اس صدی کے بے بدل خطیب اور عالم اسلام میں اتحاد بین المسلمین کے داعی جنت مکانی علامہ رشید ترابی کی چالیسویں برسی 18دسمبر کو منائی جا رہی ہے اور عالمی اخبار بلجیم میں مقیم جناب شبیر زیدی کے تعاون سے علامہ مرحوم کی حیات کے بارے میں ایک خصوصی شعبہ شائع کر رہا ہے جس میں علامہ کی چند نادر و نایاب تصاویر،انکی تقاریر کی چند وڈیو، انکی تحریر کے عکس اور چند منتخب اکابرین کے مضامین بھی شامل ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔
 |
شبیر زیدی اور آیت اللہ غدیری
|
آیت اللہ حسن رضا غدیری۔ لندن .خطیب اسلام علامہ رشید ترابی مرحوم و مغفور
اعوذ بااللہ من الشیطان الرجیم، بسم اللہ الرحمن الرحیم ط الحمدللہ رب العالمین والصلٰوۃ والسلام علیٰ سیندا و نبینا ابی القاسم محمد صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم الطبین والہ الطاہرین الذین اذ ھب اللہ عنہم الرجس و طھر ھم تطہیراً ۔ امام بعد
اللہ تعالیٰ نے انسان کو بیان و اظہار کی جو عظیم قوت عطا فرمائی وہ اس کی ان عنایات کا حصہ ہے جو وجود کی وجودیت اور موجود کی موجودیت سے وابستہ ہیں۔ عطیہ خداوندی سے استفادہ کرنے کی توفیق نعمت پر نعمت کے طور پر ہونے کی وجہ سے تقاضائے شکر گزاری کرتی ہیے اور پھر جو شخص اس تقاضا کی تکمیل کو یقینی بنانے میں کامیاب ہوجائے اس کی شخصیت کو امتیازی حیثیت حاصل ہوجاتی ہے کہ پھر اس کی زبان سے نکلا ہوا حرف اپنی لفظی ترکیبوں کے ساتھ اپنے معنی و مفہوم کو مصداق میں ڈھال دیتا ہے
۔ایک ممتاز نام خطیب اسلام علامہ رشید ترابی مرحوم و مغفور کا ہے کہ جنہوں نے مکتب توحید و ولایت کے علوم و معارف کو اپنے مخصوص لب و لہجہ میں تشنگان معارف و عاشقان حقائق تک پہنچایا۔ اللہ تعالیٰ ان کی قبر کو اپنی رحمت کے نور سے منور فرمائے ۔ ان کا قائم کردہ پاکیزہ سلسلہ بیان اس بات کا متقاضی تھا کہ اسے تسلسل و دوام بخشا جائے ۔ چنانچہ اس مقصد کے لئے ان کے فرزند ارجمند عقیل بن رشید علامہ عقیل ترابی مرحوم و مغفورنے میدان عمل میں قدم رکھا اور اپنی مقدور بھر مساعی سے بیان و اظہار کے توحیدی و ولایتی مشن کو آگے بڑھانے میں کوئی کسر باقی نہ چھوڑی۔
اللہ تعالیٰ ان کی مساعی کو شریف قبولیت عطا فرمائے ۔
آیت اللہ حسن رضا غدیری۔ لندن
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 |
| شبیر زیدی اور عاشور کاظمی |
یاِ دآن مہرباں ۔۔۔۔ سید عاشور کاظمی
خطیب عالم اسلام علامہ رشید ترابی :
’’ان کی زندگی میں انہیں مذکورہ بالا خطابات سے انہیں خطاب کو جاتا تھا ۔ کوئی کسی نام سے پکارے ، کسی حوالے سے ان کا ذکر کرے وہ عام طور پر اس کی پرواہ نہیں کرتے تھے لیکن ذاتی طور پر انہیں ذاکر اہل بیت کہلوانے میں ایک فخر کا احساس ہوا کرتا تھا۔ ایک بار انہوں نے ہم چار نیاز مندوں ،صفدر حسین، میر توکل، علی اوسط زیدی اور راقم الحروف عاشور کاظمی کے سامنے اپنے دل کی بات کہی۔ ہاں یہ بالکل درست ہے کہ جب کوئی مجھے ذاکر آل محمدؐ یا خطیب اہل بیت کہے تو مجھے روحانی سکون ملتا ہے اس لئے کہ محمدؐ و آل محمدؐ کے بغیر اسلام کا لفظ بے معنی ہے ۔ مجھ گناہگار کو یہ شرف کہ اس کا شمار ذاکر ان آل محمدؐ میں ہو میری پہلی اور آخری خواہش ہے۔
