14.10.2026, 11:16am , بدھ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
اہم ترین   
ریڈیو پاکستان نے لاہور کے تاریخی ریڈیو اسٹیشن کا ایک اہم اسٹوڈیو اولیں ناشر اعلان قیام پاکستان مصطفیٰ علی ھمٰدانی کے نام سے موسوم کر دیا
یکم نومبر دو ہزار بارہ عالمی اخبار کی چوتھی سالگرہ ہے۔آن لائن اردو اخبارات میں عالمی اخبار سنجیدہ صحافت کا معیار بن چکا ہے
 
رپورٹس/ملٹی میڈیا
 

سولہ دسمبر یوم سقوط ڈھاکہ کے حوالے سے محمد احمد ترازی کی خصوصی تحریر
16.12.2014, 09:40am , منگل (GMT+1)

محمد احمد ترازی ۔ کراچی

سولہ دسمبر 1971ءکا دن ہے،صبح کے نوبجے ہیں،ڈھاکہ شہر پر سوگواری اور اداسی کے بادل سائے چھائے ہوئے ہیں،کبھی کبھی دور کہیں سے گولیوں کی تڑتڑاہٹ سنائی دے دیتی ہے اور پھر سناٹا چھاجاتا ہے،دوسری جانب ڈھاکہ کے ” ریس کورس“ گراؤنڈ میں ایک تقریب کا اہتمام ہونے جارہا ہے،ہزاروں بنگالی چہرے پر نفرت و حقارت سجائے سرخ انگاروں جیسی آنکھیں لیے ریس کورس میدان میں جنرل عبداللہ نیازی کی قیادت میں تیرانوے ہزار پاک ا فواج کا بھارت کے سامنے ہتھیار ڈالنے کا تماشا دیکھنے آئے ہوئے ہیں،ہر طرف سے ”جے ہند“ اور ”جے بنگلہ دیش “ کے نعرے بلند ہورہے ہیں،ہجوم کی نظریں پاک فوج کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل نیازی پرجمی ہوئی ہیں،جوسُتے ہوئے چہرے کے ساتھ زندگی کے اُس ذلت آمیز لمحے کا سامنا کرنے جارہے ہیں جو ہماری تاریخ نے پہلے کبھی نہ دیکھا تھا۔جبکہ میدان کے بیچوں بیچ سجی میز پر ایک ایسا مسودہ پڑا ہے،جو آنے وقت میں پاکستان کو دو لخت کرنے جارہا تھا،بھارتی فوج کے کمانڈر جنرل جگجیت سنگھ اروڑہ بھی وہاں موجود ہیں،دونوں میدان کے بیچ پڑی میز کے گرد بیٹھ جاتے ہیں،جنرل نیازی اپنی شکست تسلیم کرتے ہوئے میز پر پڑے مسودے پر دستخط کرتے ہیں اور اپنا ریوالور بھارتی جنرل کے حوالے کردیتے ہیں،جس کے بعد بھارتی جنرل اروڑہ ،جنرل نیازی کے سینے پر سجے تمغے اور بیج اتار لیتا ہے اور ڈھاکہ میں لہلاتا سبز ہلالی پاکستانی پرچم ہمیشہ کیلئے سرنگوں کردیا جاتا ہے۔
 
سولہ دسمبر 1971ءکی صبح کا یہ منظر تاریخ پاکستان کا سیاہ ترین باب ہے،اِس سانحے کی کرچیاں آج بیالیس سال گزرنے کے بعد بھی ہر صاحب دل کے سینے میں پیوست ہیں،ذلت ورسوائی،بے بسی و بےچارگی کا یہ منظر چشم فلک نے شاید ہی کبھی دیکھا ہو،اِس سانحہ عظیم پر ہزاروں آنکھیں اشکباراور دل شدت غم سے معمور تھے۔مگر طاقت کے نشے سے سرشار بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی اُس دن انڈین پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے بڑی رعونیت کے ساتھ کہہ رہی تھی”یہ ہماری افواج کی فتح نہیں بلکہ ہمارے نظریے کی فتح ہے۔ہم نے اِن (پاکستانی مسلمانوں) سے کہا تھا کہ اُن کا نظریہ باطل ہے اور ہمارا نظریہ برحق ہے لیکن وہ نہ مانے اور ہم نے ثابت کردیا کہ اُن کا نظریہ باطل تھا۔ہم نے نظریہ پاکستان کو آج خلیج بنگال میں ڈبو دیا ہے۔“اِس موقع پر اندرا گاندھی نے مسرت سے جھومتے ہوئے کہا تھا کہ”ہم نے مسلمانوں سے اپنی ایک ہزار سالہ غلامی کا بدلہ لے لیاہے۔“
 
