کراچی کی سالانہ اہم سرگرمیوں میں سے ایک “کراچی کے ایکسپو سینٹر میں سالانہ عالمی کتب میلہ بھی شامل ہے ،اس سال اس کتب میلے کا انعقاد 5 دسمبر سے ہوا اور یہ مسلسل پانچ روز یعنی 9 دسمبر تک جاری رہے گا۔ یہ کتب میلہ کراچی کے علمی و ادبی حلقوں اور کتب کے شائقین کے لیے ایک سالانہ اجتماع کی حیثیت رکھتا ہے۔اس میلے میں کراچی والے جس ذوق و شوق سے شرکت کرتے ہیں وہ کتاب کے ساتھ اُن کے لازوال رشتے کو ظاہر کرتی ہے۔
کراچی ایکسپوسینٹرمیں منعقدہ نویں سالانہ پانچ روزہ عالمی کراچی کتب میلے کا افتتاح سینیئرصوبائی وزیرتعلیم نثارکھوڑونے کیا۔افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سینیئرصوبائی وزیرکا کہنا تھا کہ کتاب سب سے قریبی دوست ہوتی ہے اس طرح کی بک فیئرکا انعقاد دیہی علاقوں میں بھی ہوناچاہیئے ...وزیر تعلیم کا کہنا تھا کہ کراچی کے حالات میں ادیبوں کی جانب سے ایسی نمائش کا انعقاد قابل ستائش ہے ۔
کتب میلے کی افتتاحی تقریب سے ڈپٹی اسپیکرشہلا رضا، نیشنل بک فائونڈیشن مظہرعلی خان پاکستان پبلشراینڈ بک سیلرزایسوسی ایشن کے چیئرمین عزیز خالد اورکتب میلے کے کنوینیئراویس مرزا جمیل نے اپنے خیالات کا اظہار کیا مقررین کا کہنا تھا کہ کتاب دوستی اورکتب بینی کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا کتب میلا اب بین الاقوامی حیثیت حاصل کرچکا ہے۔
اس عالمی نمائش میں ملکی و غیر ملکی پبلیشرز بھی شرکت کررہے ہیں۔اس سالانہ کتب میلے میں تقریبا 315 اسٹالزجو ہال نمبر 1 ،2 ، 3 میں لگائے گئے ہیں۔ اس پانچ روزہ کتب میلے میں تعلیمی پروگرام ، ٹاک شوز اور سیمینار کا بھی انعقاد کیا گیا ہے ۔اس کے علاوہ اس موقع پر کئی پبلشرزاپنی نئی کتب کی تقریب رونمائی بھی کریں گئے۔
نمائش میں ملک بھر کے نمائندہ ناشرین کی معیاری کتابیں رکھی گئی ہیں، جن میں مذہبی، علمی، ادبی، فکری، سائنسی، سیاسی، سماجی، ناول، افسانے، شاعری، کمپیوٹر موضوعات کے علاوہ خواتین اور بچوں کی دلچسپی کی کتابیں شامل ہوں گی۔ نمائش میں کتابوں پر 30 فیصد سے لے کر 50 فیصد تک رعایت دی جائے گی۔ نمائش میں ممبر شپ اسکیم کے تحت طلبہ، ادیبوں، دانش وروں اور کتاب دوست حضرات کے لئے خصوصی رعایتی کارڈ بھی جاری کئے جائیں گے۔ نمائش میں مختلف مواقع پر ملک کے معروف ادیبوں، شاعروں کو بھی مدعو کیا جائے گا تاکہ آنے والے لوگ ان سے مل سکیں۔
کتب میلے کے پہلے روز ہی اسکولوں اور کالجوں کے طلباء اور اساتذہ کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی اور مختلف اسٹالوں پر موجود کتابوں میں خصوصی دلچسپی کا مظاہرہ کیا،اس موقع پر طلباء کا کہنا تھا کہ وہ ہر سال اس نمائش کا انتظار کرتے ہیں،نمائش کے منظمین کو امید ہے کہ اس سال اس عالمی کتب میلے میں 4 لاکھ افراد شرکت کریں گے،انہیں یہ بھی امید ہے کہ کراچی میں شروع ہونے والا کتب میلہ تعلیم کے فروغ میں اپنا بھر پور کردار ادا کرے گا۔اور لوگوں میں کتب بینی کے شوق کو پروان چڑھانے میں مدد گار ثابت ہوگا۔