عام طور پر یہ بڑے لوگوں کی وفات کے بعد ان سے قریبی تعلق یا رشتہ داری نکالی جاتی ہے کچھ مرحومین کا ذکر اپنا قد پڑھانے کے لئے کیا جاتا ہے میں ایسا کوئی دعویٰ نہیں کرر ہا ہوں ۔ البتہ اتنی گزارش ضرور کرسکتا ہوں کہ علامہ مرحوم نے ہم چار دوستوں کو اپنے قرب کا اعزاز بخشا تھا۔ علامہ ترابی کا حلقہ احباب بہت وسیع تھا علماء ، اکابرین، حکام، عام عقتیدت مند غرض ہر شعبہ حیات کے لوگ ان سے ملاقات کے لئے آتے تھے ۔ علامہ صاحب ناظم آباد میں رونق پذیر تھے ۔ اور میں حسین ذی سلوا ٹاون رہتا تھا۔ اکثر یوں ہوتا تھا کہ نصف شب کے قریب علامہ صاحب ٹیلی فون کرتے ، ان کی گفتگو کا انداز نرالا ہوتا تھا، میں ٹیلی فون اٹھاتا تو علامہ صاحب علیک سلیک کے بعد کہتے : باوا سو رہے ہیں کیا ؟ جواباً میں عرض کرتا نہیں حضور جاگ رہا ہوں۔ علامہ فرماتے بس یونہی نیند نہیں آرہی تھی۔ سوچا آپ کو ٹیلی فون کیا جائے ۔ میں عرض کرتا بڑا کرم کیا آپ نے میرے لائق کوئی خدمت ؟ جواب نہیں باوا سوجائیں خدا حافظ۔
اس گفتگو کا مطلب حاضری کا حکم ہوتا تھا ۔ اور میں تعمیل حکم میں ان کے گھر جاتا ۔ اگر لکھنے پڑھنے کی بات ہوتی تو صرف میں۔ ورنہ عام طور پر ہم چاروں جانثار ہوتے اور علامہ صاحب۔ دن بھر کی مصروفیت کے بعد ہلکی پھلکی باتیں ، لطیفے ، عالمانہ نکات ، ملکی اور بین الا قوامی احوال پر بات چیت رہتی۔ ہماری یہ بیٹھک ہادی ترابی کے لئے باعث زینت بنتی تھی۔ علامہ صاحب پوچھتے باوا کھانا ہے اور ہم بیک زبان کہتے : حضور اگر گرم گرم کباب مل سکیں تو سبحان اللہ۔
اور آواز بلند ہوتی ۔ ہادی ، بھی اس آواز سے ہادی برآمد ہوتے انہیں حکم دیاجاتا کہ بندو خان سے گرم گرم کباب اور نان لاو۔ اگلی صبح ہادی ہمیں بُرا بھلا کہتے اور ہمیں اس میں لطف آتا۔
استاد قمر جالندھری سے کون واقف نہیں۔ استاد کی پوری زندگی ان کی شرافت نفسی کے سبب نا مساعد حالات میں گزری۔ استاد کی زندگی کے آخری دنوں میں علامہ ترابی انہیں اپنے گھر لے آئے تھے ۔ اس کے بعد استاد نے مفت مشاعرو ں میں شرکت نہیں کی۔ جو کہ استاد قمر جلالوی کو مشاعرہ کی دعوت دینے آتا علامہ فرماتے: باوا آپ استاد کو کیا ہدیہ پیش کررہے ہیں ؟ پوچھنے والا علامہ رشید ترابی ۔ مشاعرے میں شرکت کرنے والا استاد قمر جلالوی۔ نتیجہ یہ ہوتا کہ استاد کو معقول نذرانہ ملتا۔ رفتہ رفتہ استاد قمر علامہ صاحب کے مداحین میں شمار ہونے لگے ۔ اب کوئی آئے، کوئی جائے استاد کو محفل میں بیٹھنے کی اجازت تھی۔
ایک دن کوئی صاحب علامہ سے ملنے آئے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اثناء عشری مکتب فکر سے تعلق نہیں رکھتے لیکن کچھ امور کی وضاحت چاہتے ہیں۔ گفتگو کا سلسلہ حضور نبی اکرمؐ سے شروع ہوا اور خلافت کے موضوع پر آن کی سوئی اٹک گئی۔ علامہ نے اہل سنت مکتبہ فکر کے علماء کی کئی کتابیں انہیں دکھائی ۔ کلام کے حوالے دئیے۔ احادیث کے حوالے دئیے مگر سوئی اٹکی رہی ۔ آخر کار تین ساڑھے تین گھنٹے کی گفتگو کے بعد علامہ ترابی نے کہا ابھی آپ مطمئن نہیں ہوئے۔ اس وقت کہیں اور مصروف ہوں پھر کبھی آپ سے تفصیلی بات ہوگی۔
آنے والے نے کہا: حضور میں کسی اوروقت حاضر ہوں گا اور وہ چلے گئے تو استاد نے علامہ قمر صاحب سے کہا: حضور خام بدہن آپ انہیں قرآن کریم گھول کر بھی پلا دیں گے تو بھی بات ان کی سمجھ میں نہیں آئے گی اس لئے کہ وہ نہ سمھنے کی منزل عرفان پر فائز ہیں۔ اگر گستاخی نہ ہو تو عرض کروں کہ جس زبان میں آپ گفتگو فرماتے ہیں وہ ان کی سمجھ میں نہیں آتی۔ کل اگر آپ مجھے اجازت دیں تو میں ان کی زبان میں گفتگو کروں۔ علامہ نے مسکرا کر اثبات میں سر ہلایا۔ اوروہ ہوا ۔ دوسرے دن وہ صاحب پھر آگئے ۔ استاد بنگلہ کے صدر دروازے کی طرف بڑھے ۔ دروازہ کھولا۔ دوچار منٹ ان صاحب سے دروازے پر کھڑے کھڑے بات کی اور وہ چلے گئے۔ واپس آکر علامہ صاحب کو وضاحت کی کہ حضور وہ چلے گئے۔ اب نہیں آئیں گے۔ علامہ نے پریشان ہو کر پوچھا: ناراض تو نہیں گئے ہیں ؟ استاد نے مسکرا کر کہا: نہیں حضور شرمندہ ہوگئے ہیں۔
