

اتوار ٢٢ دسمبر ٢٠١٣ کو عالم با عمل مولانا سید خلیل عباس کے فرزند ارجمند ڈاکٹر سید حسین اور ان کی بہو سیدہ شازیہ حسین کے گھر اپی سوئیچ میں ایک مجلس عزا بسلسلہ سا لانہ اور چہلم شہد اکربلا منعقد کی گئی مجلس ٹھیک بعد نماز ظہرین تلاوت حدیث کساء سے شروع کی گئی حدیث کساء کے بعد مجلس عزا کا آغاز ڈاکڑ حسین کے بڑے فرزند نے سلام پیش کیا اور محمد و آل محمد کی خوشنودی حاصل کی ۔۔۔ جس خلوص سے اس بچے نے سلام پیش کیا وہ اس کا صلہ شریک مجلس نے داد دے کر دیا جس سے بچے کی حوصلہ افزائی ہوئی۔۔۔۔۔
ڈاکٹر حسین کے فرزند حسین کے بعد مقامی شاعر جناب ڈاکٹر اکمل مخدوم نے جناب فاطمہ سیدہ اور سید الشہدا کی شان میں دو سلام جو ان کی فکر کا نتیجہ تھے بہت خوب صورت اندازہ میں پیش کئے اور داد تحسین وصول کی ۔ مرثیہ تحت اللفظ

سید اکمل حسین نے انسان اور کربلا پیش کیا مرثیہ سنسنے والے افراد موجود تھے اور مرثیے کو جس انداز سے سنا اور شریک محفل کا ذوق ظاہر کر رہا تھا صاحب ذوق افراد نے خوب داد اور مرثیہ پر گریہ کیا۔۔۔۔۔
مرثیہ چہلم جو کربلا میں بہتر کا ہو چکا جناب ڈاکٹر رضا اور ڈاکڑ حسین بانی مجلس نے پیش کیا اور خوب گریہ و زاری سے بی بی فاطمہ کو پرسہ پیش کیا گیا ۔۔۔۔
مرثیے کے بعد ڈاکٹر صاحب کے چھوٹے فرزند نے انگریزی زبان میں مجلس عزا میں اپنا ریسرچ کیا ہوا مضمون پیش کیا جس خوب صورت انداز سے برخوردار نے اپنی مضمون پڑھا ایک ماہر مقرر کی طرح انگریزی زبان پر مہارت اور کیوں نہ ہوتا لب لہجہ کہ موصوف کے جد امجد عالم با عمل مولانا سید خلیل عباس خود ایک منبر نشین اور ماہر خطیب تھے ۔۔۔ ۔۔۔ بہت سی کتب ان کے قلم کی زینت بن چکی ہیں۔۔۔۔۔ افسوس کے مرحوم کی زندگی میں منظر عام پر نہ آ سکی ۔ اور اب ان کے فرزند ڈاکڑ حسین کی کوشیں جاری کے کہ وہ زیور طبع ہو کر منظر عام پر آئیں۔ جو مختلف مراحل سے گزر رہی ہیں۔۔۔۔
ان کے بعد بھارت سے تشریف لائے ہوئے خطیب سید شبیہ الحسن نے خطاب کیا اور نماز اور امام زمانہ کے حوالے سے کربلا والوں کا پیام شریک مجلس کو دیا اور آخر میں خطیب و ذاکر امام عالی مقام نے مصائب بازار شام پیش کر مال مجلس اور گریہ و زاری کی۔ ماتم داری بھی کی گئی اور اس طرح یہ مجلس اپنے اختام کو پہنچی مجلس کے اختتام کے بعد ڈاکڑ صاحب نے ایک پر تکلف تبرک کا انتظام کیا ہوا تھا جو نذر حاضرین مجلس کو پیش کی گئی۔۔۔۔۔ یہ مجلس تقریبا چار گھنٹے کے دروانیہ پر محیط رہی۔۔۔۔۔ اس موقع پر سید اکمل حسین نے عکس بندی کی جو قارئین اور ناظرین کی خدمت میں حاضر
ہیں۔۔۔۔۔۔

