پچھلے کئی ماہ سے جو خدشہ تھا وہ بالآخر سچ ہوا اور پاکستان کا صرف ایک صوبہ‘‘ پنجاب ‘‘ جو ابھی تک قدرے چین سکون میں تھا ان ناعاقبت اندیش حکمرانوں کی وجہ سےاب اسکو بھی صوبہ سرحد اور بلوچستان کی طرح ‘‘شورش زدہ‘‘ لکھنا پڑے گا۔
کبھی کبھی تو دل چاہتا ہے کہ اس قلم کاری کی بساط کو لپیٹ کر رکھ دیا جائے کہ آخر ہم جیسے لکھنے والے کب تک قلم کی زبان سے خون تھوکتے رہیں گے اور ذہنی پریشانی کے ساتھ بلڈ پریشر اور ذیابیطس جیسے انعام پاتے رہیں گے۔
پھر یہ خیال آتا ہے کہ اس کاروباری اور مفادات کی دنیا میں
جہاں قلم بکتا ہے، جہاں ضمیر کا سودا ہوتا ہے، جہاں جبہ ودستار کی قیمت لگتی ہے، جہاں وفاداریوں کا جمعہ بازار سجایا جاتا ہے، جہاں ہر حکومت اسمبلیوں میں وقت کے یوسف کی خریداری کے لیئے مصر کے بازار لگاتی ہے،جہاں سچ پر تعزیر ہے اور اقتدار کا نام خدا ہے وہاں اگر ہم جیسے چند سر پھروں نے بھی سچ اور حق گوئی کے عَلَم کو لپیٹ کر رکھ دیا تو روز حشر کس جماعت کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ اس جماعت کے ساتھ جس نے سورہ والقلم کی تضحیک کی یا جنہوں نے اسی قلم کی لاج رکھی جسے خالق کائنات نے حق گوئی اور سچ لکھنے کے لیئے پیدا کیا۔
بس ایک یہی سوچ اور فکر ہے جس کے بعد بس دل یہی چاہتا ہے کہ جب تک سانس کا سلسلہ باقی ہے اور جب تک دم میں دم ہے تمام تر خطرات اور دھمکیوں کے باوجود اس قلم سے صرف وہ ہی لکھا جائے جو سچ ہے اور حق ہے۔
سچ اور حق تو یہی ہے کہ پاکستان کی سیاسی فضا میں جو کچھ ہوا وہ کم ازکم ان حالات اور ان اوقات میں نہیں ہونا چاہیئے تھا لیکن یہ سیاست ہے ہی ایسی لعنت کہ اسمیں اقتدار اور اختیار کی لالچ کی کوئی حد ہی نہیں۔ اس سیاست و حکمتِ یزید و ابن زیاد کے شعبے کے لوگوں کے منہہ کو اپنے بھائیوں کا لہو کچھ اس طرح لگ جاتا ہے کہ کسی اصول کسی وعدے یا پھر کسی عوامی مینڈیٹ کا خیال کیئے بغیر کُند چھری سے وار کر دیا جاتا ہے۔عدالت کے ذریعے حکومت بدلنے کا کام پاکستان میں کوئی نیا نہیں ہے بلکہ ماضی قریب کی تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے لیکن حالیہ تازہ انتخابات کے بعد عوام کی ایک بڑی تعداد یہ سمجھ رہی تھی کہ ملک کی سب سے بڑی دونوں جماعتیں ایک دوسرے سے مل کر حکومت سازی کریں گی، قانون اور آئین کی حاکمیت ہو گی،آزاد عدلیہ اور میڈیا ہو گا اور کم از کم انیس سو سنتالیس کے بعد پہلی مرتبہ اس ملک کے مظلوم اور پسے ہوئے پچانوے فیصد عوام کی آواز سنی جائے گی اور انکی بہتری کا بھی کوئی سوچے گا۔
مگر یہ سب ایک خیال اور ایک خواب ہی رہا اور حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے کہ چاہے برسراقتدار حکومت ہو یا حذب مخالف کسی نے بھی اُن بیچارے عوام کا نہیں سوچا جن کے ووٹ سے یہ سینٹ اور قومی اسمبلی میں دندناتے پھرتے ہیں، کر

وڑوں روپے کی پیجارو میں سفر کرتے ہیں اور بھاری مینڈیٹ کا نعرہ لگاتے ہیں۔