علامہ ترابی بہت مخیر تھے ۔ اکثر ایسا ہوتا تھا کہ کسی ضرورت مند نے اپنی پریشانی کا ذکر کیا اور علامہ صاحب کا ہاتھ ان کی جیب میں گیا اور جو کچھ ہوا صاحب احتیاج کو دیدیا۔ کبھی کبھی تو یہ بھول جاتے تھے کہ کار میں پیٹرول ڈلوائے بغیر گھر نہ پہنچ سکیں گے ۔
ایک رات تنہائی میں ایسی ہی کسی صورتحال پر میں عرض کررہا تھا کہ حضور گستاخی نہ ہو تو عرض کرنے کی اجازت دیجئے۔ آپ کے زرومال پر سب سے پہلے آپ کا اور آپ کی اولاد کا حق ہے ۔ آپ جس فراخ دلی سے صبح سے شام تک بانٹتے رہتے ہیں وہ آپ کی مالی دشواریوں کا سبب ہے ۔ علامہ ترابی صاحب مسکرائے اور فرمایا: باوا یہ بات آپ سے سن کر مجھے افسوس ہوا۔ کیا آپ کو یاد نہیں کہ روزہ افطار کرتے وقت سائل نے شہزادی کونین کے در مبارک پر سوال کیا۔ میں بھوکا ہوں۔ جناب سیدہ نے اپنے حصے کی روٹی۔ حسن ؑ و حسین نے اپنے حصے کی دو روٹیاں، مولا علی ؑ نے اپنے حصے کی روٹی حتیٰ کہ کنیز فضہ نے اپنی روٹی فقیر کو دی اور سب نے کیسے روزہ افطار کیا۔ تو آپ یہ کیوں بھول گئے کہ سائل کو عطا کرنا سنت اہل بیت ہے ۔ میں سنت آل محمدؐ پر چلنے کی کوشش کرتا ہوں۔
اور وہ جو میں نے درج بالا میں عرض کیا ہے کہ لکھنے پڑھنے کی بات ہوتی تو میں اکیلا ان کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ اس کا مقصد بالکل یہ نہیں کہ میں ان کی عالمانہ تقریرو تحریر میں کسی طرح بھی شرکت کے قابل تھا۔ میں تو ان کے مکتب کا ادنیٰ ترین شاگرد تھا۔ لیکن ایک مرتبہ یوں ہوا کہ محرم کے دس دنوں کے درمیان اہل اسلام کی رو سے علامہ اقبال مرحوم کی برسی بھی محرم کے دس دنوں میں آپڑی ۔ بس کیا تھا جگہ جگہ اشتہارات لگے ۔ محفلوں کا انعقادہوا۔ کہیں کہیں تو ایسی جگہوں پر علامہ اقبال کی یاد میں جلسے ہوئے جہاں برس ہا برس سے مجالس محرم کا انعقاد ہوتا تھا۔ ایسا ہی ایک جلسہ خالق دینا ہال کے قریب تھا۔ علامہ رشید ترابی پٹیل پارک کی مجلس میں خطاب سے فارغ ہوئے اور حسب معمول خالق دینا ہال کی طرف روانہ ہوئے تو معلوم ہوا کہ اقبال کے شیدایوں کی ایسی بھیڑہے کہ راستہ نہیں مل رہا تھا۔ بڑی مشکل سے علامہ ترابی خالق دینا ہال پہنچے۔ تقریر شروع ہوئی تو علامہ نے یوں ابتداء کی:
آج ملت اسلامیہ مفکر پاکستان حضرت علامہ اقبال کو خراج عقیدت پیش کررہی ہے۔ یہ راستے بند ہیں، گلیوں میں، جلسہ گاہوں میں، ذکر حسین کی مجالس میں اقبال کے محاسن، ان کی پیدائش، ان کے کارناموں اور ان کی وفات کے متعلق گفتگو ہورہی ہے ۔
عزاداران گرامی آج میں بھی اقبال پر گفتگو کروں گا ۔ ان کے محاسن کا ذکر کروں گا اور قسم ہے اس رب کریم کی جو لوگ محب رسولؐ و آل رسولؐ اقبال کو حسین کے مقابل لانے کی سعی کررہے ہیں وہ اقبال پر تبرہ نہ کریں تو میر ا ذمہ ۔
اس کے بعد انہوں نے اقبال کی شاعری۔ ان کا فلسفہ شاعری ، ان کا اردو کلام، فارسی کلام، محمدؐ و آل محمدؐ کی شان میں کلام، خوب روانی سے پیش کیا ۔ خالق دینا ہال میں نصب لائوڈ اسپیکر پر علامہ ترابی کی تقریر سنائی دے رہی تھی۔ میں نے اقبال کو پڑھا ہے ، ڈاکٹر محمد دین تاثیر نے مجھے اقبال پڑھایا ہے۔ میں ایسے بہت سے اساتذہ کو جانتا ہوں جو اقبالیات کے ماہر سمجھے جاتے ہیں لیکن اقبال پر ایسی بسیط گفتگو نہ پہلے سنی نہ آج تک سنی۔ علامہ رشید ترابی کی تقریر نقطہ عروج تک پہنچی تو راستے بند ہوگئے ۔ مقابل کے لائوڈ اسپیکر مدھم ہوگئے ۔ پوری فضا میں امام حسین اور امام حسین کے غلام اقبال کا ذکر گونج رہا تھا۔ اقبال کے اشعار گونج رہے تھے۔ مجلس ختم ہوئی، ہم سب واپس علامہ ترابی کے گھر آئے ۔ علامہ نے مجھ سے سوال کیا : باوا کیسی رہی ہماری تقریر۔
