یورپی خلائی ایجنسی نے گایا نامی سیٹلائٹ خلا میں روانہ کیا ہہے جو ہماری کہکشاں کا اب تک درست ترین تھری ڈی نقشہ تیار کرے گا ۔ اس طرح ہم اپنی قریب ترین کہکشاں کو نہ صرف بہتر انداز میں سمجھ سکیں گے بلکہ اس پر مزید تحقیق کی راہ بھی ہموار ہوگی۔
اسےسیٹلائٹ اگلے پانچ سال تک کام کرے گا اور اس پر ایک ارب ڈالر کے برابر لاگت آئی ہے۔ خلا میں ایک سویوز نامی راکٹ کے ذریعے خلا میں روانہ کیا گیا ہے۔
لانچ ہونے کے فوراً بعد گایا نے سورج کی اشعاع ( ریڈی ایشن) سے خود کو محفوظ رکھنے کیلئے دس میٹر کی شیلڈ کو کھولا جس کی کامیابی ایک اہم مرحلہ تھا۔ یہ حفاظتی چادر اس سیٹلائٹ کو پورے مشن کے دوران سورج کی جھلسادینے والی شعاعوں سے محفوظ رکھے گی لیکن ساتھ ہی یہ سیٹلائٹ سورج سے روشنی بھی حاصل کرے گا۔
سیٹلائٹ پر بہت سے حساس آلات موجود ہیں جو سورج کی گرمی سے فوراً خراب ہوسکتے اور انہی کو بچانے کیلئے شیلڈ تیار کی گئی ہے۔
پیرس میں موجود یورپی خلائی ایجنسی کے دفاتر میں موجود مشن آپریشنز کے سربراہ پاؤلو فیری نے سیٹلائٹ پر اپنے اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ گایا کو اس طرح سے ڈیزائن کیا گیا اور اس مدار میں بھیجا گیا ہے کہ یہ ایک جانب تو یہ زمین کے گرد ہی گردش کرے گا جبکہ اس کی پشت ہمیشہ سورج کے مخالف ہی رہے گی۔
سیٹلائٹ کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ یہ ملکی وے کہکشاں میں موجود لگ بھگ ایک ارب ستاروں کا نقشہ بنائے گا اور اسے تھری ڈی انداز میں مرتب کرے گا کیونکہ اب تک ہم ستاروں کو جو نقشہ استعمال کرتے رہے ہیں وہ چپٹا یعنی ٹو ڈی ہی ہے۔
گایا اپنی دو دوربینوں کی مدد سے ہرستار ےکی پوزیشن، فاصلہ، حرکت، کیمیائی ترکیب اور اس کی چمک کو نوٹ کرے گا ۔ اسطرح سے ملکی وے میں موجود ایک فیصد ستاروں کا نقشہ ممکن ہوسکے گا جبکہ اس میں ایک سو ارب ستارے موجود ہیں۔
گایا پروگرام کے ایک سینیئر سائنسدان جوزے ڈی برونے نے کہا ہے کہ اس کی مدد سے ہم اپنی گیلکسی کی تاریخ معلوم کرسکیں گے۔
ماہرین کے مطابق اس پر موجود طاقتور دوربینوں کے ذریعے ایک ہزار کلومیٹر دوری پر موجود انسانی بال کے برابر باریک شے کو بھی درستگی سے دیکھا جاسکتا اور اسے نوٹ کیا جاسکتا ہے۔
گایا سیٹلائٹ اگلے پانچ سال تک کام کرے گا اور اس پر ایک ارب ڈالر کے برابر لاگت آئی ہے۔