اس بک فیئر میں جو بات سب کو اچھی لگی، وہ اس میلے میں نوجوانوں کی خصوصی دلچسپی ہے۔ ایک بڑی تعداد میں نوجوان لڑکے لڑکیاں تعلیم سے متعلق کتابیں ڈھونڈتے ڈوئچے ویلے کے اسٹال پر آتے ہیں، اور ان میں سے زیادہ تر اسکالرشپ حاصل کرنے اور اس غرض سے جرمن زبان سیکھنے میں دلچسپی دکھا رہے ہیں۔
پہلے دن ہی عوام کا جم غفیر اس کتاب میلے کو دیکھنے کے لیے دن بھر موجود رہا اور بڑی تعداد میں لوگوں کی موجودگی نے اس خیال کو غلط ثابت کرتا رہا کہ اب کتابوں کی دنیا محض کتابی رہ گئی ہے۔ اس میلے میں شرکت کرنے والے والے بے شمار مہمانوں میں شہر کے ادیب، دانشور، صحافی، سیاستدان اور مختلف مکتبہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ اسی بات کو بار بار دہراتے رہے کہ الیکٹرونک میڈیا کے اس دور میں آج بھی کتاب کی انفرادی حیثیت ہے۔ لہٰذا پڑھنے کیے لیے کسی طور بھی کتاب ملے، وہ پڑھتے ہیں۔
کتب میلے میں سب سے بڑا اسٹال لبرٹی بکس، پیراماؤنٹ پبلشنگ انٹرپرائز اور آکسفرڈ یونیورسٹی پریس پاکستان کا تھا، جنہوں نے اپنی کتب پر 10 سے 50 فیصد تک رعایت دے رکھی تھی۔ ان کے علاوہ ویلکم بک پورٹ، فضلی سنز، شیخ شوکت اینڈ سنز، دارالسلام، فیروز سنز، جہانگیر بکس، نیشنل بک فاؤنڈیشن، اقبال اکادمی، دعوۃ اکیڈمی، چاروں صوبوں کے ٹیکسٹ بک بورڈز، ادارۂ معارف اسلامی اور دیگر کئی ناشران کتب کے اسٹال شائقین و حاضرین کی توجہ کا مرکز بنے رہے۔ ان کے علاوہ سندھیکا اکیڈمی نےسندھی کی کتب کا اسٹال لگایا۔
علاوہ ازیں کراچی اسکول آف آرٹس کی آرٹ گیلری بھی حاضرین کے لیے کشش کا باعث بنی رہی۔ ہال نمبر 1 میں ایک ایکٹیویٹی سینٹر بھی موجود تھا جہاں بچوں اور بڑوں کی دلچسپی کے لیے مختلف پروگرامات منعقد کیے گئے۔ کتب کی تقاریب رونمائی اور پذیرائی بھی یہیں منعقد کی گئیں۔ اسی ہال میں بچوں کے ادب اور ڈیجیٹل کتب کے حوالے سے کئی اسٹال موجود تھے جن میں لائٹ ہاؤس کا ای-میگزین اور ٹریو وژن کی بچوں کے لیے سی ڈیز اور ڈیجیٹل سفرنامے بھی شائقین کی توجہ اپنی جانب مبذول کرانے میں کامیاب رہے۔
بیسیوں ملکوں سے تعلق رکھنے والے شرکت کنندگان کےساتھ یہ نمائش شہرِ قائد میں کتاب سے محبت کرنے والوں کے لیے ایک اچھا تحفہ ثابت ہوئی ہے۔ نامور پبلشرز، مثلا آکسفورڈ یونیورسٹی پریس، نیشنل بک فاﺅنڈیشن، فیروز سنز، مکتبہ دانیال اور اردو اکادمی سندھ کے علاوہ متحدہ قومی موومنٹ، جماعت اسلامی اور سنّی تحریک نے بھی اپنے اپنے اسٹال لگا رکھے ہیں۔
ایرانی ثقافتی مرکز، خانہ فرہنگ ایران نے بھی اپنا اسٹال لگایا ہوا ہے۔ قریب سبھی اسٹالز پر کتابوں کے علاوہ ویب سائٹس کی نمائش بھی کی جا رہی ہے۔ اس میلے میں ایک اسٹال پر موجود ایک پبلشنگ کمپنی کے مالک نے کہا، ’ہم لوگوں سے اپنا الیکٹرونک رشتہ بنانے یہاں آئے ہیں۔ ہمیں خوشی ہے کہ اس نمائش سے کتابوں کا کراچی سے رشتہ مظبوط ہوتا نظر آتا ہے‘۔