جغرافیائی اور تاریخی حقائق سے چشم پوشی کرناخود کو دھوکہ دینا ہے ۔ اب تاریخی حقیقت یہی ہے کہ 1971 میں پاکستان دو لخت ہو کر مشرقی پاکستان سے بنگلہ دیش بن گیا تھا ۔ اور آج روئے زمین پر پاکستان اور بنگلہ دیش دو آزاد اور خود مختار ممالک کی صورت میں موجود ہیں۔ بنگلہ دیش کے قیام سے آج تک متعدد تاریخ نویسوں ، فوجی مبصروں اور سیاسی تجزیہ نگاروں نے بنگلہ دیش کی آزادی اور مغربی پاکستان سے مشرقی پاکستان کی علحیدگی کے اسباب ونتائج پر بہت کچھ لکھا ہے ۔
میں اس وقت کسی تجزیے کی تفصیل میں نہیں جانا چاہتی ۔میر اموضوع 1971جنگ کے دوران پاک فوج کے شانہ بشانہ پاکستان کی کی بقا کی جنگ لڑنے والے وہ افراد تنظمیمیں اور جماعتیں ہیں جنہیں بنگلہ دیش جنگی مجرم قرار دیتا ہے اور پاکستان کی کسی بھی حکومت نے واشگاف الفاط میں کبھی اپنا محسن نہیں کہا ہے اور نہ ہی ان کے لیئے کسی فورم پر کوئی آاواز بلند کی ہے ۔ اس ضمن میں خاص طور پر دو عناصر قابل زکر ہیں ۔ ایک تو مشرقی پاکستان میں اس وقت کی جماعت اسلامی اور اردو بولنے وہ بہاری جو آج بھی پناہ گزین کیمپوں میں مقیم ہیں اور جنہیں پاکستان نے آج تک اپنی شہریت نہیں دی اور نہ ہی بنگلہ دیش نے انہیں بنگلہ دیشی کے طور پر تسلیم کیا۔
پاکستان کے تناظر میں جماعت اسلامی کی سیاسی فکر سے اختلاف کیا جا سکتا ہے لیکن مشرقی پاکستان کو بچانے کے لئے ہچکیاں لیتے ہوئے پاکستان کی بقا کی جنگ میں جماعت اسلامی کے کردار کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔اور یہ کردار بنگلہ دیش کے قیام کے ساتھ ختم نہیں ہو گیا تھا بلکہ آج ملا عبدلقادر کو پھانسی دیئے جانے کے واقع تک جاری و ساری ہے اور نجانے مستقبل میں پاکستان کی محبت کا دم بھرنے والے ایسے کتنے ہی افراد کو جنگی جرائم کے نام پر پھانسیوں کی سزا ئیں ملتی رہیں گی۔
آیئے دیکھتے ہیں تاریخ کیسے رقم ہوئی ہے ۔۔ یہ یاد رہے بنگلہ دیش میں جنگی جرائم کا معاملہ اتنا ہی پرانا ہے جتنی بنگلہ دیش کی تاریخ ہے ۔۔
مشرقی پاکستان نے زبان کے مسئلہ پر1971میں مغربی پاکستان سے آزادی کی جنگ لڑی اورنو ماہ تک چلنے والی اس خونریز جنگ میں پاکستان کو ذلت آمیز شکست ہوئی اور اس کے نوے ہزار فوجی ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہوئے۔ بالآخر بنگلہ دیش کا وجود عمل میں آیا۔
نو ماہ کی اس جنگ کے دوران جو خون خرابہ، قتل عام اور بدترین ظلم و تشدد ہوا اس کی مثال انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔ اس جنگ میں مشرقی پاکستان (بنگلہ دیش) کی تقسیم مخالف جماعتوں اور تنظیموں نے پاکستانی فوج کا ساتھ دیا۔
پاکستانی افواج نے آزادی پسند مجاہدین اور عوام کو کچلنے کے لئے اپنی طاقت کا بے دریغ استعمال کیا اور ظلم و بربریت کی انتہا کر دی۔ تقسیم مخالف گروہوں اور تنظیموں کے افراد نے پاکستانی فوج کے ساتھ مل کر بنگلہ دیش کے حامیوں کو انتہائی بے دردی سے قتل کیا، عورتوں کی( جن میں ہندو اور مسلمان دونوں تھیں) عصمت دری کی، ان کے مکانات اور دکانوں کو لوٹا اور آگ لگائی۔