میں نے عرض کیا: سبحان اللہ ، اقبال پر اور کون گفتگو کرسکتا ہے ۔ لیکن علامہ صاحب گستاخی معاف آج بھائی کی امی سے آپ ناراض کیوں ہورہے تھے یا دوسری بیگم صاحب سے ؟ اس لئے کہ آج تو آپ موضوع گفتگو یہ بنوائی ہے کہ(مجھے اب یاد نہیں میں نے موضوع کی نشاندہی کی تھی ) لیکن اتفاق سے اس دن کی اس مجلس میں علامہ ترابی اسی موضوع پر تقریر کرنا چاہتے تھے ۔ علامہ میری بات سن کر زیر لب مسکرائے اور فرمایا: باوا آپ ہمارے مزاج دان ہوتے جارہے ہیں۔ اس دن کے بعد یہ حکم ملا کہ اخبارات کے لئے ترابی صاحب کی پٹیل پارک والی تقریر کا اقتباس میں لکھ کر مجلس کے بعد فوری طور پر روزنامہ جنگ کو دیا کروں گا۔
پاکستان میں شیعہ مطالبات کے نام پر ایک تحریک برسوں چلی۔ کچھ دنوں بعد علامہ سید محمد دہلوی صاحب قبلہ اس تحریک کے صدر قرار پائے۔ بس پھر کیا تھا علامہ رشید ترابی کے مقابلہ میں کم شہرت پانے والے علماء کا ایک گروپ مولا سید محمد صاحب قبلہ کو تحریک کے بارے میں طرح طرح کے مشوروں سے نوازنے لگے ۔ تحریک کے لئے جلسے ہوئے۔ علماء کرام کی تقریریں ہوئیں ۔ لیکن کسی موثر طریقے سے شیعہ مطالبات حکومت کے سامنے پر اثر انداز میں پیش نہ کئے جاسکے ۔ مجھ جیسے کم حیثیت کچھ لوگوں کی روٹی روزی کا بندوبست ہونے لگا۔ علامہ ترابی اس تحریک کے خلاف نہ تھے۔ وہ غیر موثر انداز سے مطمئن نہ تھے۔ خود میں نے کئی مرتبہ مولانا سید محمد صاحب قبلہ کو علامہ رشید ترابی کے جذبہ خیر سگالی سے آگاہ کیا مگر معاویہ سقوں نے ترابی صاحب اور مولانا سید محمد صاحب کو اکٹھا نہ ہونے دیا۔ یہاں تک کہ پاکستان میں الیکشن کا وقت آگیا۔
ایک دانشور کی طرح علامہ ترابی صاحب نے اس موقع پر ملت جعفریہ کے مفادات کے تحفظ اور مطالبات کو تسلیم کرانے کی طرف قدم اٹھایا۔ صدر ایوب خان انتخابی مہم کے سلسلے میں کراچی آئے تو ایک جلسہ عام کا انتظام ہوا۔ بوجوہ عوام زیادہ تر صدر ایوب کے خلاف سوچ رہے تھے۔ سرکارعلامہ ترابی نے مجھے جمعہ کو ٹیلی فون کیا اور فرمایا آج صدر ایوب خان کے جلسے میں ضروری آئے میں اس میں تقریر کررہا ہوں۔
میں نے عرض کیا حضور آپ کیا کررہے ہیں ؟ فضا ایوب خان کے خلاف اور فاطمہ جناح کے حق میں ہے ۔ علامہ نے کہا یہی تو موقع ہے ایوب خان سے بات کرنے کا۔ جلسہ سے پہلے ہی بات نکل گئی کہ علامہ رشید ترابی ، ایوب خان کی حمایت میں تقریر کریں گے۔ شیعہ مطالبات گروپ نے جلسہ گاہ کے قریب گھٹانے کی کوشش کی جن پر لکھا تھا ہمارے مطالبات کو تسلیم کرو ۔ رشید ترابی ہمارے نمائندے نہیں ہیں۔ پولیس نے بینر ہٹا دئیے اور نعرے لگانے والے لوگوں کو منتشر کردیا۔ جلسہ شروع ہوا۔ تقاریر ہوئیں ، جلسہ کی کاروائی عروج پر تھی کہ علامہ رشید ترابی کو تقریر کے لئے بلایا گیا۔ علامہ نے تقریر شروع کی۔ اللہ کی حمد، رسولؐ کی منقبت، اولاد رسولؐ کی منقبت کے بعد جمہوریت پر آئے اور جرأت مندانہ اعلان کیا کہ جمہوریت اسلامی نظام حکومت نہیں ہے ۔ لیکن حقوق العباد کے تحفظ کے لئے، انسان کی آزادی فکر و نظر کے نام ہے ، دنیا داری نے جمہوریت نام کے ایک نظام کو اپنایا ہے ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ صدر ایوب خان انتخابات میں کامیاب ہوتے ہیں تو انسانی حقوق کا تحفظ کیسے کرتے ہیں۔ فی الحال تو میں ان کی خدمت میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ صدر محترم میری قوم کے بھی آپ سے کچھ مطالبات ہیں جو انسانی حقوق کے تحفظ اور آزادی فکر و نظر کے ذمرے میں آتے ہیں مجھے یہ کہنے میں کوئی تامل نہیں کہ آپ کی انتظامیہ ہمارے مطالبات کو درخوار اعتنا نہیں سمجھ رہی ہے ۔ ہم کیسے یقین کریں کہ آپ کامیاب ہوگئے تو ہمارے مطالبات پورے کریں گے ۔
