اس صدی کے بے بدل خطیب اور عالم اسلام میں اتحاد بین المسلمین کے داعی جنت مکانی علامہ رشید ترابی کی چالیسویں برسی 18دسمبر کو منائی جا رہی ہے اور عالمی اخبار بلجیم میں مقیم جناب شبیر زیدی کے تعاون سے علامہ مرحوم کی حیات کے بارے میں ایک خصوصی شعبہ شائع کر رہا ہے جس میں علامہ کی چند نادر و نایاب تصاویر،انکی تقاریر کی چند وڈیو، انکی تحریر کے عکس اور چند منتخب اکابرین کے مضامین بھی شامل ہونگے
علامہ نے اپنی ایک تقریر میں کہا کہ قیام پاکستان کے وقت اگست 1947ء میں قائد اعظم نے علامہ صاحب کو حیدرآباد دکن سے کراچی بلایا۔ جب قائد اعظم اپنی کابینہ بنا رہے تھے انہوں نے بابا کو تعلیم اور مدنہدہی امور کی وزارت کی پیش کش کی۔ مگر بابا کو استخارہ اچھا نہیں آنے کی وجہ سے انہوں نے معذرت کرلی ۔ اس پر قائد اعظم نے بابا سے کہا کہ وہ نہج البلاغہ میں امام علی علیہ السلام کے حضرت مالک اشتر ؒ کے نام جو خط لکھا اس کا انگریزی میں ترجمہ کریں۔ بابا نے اس خط کا ترجمہ ۵ دن میں کرکے قائداعظم کو دیا۔ جو انہوں نے اپنی کابینہ میں سرکولیٹ کروایا (بعد میں جنرل ایوب خان نے اپنے دوسرے دوسرے دور میں اس خط کو اپنی کابینہ میں سرکولیٹ کروایا)۔
شبیر علی زیدی۔ بلجیم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک دن کوئی صاحب علامہ سے ملنے آئے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اثناء عشری مکتب فکر سے تعلق نہیں رکھتے لیکن کچھ اموری امور کی وضاحت چاہتے ہیں۔ گفتگو کا سلسلہ حضور نبی اکرمؐ سے شروع ہوا اور خلافت کے موضوع پر آن کی سوئی اٹک گئی۔ علامہ نے اہل سنت مکتبہ فکر کے علماء کی کئی کتابیں انہیں دکھائی ۔ کلام کے حوالے دئیے۔ احادیث کے حوالے دئیے مگر سوئی اٹکی رہی ۔ آخر کار تین سارے تین گھنٹے کی گفتگو کے بعد علامہ ترابی نے کہا ابھی آپ مطمئن نہیں ہوئے۔ اس وقت کہیں اور مصروف ہوں پھر کبھی آپ سے تفصیلی بات ہوگی۔
سید عاشور کاظمی مرحوم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک ممتاز نام خطیب اسلام علامہ رشید ترابی مرحوم و مغفور کا ہے کہ جنہوں نے مکتب توحید و ولایت کے علوم و معارف کو اپنے مخصوص لب و لہجہ میں تشنگان معارف و عاشقان حقائق تک پہنچایا۔ اللہ تعالیٰ ان کی قبر کو اپنی رحمت کے نور سے منور فرمائے ۔
اللہ تعالیٰ ان کی مساعی کو شریف قبولیت عطا فرمائے ۔
آیت اللہ حسن رضا غدیری۔ لندن
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