اس دوران تقریباً 30لاکھ بنگلہ دیشیوں کا قتل کیا گیا اور پانچ لاکھ عورتوں کی عصمت دری کی گئی۔ قتل و غارت گری میں بھی اس قدر درندگی کا مظاہرہ کیا گیا کہ مقتولین کے جسم کے اعضا کو ٹکڑے ٹکڑے کیا گیا۔ ان کے ناخن اکھاڑ لئے گئے، آنکھیں نکال لی گئیں اور سینہ چیر کر دل کو نوچ پھینکا گیا۔
اس جنگ میں جماعت اسلامی پر پاکستانی افواج کا ساتھ دینے اور آزادی نواز عوام پر انسانیت سوز مظالم ڈھانے کا سنگین الزام ہے ،حالانکہ جماعت اسلامی کے لیڈران اس کی تردید کرتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ البدر، الشمس اور رضا کار باہنی نام کی جو تنظیمیں اس وقت پاکستانی فوج کے شانہ بشانہ لڑ رہی تھیں یا جو امن کمیٹیاں تھیں ان کے کارکنان جماعت اسلامی سے تعلق رکھتے تھے۔ جنگ کے دوران ایک منصوبہ بندی کے ساتھ ادیبوں، فنکاروں، دانشوروں اور صحافیوں کو نشانہ بنا کر ہلاک کیا گیا۔ ایک بدترین واقعہ میں150سے زائد ادیبوں اور صحافیوں کو جن میں بی بی سی کے نامہ نگار نظام الدین احمد بھی شامل تھے گرفتار کیا گیا جنہیں البدر کے رضاکاروں نے ہلاک کر دیا۔
بنگلہ دیش کے قیام کے بعد عوام اور دانشوروں کے مطالبہ پر ملک کے صدر شیخ مجیب الرحمن نے 1973جنگی مجرموں پر مقدمہ چلانے کے لئے اور پاکستانی افواج کا ساتھ دینے والے افراد پر مقدمے کے لئے قانون پاس کروایا۔
ملک میں بڑے پیمانہ پر ملزموں کی گرفتاریاں شروع ہو گئیں۔ تقریباً ایک لاکھ افراد کو گرفتار کیا گیا۔ ان میں سے زیادہ تر افراد کو بعد میں ناکافی شواہد کی بنا پر رہا کر دیا گیا۔ صرف 752افراد قصوروار قرار دئے گئے جن میں 195 پاکستانی فوجیوں اور فوجی افسروں کو جنگی جرائم کے الزام میں قید کیا گیا۔
دوسری طرف بنگلہ دیش کے عوام میں پاکستان کا ساتھ دینے والوں کے خلاف غم و غصہ کا یہ عالم تھا کہ ملک میں انتقامی کارروائیوں کی ایک لہر چل پڑی اور مکتی باہنی کے لوگوں نے چن چن کر البدر، الشمس اور رضا کار باہنی کے افراد کا قتل کرنا شروع کر دیا۔ اس طرح سے ملک میں پھر سے قتل و غارت گری کا ماحول بن گیا اور عوام میں بے چینی پھیلنے لگی۔ اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے اور لا قانونیت اور بے یقینی کے ماحول کے پیش نظر شیخ مجیب نے مصلحتاً نو مبر 1973 میں جنگی مجرموں کے لئے عام معافی کا اعلان کر دیا۔
ا پریل 1974 میں ہندوستان پاکستان اور بنگلہ دیش کے مابین دہلی میں ایک معاہدہ ہوا، جس میں پاکستان نے بنگلہ دیش سے درخواست کی کہ وہ پاکستان کی گزشتہ غلطیوں کو معاف کر دے اور بھول جائے اور جنگی قیدیوں کو رہا کر دے۔ لہٰذا، اس معاہدہ کی رو سے بنگلہ دیش نے 195پاکستانی قیدیوں کو رہا کر دیا۔
شیخ مجیب الرحمن کے 1975 میں قتل کے بعد بنگلہ دیش کے اقتدار پر فوجی جرنلوں کا قبضہ ہو گیا۔ ان فوجی سربراہوں نے بنگلہ دیش کے جنگی مجرموں کو حکومت میں شامل کرنا شروع کر دیا۔ بنگلہ دیش کی آٓزادی کے فوراً بعد جماعت اسلامی پر جو پابندی عائد کی گئی تھی، وہ بھی تین چار برسوں میں اٹھا لی گئی اور فوجی حکومت نے سیکولر بنگلہ دیش کو اسلامیت کی راہ پر لے جانے کے لئے جماعت اسلامی کا سہارا لینا شرو ع کر دیا۔