قارئین محترم ! سقوط مشرقی پاکستان کے بارے میں بہت کچھ لکھا گیا،اِس المیے کے مختلف پہلووں پر قومی اور بین الاقوامی کالم نویسوں،تجزیہ نگاروں،مصنفوں اور عسکری دانشوروں نے قلم آرائی کی،کسی نے سقوط ڈھاکہ کا ذمہ دار اُس وقت کے فوجی حکمرانوں کی بے حسی اور عوام کی بے بسی کو ٹھہرایا تو کسی نے سیاست دانوں کومورد الزام ٹھہراتے ہوئے لکھا کہ ”حزب اختلاف کے رہنماؤں کے اندرونی اختلافات، مجیب الرحمن کے چھ نکات پر اصرار، بھاشانی اور بھٹو کا عدم تعاون اور گول میز کانفرنس کی ناکامی کے نتیجے میں پر امن اقتدار کی آخری کوشش دم توڑ گئی۔اگر سیاست دان پرامن انتقال اقتدار کی راہ_¿ میں حائل نہ ہوتے اور ایوب خان کے پارلیمانی نظام براہ_ راست انتخابات کے مطالبے کو تسلیم کرتے، آئندہ انتخابات میں امیدوار نہ بننے کی پیش کش قبول کرلیتے تو شاید ہمیں 1971ءکے المیہ کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔“ (1) یوںمختلف زاویہ نگاہ_¿ سے بہت سے تجزیئے ہوئے،سینکڑوں مقالات و لاتعداد کتابیں لکھی گئیں،مگر اِس المیے کی راہ_ ہموار کرنے والے اصل بھارتی کردار پر کم ہی توجہ دی گئی۔
 
جبکہ تاریخی سچائی یہ ہے کہ بزدل اور شاطر ہندو بنیئے نے قیام پاکستان کے وقت سے ہی پاکستان کو ایک آزاد اور خودمختار ملک کی حیثیت سے تسلیم نہیں کیا تھا،اکھنڈ بھارت کے زعم میں مبتلا ہندو بنیئے کیلئے تو پاکستان کا قیام کسی بڑے صدمے سے کم نہ تھا،وہ اِس تقسیم کو بھارت ماتا کے ٹکرے ہونے سے تعبیر کرتا ہے،ہندو نیتاؤں کو یقین تھا کہ پاکستان کی نوزائیدہ ریاست حالات کا مقابلہ نہیں کرپائے گی اور بہت جلد دم توڑ جائے گی۔یہی وہ خوش فہمی تھی جس کی وجہ سے جواہر لال نہرو نے کہا تھا کہ ”پاکستان کی تخلیق ایک عارضی اقدام ہے اور یہ آخرکار متحدہ ہندوستان پر منتج ہوگی۔“(2)نہرو کا ماننا تھا کہ پاکستان ناقابل عمل مذہبی نظریئے کی حامل قرون وسطیٰ کی ایک ریاست ہے۔ایک وقت آئے گا کہ بھارت کے ساتھ اِس کا الحاق ضروری ہوجائے گا۔“14جون 1947ءکو آل انڈیا کانگریس کمیٹی نے ایک قرار داد میں بھی ایسے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”جب جذبات کا طوفان کم ہوگا تو ہندوستان کے مسئلے کا اُس کے صحیح پس منظر میں جائزہ لیا جاسکے گا اور دو قوموں کے باطل نظریئے کا کوئی حامی نہیں مل سکے گا۔“(3)اِس قرار داد پر تقریر کرتے ہوئے کانگریسی شوبوائے مولانا ابوالکلام آزاد نے کہا تھا کہ ”تقسیم کے عمل سے صرف ہندوستان کا نقشہ متاثر ہوا ہے،لوگوں کے دل تقسیم نہیں ہوئے اور مجھے یقین ہے کہ یہ تقسیم عارضی ثابت ہوگی۔“(4)
 