دنیا بھر کے سیاسی عمل میں اس ضمن میں سب سے زیادہ ذمیداری حکمران جماعت کی ہوتی ہے کہ وہ دوسری سیاسی طاقتوں کو ساتھ لے کر چلے لیکن پاکستان میں اسی حکمران جماعت نے سب سے زیادہ غیر ذمیداری کا مظاہرہ کیا اور اتحاد و اتفاق کے نام پر دوسری سیاسی جماعتوں میں دراڑیں ڈالنے کی کوشش کی اور مسلسل وعدہ خلافی اور عدم اعتماد کی فضا میں اب نوبت یہاں تک آن پہنچی کہ سچ یا جھوٹ اسکا ہمیں علم نہیں لیکن حقیقیت یہ ہے کہ مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں نواز شریف نے براہ راست پریس کانفرنس میں کہا کہ ‘‘آصف زرداری نے سابق وزیر اعلی شہباز شریف سے اس معاملے پر ایک ڈیل کی کوشش کی تھی جو انہوں نے مسترد کردی جس کے جواب میں اب یہ فیصلہ سامنے آیا ہے۔ نواز شریف نے کہا ہے کہ یہ واضح ہے نااہلی کا عدالتی فیصلہ کس کے کہنے پر کیا گیا ہے اور قوم جلد اس فیصلے کو واپس ہوتا دیکھے گی‘‘۔
یہ اور اسطرح کے اور بہت سے الزامات نہایت سنگین الزمات ہیں اور آصف زرداری جو بے نظیر کی ہلاکت کے حوالے سے بھی مختلف حلقوں کی طرف سے مختلف النوع الزامات کی زد میں رہے ہیں اب انہیں صرف اس لیئے خود کو ‘‘بے گناہ‘‘ ثابت کرنا ہو گا کہ وہ اب صرف کسی سیاسی جماعت کے سربراہ نہیں بلکہ مملکت پاکستان کے سربراہ ہیں۔ دیکھنا یہ ہے وہ مسلم لیگ ن کے قائدین کے ان سنگین الزامات کا جواب کیا دیتے ہیں کس طرح دیتے ہیں۔ہمارے ملک میں سیاسی کیا ہر میدان میں مرا ہوا شکار کھانے والوں کی کوئی کمی نہیں اور یہی حال خاص طور پر سیاست میں ہے جہاں نہ کوئی اصول ہے اور نہ کوئی طرز فکر۔ جہاں ہر مال بکے گا دو آنے والی کیفیت ہے اور جہاں دشمن مرے تے خوشی نہ کریئے کا کوئی تصور نہیں۔جہاں ہر جماعت کے لوگ چڑھتے سورج کو سلام کرتے ہیں اور اپنی کم سے کم قیمت سے بھی کم پر بک جاتے ہیں۔
اسی نکتہ نظر کے تحت تا دم تحریر کہا جارہا ہے کہ حالیہ انتخابات میں عوام کی دھتکاری ہوئی جماعت مسلم لیگ ق بھی مردہ شکار ک
ھانے کو تیار بیٹھی ہے اور انکی ملاقات صدر زرداری سے ہونےو الی ہے۔ بے اصول سیاست کی اس دنیا میں کوئی بھی انہونا نتیجہ سامنے آ سکتا ہے اور ہو سکتا ہے کہ زرداری صاحب عوامی سطح پر شکست خوردہ ق لیگ کو اپنی سیاسی کشتی میں سوار کر لیں اور یہ جماعت ایک بار پھر جانتے بوجھتے ہوئے سیاسی خود کُشی کر لے۔میں نہ تو پیپلز پارٹی کا رکن ہوں اور نہ ہی ہمدرد۔اسی طرح میرا مسلم لیگ ن تو کیا الف
سے لیکر ے تک کسی بھی مسلم لیگ سے کوئی تعلق نہیں۔ میں تو رہتا بھی پاکستان میں نہیں بلکہ لندن جیسے خاصے پرسکون شہر میں مقیم ہوں لیکن ایک تو وطن کی مٹی کی خوشبو اور پھر اس ملک کے پسے ہوئے عوام کی اکثریت اس امر پر مجبور کرتی ہے کہ ان حکمرانوں کی حکمرانی کے پردے چاک کیئے جائیں۔
اس ملک میں کچھ عرصے پہلے مفاہمت کی سیاست کے جس سفر کا آغاز ہوا تھا اس فیصلے کے بعد بظاہر ایسا لگتا ہے کہ یہ مفاہمت کی ٹرین پٹری سے یکسر اتر گئی ہے اور کسی دلدل میں پھنس گئی ہے ۔
