غزل
کشودِکار کی مُہلت نصیب ہو کہ نہ ہو
تجھے دوبارہ یہ فرصت نصیب ہو کہ نہ ہو
بنالے تختۂ مشقِ ستم ہمیں ورنہ
پھر اقتدار کی دولت نصیب ہو کہ نہ ہو
ہے تیرے دل میں جوحسرت نکال لے اس کو
تجھے پھر عالمی شہرت نصیب ہو کہ نہ ہو
کسی کا جاہ و حشم دیرپا نہیں ہوتا
تجھے یہ رعب و رعونت نصیب ہو کہ نہ ہو
ابھی جو کرنا ہے ریشہ دوانیاں کرلے
تجھے یہ بُغض و عداوت نصیب ہو کہ نہ ہو
زمانہ ایک سا ہوتا نہیں کبھی ہرگز
ہے آج دل میں جو چاہت نصیب ہو کہ نہ ہو
وفا نہ کردے وہ اس بار وعدۂ فردا
’’پھر انتظار کی لذت نصیب ہو کہ نہ ہو‘‘
زمانہ ساز سپہرِ ادب پہ ہیں برقیؔ
تجھے بھی اس کی سعادت نصیب ہو کہ نہ ہو