آل انڈیا کانگریس کی یہ قرارداد پاکستان کے ساتھ ہندوستانی نیتاؤں کے رویئے پر ہمیشہ سایہ فگن رہی،چنانچہ قیام پاکستان کے بعد بھی یہ لیڈر ”متحدہ ہندوستان“کا راگ الاپتے رہے اور کہتے رہے کہ ”کانگریس اور قوم دونوں متحدہ ہندوستان کے دعوئے سے دستبردار نہیں ہوئے۔“اِس لیے”بھارتی رہنماوں کو ہمیشہ یہ یقین رہا کہ پاکستان کی تخلیق ایک غلط اقدام تھااور پاکستانی قوم کو زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں۔“(5)چنانچہ شروع دن سے ہی اُن کا پاکستان کی سا لمیت کیخلاف سازشوں میں مصروف ہونا فطری عمل تھا،ہندورہنماؤں نے پاکستان کی نوزائیدہ ریاست کا گلا گھونٹنے کیلئے ہر وہ قدم اٹھایا جو اُن کے اختیار میں تھااور بھارتی سرکار ہمیشہ پاکستان کے خلاف سازشوں میں مصروف رہی۔جنوری 1966ءمیں اندرا گاندھی کے برسراقتدار آنے کے بعدپاکستان مخالف سرگرمیوں میں تیزی آگئی،اندرا گاندھی 1965ءکی جنگی ہزیمت کا بدلہ لینا چاہتی تھی اور پاکستان کی خوفناک شکست اُس کے خوابوں کی تعبیر تھی،چنانچہ اُس نے شیخ مجیب الرّحمان سے تعلقات استوار کیے،مکتی باہنی بنوانے کیلئے اسلحہ اور رقم فراہم کی اورپاکستان کے خلاف سازشوں کا جال بننا شروع کر دیا۔”1970ءکے انتخابات کے بعد یہ پالیسی اُس وقت اپنی انتہا کو پہنچ گئی،جب بھارت کو روسی امداد کے مواقع میسر آئے اور اُس نے پاکستان پر وار کرنے میں دیر نہیں لگائی۔“(6) بھارت کیلئے یہ وہ سنہری موقع تھا جس کا اُسے عرصہ دراز سے انتظار تھا۔
 
چنانچہ بھارت نے اِس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ”مشرقی پاکستان میں فوجی کاروائی اور شیخ مجیب الرحمن کی گرفتاری پر فوری ردعمل کا اظہار کیا،بھارتی خوش تھے کہ اُن کا دشمن پاکستان مصیبت میں مبتلا ہے۔“ (7) 27مارچ 1971ءکو اندرا گاندھی کا بھارتی پارلیمنٹ سے خطاب مشرقی پاکستان میں بھارتی مداخلت اور اُس کے خطرناک عزائم کا کھلا اظہار تھا جس میں اُس نے کہا”مشرقی بنگال میں حالات بدل چکے ہیں،ہم نے نئی صورتحال کو خوش آمدید کہا ہے،اور...بھارتی حکومت مناسب وقت پر عملی اقدامات سے گریز نہیں کرے گی۔“یہ بھارتی وزیر اعظم کی تقریر کا ہی ردعمل تھا کہ 31مارچ 1971ءکو بھارتی پارلیمنٹ نے ایک قرارداد کے ذریعے _مشرقی پاکستان میں رونما ہونے والے واقعات پر شدید غم وغصہ اور تشویش کا اظہارکرتے ہوئے بنگالی باغیوں کی بھر پور مدد کی پیش کش بھی کی۔(8) اِس اجلاس میں بعض کانگریسی لیڈروں کے جوش وجذبات کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے بنگلہ دیش کو تسلیم کرنے اور پاکستان کے خلاف اعلان جنگ کا بھی مطالبہ کیا۔(9) یوں دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے دعویدار ملک کے اراکین پارلیمنٹ کی جانب سے علی الاعلان کسی خودمختار ملک کے اندورنی معاملات میں مداخلت کا یہ مطالبہ دنیا کی سیاسی تاریخ کی واحد نظیرہے۔
 
