مقفل شدہ ادارہ جعفریہ لندن چلتے ہیں ۔ ابھی اوپر میں نے جنگ لندن کی جس خبر کو پیش کیا ہے اسمیں جرمانے کا سامنا کرنے والے عزادار کا نام مبارک علی کشمیری ہے۔ میری ملاقات مبارک علی کشمیری سے کربلا میں اسواقعے کے بعد ہوئی ۔انہوں نے کافی معلومات مہیاکی ہیں ۔ مبارک علی کے علاوہ ایک طویل فہرست جن میں چالیس افراد کی نام درج ہیں ادارہ جعفریہ کی جانب سے جاری ہوئی ہے کہ ان حضرات پر بھی ادارہ میں داخلہ پر پابندی لگا دی گئی ہے اور انکی رکنیت منسوخ کر دی گئی ہے۔ یہ حکم ادارہ کے نام نہاد صدر اور ان کے تین عدد حواریوں نے جاری کیا ہے۔۔۔۔اگر وقت ملا تو ان کی باتوں کو بہت تفصیل کے ساتھ لکھوں گا اور اس عمل کے پیچھے جو افراد کار فرما ہیں ان کو بھی بے نقاب کروں گا۔ کہ ادارہ جعفریہ کو کن کن سازشوں کا سامنا ہے اور یہ تالہ بندی کا جو کھیل کھیلا جا رہا ہے یہ سب کیوں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
افسوس تو اس بات کا ہے کہ مزید 40 افراد کو ادارہ جعفریہ میں بین کرنے پر نام نہاد مجلس علما کیوں خاموش ہے اس میں اس کا کیا فائدہ ہے اور کیا یہ سب کچھ ان کے مشورہ سے ہو رہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک ادارہ کو چلانے کے لئے دوسرے ادارہ میں تالہ بندی اور لڑائی جھگڑا کیوں ۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا وہاں کے مومنین کو عبادت کرنے کا حق حاصل نہیں اور کیا یہ افراد ان علما کے محتاج ہیں کہ ان کے بغیر کوئی عباد ت قبول نہیں ہو گی ۔۔۔۔۔۔۔۔
انصاف کریں اور اپنی آواز کو ان نام نہاد لیڈروں کے خلاف بلند کریں۔۔۔۔۔۔
اب حسینی اسلامک مشن آئزل ورتھ میں جناب اشتیاق زیدی کی نماز جنازہ کے بعد ہونے والی گفتگو سے آپ کو آگاہ کرتا چلوں
یہ آپ سب کے لئے انوکھی ،حیران کن اور شاید نئی خبر بھی ہو۔۔۔ جناب جمال زیدی اور اظہار حیدر لندن کی عزائی اور معروف شخصیات ہیں جن سے مقامی افراد بخوبی واقف ہیں۔ جمال زیدی نے ہمیں یہ بتا کر ورطہ حیرت میں ڈال دیا کہ اس ادارے میں مقامی پیش امام اور انتظامی کمیٹی کے کچھ افراد نے بند کمرے میں بیٹھ کر ایک غیر اعلانیہ فیصلے کے مطابق شاعر آل عبا،مرثیہ نگار اور عالمی اخبار کے مدیر اعلیٰ جناب صفدر ہمدانی کے علاوہ مولانا حامد جعفری ۔۔۔مولانا اکبر ساقی ، خطیب اہل بیت جناب ضمیر اختر، ڈاکٹر مولانا ماجد رضا عابدی پر مجالس سے خطاب پر پابندی لگا رکھی ہے
اظہار حیدر خان صاحب جو عزا خانے کے بانیاں ہیں اور مختلف اتظامیہ کے کھلے ناقد ہیں ان پر بھی پابندی ہے۔ اسی موقع پر اظہار حیدر نے بتایا کہ ان کے پاس تو تحریر بھی موجود ہے جس کے زریعہ ان کو اس ادارہ میں بین کیا گیا ہے۔
جمال زیدی نے جب ان تمام ناموں کا ذکر کیا تو جناب صفدر ھمدانی کا نام سن کر ادارے کے موجودہ صدر جناب محمد نقوی فوری طور پر متوجہ ہوئے اور انہوں نے اسکی تردید کی کہ جناب صفدر ھمدانی پر ایسی کوئی پابندی ہے تاہم دوسرے ناموں کے بارے میں انہوں نہ تردید کی اور نہ تصدیق۔ جناب نقوی کی تردید کے باوجود جمال زیدی اپنے موقف پر قائم رہے
اصل میں اس دیدہ دلیری کی وجہ یہ ہے کہ مولویوں کی خود ساختہ اور غیر منتخب ایک نام نہاد انجمن جو خود کو علما کی سر کردہ انجمن کہتی ہے وہ اگر کسی صاحب کو سند عطا کریں تو وہ ان اداروں میں مجالس اور محافل میں تقریر کر سکتے ہیں ورنہ یہ