اس کا فوری اثر یہ ہوا کہ صدر ایوب نے جلسہ گاہ کی اسٹیج پر ہی اٹھ کر علامہ ترابی سے بات کی اور پھر اپنی تقریر میں بھی کہا کہ وہ شیعہ مطالبات پر بات چیت کرنا چاہتے ہیں۔ یہ قوم کی بد قسمتی تھی کہ اس کا میابی کو تفریق پسندوں نے ناکامی بنا دیا۔ میں خود کئی مرتبہ مولانا سید محمد صاحب قبلہ کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ علامہ ترابی کا ٹیپ انہیں سنایا اور سمجھایا کہ مطالبات کے لئے براہ راست صدر ایوب سے رابطہ کیا جائے ۔ اور آپ چاہیں گے تو علامہ ترابی صاحب آپ کے ساتھ صدر کے پاس چلیں گے مگر کچھ نہ ہوا۔ مصلحتوں نے راستہ نہ دیا۔
میرے پاس سالہا سال کی یادیں ہیں ۔ سینکڑوں ایسے واقعات ہیں جن کی وجہ تسمیہ میرے علم میں ہے۔ ہزاروں قصے ہیں جو سینے میں تڑپتے ہیں۔ زندگی نے مہلت دی تو ان واقعات پر ایک کتاب لکھوں گا تاکہ علامہ رشید ترابی مرحوم کو جس طرح میں نے کہا ہے اسی طرح وہ لوگ بھی سمجھ سکیں جو ان سے قرب پر مضامین لکھ رہے ہیں۔
مضمون طویل نہ ہو اس لئے ان کی وفات حسرت آیام کے بارے میں جو میں جانتا ہوں وہ عرض کرنا چاہتا ہوں۔
اپنی وفات سے ایک روز قبل صبح صبح علامہ صاحب میرے غریب خانے پر حسین ڈی صلوا آئے اور ارشاد کیا کہ میں ان کی گاڑی میں بیٹھ جائوں اور اپنے اہل و عیال سے دوپہر تک واپسی کے بارے میں بتادوں۔ میں نے تعمیل کی ۔ علامہ صاحب نے کہا: باوا آج آپ سے ضروری باتیں کرنی ہیں میں نے سر تسلیم خم کرلیا۔ علامہ صاحب نے اپنے فرزند ارجمند عقیل ترابی کے فلیٹ کی طرف گاڑی کا رخ موڑ دیا۔ عقیل بھائی کے فلیٹ کے پاس پہنچ کر علامہ نے کہا: باوا آپ گاڑی میں ٹھہریں مجھے مولانا عقیل سے بات کرنی ہے ۔ اور علامہ موصوف پہلی منزل پر حضرت عقیل ترابی کے فلیٹ میں چلے گئے ۔ مجھے کم و بیش ایک گھنٹہ انتظارکرنا پڑا۔ علامہ ترابی تشریف لائے تو ان کی پیشانی کی فکریں مٹ چلی تھیں ایسا لگتا تھا کہ کئی اہم ذمہ داری سے سبکدوش ہو کر آئے ہیں۔
علامہ موصوف نےامام بارگاہ سجادیہ میں اپنا مقبرہ اپنی زندگی میں تعمیر کرالیا تھا۔ مولانا عقیل ترابی سے فارغ ہو کر انہوں نے سجادیہ کا رخ کیا ۔ مقبرہ کھلایا قبر کی مٹی کو نرم کرایا اور واپس ہوگئے۔ راستے میں گاڑی روک کر کہنے لگے : باوا یہ بتائیے کہ ہمارے انتقال کے بعد ہماری خواہش ہے کہ پہلے ہماری لاش محفل شاہ خراسان لے جائی جائے ۔ وہاں سے پٹیل پارک میں اور وہاں سے ہماری قبر تک۔
میں نے گبھرا کر ان کی طرف دیکھا اور عرض کیا: حضور کیا گھر میں جھگڑا ہوگیا ؟ اللہ آپ کو ہزار سال سلامت رکھے۔ جب کبھی یہ منحوس وقت آیا تو آپ کی خواہش کی تکمیل ہوگی۔ میں زندہ رہا تو اس کا وعدہ کرتا ہوں۔
علامہ نے کہا: جنازہ گھر سے پہلے محفل خراساں تک، وہاں سے قبر تک کسی قسم کی گاڑی میں لے جائیں گے آپ۔
میری آواز بھرا گئی ۔ انکھوں سے آنسوئوں کا سیلاب امڈ آیا۔ میں نے لرزیدہ زبان سے کہا: حضور شاہ خراساں تک گاڑی میں وہاں سے پٹیل پارک ، اور وہاں سے قبر تک۔ مومنین کے کاندھوں پر لے جائیں گے ۔ علامہ نے پوچھا: آپ سوچ سمجھ کر کہہ رہے ہیں یا جذباتی بات کررہے ہیں۔ میں نے کہا: علامہ صاحب خدارا آپ میرے یتیم ہونے کی بات نہ کریں ۔ قوم کی یتیمی کا ذکر نہ کریں۔ خاکم بدہن آپ کی موت پوری قوم کی یتیمی ہوگی۔