مشرقی پاکستان کے حالات کو خراب کرنے اور باغیوں کو بڑھاوا دینے کیلئے انہی ایام میں آل انڈیا ریڈیو سے مسلسل یہ پروپیگنڈہ بھی کیا جاتا رہا کہ مجیب الرحمن نے اعلان آزادی کردیا ہے اور بنگلہ دیش کا قیام عمل میں آچکا ہے۔دوسری طرف بھارتی حکومت نے انڈین باڈر سیکورٹی فورس کو باغیوں کو مدد کیلئے سپاہی اور اسلحہ بھیجنے کی اجازت کے ساتھ انڈین آرمی کو ہر طرح کی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار رہنے کی ہدایات جاری کردیں۔بعدازاں فوجی کاروائی کے دوران بھارتی اسلحہ اور گولہ بارود کی برآمدگی بھارتی مداخلت کے ناقابل تردید شواہد کے طور پر دنیا کے سامنے آئے،اسی طرح اِس اَمر کے بھی واضح ثبوت ملے کہ ”سادہ کپڑوں میں ملبوس بھارتی فوجی بڑی تعداد میں مشرقی پاکستان میں داخل ہوئے۔“(10)
 
دوسری طرف بھارت نے بنگالی مہاجرین کے مسئلے کو بھی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ”27مارچ 1971ءکو جس وقت بنگالی تارکین وطن کی آمد پر بھارتی وزیر اعظم پارلیمنٹ میں اپنی تشویش اوربنگالیوں سے ہمدردی کا اظہار کررہی تھیں اُس وقت تک ایک بھی بنگالی مہاجرسرحد پارکرکے بھارت نہیں پہنچا تھا۔“(11)بعد میں جو تقریباً دو لاکھ ہندو اور مشرقی پاکستان کے باشندے مغربی بنگال اور آسام پہنچے ،بھارتی فوج نے انہیں نہ صرف سرحد عبور کرنے کی اجازت دی بلکہ مہاجرین کیمپ قائم کرکے انہیں ملازمتیں فراہم کرنے کےساتھ انہیں پاکستانی فوج کے خلاف لڑنے کیلئے عسکری تربیت بھی دی۔بھارت نے” مہاجروں کے مسئلے کو پاکستان پر حملے کیلئے بہانے کے طور پر بھی استعمال کیا۔“(12)
 
اِس بات کی تصدیق انڈین انسٹیٹیوٹ فار ڈیفنس سٹڈیز کے ڈائریکٹر سبرامنیم کے اُس بیان سے بھی ہوتی ہے جس میں وہ کہتا ہے کہ ”بھارتی حکومت نے بڑے غور وفکر کے بعد اپنی سرحد بند کرنے کے بجائے مہاجروں کو اپنے ملک میں آنے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا،ایک لحاظ سے یہ فیصلہ بنگلہ دیش کی آزادی کے بارے میں بھارتی ہمدردیوں کا عکاس تھا۔اگر ایسا نہ ہوتا تو بنگلہ دیش میں مزاحمت کی تحریک کو برقرار رکھنا دشوار ہوجاتا۔“(13)8نومبر 1971ءکو اندرا گاندھی کا فرانسیسی ٹی وی کو دیا گیا انٹرویو پاکستان توڑنے کی اِس سازش کو مزید واضح کرنے کیلئے کافی ہے،جس میں اندرا گاندھی کہتی ہے کہ ”مشرقی پاکستان کے مسئلے کا حل ”بنگلہ دیش کی آزادی“کے سوا کچھ نہ تھا۔آزاد بنگلہ دیش ایک ناگزیر حقیقت تھا۔“درحقیقت اندرا گاندھی اور انڈین انسٹیٹیوٹ فار ڈیفنس سٹڈیز کے ڈائریکٹر کے کابیانات پاکستان کے خلاف بھارت کے حقیقی عزائم کا نہ صرف آئینہ دار ہے،بلکہ واضح کرتے ہیں کہ بھارت نے بہت پہلے ہر چیز کی مکمل منصوبہ کررکھی تھی ۔
 