حضرات کسی امام بارگاہ اور مسجد میں داخل نہیں ہو سکتے ۔ اس دھاندلی کو رو بہ عمل کرنے کا میکنزم یہ ہے کہ ان عبادت گاہوں میں مولویوں کی اس تنظیم کے عہدیدار پیش امام کے طور پر کام کرتے ہیں جنکو یہاں ریزیڈنٹ عالم کا نام دیا گیا ہے اور یہی لوگ مولوی لوگوں کی تنظیم کے فیصلوں پر عمل کرواتے ہیں
میں نے گزشتہ کسی قسط میں محترمہ خطیبہ خانم طیبہ کے بارے میں لکھا تھا کہ وہ ایک مجلس کا ہدیہ تقریبا چھ سو پونڈ وصول کرتی ہیں مگر اس کا ان کے پاس جواز موجود ہے اور وہ دیگر پیسے طے کرنے والوں کی طرح اماموں کی احادیث بھی اپنے حق میں پیش کرتی ہیں۔ پاکستان کے ایک ٹی وی چینل پر ذکر حسین کا معاوضہ طے کرنے کے حوالے سے انکے خیالات کی تفصیل اگلی قسط میں بیان کرونگا۔
ابھی حال ہی میں محترمہ پر مشرقی لندن کی ایک امامباگاہ اور مسجد میں داخلہ پر پابندی لگا دی گئی ہے ۔۔۔ مومنات ان کی مجالس مشرقی لندن میں اپنے گھروں میں پربا کر رہے ہیں ابھی گزشتہ اتوار کو ایک مجلس میں محترمہ نے تقریر میں فرمایا کہ یہ مساجد اور امامبارگاہیں کسی کی ذاتی جائیداد نہیں بلکہ خانہ خدا اور بیت امام ہے اس میں عبادت کرنے کی پابندی کسی مومن یا مومنہ کو منع کرنا جائز نہیں ہے ۔۔۔۔۔ اور عبادت کرنے کی آزادی ہونی چاہئے ۔۔۔۔۔ مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ لندن کی کچھ عزا خانوں میں یہ عمل بار بار دہرایا جاتا ہے کہ چند افراد اپنی من مانی کر کے گنہگار ہونے ہیں اور مرد اور خواتین کے داخلہ پر پابندی لگا تے ہیں۔۔۔۔۔۔۔
دوسری جانب ایک خبر یہ بھی ملی ہے کہ گزشتہ رپورٹ میں جن دو نوجوانوں کی گرفتاری کی خبر دی تھی ابھی تک ان دو افراد کی ضامنت نہیں ہو سکی اور پولیس کی تفشیش جاری ہے۔ یاد رہے کہ یہ دونوں افراد مذہبی طور پر مولویوں کے ہمراہ دائیں

اور بائیں بازو کے طور پر کام کرتے ہوئے نظر آتے تھے اور اگر کوئی مولویوں کے خلاف بولتا تھا تو یہ ان کو مارنے مرنے کے لئے تیار ہو جاتے تھے۔۔۔ کوئٹہ اور عباس ٹاون کے معلاملے میں جو لندن میں جلوس اور احتجاج کئے گئے تھے ان میں چندہ اکٹھا کرنے والے افراد میں ان کا نام سر فہرست ہے۔۔۔
لندن کی ایک مقامی عبادت گاہ کی عمارت کی تعمیر کے نام پر لاٹری ٹکٹ کا ذکر میں نے گزشہ رپورٹ میں کیا تھا چند افراد نے مجھے کچھ اشہارات بھی میل کیئے ہیں کی جو کہ ثبوت کے لئے کافی ہے کیوں کہ مجھے کچھ دھمکی آمیز فون بھی کروائے گئے ہیں کہ میں اس لکھنے کے عمل سے باز رہوں تو میرے حق میں بہتر ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ جب کے جید علما اور مجتہدین کا کہنا ہے کہ لاٹری یا ریفل ٹکٹ کا استمعال حرام قرار دیا گیا ہے۔۔۔۔۔۔ افسوس کہ مسجد اور امام بارگاہ کے کارکن ٹکٹ تو فروخت کر رہے ہیں مگر نہ تو ٹکٹ دیتے ہیں اور نہ ہی کوئی رسید جاری کرتے ہیں
باقی باتیں اگلی قسط میں
مجھے آخر میں یہ کہنا ہے کہ یہ ساری معلومات ہمیں مقامی ذرائع اور مقامی افراد سے ہی ملی ہیں اور اگر کسی کو اس سے کوئی اختلاف ہے تو وہ اپنا موقف لکھکر مجھے براہ راست ارسال کر دے میں اسے غیر جانبدارانہ صحافت کے تقاضوں کے تحت اپنی اسی سلسلے وار تفتیشی و تحقیقی رپورٹ میں شائع کر دونگا