آپ کواندازہ نہیں کیا کہ قوم آپ کو کتنا چاہتی ہے ہمارا بس چلے تو کراچی سے کربلا تک آپ کو کاندھوں پر اٹھا کر لے جائیں ۔ اور امام حسین ؑ اور حضرت عباس ؑ کی بارگاہ میں عرض کریں کہ مولا ہم آپکے ذاکر کو کراچی سے کربلا تک لائے ہیں کربلا سے جنت تک کا راستہ آپ طے کرائیں۔
علامہ کی آنکھوں میں آنسو آگئے ۔فرمایا: آپ ہمیں اتنا چاہتے ہیں میں نے عرض کیا: علامہ صاحب زنجیر بشریت میں جکڑا ہوا نہ ہوں تو اس سے بھی زیادہ۔
علامہ نے کہا: میں عقیل میاں کو پورا پروگرام بتا آیا ہوں ۔ آپ سے اتنی درخواست ہے کہ ان کو آگاہ رکھتے ہوئے جملہ ذمہ داری آپ کے اور دوستوں کے سپرد۔ آپ جیسے بتا رہے ہیں میری سمجھ میں کچھ نہیں آیا ۔ آج کے دن علامہ ترابی صاحب کی ان مصروفیات کا سبب آئندہ روز سمجھ میں آیا علی الصبح مجھے عقیل ترابی کا فون آیا۔
عاشور بھائی ! بابا ہمیں چھوڑ گئے ہیں۔ آپ جلدی آئیے ۔ میں فوراً روتا ہوا علامہ صاحب کے دولت کدے پر گیا۔ صفدر حسین، میر توکل، علی اوسط زیدی ، اور بہت سے لوگ پہنچ چکے تھے ۔ میں نے صفدر حسین، میر توکل اور علی اوسط زیدی کو علامہ کی گزرے ہوئے کل کی وصیت سے آگاہ کیا۔ صفدر کے ساتھ لیکر میں سب سے پہلے وحید چچا کی طرف گیا۔ کچھ دنوں سے وحید چا چا، علامہ سے روٹھے ہوئے تھے۔ انہیں خبر سنائی تو زارو قطار رونے لگے ۔ انہیں بتایا کہ علامہ کا جنازہ گاڑی کے ذریعے محفل خراسان تک جائے گا وہاں سے کاندھوں پر لانا ہے ۔ وحید چاچا نے اتفاق سے وہی جملہ کہا جو میں نے کہا تھا۔ عاشور بھائی فکر نہ کرو۔ محفل خراسان سے علامہ کی قبر تک یعنی محفل خراسان سے شاہ خراسان تک ہم کاندھوں پہ لے جاسکتے ہیں۔
المختصر جنازہ محفل خراسان لے جایا گیا۔ وہاں سے کاندھوں سے پٹیل پارک لایا گیا۔ وہاں جنازے کے ساتھ خیمے نصب کرنے والے بڑے بڑے طویل بانس باندھے گئے اور مرحوم کا جنازہ پٹیل پارک سے سجادیہ تک تقریباً دو میل کاندھوں پر لایا گیا۔ اس سارے راستے سب طرف سڑک کے دو طرفہ لوگ کھڑے تھے ۔ تدفین سے پہلے وہاں موجود ہزاروں انسانوں نے مطالبہ کیا کہ وہ چہرہ دیکھیں گے ۔ از سر نو انتظامات کی ترتیب بدلی گئی۔ جنازہ سجایہ ہال کے اسٹیج پر رکھ دیا گیا۔ مومنین سے درخواست کی گئی کہ ایک طرف سے انہیں آخری دیدار کریں اور دوسری طرف سے باہر آجائیں۔ لوگوں نے انتہائی نظم و ضبط کا مظاہرہ کیا اس کے باوجود ذاکر حسین علامہ رشید ترابی کو دفن کرتے کرتے رات ہوگئی۔ یاد آتا ہے تو میں آج بھی خدا ئے کریم کا شکر اور مرحوم کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے ایک عظیم کارخیر کے لئے اس گناہگار کو چنا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میرے خالو۔۔۔علامہ رضا حسین رشید ترابی۔۔۔ سید شبیر علی زیدی
بسم اللہ الرحمن الرحیم
علامہ رضا حسین رشید ترابی اللہ مقام میرے خالو تھے ۔ حجۃ الاسلام مولانا نعمت علی عقیل ترابی میرے سگے خالہ زاد بھائی تھے۔ 1946ء میں میری حیدرآباد دکن میں پیدائش ہوئی اور 1950ء میں بابا (علامہ صاحب ) کے بلانے پر میرے والدین نے کراچی ہجرت کی۔ 1958 ء سے مجھے بہت سے واقعات یاد ہیں جو میں اس تحریر میں رقم کررہا ہوں۔