اُدھربھارتی انٹیلی جنس ایجنسی ”را“ کو دیا جانے والا پہلا ٹاسک ہی مشرقی پاکستان کو مغربی پاکستان سے الگ کرنا تھا،جس کو آپریشن” بنگلہ دیش “کا نام دیا گیا، اِس آپریشن کے دوران ”را“نے مشرقی پاکستان میں صحافیوں،اساتذہ، دانشوروں سمیت ہر طبقہ فکر کو فکری دہشت گردی کے کام پر لگا دیا،اُس مقصد کیلئے بھاری رقوم مختص کی گئی،جبکہ اندرون اور بیرون بھارت بھی پاکستان کے خلاف زبردست میڈیا وار لڑی گئی، جس کے نتیجے میں بھارتی فوج کیلئے مشرقی پاکستان کی علیحدگی اور اُس پر عملی قبضے کا کام مزید آسان ہوگیا۔یہ درست ہے کہ بھارتی اسٹیبلشمنٹ نے پاکستان توڑنے کی منصوبہ بندی کی،مگر اِس منصوبے کو عملی جامعہ پہنانے میں شیخ مجیب الرحمن نے مرکزی کردار ادا کیا،مجیب کی بیٹی حسینہ واجد اعتراف کرتی ہے کہ پاکستان توڑنے کی سازش پر مبنی” اگرتلہ کیس“ سچا تھا، اُس نے ڈھاکہ میں منعقدہ ایک تقریب میں” 7 مارچ1971 ءکو پاکستان سے علیحدگی اور آزاد بنگلہ دیش کے متعلق شیخ مجیب الرحمن کی تقریر کے متعلق انکشاف کرتے ہوئے کہا تھا کہ لندن کے جس اجلاس میں پاکستان توڑنے کے منصوبے کی حتمی منظوری دی گئی اُس میں مہاجرین کی پناہ،مکتی باہنی کے جنگجوﺅں کو تربیتی سہولتوں کی فراہمی اور پاکستان کی فوج سے جنگ شروع کرنے کی تاریخ تک کی تفصیلات طے کی گئی تھیں۔“
 
حقیقت یہ ہے کہ بھارت بہت پہلے سے مشرقی پاکستان میں فوجی مداخلت کی تیاریوں میں مصروف تھا،اُس کا منصوبہ تھا کہ ”اِس کاروائی کو مکتی باہنی کے کھاتے میں ڈال دیا جائے۔“(14)چنانچہ اُس نے تارکین وطن کو جنگ کا بہانہ بنایا اور مکتی باہنی کے گوریلوں(جنھیں اندرا کے ترجمان اور افسران تعلقات عامہ کی حیثیت حاصل تھی) کو بھارتی فوج کے” نمائشی روپ“ کے طور پر استعمال کیا۔ایک ہندو صحافی ایس براتا کے بقول ”مکتی باہنی دراصل بھارتی سپاہیوں ہی کی ایک تنظیم تھی۔“(15) بھارتی عسکری تربیت یافتہ مکتی باہنی کے اِن گوریلوں نے مشرقی پاکستان کے ذرائع مواصلات،اہم سرکاری و نجی عمارتوں اور پاک فوج کے خلاف تخریبی کاروائیوں میں اہم کردار ادا کیا۔دوسری طرف بھارتی فوج کی مدد و تعاون سے بائیں بازو کی نیشنل عوامی پارٹی اور کیمونسٹ پارٹی کے گوریلوں نے مشرقی پاکستان کے اندورنی حصوں کو اپنی تخریبی کاروائیوں کا مزکر بنایا۔جنھوں نے اہم سڑکوں،آبی راستوں پلوں اور سرکاری عمارتوں کو شدید نقصان پہنچایا۔اِن تخریبی کاروائیوں نے معیشت کی بنیادیں ہلانے کے ساتھ،اندورنی اور بیرونی محاذوں پر نو ماہ سے مصروف پاک افواج کے مورال کو بھی نقصان پہنچایا۔
 