فوجی حکومت کے خاتمہ کے بعد 1992 میں پھر سے بنگلہ دیش میں جمہوریت کا دور شروع ہوا تو ملک کے قوم پرست عناصر سیکولر مزاج دانشور طبقے اور مجاہدین آزادی کی طرف سے ایک بار پھر جنگی جرائم کے مقدمہ کا مطالبہ شروع ہوا، کیونکہ عوام ابھی تک ان مظالم کو بھول نہیں پائے تھے۔ان میں جہاں آرا بیگم کی ’’غدار اور دلال صفایا کمیٹی‘‘( گھاتک و دلال نرمل کمیٹی) بنائی ۔ اس سے قبل سیکٹر کمانڈرس فورم وجود میں آچکا تھا جو 71ء کی جنگ میں مکتی باہنی میں شامل سپاہیوں اور ان کے کمانڈروں پر مشتمل تھا۔ اس کے علاوہ رائٹرس فورم ہے جو ادیبوں، دانشوروں اور تھیئٹرفنکاروں پر مشتمل ہے۔ اس پوری تحریک کے موجودہ رہنما تھیئٹر فنکار شہر یار کبیر اور مکتی باہنی کے سپاہی رہ چکے ڈاکٹر ایم اے حسن تھے ۔
شیخ حسینہ کی عوامی لیگ چونکہ ابتداہی سے سیکولر کردار اور مزاج کی حامل ہے لہٰذا ملک کا سیکولر مزاج دانشور طبقہ اور مجاہدین آزادی اور ان کے وارثین عوامی لیگ کے حامی رہے ہیں۔ ان لوگوں نے باقاعدہ تنظیمیں بنا کر عوامی رائے ہموار کرنی شروع کر دی اور یوں دسمبر 2008کے عام انتخابات میں شیخ حسینہ کی قیادت میں عوامی لیگ نے بھاری اکثریت سے اقتدار پر قبضہ جما لیا۔
شیخ حسینہ کی حکومت نے حسب وعدہ وار کرائم ٹریبونل گزشتہ25 مارچ 2010کو قائم کر دیا جو تین ججوں پر مشتمل تھا ۔ ٹریبونل کی فیکٹ فائنڈنگ ٹیم کے ایک اہم رکن ڈاکٹر ایم اے حسن تھے ۔ جنھوں نے گزشتہ 19برسوں کی محنت سے شواہد اور دستاویزات اکھٹے کئے ہیں اور حکومت کے سپرد کر دئے ۔ اس ٹیم نے اب تک تقریباً سترہ سو جنگی مجرموں کی فہرست پیش کر چکی ہے۔ اس فہرست میں زیادہ تر افراد جماعت اسلامی کے تھے ۔جماعت اسلامی کے تین سر کردہ لیڈروں مطیع الرحمن نظامی، علی احسن محمدمجاہد اور دلوار حسین کو گزشتہ ماہ ایک کیس کے سلسلہ میں حراست میں لے لیا گیا اور ان پر حکم امتناعی جاری کر دیا گیا۔
---دوسری طرف جماعت اسلامی نے اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کی تردید کی بلکہ انہوں نے بھی شیخ حسینہ کی پارٹی عوامی لیگ کے ایسے پچاس افراد کی فہرست تیار کی ہے جو جنگی جرائم میں ملوث تھے۔ خالدہ ضیاء کی پارٹی بی این پی نے اس مقدمہ کو سیاسی مخالفین کو دبانے کا ایک ہتھکنڈہ قرار دیا ہے اور جماعت اسلامی کے لیڈروں کو فوراً رہا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ واضح ہو کہ جماعت اسلامی گزشتہ حکومت میں خالدہ ضیاء کی بی این پی کی حلیف جماعت تھی اور اتحادی حکومت میں شامل تھی۔2001 سے 2006 تک چلنے والی بی این پی جماعت اسلامی حکومت کے دور میں بنگلہ دیش میں انتہا پسند مذہبی تنظیموں کو فروغ ہوا اور اسلامی دہشت گردی نے ملک کو اپنے شکنجے میں لے لیا۔ اسی دور میں ملک میں40 دہشت پسند اور انتہا پسند تنظیمیں بشمول جے ایم بی، حزب التحریر، حزب الجہاد اسلامی اور لشکر طیبہ کو قدم جمانے کا موقع ملا اور خطرناک دہشت گرد بنگلہ بھائی ابھر کر سامنے آیا۔ جس نے 2005 میں پورے بنگلہ دیش میں ایک ہی دن پانچ سو دھماکے کر کے پورے ملک کو دہلا دیا۔ بعد میں بنگلہ بھائی کو امریکہ کے دباؤ میں پھانسی دے دی گئی۔