علامہ نے اپنی ایک تقریر میں کہا کہ قیام پاکستان کے وقت اگست 1947ء میں قائد اعظم نے علامہ صاحب کو حیدرآباد دکن سے کراچی بلایا۔ جب قائد اعظم اپنی کابینہ بنا رہے تھے انہوں نے بابا کو تعلیم اور مدنہدہی امور کی وزارت کی پیش کش کی۔ مگر بابا کو استخارہ اچھا نہیں آنے کی وجہ سے انہوں نے معذرت کرلی ۔ اس پر قائد اعظم نے بابا سے کہا کہ وہ نہج البلاغہ میں امام علی علیہ السلام کے حضرت مالک اشتر ؒ کے نام جو خط لکھا اس کا انگریزی میں ترجمہ کریں۔ بابا نے اس خط کا ترجمہ ۵ دن میں کرکے قائداعظم کو دیا۔ جو انہوں نے اپنی کابینہ میں سرکولیٹ کروایا (بعد میں جنرل ایوب خان نے اپنے دوسرے دوسرے دور میں اس خط کو اپنی کابینہ میں سرکولیٹ کروایا)۔
انیس سو سنتالیس کا محرم بابا نے کراچی میں شاہِ خراسان کی امام بارگاہ میں پڑھا۔ شاہِ خراسان پاکستان کے قیام کے بعد کراچی میں پہلی مسجد اور امام بارگاہ جو حبیب بینک والوں جناب محمد علی حبیب نے بنائی ۔ اس سے پہلے کراچی میں بڑا امام بارگاہ کھارادر اور حسینیاں ایرانیاں کے امام بارگاہ میں عزاداری ہوتی تھی۔ 97 ء میں 10 صفر سے 20 صفر کی مجالس (بندر روڈ) پر ایم اے جناح روڈ پر واقعہ خالق دینا ھال میں پڑھی ۔ اس کے بعد واپس حیدرآباد آ گئے ۔ 1949 ء میں واپس بمعہ اہل و عیال کراچی آئے اور 14 کلفٹن روڈ میں قیام پذیر ہوئے ۔ اس گھر میں وہ 1961ء تک رہے یہاں سے وہ ناظم آباد 7 نمبر کے گھر شفٹ ہوئے ۔ 1969 ء تک یہاں رہنے کے بعد فیڈرل بی ایریا کے گھر منتقل ہوئے اور 1973ء میں اسی گھر میں انتقال ہوا۔
ء1949 سے لیکر 1973ء تک خالق دینہ ہال میں برابر مجالس پڑھتے رہے۔ کچھ سال کے بعد شاہ خراساں کے بجائے شاہ نجف مارٹن روڈ کے امام بارگاہ میں شام کی مجالس 5 بجے پڑھا کرتے تھے۔ 8 بجے خالق دینا ہال ساڑھے ۹ بجے بڑا امام بارگاہ میں پڑھتے اور آخر میں 11 بجے رات حسینانیاں ایرانیاں کی مجلس پڑھتے تھے ۔ 80 ء سے بڑا امام بارگاہ کھارادر سے ریڈیو پاکستان شامِ غریباں کی مجلس ریلے ہوا کرتی تھی۔
ء1970 میں جنرل یحییٰ خان کے مارشل لاء میں خواجہ شہاب الدین اطلاعات و نشریات کا وزیر بنا (خواجہ شہاب الدین خواجہ ناظم الدین جو پاکستان کے وزیر اعظم تھا اس کا بھائی تھا اور نہایت متعصب اور دشمن اہلبیت میں سے تھا۔ قیام پاکستان کے بعد سے محرم کے پہلے عشرہ میں چاند رات سے ریڈیو پاکستان میں گانے ڈرامے بند ہوجاتے تھے۔ صرف سلام اور نوحے نشر ہوتے تھے۔
اگلے برسوں کے ایک محرم میں نے ریڈیو اور کراچی ٹی وی کی نشریات اس سال شروع ہوئی تھی کو منع کیا کہ پروگرام نہ بدلے جائیں۔ نشتر پارک کی تقریر میں 2 دن تک تنبیہ کرتے رہے۔ تیسری محرم کی مجلس خالق دینا ہال میں (خالق دینا ہال کی مجلس 200 مقامات پر ٹیلیفون کے ذریعے پورے پاکستان میں جاتی تھی جس میں فیض محل خیر پور، جنرل یحییٰ خان، جنرل موسیٰ خان اور دوسرے فوجی اور سرکاری افسروں کے گھر یہ ریلے جاتا تھا ) ۔ تقریر شروع کرنے کے 15 منٹ بعد صرف3 منٹ میں بابا نے جنرل یحییٰ خان کو مخاطب کرکے ان کو کھینچا۔ یحییٰ کے ساتھ اس وقت جناب احمد شیرازی صاحب ؒ (بانی عزا خانہ زہرا ؑ) کراچی بیٹھے تھے۔
احمد شیرازی صاحب نے بعد میں بتایا کہ یحییٰ خان نے اسی وقت خواجہ شہاب الدین کو فون کرکے گالیاں دیں اور استعفیٰ لے لیا۔ اور کور کمانڈر کراچی کمشنر کراچی اور آئی جی پولیس کو حکم دیا کہ علامہ صاحب کو روکیں کیونکہ بابا نے کہا تھا کہ میں اس مجلس کے بعد کراچی ٹی وی اسٹیشن جا رہا ہوں اور وہاں احتجاج کروں گا۔ ریڈیو اورٹی وی کے پروگرام تبدیل ہو کر سلام، نوحہ، تاریخی تقاریر نشر ہونا شروع ہوگئیں اور اس رات ڈیڑھ بجے جب بابا گھر آئے تو یحییٰ خان کافون آیا اور انہوں نے معافی مانگی اورٹی وی پرتقریر کی درخواست کی۔