دوسری طرف بھارت نے پاکستانی حکومت کی جانب سے مسئلے کی حل کی ہر اُس کوشش کو ناکام بنادیا جومشرقی پاکستان کو وفاقی اکائی سے جوڑ کر رکھ سکتی تھی،دراصل بھارت کا یہ طرز عمل آزاد وخود مختار مملکت کے خلاف اندورنی معاملات میں مداخلت کی برسوں پرانی پالیسی کا آئینہ دار اور پاکستان کے خلاف خطرناک رجحان کی عکاسی کرتا تھا۔جنگ کے جواز تراشنے کیلئے اُس نے مشرقی پاکستان کے سیاسی، سماجی اور جغرافیائی حالات سے بھرپور فائدہ اٹھایا اور اپنی پروپیگنڈہ مشینری کو بڑی مہارت اور کامیابی سے استعمال کیا،وہ ساری دنیا میں پروپیگنڈا کرتا رہا کہ مشرقی پاکستان کے عوام پر بڑے ظلم و ستم ہورہے ہیں۔بھارت نے پاکستانی فوج اور پاکستان کو منظم طریقے سے بد نام کیا،بھارتی پروپیگنڈہ مشنری پاک فوج کے خلاف باربار اِن تین بڑے الزامات کو دہراتی رہی کہ مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن کے دوران پاکستانی فوج نے تیس لاکھ بنگالیوں کی بے دردی سے قتل کیا،تین لاکھ عورتوں کی آبروریزی کی گئی اور گاؤں کے گاؤں جلادئیے۔“ بھارتی میڈیا کا یہ جھوٹا اور بے بنیاد پروپیگنڈہ بین الاقوامی میڈیا نے بغیر تحقیق و تفتیش خوب اچھالا اور پاکستان کے تشخص کو اِس بری طرح مجروع کیا گیا کہ پاکستان دنیا میں نفرت کا نشانہ بن کر تنہا رہ گیا۔
 
اِس طرح بھارت نے نہ صرف بنگلہ دیش کاز کیلئے دنیا بھر کی ہمدردیاں حاصل کیں بلکہ عالمی رائے عامہ کو بے بنیاد خبروں اور خود ساختہ داستانوں کا بھی کامیابی سے یقین دلایا،بھارت نے ایک منظم منصوبے کے تحت یہ مبالغہ آمیز خبریں بھی پھیلائیں کہ مشرقی پاکستان سے ہندوؤں کا باہر دھکیلا جارہا ہے،جبکہ پاکستان کے خلاف نفرت اور تعصب کو ہوا دینے کیلئے یہ بات بھی تواتر سے دہرائی گئی کہ پاکستان،بنگالیوں کے منتخب لیڈر مجیب الرحمن کو گرفتار کرکے بنگالیوں کی قوم پرستانہ تحریک کو فوجی طاقت کے ذریعے بے دردی سے کچل رہا ہے۔یہ بھارتی پروپیگنڈے کا ہی اثر تھا کہ غیرملکی اخبارات نے ہندو اساتذہ اور دانشوروں کے قتل عام کی جھوٹی خبریں نمایاں سرخیوں میں شائع کیں،جس نے دنیا بھر کے دانشوروں،سماجی تنظیموں اور سیاسی لیڈروں کو پاکستان کی مخالفت کا راستہ دکھایا۔یہ صورتحال بھارت کے تخریبی عزائم اور اُس کے مطلوبہ ا ہداف کیلئے کارآمد ثابت ہوئی،اُس نے پاکستان کو دو لخت کرنے کیلئے’’ تارکین وطن کو جنگ“ کا بہانہ بناکر 3دسمبر 1971ءکو پاکستان پرحملہ کردیا،جو 16 دسمبر کے سیاہ دن ”بنگلہ دیش“کے قیام کی شکل میںدنیا کے سامنے آیا۔
 