شیخ حسینہ سیکولرزم میں یقین رکھتی ہیں اور مذہبی انتہا پسندی کی مخالف ہیں اس لئے وہ ہمیشہ دہشت گرد وں کے نشانہ پر رہتی ہیں۔2004 میں ایک پارٹی ریلی کے دوران ان پر اور ان کی پارٹی کے لیڈروں پر ایک شدید دہشت گردانہ گرینیڈ حملہ ہوا جس میں ان کی پارٹی کے 24 لیڈران اور کارکنان ہلاک ہو گئے اور خود شیخ حسینہ بری طرح زخمی ہو گئیں اور ان کی قوت سماعت متاثر ہوئی۔ شیخ حسینہ کے دشمن صرف ان کے سیاسی مخالفین ہی نہیں بلکہ لشکر طیبہ اور حرکت الجہاد اسلامی جیسی دہشت گرد تنظیمیں بھی ہیں۔ جو شیخ حسینہ کو راستے سے ہٹا کر بنگلہ دیش کو ایک اسلامی ریاست بنانے کا خواب دیکھ رہی ہیں۔
--- شیخ حسینہ نے اقتدار میں آتے ہی دہشت گرد تنظیموں کے خلاف اقدامات شروع کر دئے تھے جسکی وجہ سے اور HUJI، لشکر طیبہ اور جماعت المجاہدین بنگلہ دیش (JMB)کے لیڈروں اور کارکنوں کی گرفتاریاں بڑے پیمانہ پر جاری رہیں۔ ان کی حکومت نے نظریاتی طور پر بھی دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف جنگ چھیڑ دی ہے۔ اسی سلسلہ میں ان کی حکومت نے اسی ماہ بنگلہ دیش میں بر صغیر کے ممتاز اسلامی مفکر اور نظریہ ساز شخصیت سید ابوالاعلیٰ مودودی کی کتابوں پر پابندی لگا دی ہے اور بنگلہ دیش کی24000(چوبیس ہزار) مساجد سے ملحق کتب خانوں( لائبریریوں) سے مولانا مودودی رح کی کتابوں کو ہٹانے کا حکم دیا۔جماعت اسلامی نے شیخ حسینہ کے اس اقدام کو ان کے سیاسی ایجنڈے کا حصہ قرار دیا ہے اور اس کی پرزور الفاظ میں مخالفت کی۔
جنگی جرائم کے مقدمے کی کارروائی مولانا مودودی کی کتابوں پر پابندی اور ساتھ ساتھ دہشت پسند تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کی وجہ سے شیخ حسینہ نے مخالفوں اور دشمنوں کی ایک فوج تیار کر لی ۔
بنگلہ دیش کی وزیرِاعظم شیخ حسینہ واجد کی جانب سے 2010ء میں قائم کیا جانے والا یہ ٹربیونل ان افراد کے خلاف تحقیقات کر رہا تھا جنہوں نے مبینہ طور پر 1971ء میں بنگلہ دیش کی تحریکِ آزادی کے دوران میں پاکستان کا ساتھ دیا تھا۔-- 13 جولائی 2011کو جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے دواسسٹنٹ سکریٹریوں قمر الزماں اور عبد القادر ملا کو بھی جنگی جرائم کے کیس میں گرفتار کر لیا گیا۔
عبدالقادر ملا بنگلہ دیش کی سب سے منظم اسلام پسند جماعت 'جماعتِ اسلامی' کے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل اور جماعت کے ان پانچ رہنماؤں میں شامل تھے جنہیں مذکورہ ٹربیونل اب تک سزائیں سناچکا ہے۔
بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے سربراہ ابوالکلام محمد یوسف کو سنہ 1971 میں پاکستان سے بنگلہ دیش کی آزادی کی جنگ کے دوران جنگی اور غیر انسانی جرائم کے ارتکاب کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا۔ جماعت اسلامی کے 84 سالہ سربراہ ابوالکلام محمد یوسف کو بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں ان کی رہائشگاہ سے گرفتار کیا گیا۔ بنگلہ دیش کی جماعت اسلامی کے نو کارکنوں سمیت 12 افراد پر سنہ 1971 میں پاکستان سے بنگلہ دیش کی آزادی کی جنگ کے دوران جنگی اور غیر انسانی جرائم کے ارتکاب کا الزام ہے۔ ملک کی کریمنل کورٹ نے مذکورہ جماعت کے 61 سالہ نائب سربراہ محمد قمر الزمان کو سزائے موت کا حکم سنایا تھا۔ جس کے بعد پر تشدد مظاہرے ہوئے۔عدالت نے اس سے قبل اس پارٹی کے ایک رہنما کو سزا سنائی تھی اور پھر ہونے پر تشدد واقعات میں سو سے زائد افراد مارے گئے تھ
انسانی حقوق کے عالمی ادارے اور تنظیمیں مذکورہ ٹربیونل اور اس کی کاروائی کو غیر شفاف اور غیر منصفانہ قرار دیتے آئے ہیں جب کہ بنگلہ دیش میں حزبِ اختلاف
کی مرکزی جماعتوں کا موقف ہے کہ وزیرِاعظم حسینہ واجد کی حکومت اس کمیشن کے ذریعے اپنے مخالفین کےخلاف انتقامی کاروائیاں کر رہی ہیں۔
خیال رہے کہ جماعتِ اسلامی، بنگلہ دیش میں حزبِ اختلاف کی مرکزی جماعتوں پر مشتمل اس اتحاد کا حصہ ہے جس کی سربراہی سابق وزیرِاعظم بیگم خالدہ ضیا
رہی ہیں۔
مارچ 2010 میں وار کرائم ٹریبونل کے قیام کے ساتھ ہی ان کی جان کو خطرہ بڑھ گیا ۔ ہندوستان کی خفیہ ایجنسیوں نے گزشتہ اپریل میں خفیہ اطلاعات کی بنا پر شیخ حسینہ کو ان پر ممکنہ جان لیوا حملہ سے خبر دار کیا تھا۔ جس کے بعد بنگلہ دیش میں حفاظتی انتظامات سخت کر دئے گئے تھے۔ پھر 29 جون کو ہندوستان نے خفیہ اطلاعات کی بنا پر شیخ حسینہ کو اطلاع دی کہ دہشت گرد بنگلہ دیش میں ہندوستانی سفارت کاروں اور مختلف پروجیکٹوں پر کام کرنے والے ہندوستانی افسروں کو نشانہ
بنا سکتے ہیں۔
گزشتہ سال ان کی حکومت نے بنگلہ دیش کی سرزمین ہندوستان کے خلاف دہشت گردانہ کارروائی چلانے والی علیحدگی پسند تنظیم الفا کے تمام بڑے لیڈروں کو گرفتار کر کے ہندوستان کے حوالہ کر دیا اور پھر جنوری میں ہندوستان آ کر دہشت گردی مخالف معاہدے کئے۔ حال ہی میں ا س نے نیشنل ڈیموکریٹک فرنٹ فار بوڈولینڈ کے ایک لیڈر کو بھی گرفتار کیا
اس سے قبل نیویارک میں قائم انسانی حقوق کی عالمی تنظیم 'ہیومن رائٹس واچ' نے بھی خبردار کیا تھا کہ عبدالقادر ملا کی سزائے موت کا از سر نو جائزہ لیے بغیر پھانسی دینے سے بنگلہ دیش بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کا مرتکب ہو سکتا ہے۔
عبدالقادر ملا کمیشن کی جانب سے سزا پانے والے وہ پہلے فرد ہیں جن کی سزا پر عمل درآمد کیا گیا ہے اور حکام کے مطابق انہیں جمعرات 12 دسمبر 2013 کو مقامی وقت کے مطابق دس بج کر ایک منٹ پر پھانسی دی گئی۔ قبل ازیں سپریم کورٹ نے ان کی سزا پر نظر ثانی کی اپیل مسترد کر دی تھی ۔