مجھے اس سے کوئی غرض نہیں اور نہ ہی یہ میرا شعبہ ہے کہ میں سپریم کورٹ کے فیصلے کی تکنیکی نوعیت
اور اسباب لکھوں یا پھر انکا تجزیہ کرؤں لیکن اس فیصلے کے بعد کم ازکم یہ طے ہو گیا ہے کہ پہلے سے متنازعہ سپریم کورٹ مزید متنازعہ بن گئی اور اسکی ساکھ مزید کمزور ہوئی ہےاور ایک مکرم و محترم ادارے کو بہت بڑا دھچکہ پہنچا ہے جس نے عدلیہ پر عوام کے اعتماد کا جنازہ نکال دیا ہے اور اب عام آدمی بھی برسر عام اس عدلیہ کو ایک الگ سیاسی جماعت کہنے لگا ہے جو حکومت کی بی ٹیم ہے یا پھراین آر او کی نگران ہے جس نے ہر قاتل،ہر چور،ہر لٹیرے اور ہر ظالم کو آئینی یا قانونی تحفظ دیا ہے۔اس فیصلے سے ایک روز قبل منگل کو پاکستان مسلم لیگ(ن) کے قائد میاں نواز شریف اور وزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شریف کی اہلیت کے بارے میں دائر درخواستوں کی سماعت کرنے والے سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس موسی لغاری نے کہا تھا کہ حکومت پنجاب میں ایک ایسے شخص کو اعلی عہدے پر تعینات کیا گیا ہے جسے توہین عدالت کے مقدمے میں سزا ہوچکی ہے‘‘۔
اس ریمارکس کے بعد ہر کس و ناکس کو فیصلے کی نوعیت کا علم ہو گیا تھا لیکن مجھے صرف یہ کہنا ہے کہ اول

تو کسی آزاد عدلیہ کے کسی جج کو دوران سماعت ایسا ریمارکس دینا زیب نہیں دیتا اور دوسری بات یہ کہ
اگر اس بات کو طول دیا گیا کہ کہ ایک سزا یافتہ صوبے کا وزیر اعلیٰ تھا تو پھر یہ بات ایوان صدر تک بھی جاسکتی ہے اور خود وزیر اعظم تو کیا اسمبلی اور سینٹ کے کتنے ہی نام نہاد شرفا اس کی زد میں آ سکتے ہیں اور وہ بھی جو پی سی او کی طفیل نیکو کاروں اور معززین کی فہرست میں شامل ہو گئے ہیں۔اس امر کو عملی سطح پر کیسے جھٹلایا جائے کہ آج بھی ایوان صدر میں جنرل پرویز مشرف ہی ہیں اور جج اور عدالتیں بھی جنرل مشرف کی ہی ہیں۔ قانون اور آئین بھی جنرل مشرف کا ہی ہے۔
فی الحال تو بقول ایوان صدر کے وزیراعظم نے دو ماہ کے لیئے گورنر راج کی ایڈوائس صدر کو دی ہے اور وہ بھی پانچ گھنٹے کی مشاورت کے بعد لیکن اب لگتا یہ ہے کہ یہ لڑائی نواز زرداری سے نکل کر زرداری گیلانی تک جا پہنچی ہے جس کے اثرات بہت جلد ظاہر بھی ہو سکتے ہیں۔

مجھ جیسے لوگ جنہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کو بہت قریب سے دیکھا ہے وہ جانتے ہیں کہ عوامی ہونے کے باوجود انکے اندر کا جاگیر دار اور وڈیرہ ہمیشہ زندہ رہا اور اسکا عملی اظہار بھی انہوں نے اپنے دور اقتدار میں کئی مرتبہ کیا اسی طرح یہ بھی سچ ہے کہ مملکت کا سربراہ بن جانے کے باوجود بھی صدر زرداری نہیں بلکہ آصف زرداری کے اندر کا انسان ابھی تک زندہ ہےبلکہ اسے مزید طاقت اور تقویت مل گئی ہے۔مگر یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ ‘‘ہر فرعونِ را موسیٰ‘‘۔