جبکہ بھارت کو تمام اخلاقی اصولوں اور بین الاقوامی قوانین سے ماوراءاِس ننگی جارحیت میں روسی تائیدوحمایت اور سلامتی کونسل میں ویٹو کی چھتری حاصل تھی۔کہتے ہیں کہ دنیا کی طاقتور اور منظم سے منظم فوج بھی عوامی تائید وحمایت کے بغیر بیرونی جارحیت کا کامیابی سے مقابلہ نہیں کرسکتی،بدقستمی سے پاک افواج کو بیک وقت اندورنی اور بیرونی دونوں محاذوں پر دشمن کا سامنا تھا، لیکن انتہائی نامساعد حالات کے باوجودپاک افواج نے پاکستان دشمنوں کا بھر پور مقابلہ کیا۔ایک بھارتی جنرل کے بقول”مشرقی پاکستان میں پاکستانی فوج نے بہادری کے ناقابل یقین کارنامے دکھائے اور پانچ ماہ تک محاصرے کی حالت میں رہ کراُس نے بے پناہ بہادری سے جنگ لڑی۔“جس کی زندہ مثال میجر جنرل تجمل حسین کی قیادت میں لڑا جانے والا”ہلی“کا وہ معرکہ ہے جو آج دنیا بھر کی عسکری تاریخ کا درخشندہ باب بن گیا ہے۔
 
قارئین محترم !حقیقت یہ ہے کہ ”مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش“ بنانے کے بعد بھارت آج بھی باقی ماندہ پاکستان کو توڑنے کی سازشوں میں مصروف ہے، بھارتی قوم پرستوں کے نزدیک اِسی طرح ”اکھنڈ بھارت“ کے حصول ممکن ہے،اِس لیے مشرقی پاکستان کی علیحدگی میں بھارت کے کردار کو کسی طور نظر بھی انداز نہیں کیا جاسکتا ہے،اپریل 2011میں بنگلہ دیش سے شائع ہونے والی ڈاکٹر شرمیلا بوس( جو بھارتی بنگال کے شہرکلکتہ سے تعلق رکھتی ہیں) کی کتاب” Dead Recking the Morries of the 1971 Bangladesh War “مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بارے میں بھارتی کردار کی بہترین نقاب کشائی کرنے کیلئے کافی ہے،اِس کتاب میں ڈاکٹر شرمیلا بوس بھارتی جھوٹ سے پردہ اٹھاتے ہوئے لکھتی ہیں کہ” بنگلہ دیش کے حوالے سے آج تک بھارتی انٹیلی جنس ”را“ اور دیگر بھارتی میڈیا نے جو پروپیگنڈا کیا تھا وہ بالکل یکطرفہ ہے، جب کہ زمینی حقائق یہ ہیں کہ اِس قتل و غارت گری کے پسِ پردہ صرف اور صرف بھارتی حکومت کی چالبازی تھی،جس نے مکتی باہنی کے نام سے جرائم پیشہ اور ورغلائے گئے بنگالی مسلمانوں کی ایسی فوج تیار کی جس نے ”را“ کے پلان کے مطابق پاکستانی فوج کے خلاف جان بوجھ کر اشتعال انگیز کارروائیاں کیں اور غیربنگالی پاکستانیوں کا قتل عام کرکے پاکستانی فوج کو جوابی کارروائی پر مجبور کیا۔شرمیلا بوس نے لکھا کہ پاکستانی فوجیوں کی طرف سے بنگالی عورتوں کے ریپ کے واقعات بڑھا چڑھاکر افسانوی انداز میں پیش کیے گئے،انہوں نے ذرائع ابلاغ کی اِن اطلاعات کہ ”پاکستانی فوج نے تیس لاکھ بنگالیوں کو قتل کیا “کو محض ایک افواہ قرار دیا اور کہا کہ اتنی بڑی ہلاکتیں کسی سطح پر بھی ثابت نہیں کی جاسکیں۔“ڈاکٹرشرمیلا بوس کا کہنا ہے کہ سابق مشرقی پاکستان میں 1971ءکی خانہ جنگی کی داستان فاتح فریق کی طرف سے بیان کی گئی ہے، جس نے نام نہاد مظالم کا جھوٹا پروپیگنڈا کرکے ساری دنیا کو طویل عرصے تک اُلو بنائے رکھا۔“ڈاکٹر شرمیلا چندربوس کی یہ شہادت بے انتہا اہمیت کی حامل ہے اوراِسے اِس لیے بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ ڈاکٹر بوس بنگالی ہندو ہونے کے ساتھ آزادی کے رہنماءسبھاش چندربوس کی پوتی بھی ہیں۔
 