حالیہ منظر یہ ہے کہ مشرقی پاکستان کو ہم سے جدا ہوئے 43 سال بیت گئے ہیں مگر اب تک بنگلہ دیش میں جنگی جرائم کے نام پر جماعت اسلامی کے رہنمائوں اور کارکنوں کو ٹربیونل کے سامنے کھڑا کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔بنگلہ دیش میں جنگی جرائم کے حوالے سے ان کے کردار پر تو انگلی اٹھائی جارہی ہیں تاہم سابق مغربی پاکستان کی فوج کے ان افسران کے بارے میں خاموشی اختیار کی گئی جن پر شروع میں ہی جنگی جرائم میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔موجودہ وزیر قانون شفیق احمد نے ایک پینل قائم کیا جس نے جنگی جرائم میں ملوث افراد کا تعین کیا اور انہیں سزا دینے کی سفارش کی۔ اقوام متحدہ اور مغربی حکومتیں جنگی جرائم سے متعلق ٹربیونل کی حمایت اسی وقت کرسکیں گی جب یہ تمام بین الاقوامی معیارات اور ضوابط کے مطابق ہوگا۔ فی الحال وہ ایسے کسی بھی ٹربیونل کی حمایت سے گریزاں ہیں۔
یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ امت مسلمہ نے کبھی دشمن سے شکست نہیں کھائی بلکہ ہمیشہ غداروں نے ہی اس ملت کی کمر میں چھرا گھونپاہے اورآستین کے سانپ ہی اس امت کو ڈستے رہے ہیں۔اسلامی نظام حیات کے جامع تصورکی حامل اس جماعت کو بھی بنگلہ دیش میں تیزی سے کنارے لگانے کاکام اسی طرح کیا جانے لگاجس طرح دیگر اسلامی ممالک میں ایک عرصے سے حاملین دین حق کے خلاف زمین تنگ کی جارہی ہے۔ایسے ہی ایک ملک گیر مہم کے ذریعے جماعت اسلامی بنگلہ دیش کی کردارکشی کی گئی ہے بلکہ جماعت اسلامی بنگلہ دیش کو اس حد تک دیوار کے ساتھ لگا دیا گیا کہ2008 کے انتخابات کے نتائج میں جماعت اسلامی کل دو نشستیں ہی حاصل کر پائی ۔بنگلہ دیش کی حکومت نے جماعت اسلامی کے قائدین پر بنے مقدمات کو انتہائی چابک دستی سے چلایاہے اور اس مہم میں وہ اس حد تک آگے نکل گئے ہیں کہ اعلی اسلامی رواداری اور عفو درگزرکے اسباق تو کجا انہیں بنیادی انسانی حقوق بھی یاد نہیں رہے۔
نہ جانے بنگلہ دیش کی سرزمین پر یہ کس کا کھیل کھیلا جارہاہے کہ دہائیوں تک کام کرنے والی اور عوامی اعتماد کی حامل ایک سیاسی و دینی جماعت یکایک ملک دشمن قرارپارہی ہے ،اس کے خلاف کل ملکی انتظامیہ حرکت میں بھی آ گئی ہے،ملکی مقننہ اس کے خلاف قانون سازی کرنے پر تیارہوگئی ہے’ ایڑی چوٹی کا زور لگاکر اسے خلاف قانون قرار دے دیا گیا ہے حد تو یہ کہ انٹر نیٹ پر جماعت اسلامی کی حمایت میں بننی والی ویب سائٹس اور متعدد پیجزکو بھی جبرابند کردیاگیاہے۔اس جماعت کے بزرگ ترین لوگ جو عمر کے اس حصے میں ہیں جہاں ان کے فرائض ختم ہوچکتے ہیں اور حقوق ہی حقوق باقی رہتے ہیں ایسے بزرگوں کو بھی ہسپتالوں کے انتہائی نگہداشت کے بستروںسے اٹھاکر عدالت کے کٹہروں میں کھڑاکیاجارہاہے۔جماعت اسلامی کے کارکنان اگر اپنے آئینی و قانونی حق کو بروئے کارلاتے ہوئے کوئی مظاہرہ کرتے ہیں توان پر گولیاں چلاکر انہیں اگلی دنیامیں بھیج دیاجاتاہے۔آخر یہ کونسا قانون ہے جو غیروں کے اشاروں پر اپنوں سے دست و گریباں ہے ۔۔۔
سوچنے کی بات تو یہ کہ کیا کسی بھی حکومت کے ایسے رویوں سے ملک و ملت کا دم بھرنے والوں کی حوصلہ شکنی ہو سکتی ہے ۔۔؟ ؟
جیل کی کال کوٹھری سے عبدالقادر ملا کا آخری خط
(مضمون کی تیاری کے لیئے انٹرنیٹ پر مختلف مضامین ، انٹریوز اور کتابوں سے استفادہ کیا گیا)