محرم 1970ء کو بابا نے ٹی وی اسٹیشن پر رزق کے عنوان پر تقریر ریکارڈ کروائی اور یہ مجلس رات ساڑھے نو بجے پاکستان ٹی وی سے شام غریباں کی مجلس نشر ہوتی چلی آرہی ہے۔ یہ مجلس جب ٹیلی کاسٹ ہوئی تو سب سے پہلے ذوالفقارعلی بخاری کا فون آیا انہوں نے تعریف کی۔ بابا نے ان سے اتوار کو بابا کے گھر پر انیس کا مرثیہ پڑھنے کی دعوت دی۔ جناب ذوالفقار علی بخاری صاحب نے میر انیس کا مشہور مرثیہ جب قطع کی مسافتِ شب آفتاب نے۔ اپنی زندگی کی بہترین انداز میں پڑھا تو جو کہ ایک یاد گار تھی مگر افسوس اس وقت وڈیو کیمرہ نہیں تھے۔ دوسرے سال جب بابا ٹی وی کی مجلس سجدہ کے عنوان پر پڑھی ۔ اس مجلس میں جب مصائب پڑھنا شروع کئے تو ۳ سیکنڈ کیلئے وہ آئے اور کہتے کہتے نیند آئے گی جب آپ کی بوپائوں گی بابا ۔ مرثیہ پڑھنا شروع کیا جو کہ ایک یادگار تقریر کے طور پر آج بھی محفوظ ہے ۔
خالق دینا ہال کی مجلس میں جب حضرت غالب کی 100 سالہ یادگار منائی جارہی تھی ایک دن تقریر کے دوران مرزا غالب صاحب کا وہ مشہور شعر کوٹ کیا ’’ہو ئے مر کے ہم جو رسوا ہوئے کیوں نہ غرق دریا۔۔۔ نہ کبھی جنازہ اٹھتا نہ کہیں مزار ہوتا ۔ ایسا مناسب استعمال کیا کہ کئی منٹ تک حاضرین داد دیتے رہے۔
یہ بھی ان کی ایک یادگار تقریر تھی ۔ نشر پارک میں 9 محرم کی مجلس جو علم مصوم کے عنوان سے پڑھی وہ بھی ایک یادگار تقریر تھی۔
ء1956 میں 1400 سالہ یادگارِ مرتضویٰ کا پروگرام ایک ہفتہ کے لئے منعقد کیا اس میں پہلی اور شابد آخری بار صدر پاکستان اسکندر مرزا اور وزیر اعظم حسین شہید سروردی نے شرکت کی ۔ بابا نے اپنی زندگی میں 2مجلس میں حدیث کا شجرہ پڑھا جس میں جناب سعید الملت ہندوستان سے آئے ہوئے تھے یہ تقریر مارٹن روڈ کے امام بارگاہ میں پڑھی تھی ۔ دوسری مجلس رضویہ کالونی میں آیتہ اللہ محسن حکیم کے صاحبزادے آئے ہوئے تھے۔ انہوں نے اپنی زندگی میں دو تقریریں تقریباً ڈھائی گھنٹہ کی پڑھی۔ پہلی تقریر لکھنو میں 1942 ء میں جس میں تمام بزرگ علماء موجود تھے اور اس تقریر کے بعد علماء نے بابا کو علامہ کا خطاب دیا تھا۔ دوسری تقریر لاہور میں کی۔ اس تقریر کے بعد جناب شورش کاشمیری صاحب ایڈیٹر چٹان اخبار نے بابا کے بارے میں لکھا کہ ’’عالم کو اپنی حد کا پتہ ہوتا ہے اور اس حد میں رہتے ہوئے اپنی بات کو کہتا ہے جس کی وجہ سے وہ حکومت کی گرفت میں نہیں آتا۔ یہ خوبی تمام تر علامہ رشید ترابی صاحب کی موجود تھی جس کی وجہ سے وہ کبھی بھی جیل نہیں گئے ، جناب مولا احتشام الحق تھانوی ، جناب مولانا شفیع اکاڑوی اور دوسرے علماء پاکستان کے ہر سربراہ نے جب بھی اقتدار میں آئے انہوں نے علامہ صاحب سے خاص تعلق رکھا اور ہر ایک نے کچھ نہ کچھ دینا چاہا مگر بابا نے کبھی بھی کسی سے کوئی استفادہ نہیں لیا۔
استاد قمر جلادی کی چہلم کی مجلس مرکزی امام بارگاہ لیاقت آباد میں ہوئی اس میں کراچی کے تمام نسبی شیعہ شعراء شریک تھے اس دن بابا نے شعراء کے بارے میں تقریر کی۔ بعد مجلس کے تمام سنی شعراء جو پہلی بار شریک ہوئے وہ بڑے شوق سے بابا سے ہاتھ ملاتے اور تعریف کرتے رہے۔
جناب مصطفی زیدی کی چہلم کی مجلس رضویہ کالونی کے امام بارگاہ میں منعقد ہوئی۔ اس مجلس میں جناب جوش صاحب نے سلام پڑھا۔ فیض صاحب اور تمام شعراء کرام شریک ہوئے وہ تقریر بھی ایک یادگار تقریر تھی جو کیسٹ میں محفوظ ہے ۔
اور بہت سے واقعات ہیں جو میں تحریر میں جمع کرتا جارہا ہوں جس میں جنرل ایوب خان کے جلسہ کی تقریر اور یوم میلاد النبی ؐ جہانگیر پارک کی تقریر وغیرہ وغیرہ
۔
والسلام
سید شبیر علی زیدی
بلجیم