٭٭٭٭٭
حوالہ جات:۔
1۔پاکستان کیوں ٹوٹا،ڈاکٹر صفدر محمود
2۔انڈیا ونز فریڈم۔مولانا ابوالکلام آزاد ۔ص242
3۔The Transfer of Power in India P#384 By V.P Menon
4۔..................................do................................
5۔The Daily Telegraph 4 December 1971
6۔The Times 21 December 1974
7۔پاکستان کیوں ٹوٹا۔ڈاکٹر صفدر محمود۔ص 158
8۔Bangladesh Documents P#669
9۔روزنامہ جنگ ۔5اور 7اپریل 1971ء
10۔The Pakistan Times 16 April 1971
11۔پاکستان کیوں ٹوٹا۔ڈاکٹر صفدر محمود۔ص 157
12۔ The Ceylon Daily News 26 Frb.1971
13۔The Liberation War P#156
14۔The Times 21 December 1971
15۔The Guardian 18 September 1971

٭٭٭٭٭


:دیگر مضامین
(15.12.2014) عالمی اخبار کے لیئے خصوصی تحریر۔ اسلام کے خلاف باطل کی فکری یلغار کا تاریخی جائزہ
(14.12.2014) چہلم امام حسینؓ ۔2 کروڑ سے زائد عزاداران روضہ مبارک پر حاضری دے رہے ہیں
(11.12.2014) بین الاقوامی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں پانچ برسوں کی کم ترین سطح پر آگئی ہیں
(08.12.2014) عشق محمد سے سرشار حقیقی نعت گو۔.... حفیظ تائب
(02.12.2014) حسن کاظمی ۔ ریڈیو پاکستان کی ایک پہلوُدار شخصیّت ۔ از سیّد علی اصغر کاظمی
(29.11.2014) ریڈیو ڈوئچے ویلے کے شعبہ فارسی کے نابینا صحافی اور موسیقار اسکندر آبادی
(27.11.2014) بھارتی گلوکار انوپ جلوٹہ کا ایک منفرد انداز ۔ شہادت امام حسین ع کا بیان
(26.11.2014) سوزخوانِ اِہلبیتؑ، سیّد آفتاب علی کاظمی کی بیاض سے،صفیؔ لکھنوی کا اک قدیم سلام
(25.11.2014) ديوان أبي طالب عم النبي صلى الله عليه وسلم ۔۔۔ ڈاکٹرمخدوم پیر سید علی عباس شاہ
(22.11.2014) فتنہ ۔۔۔ ابوالمعانی مولانامیرزاعبدالقادربیدل ؔ دہلوی۔ از۔ڈاکٹر سید علی عباس شاہ
(20.11.2014) برطانیہ اور نیدرلینڈز کے دو پولٹری فارمز میں برڈ فلو؟
(08.11.2014) قبر اصغر پہ کہتہ تھی مادر۔شاعر نجم آفندی،بندش و آواز۔علی اصغر کاظمی
(05.11.2014) مرثیہ شب عاشور ۔ تحت اللفظ، سید اکمل حسین۔ مرثیہ نگار۔ صفدر ھمٰدانی
(03.11.2014) تحریک کربلا،خطبات امام حسینؑ کی روشنی میں ۔ ایس ایچ بنگش
(03.11.2014) لندن میں سید عشرت حسین کے در دولت پر سالانہ مجلس عزا کا انعقاد
(02.11.2014) شہنشاہ وفاعلمدار لشکر حسینیؑ، قمر بنی ہاشم حضرت عباس علمدار کی سیرت
(31.10.2014) فکر مذہب اور حقیقت مذہب ۔  از ۔  سید اکمل حسین
(27.10.2014) شہادت حضرت مسلم بن عقیل پر امام زمانہ کو پرسہ ۔۔۔۔معصومہ شیرازی
(26.10.2014) عزاداری : زنجیر زنی قمہ زنی ۔از؛ آغاسیدعبدالحسین بڈگامی
(20.10.2014) ‎جگنو انٹرنیشنل کے زیر اہتمام سہیل لون کے اعزاز میں ایک شام



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
بیاد سید عاشور کاظمی  »
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
  بیاد سید عاشور کاظمی   
  مزید ++
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں